قانون ساز اداروں میں فرقہ وارانہ جرائم کے ملزمین کا اضافہ خطرناک

ہمارے ملک کاسیاسی ماحول کتنا فرقہ وارانہ ہوچکا ہے، اس کا اندازہ نئی دہلی سے شائع ہورہے ایک انگریزی روزنامہ کے سروے / تجزیہ سے ہوتا ہے ۔گزشتہ پانچ برسوں میں ہوئے پالیمانی اور ریاستی اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والے 50 ہزار سے زائد مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کا یہ تجزیہ بہت ہی حیران کن اور چونکانے والا ہے۔ اس تجزیہ کے نتائج کی مانیں تو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں منتخب ذمہ داروں/ عہدوں سے سرفراز پچاس سے زائد ایسے سیاستداں ہیں جن پر مذہبی تشدد یا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے سے متلعق مجرمانہ مقدمات کے الزامات عائد ہیں۔حالانکہ یہ تعداد گنتی کے لحاظ سے قابل ذکر نہیںہے۔ تب بھی وہ امیدوار جن پر الزامات عائد ہیں یا فرقہ وارانہ جرائم کے لیے کنویکٹ کیے گئے ہیں، انتخابات جیت جاتے ہیں اور ان افراد کے بالمقابل جن کے خلاف جرائم کے کوئی الزامات عائد نہیں ہیں، بڑی تعداد میںاکثر ہوتے ہیں۔
اس تجزیہ کو دیکھ کر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ووٹرس کے نزدیک سیاسی جواب دہی کے مقابلے میں فرقہ واریت زیادہ اہم بن جاتی ہے۔ فرقہ وارانہ جرائم کے ملزم قرار دیے گئے سیاست دانوںکی فہرست میںمرکزی وزیر اوما بھارتی،اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ان کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اویسی برادران شامل ہیں۔
ایک بات تو یہ ہے کہ ان اہم افراد کے خلاف مقدمات میںسے زیادہ تر عدالتوں میںالتوا میں رہتے ہیں۔ اس تجزیہ کے مطابق ان میں صرف ایک سیاسی امیدوار کو فرقہ وارانہ جرم کے لیے کنویکٹ کیا گیا ہے۔ اس طرح جہاں ایک طرف عدالتیں فرقہ وارانہ مجرمانہ الزامات کے لیے ان امیدواروںکو سزا دینے میں چست نہیں رہ پاتی ہیں وہیں دوسری طرف ووٹرس ان کے حق میں ووٹ دے کر انھیںجتاتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک لیڈر ہیںٹی راجہ سنگھ۔ انھوںنے 2014 میں انتخاب لڑا جبکہ وہ 8 فرقہ وارانہ جرائم میںچارج کیے جاچکے تھے۔ ان سب کے باوجود وہ کانگریس کے ایم مکیش گوڑ کے بالمقابل دوگنے ووٹ سے جیتے۔

 

 

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مذکورہ بالا راجہ سنگھ کے فرقہ وارانہ پس منظر کے ووٹرس پر اثرات بھی پڑے۔ اس ضمن میںایک سرکاری ملازم جنھوں نے 2014 کے انتخاب میں انھیں ووٹ دیا تھا کا واضح طور پر یہ کہنا کہ ’’ راجہ سنگھ ہندوتو کے لیے کھڑے ہیں، اس لیے ہم لوگوں نے انھیں ووٹ دیا اور کسی کا مجرم کسی اور کا مسیحا بھی ہوسکتا ہے، ‘‘ اثرات کے مرتب ہونے کو ثابت کرتا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ راجہ سنگھ کا معاملہ دراصل مبینہ طور پر مجرمانہ فرقہ واریت اور انتخابی جیت کی دکھ بھری کہانی ہے۔ تبھی تو فرقہ وارانہ جرائم عائد کیے گئے امیدواران بڑی آسانی سے غیر مجرمانہ الزامات والے امیدواروں کو چار گنا زیادہ سے شکست دے دیتے ہیں۔ قابل غور ہے کہ تبھی تو 2014 کے لوک سبھا اور ریاستوںکے اسمبلی انتخابات میںمجرمانہ الزامات نہیںرکھنے والے 41 ہزار 488 امیدواروں میںصرف 2 ہزار 550 ہی جیت پائے جو کہ صرف 6 فیصد ہوئے جبکہ فرقہ وارانہ جرائم عائد کیے گئے 187 امیدواروں میں 53 یعنی 28 فیصد بڑی آسانی سے کامیاب ہوئے۔
ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ ملک کے ان سیاسی امیدواروں میں سے زیادہ تر پر انتخابا ت میں اترنے سے قبل کوئی فرقہ وارانہ الزامات عائد نہیںتھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابی سیاست میں داخل ہونے سے پہلے یہ فرقہ وارانہ جرائم سے دورتھے۔ تجزیہ کیے گئے تمام 50 ہزار 324 امیدواروں میں سے صرف 187 جو کہ ایک فیصد کے نصف سے بھی کم ہوئے پر مجرمانہ فرقہ واریت کے الزامات عائد تھے یا وہ فرقہ وارانہ جرائم سے کنویکٹ کیے گئے تھے۔
اس پورے جائزے میںمختلف پارٹیوں کی صورت حال بھی کم اہم نہیںہے۔ بی جے پی کی جانب سے ریاستی اور قومی انتخابات کے لیے نامزد کیے گئے کل 3 ہزار 727 امیدواروں میں 48 پر کم از کم ایک فرقہ وارانہ جرم کا الزام لگا جو کہ تقریباً 1.3 فیصد ہوا۔ یہ کم ز کم 500 امیدواروں کو نامزد کرنے والی کسی پارٹی کے لیے سب سے زیادہ فیصد ہے۔ اسی طرح کانگریس نے تین ہزار 553 امیدوار نامزد کیے جن میں سے ایک درجن پر ایک فرقہ وارانہ جرم کا الزام تھا۔ یہ 0.3 فیصد ہوا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ زیادہ تر فرقہ وارانہ جرائم عائد امیدوار اترپردیش کے ہیں۔ ویسے یہ تعداد شمالی تلنگانہ، کوسٹل کرناٹک، تمل ناڈو کے جنوبی کوسٹ اور آسام او رمغربی بنگال جیسی ریاستوں میںبھی پائی جاتی ہے۔
ان تمام تفصیلات سے یہ بات اظہر من شمس ہوجاتی ہے کہ جہاں عام جرائم عائد کیے گئے افراد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میںقابل ذکر تعداد میںپائے جاتے ہیں، وہیں ان سیاسی افراد اور ارکان میں ویسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جو فرقہ وارانہ جرائم کے ملزمان ہیں۔ کسی بھی سماج یا ملک کے لیے قانون ساز اداروں میںجرائم یا فرقہ وارانہ جرائم کے ملزمان کا ہونا اچھی علامت نہیں ہے۔
وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے ابھی حال میںبہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ تیجسوی یادو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو لے کر مستعفی ہونے کی جو ستائش کی ہے اور اسے بدعنوانی کے خلاف جنگ میںفتح بتایا ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ وہ فرقہ وارانہ و دیگر جرائم عائد تمام افراد کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میںآنے سے روکنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں اور تدابیر اختیار کریں۔ تبھی ہندوستان جیسے رواداری اور تکثیری فکر و نظریہ کے ملک میں قانون ساز اداروں کو جرائم اور فرقہ وارانہ جرائم سے روکا جاسکے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا ان معاملوں میںبھی کرنے کے لیے قدم آگے بڑھائیںگے؟
ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم ہنداور ان کے کابینی رفقاء کئی بار لنچنگ یا ہجومی تشدد کے خلاف سخت تنبیہ کرچکے ہیں مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیںہورہا ہے۔ کہیںاس کی وجہ شاید یہ تو نہیںکہ قانون ساز اداروں میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ جرائم عائد افراد سے ان کی ہمت افزائی ہوتی ہو۔ لہٰذا اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *