ایران کی نئی کابینہ ایک چوتھائی مسلم آبادی کی نمائندگی نہیں

حسن روحانی کو اعتدال پسند لیڈر کہا جاتا ہے ۔مگر اس مرتبہ انہوں نے اپنی کابینہ کی تشکیل میں اعتدال کا خیال بالکل نہیں رکھا۔ ہوا یہ کہ اپنی 18رکنی کابینہ میں انہوں نے نہ تو کسی خاتون کو کوئی جگہ دی اور نہ ہی بڑی آبادی ہونے کے باوجود کسی سنی کو ۔ان کے اس رویے کی وجہ سے ان پر ہر طرف سے تنقید ہونے لگی۔ ان تنقیدوں کا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے تین خواتین کو تو کابینہ میں شامل کرلیا لیکن سنیوں کے مطالبے پر کوئی دھیان نہیں دیا۔اس مضمون میں ان سب باتوںکا جائزہ لیا گیا ہے۔

حسن روحانی کو ایران میں نسبتاً اعتدال پسند شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی کابینہ میں چند خواتین کو بھی شامل کریں گے۔کیونکہ اس وقت ایران کی پارلیمنٹ میں 17 خواتین ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنی بڑی تعداد کو وہ نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے فروری میں ’’خواتین، اعتدال پسندی اور ترقی‘‘کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں سیاست اور ثقافت میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو وہ روزگار کے مواقعوں میں برابری لائیں گے اور خواتین کو ملازمت میں آنے کے مواقع فراہم کریں گے۔
خواتین کی نمائندگی معدوم
ان کے اس بیان کی وجہ سے یہ سمجھا جارہا تھاکہ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے چلی آرہی روایت کو وہ توڑیں گے اور خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دیں گے ۔قابل ذکر ہے کہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک صرف ایک خاتون کسی وزارت کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔ مرضیح دستجردی 2009 سے 2013 تک احمدی نڑاد کے دور حکومت میں وزارت صحت کے عہدے پر فائز رہیں۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہاں عورتوں کے تعلق سے کھلے ذہن کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے ۔مگر حسن روحانی کی شکل میں وہاں کے عوام نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو نہ صرف خواتین کی زیادہ نمائندگی کی ترجمانی کرتے رہے ہیں بلکہ مغرب سے رشتہ استوار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ مگر کابینہ کی تشکیل کے بعد عوام کو مایوسی ہاتھ لگی اور ان پر زبردست تنقید ہونے لگی۔تنقید کرنے والوں نے مختلف ذرائع کا استعمال کیا۔ایک ایرانی شہری نے اپنے ٹویٹ پر لکھا کہ آپ خواتین کو کابینہ میں شامل کئے بغیر ترقی کا کام کیسے انجام دے سکتے ہیں۔خواتین امور کی سابق نائب صدر شاہین دوخت مولاوردی نے کہا کہ ’’کابینہ میں خواتین کی عدم موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پانی پر چل رہے ہیں‘‘۔
نئی کابینہ میں اعلیٰ وزارتوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ جواد ظریف وزیر خارجہ ہی ہیں اور اسی طرح بیجان نامدار کو وزیر تیل برقرار رکھا گیا ہے۔ جنرل عامر حاتمی کو نیا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے وہ اسی وزارت میں نائب کے عہدے پر تھے۔اس کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر 35 سالہ محمد جواد ہیں جو کہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور انہیں ٹیلی کام کی وزارت سونپی گئی ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ اس نو منتخب کردہ کابینہ میں پارلیمان کی جانب سے کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی کیوں کہ ملک کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی منظوری کے بعد ہی ان تمام اہم عہدوں پر وزرا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

 

 

 

خواتین کی نمائندگی
بہر کیف جب خواتین کے کابینہ میں شریک نہ کئے جانے پر ہر طرف سے تنقید ہونے لگی تو صدر روحانی نے اس میں تھوڑی ترمیم کی اور پھر نئی کابینہ میں 3 خاتون وزراکی تعیناتیاں کر دی۔ان تین خاتون وزراء میں سے ایک معصومہ ابتکار ہیں جنہیں خواتین کے امور کی ذمہ دار نائب صدر کے طور پر متعین کیا گیا ہے۔لیلیٰ جنید کو قانونی امور کی نائب کے طور پر متعین کیا گیا ہے اور شانیندوح مولاوردی کو شہری حقوق کی خصوصی نمائندہ منتخب کیا گیا ہے۔اس سے قبل کے دور صدارت میں بھی صدر روحانی کی تین خواتین نائب موجود تھیں، نئی کابینہ میں نائب کے عہدے پر ابھی خالی نشستیں موجود ہیں جن پر تعیناتیوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔
سنیو ںکو مایوسی
ایران کی پارلیمنٹ میں ڈھائی کروڑ سنی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمان نے صدر حسن روحانی سے اپنی کابینہ میں کم سے کم ایک سنی وزیرمقرر کرنے مطالبہ کیا ہے۔سنی ارکان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومتیں مسلسل اہل سنت مسلک کو نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کی تعداد ڈھائی کروڑ ہونے کے باوجود حکومت میں سنی مسلک کا کوئی ایک وزیر بھی مقرر نہیں کیا جاتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ)میں شامل سنی ارکان اور دیگر سنی رہ نماؤں کی طرف سے سیاسی طور پراہل سنت کو محروم رکھنے کی ریاستی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ارکان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت میں نہ تو کسی سنی مسلمان کو وزیر مقرر کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی صوبے کا گورنر کوئی سنی مسلمان ہے۔ اس لیے ان کا اصولی مطالبہ ہے کہ حکومت آبادی کے تناسب سے کابینہ میں اہل سنت کے نمائندوں کا تقرر عمل میں لائے۔ایرانی پارلیمنٹ کے سنی ارکان کی طرف سے صدر حسن روحانی کو ایک مشترکہ مکتوب ارسال کیا گیا ہے۔ اس مکتوب میں انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ پچھلے صدارتی انتخابات کے دوران اہل سنت، کرد، بلوچ اور ترکمان آبادی کی 80فی صد اکثریت نے حسن روحانی کی حمایت کی تھی۔ اس لیے اب اہل سنت کا بھی مطالبہ ہے کہ صدر اپنی کابینہ میں کم سے کم ایک سنی وزیر کا تقررکریں۔مکتوب میں اہل سنت کے ر ہنمائوں نے صدر حسن روحانی کو ان کی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے ان وعدوں کی یاد دہانی کرائی گئی جن میں حسن روحانی نے صدر منتخب ہو کر اپنی کابینہ میں سنی وزیر مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔خیال رہے کہ ایرانی صدر کو اہل سنت کی طرف سے یہ مکتوب ایک ایسے وقت میں ارسال کیا گیا ہے جب حال ہی میں صدر نے تعلیم، کھیلوں اور مذہبی امور کے نئے وزراء اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔
نئے وزراء کی تقرری اصلاح پسندوں کے مطالبے پر حکومت میں ترمیم کا حصہ ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے سنی رکن اور صوبہ کردستان کے مذہبی رہ نما حسین امینی کا کہنا ہے کہ حکومت میں اہل سنت وزیر کی تقرری جیسے مطالبات نہ تو مکتوبات کے ذریعے پورے کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی یہ معاملہ صدر کے اختیار میں ہے۔واضح رہے کہ ایران میں اہل سنت مسلک کی آبادی ملک کی کل آبادی کا20سے25 صد ہے، مگر اس کے باوجود نہ تو اہل سنت کوکسی صوبے میں گورنر مقرر کرنے کا حق ہے اور نہ وزیر۔ بہر کیف اتنی بڑی آبادی کو کابینہ میں شامل نہ کئے جانے کی وجہ سے وہاں کا سنی طبقہ مایوسی کا شکار ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *