پڑھنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی

اگر جذبہ علم ہو تو عمر منزل کو پانے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ اس کی مثال تھائی لینڈ کی ایک 91 سالہ خاتون سے دی جاسکتی ہے۔تھائی لینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون کملان جناکل نے بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ ’پڑھائی کے لیے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔ ہوئے کملان جناکل کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں لیکن نوجوانی میں انھیں کبھی موقع ہی نہیں ملالیکن لگ بھگ اپنی تمام زندگی گزارنے اور اپنے بچوں کو یونیورسٹی جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد انھوں خود بھی یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا۔آخر کار انہوں نے یہ ڈگری حاصل کر لی۔
کملان کا تعلق تھائی لینڈ کے شمالی صوبے لامپانگ سے ہے۔ وہ ایک ذہین طالبہ تھیں اور انھوں نے اپنے علاقے کے بہترین اسکولوں میں تعلیم حاصل کی لیکن ان کے خاندان کے بنکاک منتقل ہونے کے بعد ان کی شادی کر دی گئی اور انھیں تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا۔ان کا کہنا ہے کہ ’میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ میرے بچے تعلیم حاصل کریں اس لیے میں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔‘

 

ان کے پانچ میں نے چار بچوں نے ماسٹرز ڈگری لی جبکہ ایک پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ گئے۔یہ ان کے بچوں کے تعلیمی تجربے ہی کا اثر تھا کہ انھوں نے بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے تعلیم کا سلسلہ 72 سال کی عمر شروع کیا لیکن ایک بیٹی کے مرنے کی وجہ سے چند سال تک یہ ملتوی کر دیا گیا۔ کملان کا کہنا ہے کہ ’دکھ اور احساسِ زیاں سے نکلنے کے بعد میں نے خود کو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب کیا۔ مجھے امید ہے کہ میری بیٹی کی روح یہ دیکھ کر خوش ہو گی ۔
ان کا کہنا ہے کہ پڑھنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ میرا ذہن سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ یہ دنیا نہیں رکتی۔ یہاں ہمیشہ کچھ نئے مسائل حل ہونے کے لیے موجود رہتے ہیں۔ اگر سائنس نہیں ہوتی تو دنیا میں ترقی کا عمل رک جاتا۔
اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ استقامت اور جذبہ انھیں اتنی دور تک لایا ہے۔’مجھے جو سبق یاد کرنا ہوتا میں اس کے اہم نکات کو الگ کرتی اور یاد کرتی۔ اس سے مجھی کافی مدد ملی۔جب میں کامیاب ہوتی تو میں خوش ہوتی اور اگر ناکام ہوتی تو اداس ہو جاتی لیکن میں نے اس وقت تک امتحان دیا جب تک میں پاس نہیں ہو گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *