نئے نئے فرمان کی زد میں یوپی کے مدارس

اترپردیش میں مدارس پر یوگی حکومت کے نئے نئے فرمان کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پہلے ملحق مدارس کو مقررہ ناپ پورا نہ ہونے پر امداد روکی گئی، اس کے بعد ان تمام مدارس کو بند کرنے کا فرمان جاری ہوا جو رجسٹرڈ نہیں ہیں اوراس کے بعد مدرسہ بورڈ میں ایک ایسے شخص کو رجسٹرار بنایا گیا جو اردو سے نابلد ہے اور پھر یوم آزادی کے موقع پرحب الوطنی کاامتحان لینے کے لئے ویڈیو بنانے کا فرمان اور ویڈیو نہ بنانے کی صورت میں کارروائی کی دھمکی ،اہل مدارس کو سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ حکومت انہیں پریشان کرنا چاہتی ہے۔
مدارس کو نوٹس
قابل ذکر ہے کہ اترپردیش میں تقریباً21 ہزار سے زائد مدارس ہیں۔ان میں حکومت سے تسلیم شدہ مدرسوں کی تعداد تقریباً 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 560 ایسے مدارس ہیں جو مکمل طور پر ریاستی حکومت کے امداد یافتہ ہیں۔ جب یوگی ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے تب مدرسہ ایجوکیشن کونسل کی طرف سے ان تمام مدارس کو نوٹس بھیجا گیا کہ وہ اپنے مدارس کی مقررہ ناپ کا بیوروا محکمہ میں جمع کروائیں۔حد تو تب ہوگئی جب ان سے کہا گیا کہ جب تک یہ بیورا محکمہ کے پاس جمع نہیں ہوتا، تب تک ان مدارس کے اساتذہ کی کی تنخواہیں رکی رہیں گی۔ اس فیصلے نے اساتذہ کے لئے بڑی مشکلیں کھڑی کردی۔ آج بھی ریاست میں کئی مدارس کے مدرسین و ملازمین کی تنخواہیں صرف اس لئے رکی ہوئی ہیں کہ ان کے پاس مقررہ ناپ کے کمرے نہیں ہیں ۔
مدارس کو چھوٹ
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ 1978 کے ضابطہ الحاق کی شق 11 میں پہلے سے تعمیر شدہ مدارس کو مقررہ ناپ سے چھوٹ دینے کی بات کہی گئی ہے ۔اسی ضابطے کے تحت چھوٹ دے کر مدرسہ بورڈ کی الحاق کمیٹی نے 2550 اسکوائر فٹ تعمیر شدہ مدارس کو الحاق دیاتھا اور اسی بنیاد پر انہیں گرانٹ بھی دی گئی جو کہ یوگی حکومت سے پہلے مسلسل جاری تھی۔ مگر یوگی حکومت کے آتے ہی اس شق کی غلط تشریح کرکے ان مدارس کو پریشان کرنے کا راستہ نکال لیا گیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلڈنگ کی تعمیر میں کمی کے لئے مدرسین کو ذمہ دار ٹھہرانا اور ان کی تنخواہیں روکنا کہاں کی منظق ہے ۔پھر یہ کہ جب ایکٹ 1978 کی شق 11 میں چھوٹ کی بنیاد پر انہیں گرانٹ مسلسل دی جارہی تھی تو اچانک اسے روکنے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟۔
نااہل آفیسر کا تقرر
ابھی مدرسوں کے یہ درد کم بھی نہیں ہوئے تھے کہ ریاستی حکومت نے مدرسہ بورڈ کے لئے ایک عجیب و غریب فیصلہ کرکے مدارس کے تمام متعلقین کو دشواری میں ڈال دیا ہے ۔دراصل اب تک روایت یہ رہی ہے کہ ریاستی مدرسہ بورڈ میں ایسے افسروں کا تقرر ہوتا تھا جواردو زبان کے ساتھ ساتھ دینی علوم سے بھی واقف ہوں۔کیونکہ مدارس سے متعلق افراد زیادہ تر اپنی درخواستیںاردو زبان میں ہی لکھتے ہیں۔ لیکن یوگی حکومت نے اس روایت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے راہل گپتا کو نیا رجسٹرارمقرر کردیا ہے جو نہ تو اردو زبان جانتے ہیں اور نہ ہی دینی علوم سے واقف ہیں۔گپتا کی تقرری سے مدارس کے سامنے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔مدرسہ مفتاح العلوم کے پرنسپل مولانا شاہد قاسمی کہتے ہیں کہ دینی امور اور اردو زبان سے ناواقف رجسٹرار کے آجانے سے کئی تکنیکی دشواریاں پیدا ہورہی ہیں۔
غیر رجسٹرڈ مدارس بند
قابل ذکر ہے کہ ملحق مدارس کے علاوہ ریاست میں ہزاروںکی تعداد میں غیر رجسٹرڈ مدارس بھی ہیں جو محلے، مساجد اور چھوٹی چھوٹی جگہوں میں بچوں کو قرآن و عربی کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان مدارس کو یوگی حکومت نے نشانے پر لینے کا ٹھان لیا ہے اور ان سب کو نوٹس بھیجا ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ مدارس کو بند کردیں۔ اس نوٹس میں آر ٹی ای ایکٹ 2009 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست میں کسی بھی ادارے کورجسٹریشن کے بغیر چلانا غیر قانونی عمل ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوگی حکومت 2009 کے حوالے سے بات کررہی ہے اور 2012 کے آر ٹی ای ترمیمی ایکٹ کو نظر انداز کیوں کررہی ہے جس میں مذہبی اداروںکو رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
آئین میں سہولت
جمعیت علماء ہند کے مولانا اسامہ قاسمی کا کہنا ہے کہ جب آر ٹی ای ایکٹ 2009 میں بنایا گیا تھا اور 2010 میں نافذ العمل ہوا ،اس وقت مختلف طبقات کے ذریعہ خدشات ظاہر کئے گئے تھے۔اس وقت کے وزیر تعلیم کپل سبل نے باضابطہ ترمیم کرکے مدارس، ویدک پاٹھ شالائوں اور مذہبی تعلیمی اداروںکو مستثنیٰ کردیا تھا جو کہ آر ٹی ای ترمیم ایکٹ 2012 کے نام سے موجود ہے جس کی دفعہ ایک کی شق 5 میں واضح طور پر تحریر ہے کہ اس قانون کی کوئی بات مدارس ،ویدک پاٹھ شالائوں اور بنیادی طور پر مذہبی تعلیم مہیا کرانے والے تعلیمی اداروں پر نافذ نہیں ہوگی۔
دراصل یہ معاملہ تب اٹھا جب بارہ بنکی ضلع کے مدرسہ حفصہ للبنات نندورہ اور مدرسہ سراج العلوم کتوری کلاں کے ذمہ داروں کو بلاک ایجوکیشنل آفسرنے ا ٓرٹی ایکٹ باب4کی دفعہ 19-1کا حوالہ دے کر کہا کہ فوری طور سے اپنی درس گاہوں کو بند کریں اور اس کی اطلاع بلاک آفیسر کو دیں۔نوٹس میں مذکورہ ایکٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر تسلیم شدہ ادارہ چلاتا ہے تواسے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا ہو گا ، اس کے علاوہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں دس ہزارروپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے اس رویے پر جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا کہنا ہے کہ آرٹی ای ایکٹ کی ترمیمی ہدایات 2012 کے باوجود دینی مدارس کو یہ نوٹس جاری کیا جانا ملت اسلامیہ کو محض اضطراب میں ڈالنے کی سازش ہے ۔

 

 

 

 

مدارس میں’ جن گن من‘ لازمی
ایک طرف جہاں مدارس اسلامیہ کو بند کرنے کے لئے نوٹس دیئے جارہے ہیں تو وہیں منظور شدہ مدارس اسلامیہ میں راشٹر گان یعنی ’’جن گن من ‘‘ کو یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کے ساتھ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نیز ان پروگراموں کی ویڈیو گرافی محکمہ میں جمع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے جس پر علماء کرام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔3 جولائی کو یو پی مدرسہ ایجوکیشن کونسل نے ریاست کے تمام مدرسوںکو ایک لیٹر جاری کیا تھا۔ لیٹر میں کہا گیا تھا کہ 15 اگست کو مدرسوں میں ترنگا لہرایا جائے اور راشٹریہ گان بھی گایا جائے ۔اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مدرسوں میں جشن آزادی کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں اور اپنے طور پر شہیدوںکو یاد بھی کیا جاتاہے۔یہ تب سے جاری ہے جب سے ملک آزاد ہوا ہے۔ اس لئے اس پر نیا فرمان جاری کرنا صرف سیاست ہے۔
ویڈیو نہ بنانے والوں پر کارروائی
یوگی حکومت کے حکم کے بعد یوم آزادی کے موقع پر یو پی کے کئی مدرسوں میں راشٹریہ گان گیا گیا اور ویدیو گرافی بھی کی گئی۔ مگر کچھ مدرسوں کے بارے میں خبر ہے کہ وہاں راشٹریہ گان گانے سے گریز کیا گیا ۔ایسے مدارس کے بارے میں بریلی کے ڈویژنل کمشنر پی وی جگت موہن کے مطابق پری وینشن آف نیشنل آنر ایکٹ اور نیشنل سیکورٹی ایکٹ ( این ایس اے ) کے تحت کارروائی ہوگی۔
بریلی اور ویسٹ یوپی کے کچھ مدرسوں میں جن گن من کی جگہ علامہ اقبال کا لکھا ترانہ ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ گایا گیا تھا۔ دراصل بریلی کے قاضی مولانا اسجد رضا نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ راشٹریہ گان میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔ان کے اس فتویٰ کے بعد کئی مدرسوں نے اس گانا کو گانے سے گریز کیا تھا۔
غلط فہمی کیوں؟
یقینا آزادی کے بعد سے مسلسل یہ مدارس ترنگا لہراتے ہیں اور جشن آزادی مناتے ہیں مگر کبھی کبھی ہمارے اپنے کردار سے دوسروں میں شبہ پیدا ہوتا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 14 اگست 2015 میں ایشیا کے مشہور دینی ادارہ دارالعلوم دیوبند سے ایک سرکولر جاری ہوا تھا۔ اس سرکولر میں تمام مدارس اور مسلم اداروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ پورے جوش وخروش سے یوم آزادی منائیں اور اپنے یہاں ترنگا بھی لہرائیں۔ ساتھ ہی مسلم خاندانوں کو بھی اپنے گھروں میں ترنگا لہرانے کے لیے کہا گیاتھا ۔ظاہر ہے اگر اس طرح کا سرکولر کسی مشہور ادارے سے عین تقریب کے موقع پر جاری ہوگا تو لامحالہ برادران وطن میں غلط فہمی پیدا ہوگی کہ مدارس یوم آزادی جوش و خروش سے نہیں مناتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کئی لوگوں نے اس سرکولر پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
حالانکہ اس طرح کے سرکولر پر جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ’’ یہ حقیقت ہے کہ وطن کے تئیں اپنے جذبہ کو کسی سے ثابت کرانے کی ضرورت نہیں ، تاہم ملک میں اپنے تئیں منفی فضاء قائم کرنے والوں کو آئینہ دکھاناوقت کا اہم تقاضا ہے ‘‘۔ بہر کیف مدارس کو سرکولر جاری کرکے راشٹریہ گان کے علاوہ ویڈیو گرافی پر مسلمانوں میں سخت بے چینی دیکھی گئی ۔حالانکہ ان مدارس نے روایت کے مطابق جشن آزادی پورے تزک و احتشام سے منایا اور مجاہدین آزادی کو جوش و خروش سے خراج عقیدت پیش کیا اور ترنگا بھی لہرایا۔مگر جو بات پریشان کرنے والی ہے ،وہ یہ کہ ریاست میں مدارس کو یکے بعد دیگرے کسی نہ کسی فرمان کے ذریعہ مسلسل آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ایسی صورت میں کیا یہ سمجھا جائے کہ ان مدارس پر حکومت شکنجہ کسنے کی تیاری ہے ؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *