بدعنوانی میں ڈوب رہا ہے جھارکھنڈ

وزیر اعلیٰ رگھوور داس یہ بولتے نہیں تھکتے ہیں کہ ریاست میں بدعنوان افسروں اور ملازمین کی خیر نہیں،بد عنوانی کسی بھی حال میں برداشت نہیں، بدعنوانی میں ملوث لوگوں پر سخت کارروائی کی جائے گی، انہیں وی آر ایس دے دیا جائے گا یا شنٹنگ پوسٹ۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ 14برسوں میں جتنے بدعنوان لوگوں پر کارروائی نہیں ہوئی، اتنا میرے ایک ہزار دنوں کے دور حکومت میں ہوا۔ سینکڑوں بدعنوان آفیسر جیل کی ہوا کھا رہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کے دعوے سے الگ اگر دیکھا جائے تو یہاں بدعنوانی کی گنگابہہ رہی ہے۔
گھوٹالوں کی ’’ہری اننت کتھا ‘‘والی کہاوت ہے۔ گھوٹالوں میں کوئی کمی تو نہیں ہوئی البتہ اور بڑھی ہے ۔یہاں برسات کی پہلی بارش میں ہی اربوں روپے کے پل، پولئے بہہ گئے۔ اس کی تعمیر کچھ ہی سال پہلے ہوئی تھی۔ یہ ضرور ہے کہ چھوٹے ملازموں کی گرفتاری ضرور ہوئی لیکن بڑی مچھلی ابھی تک اس سے دور ہے۔ اب تو گھوٹالوں میں سینئر لیڈر اور افسروں کے بیٹے بھی اس کام میں لگ گئے ہیں۔
لوٹ ہی لوٹ
’’رام نام کی لوٹ ہے۔لوٹ سکو تو لوٹ ‘‘اس کہاوت کو جھارکھنڈ کے ٹھیکہ دار ،مافیا ،بدعنوان آفیسر اور لیڈروں نے بدل دیا ہے۔ ’’ یہاں خزانے کی لوٹ ہے، لوٹ سکو تو لوٹ ‘‘ کو اپنا حق مان کر سبھی لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو لے کر کوئی کسر نہیںچھوڑنا چاہتے ہیں۔ ویسے پورے ملک میں بد عنوانی کے معاملے میں یہ ریاست اوپر ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ ریاست میں نالی کی تعمیر کیسے ہو، اس کا تجزیہ کرنے کے لئے وزیر اپنے بھاری بھرکم فوج کے ساتھ باہری ملک گھومنے پھرنے جاتے ہیں کہ نالیوں کا پانی سڑک پر بہنے لگتا ہے۔ بڑے بڑے پل جو کروڑوں میں بنتے ہیں، ایک برسات میں ہی بہہ جاتے ہیں۔
رانچی کے ہرمو ندی کو پھر سے جاری کرنے کا کام 90کروڑ روپے میں دیا گیا۔ لیکن یہ ندی تو نہیں بن پائی،گندہ نالا ضرور بن گیا۔ ساڑھے چار سو کروڑ سے تیار ہوا رانچی کا صدر اسپتال، ایک ہی برس میں درکنے لگا ۔مومنٹم جھارکھنڈ میں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے جتنے پیسے خرچ ہوئے، اتنے کی بھی سرمایہ کاری نہیں ہو سکی۔ اور تو اور، نااہل ہوئی کمپنیوں کوملک کی کسی بھی ریاست میں کام نہیںمل سکا لیکن جھارکھنڈ میں اسے مل گیا۔ یہ سب تو کچھ مثالیں ہیں ،یہاں بدعنوانی کے بارے میں ’’ہری کتھا اننتا‘‘ والی کہاوت ثابت ہوتی ہے ۔جس کا کوئی اختتام ہی نہیں ہے لیکن اس کے بعد بھی جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس زیرو ٹولیرنس اور بدعنوانی سے پاک ریاست کا دعویٰ خوب کرتے ہیں لیکن سچائی کچھ اور ہی بیان کرتی ہے۔ ایک دو بدعنوانی کی کہانی سے ہی یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس ریاست میں بدعنوانی نے کتنی گہری جڑیں جما لی ہے۔
ویسے وزیر اعلیٰ رگھوور داس یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ ریاست کو بدعنوانی سے نجات دلانے کی قواعد پوری تیزی سے ہورہی ہے اور بدعنوانی اور بدعنوان آفیسروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا لیکن یہ سب صرف دعویٰ ہی ہے، جبکہ سچائی کچھ اور ہی کہتی ہے۔بدعنوان افسروں کی لمبی فوج ہے جس کا پتہ خود وزیر اعلیٰ کو بھی ہے۔ بغیر چڑھاوا اور کمیشن کے کچھ بھی کام ہونا جھارکھنڈ میں ناممکن ہی ہے۔
ریاست کے سابق وزیراعلیٰ بابو لال مرانڈی نے تو سیدھا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیرا علیٰ کے ارد گرد رہنے والے ہی بدعنوانی کے دلدل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بی جے پی لیڈر اورافسروں کا گٹھ جوڑ صرف ریاست کو لوٹنے میں لگا ہوا ہے۔ ریاست کی ترقی کی فکر کسی کو نہیں ہے، اربوں روپے کا سرکاری خزانہ مومنٹم جھارکھنڈ کو کامیاب بنانے کے لئے ریاستی سرکار نے لگایا لیکن اتنی رقم کی سرمایہ کاری بھی جھارکھنڈ میں نہیںہوسکی ہے۔

 

 

آئوٹ سور سنگ پر انحصار
اطلاعات و عوامی رابطہ کا محکمہ جس کی ذمہ داری سرکار کی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے کی ہوتی ہے،ساتھ ہی اشتہارات اور سرکاری ٹینڈروں کو جاری کرنے کی ہوتی ہے لیکن اس محکمہ کے سارے کام دو آئوٹ سورسنگ پر دے دیا گیا جبکہ اس محکمہ میں افسروں اور ملازموں کی ایک پوری فوج سرگرم ہے۔صرف تنخواہ مد میں ہی کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ شروع میں دہلی کی ایک کمپنی ’’پربھاتم ‘‘ کو یہ کام ڈھائی کروڑ سالانہ دیا گیا تھا۔ یہ کمپنی بی جے پی کے ہی کسی لیڈر کی ہے لیکن سب سے حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ جو کام ڈھائی کروڑ روپے میں یہ کمپنی کر رہی تھی، اس کے ٹھیکہ کو رد کر کے ’دوگلا ‘نام کی ایک کمپنی کو یہ کام ساڑھے چودہ کروڑ میں دیا گیا ۔یہ کمپنی اہلیت بھی پوری نہیں کررہی تھی۔ایک لاکھ پونجی والی اس کمپنی کو ساڑھے چودہ کروڑ روپے کا کام دے دیا گیا۔ سیاسی گلیاروں میں یہ چرچا زوروں پر ہے کہ ریاست کے ایک سینئر لیڈر کا بیٹا اور ایک اعلیٰ آفیسر کا بیٹا بھی اس کاحصہ دار ہے۔ سبھی دستور و قانون کوطاق پر رکھ کر اس کمپنی کو کام الاٹ کر دیا گیا۔
کس طرح دستور و قانون کو طاق پر رکھ کر یہاں کے لیڈر اور آفیسر کام کرتے ہیں، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتاہے کہ ریاست کے اپر چیف سکریٹری کو فائننس ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری نے ارنیسٹ اینڈ ینگ کے کسی بھی طرح کا کام دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ اپر چیف سکریٹری نے صاف طور پر فائل میں لکھا کہ اس کمپنی کو ’جوڈکو ‘ کے ذریعہ نا اہل قرارد ے دیا گیا تھا اور اس پر تین سالوں کے لئے پابندی لگا دی ہے تو اسے پھر سے کیسے کام دیا جاسکتاہے لیکن اسکل ڈیولپمنٹ مشن کے افسروں نے مالی محکمہ کے چیف سکریٹری امیت کھرے کے ریمارکس کی اندیکھی کرکیتقریباً 45کروڑ روپے کا کام دینے سے صاف طور پر پابندی لگانے کا حکم دیا تھا۔ اب یہ کمپنی یہ بتائے گی کہ ریاست کے نوجوانوں کو کس طرح سے ٹرینڈ کیا جائے۔جبکہ اس کمپنی نے مومنٹم جھارکھنڈ میں غیرتسلی بخش کام کیا تھا۔ اسے مومنٹم جھارکھنڈ میں اشتہار اور نالج پارٹنر بنایا گیا تھا۔ ’جوڈکو‘ کے ذریعہ دھنباد کی سڑک کے لئے انوائرنمنٹ اینڈ سوشل امپیکٹ پر ایک رپورٹ بنانے کو دیا لیکن اس کمپنی کے ذریعہ طے وقت کے اندر تو رپورٹ نہیں دیا ۔ آفس میں ہی بیٹھ کر ساری رپورٹ بنادی۔ جوڈکو نے اس کمپنی کو تین برسوں کے لئے نا اہل کر دیا تھا۔
کبھی رانچی کی لائف لائن مانی جانے والی ہرمو ندی کی بہتری کا کام کرنے کو لے کر ریاستی سرکار نے ممبئی کی ایک کمپنی کوڈی پی آر بنانے کا کام دیا ۔ اس کمپنی نے ہرمو ندی کو زندہ کرنے کے لئے تین کروڑ روپے کنسلٹنسی چارج لیا۔ ممبئی کو ہی کمپنی کو 90کروڑ میں یہ کام دیا گیا۔ 9کلو میٹر والی اس ندی میں پانی تو نہیں آ سکا ،یہ گندہ نالا ضرور بن گیا۔ ندی کا باضابطہ کام شروع ہونے کے پہلے اس کی حالت زیادہ اچھی تھی ۔ندی کے نکالنے پر کچھ کام نہیں کیا گیا جس سے اس ندی کا راستہ ہی بند ہو گیا۔ شہری علاقوں کے اکاد کلو میٹر میں کام کر کے کمپنی نے موٹی رقم سرکار سے اینٹھ لی۔
ریاست کے سب سے اہم محکمہ، ہیلتھ ، تعلیم اور شہری ترقی محکمہ بھی پوری طرح سے بدعنوانی کے گلے تک ڈوبا ہوا ہے اور یہاں بدعنوانی کی گنگا بہہ رہی ہے۔ ریاست کا ہیلتھ محکمہ تو گھوٹالوں کی ایک بڑی تاریخ اپنے میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اسپتال کی تعمیر ہو یا ہیلتھ سینٹر کا ،اور تو اور دوا اور آلات کی خرید تو صرف کمیشن خوری کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ سب سے حیرت انگیز تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلانے کی ذمہ داری ایک ایسی کمپنی کو دی گئی ہے جس پر سی بی آئی اور ای ڈی کا کئی کیس درج ہے۔ کئی ریاستوں نے اس کمپنی کو بلیک لسٹ میں رکھا ہے لیکن جھارکھنڈ میں اسے 360 کروڑ روپے کا کام مل گیا ہے۔یہ کمپنی 108 کال سینٹر چلائے گی۔ یہ کمپنی پیکیجا ہیلتھ کیئر لمیٹیڈ ، راجستھان میں بھی 108 کال سینٹر اور ایمبولینس گھوٹالہ میں ملوث رہی ہے۔ راجستھان میں ہیلتھ محکمہ کے تحت 450 ایمبولینس چل رہے تھے۔ راجستھان میں اس کمپنی کو گھوٹالے میں ملوث بتاتے ہوئے سی بی آئی نے اس پر ایف آئی آر بھی درج کر رکھی ہے لیکن جھارکھنڈ سرکار نے اس کمپنی کو 360 کروڑ روپے کا کام دے دیا۔ اب ظاہر ہے کہ اس کمپنی نے یہاں کے لیڈر اور اعلیٰ افسروں کو مطمئن کرکے ہی کام لیا ہوگا۔ اس کے بعد بھی وزیر اعلیٰ اگر زیرو ٹولیرنس کی باتیں کرتے ہیں تو یقینی طور پر وزیر اعلیٰ کی کرکری ہی ہوگی ۔
یہاںکے اعلیٰ آفیسر کس طرح بے لگام ہیں، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے آفیسر وزیر کی بھی بات نہیں سنتے۔ کارپوریشن میں ہولڈنگ وصولی کا کام اسپیرو نام کی کمپنی کو دیا گیا۔ اس کمپنی نے ایک سال میں 43کروڑ روپے ہولڈنگ ٹیکس کی شکل میں وصول کی۔ اس کے عوض کمپنی نے 7کروڑ کمیشن کی شکل میں لیا ۔جب محکمہ جاتی وزیر سی پی سنگ نے اتنا کمیشن دیئے جانے پر ناراضگی ظاہر کی اور کمپنی کو کام سے ہٹانے کا حکم دیا تو اس کمپنی کو کارپوریشن نے تو ہٹا دیا لیکن دو ماہ بعدہی ٹینڈر نکال کر اسی کمپنی کو کام دے دیا گیا۔
رگھوور سرکار میں فوڈ اینڈ سپلائی وزیر سرجو رائے تو سرکار میں بدعنوانی پر چٹکی لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ترقی کا کمبل بدعنوانی کا گھی‘‘ ۔سرجو رائے نے ہی چارہ گھوٹالہ میں بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا۔ پارلیمانی امورکے وزیر نے یہ کہا کہ ترقی کا کمبل اوڑھ کر بدعنوانی کا گھی پینے میں لگے لیڈر، آفیسر ،انجینئر، ٹھیکہ دار گٹھ جوڑ کو برباد کرنا ہے نہ کہ اس سے آنکھ بند کرلینا۔ سرجو رائے رگھوور سرکار کو جم کر کھینچائی کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ بدعنوانی پر قابو پانا اب ناممکن ہی لگتاہے۔یہاں صرف گڈھے ہی گڈھے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *