وزیر اعظم کے کشمیر پر نئے موقف سے کشمیریوں کو نئی امیدیں

وزیر اعظم کی لال قلعہ کی فصیل سے 15 اگست کی تقریرلوگوں کے بیچ بحث کا موضوع بنی رہی۔ یہ پھیکی ا ور دھیمی تقریر تھی اور نسبتاً چھوٹی (45 منٹ کی) بھی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر مسئلے کا حل نہ تو گالی سے ہوگااور نہ ہی گولی سے،بلکہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے ہوگا۔یہ بہت ہی عجیب صورت حال ہے۔ ان کی باتیںہر نظریاتی شخص کے لیے شہد کی طرح میٹھی تھیں۔ پچھلے تین سال سے وہ دھمکاتے رہے ہیںکہ کشمیر مسئلہ کا حل بلیٹ، فوج، نیم فوجی فورسیزیا پولیس کے ذریعہ کیا جائے گا۔ آخر اس دل کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟
جمہوریت میں بات چیت ہی مسئلے کے حل کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ اس بات سے پوری دنیا متفق ہے۔ صرف تاناشاہی سرکاریں ہی طاقت سے اپنے عوام کو قابو میںرکھتی ہیں۔ بہرحال وزیر اعظم نے جو باتیںکی ہیں، وہ خیر مقدم کے قابل ہیں۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ یہ باتیں انھوں نے صرف کہنے کے لیے نہیںکہی ہوں گی بلکہ اس میںان کی بھول کا اعتراف بھی ہوگا، کیونکہ انھیںاپنی باتوںپر عمل بھی کرنا پڑے گا۔
یہ کہنا بالکل صحیح ہے (جیسا کہ انھوں نے اپنے لال قلعہ کی تقریر میںکہا) کہ آستھا کے نام پر تشدد برداشت نہیںکیا جائے گا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ہندو کبھی گائے کے نام پر، کبھی بیف کے نام پر یا کسی دیگر بہانے سے ملک کے ہرحصے میںمسلمانوںکو مار رہے ہیں۔ اپنی باتوںپر عمل کرنا اصل چیز ہے۔ اگر وزیر اعظم جو کہتے ہیں، اس میںیقین بھی رکھتے ہیں تو انھیںیکساں آئیڈیا لوجی کی تنظیموں، جیسے بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، آر ایس ایس وغیرہ پر نکیل کسنی چاہیے۔ ان سے کہنا چاہیے کہ ہم اقتدار میں ہیں، ہمیںملک چلانا ہے، اس لیے ہمیںسمجھدار، پُرامن اور ذمہ دار قوم کی طرح سلوک کرنا چاہیے۔ چاہے آپ کے جو بھی احساسات ہوں،ان کا اظہار قانون کے دائرے میں ہی کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی قانون کے خلاف بیف بیچ رہا ہے، تو اسے پکڑنے کے لیے پولیس ہے۔آپ کسی کے خلاف کارروائی کرکے اسے مارنا شروع نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی۔ جمہوریت پرامن، سماجی تبدیلی کے لیے عوام اور سرکار کے بیچ ایک سمجھوتہ ہوتی ہے۔اس کا مقصد سماجی نابرابری کو دور کرنا او رغریبوںکی دیکھ بھال کرنا ہے تاکہ امیر ان کے خلاف منمانی نہ کرسکیں۔

 

 

 

بہرحال وزیر اعظم کی تقریربہت نرم تھی۔ پچھلی تقریروں میںجو جوش تھا،وہ اس بار نہیںدکھائی دیا۔ یہ ایک اچھی اور قابل ستائش بات ہے۔ لیکن ان کی پارٹی کے صدر امیت شاہ ان کے اس انداز کی تقلید کرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہ ایک کے بعد دوسری ریاست کا دورہ کررہے ہیں۔ وہاں وہ جس زبان کا استعمال کررہے ہیں،وہ مناسب نہیںہے۔ پچھلے دنوں میںنے ایک ٹویٹ کیا، جس کا پس منظر یہ تھا کہ امیت شاہ نے ایک بیان دیا تھا کہ کرناٹک میںبدعنوانی پر زیرو ٹالیرینس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ اس کے بعد کسی نے ٹویٹ کیا کہ جب آپ کی بغل میںیدورپا کھڑے ہوںتو اس طرح کا بیان دینے کے لیے اعلیٰ درجہ کی بے شرمی کی ضرورت ہوگی۔
بہرحال انھیںعام لوگوں کی رائے سننی چاہیے۔ میں یدورپا کے اعمال کے لیے امیت شاہ کو قصوروار نہیںٹھہراؤں گا لیکن انھیں اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ بدعنوانی پر کنٹرول کی اپنی حدیںہوتی ہیں۔ آپ بدعنوانی سے پاک سماج نہیں بنا سکتے۔ اس بات کی تصدیق اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ خود ہی یدورپا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ لوگ ایسے جھانسوں میںنہیںآتے،وہ اس کی اصلیت سمجھتے ہیں۔ جو بات بہار کے لیے سچ ہے، وہ کرناٹک پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ آپ نے لالو یادو کو کیا کچھ نہیںکہا۔ آپ یدورپا کے بارے میں کیا کہیںگے؟ اگر آپ نئی طرح کی سیاست چاہتے ہیں تو آپ کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے جو دوسری بات کہی، وہ یہ تھی کہ وہ 2022 تک ایک نیا بھارت بنا دیںگے۔ نئے بھارت کا مطلب کیا ہے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ہمارا بھارت اچھا ہے۔ ہم نے 70 سال میں اچھا کام کیا ہے۔ 1947 سے لے کر 2017 تک ہماری حصولیابیاں شاندار رہی ہیں۔ اس دوران ہماری جو حصولیابیاں ہیں،وہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی ملک نے بغیر طاقت کے استعمال یا فوج کی مداخلت کے بغیر حاصل کی ہوں۔ یہاںصرف 19 مہینوںکے لیے جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کی گئی، جب اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لاگو کی تھی۔ یہاں 70 سال میں پرامن ڈھنگ سے سرکاریں تبدیل ہوئی ہیں۔ پرامن الیکشن ہوئے ہیں۔ پرامن ڈھنگ سے سماجی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ طاقتور لوگوں کے خلاف قانون بنائے گئے ہیں۔ ہر ایک مشکل دور کا سامنا آسانی سے کیا گیا ہے۔ موجودہ سرکار کے اقتدار میںآنے سے قبل 97 فیصد گاؤوں تک بجلی پہنچادی گئی تھی، صرف 3 فیصد گاؤں ایسے تھے جہاں بجلی نہیں پہنچی تھی۔ اس کے باوجود یہ سرکار کہہ رہی ہے کہ 70 سال تک لوگ اندھیرے میں رہے ۔ اپنی حصولیابیوں کو اونچے لہجے میں گنانے سے یہ بڑی حصولیابیاں نہیں بن جاتی ہیں۔ اونچی آواز میں بات کرنے یا تلخ الفاظ کے استعمال سے آپ کی سائڈ مضبوط نہیں ہوتی ہے۔
اب گورکھپور سانحہ کی بات کرتے ہیں۔ہم اس بات کو قبول کرتے ہیںکہ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ مدعا یہ نہیںہے کہ یہ سانحہ کیوں ہوا؟ لیکن مدعا یہ ہے کہ اس معاملے میںکیا کیا گیا؟ اس پر وزیر اعظم کو اپنی تعزیت پیش کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے ٹویٹ کرنا بھی گوارہ نہیں کیا۔وہ ترکی، اٹلی وغیرہ ملکوں میں ہوئی اموات کے سانحات پر ٹویٹ کرتے ہیں،لیکن یہاں انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ امیت شاہ عوامی طور پر یہ کہنے کی ہمت جٹا لیتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پہلی بار نہیں ہوا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بار بار ان سانحات کو لوٹتے رہنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ بی جے پی میں اقتدار کا گھمنڈ پیدا ہوگیا ہے۔یہ خود ان کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ لوگ اس سے متاثر نہیںہوتے۔ گھمنڈی لیڈر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ہندوستان مغلوں اور انگریزوں کے دور حکومت سے نکل گیا، یہ موجودہ حکومت کے دور سے بھی نکل جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ اقتدار میں ہیں اور لمبے وقت تک اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنا انداز درست کرنا ہوگا۔ سماج کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرنی ہوگی اور چھوٹے موٹے ریمارکس نظر انداز کرنا ہوگا۔ آخر کار اظہار رائے کی آزادی اسے کہتے ہیں،جس میں آپ وہ باتیں بھی سنیں، جنہیں سننا پسند نہیں کرتے ہیں۔ اگر لوگ آپ کی صرف تعریف کرتے ہیں تو اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔

 

 

 

سبکدوش ہونے والے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے ایک بہت ہی ہلکا پھلکا بیان دیا، جس پر بھی وہ افسردہ ہوگئے ۔انہوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں میں ایک طرح کی بے چینی کا ماحول ہے، انہوں نے یہ بیان بنگلورو میں دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ اگر اپوزیشن پارٹی کی باتیں نہیں سنی جائیں گی یا عدم اتفاق کو قبول نہیں کیا جائے گا تو جمہوریت تانا شاہی کی شکل اختیار کر لے گی۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بی جے پی اس کو لے کر ناراض کیوں ہے؟حامد انصاری ملک کے بہترین نائب صدر جمہوریہ میں سے ایک تھے۔ انہوں نے انتہائی وقار کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیا ۔انہوں نے بہترین ڈھنگ سے راجیہ سبھا کو چلایا ۔نئے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو کو ناپسند کئے بغیر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ انہیں حامد انصاری کی جگہ لینے میںوقت لگے گا۔ دوسرے دیگر لوگوں کی طرح وینکیا نائیڈو کا بھی سیاسی بیک گرائونڈ رہا ہے۔ یہ بی جے پی میں رہے ہیں ۔آخر کسی نہ کسی کو نائب صدر جمہوریہ بننا ہوتا ہے۔ اب وہ کسی بھی پارٹی سے غیر منسلک آدمی ہیں، اس کے باوجود وہ سبکدوش نائب صدر جمہوریہ کے بیان کی تردید کرتے ہیں،یہ مناسب نہیں تھا۔ اپنا دور کار ختم ہونے کے بعد حامد انصاری نے یہ بات کہی تھی۔ اب آپ نے ان کی جگہ لی ہے۔ آپ اب بھی سیاست کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔یہ بی جے پی ہے ۔میں اس کے لئے انہیں قصوروار نہیں ٹھہرائوں گا۔کانگریس کو بھی جمہوریت کی خوبیوں کو سمجھنے میں لمبا وقت لگا تھا، حالانکہ جواہر لعل نہرو جیسی قدآور شخصیت ان کے پاس موجود تھی۔ یہاں سبھی پگمی(بونے ) ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی یا لال کرشن اڈوانی جیسی قدآور شخصیتیں یا تو بیمار ہیں یا پھر انہیں درکنار کر دیا گیا ہے۔جو باقی بچے ہوئے لوگ ہیں، ان سے یہی توقع کی جاسکی ہے ،جوکہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ آپ مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں ہیں۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ لوک سبھا کی 445 میں سے 330 سیٹیں آپ کے پاس ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی ذمہ داریوں پر کھرا اتریئے ۔اپنے سُر کو دھیما رکھئے۔ وزیر اعظم کی تقریر کی میں ایک معاملے میں تعریف ضرور کروں گا کہ ان کا سُر بہت ہی بہتر اور سلجھا ہوا تھا۔ ان کے بھاشن سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو نئی امید ملی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم نے جو باتیں کی ہیں، اس کی تعمیل کی جائے گی۔
نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنگی رجحان کے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کشمیر کے آدھے ضلعے دہشت گردی سے متاثر ہیں اور ہم اس کا مستقل حل تلاش کررہے ہیں۔ مستقل حل سے ان کی منشا کیا ہے، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ وزیر اعظم کو اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر ایسا ماحول بنانا چاہئے کہ مثبت بات چیت شروع کی جاسکے اور مسئلے کے حل کی طرف بڑھا جا سکے۔ ان کی پارٹی کے ممبر یشونت سنہا پچھلے سال کشمیر گئے تھے۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے وزیر اعظم سے ملنے کا وقت مانگا تھا لیکن انہوں نے وقت نہیں دیا۔ وزیراعظم اپنی پارٹی کے لوگوں سے بھی نہیں ملنا چاہتے جو ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ لال قلعہ سے آپ کہتے ہیں کہ مسئلے کا حل گالی اور گولی سے نہیں، بلکہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے ہوگا۔ بالکل یہی چیز یشونت سنہا کرنا چاہتے تھے۔دراصل وزیر اعظم جو کہتے ہیں اور جو پارٹی چاہتی ہے اور جو آر ایس ایس کرتا ہے، ان میں بڑا فاصلہ ہے۔ جتنی جلد اس فاصلے کو کم کیا جائے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *