حج سے سعودی معیشت کو کتنا فائدہ؟

دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں فریضہ حج اداکرنے والے عازمین سے سعودی حکومت کی معیشت کو زبردست فائدہ ملتا ہے۔یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو قیامت تک جاری رہے گا اور سعودی عرب کی معیشت کو تقویت پہنچا تا رہے گا۔ اگر سعودی عرب میں تیل کے ذرائع ختم بھی ہوجائیں تو حج سے ہونے والی آمدنی اس کی معیشت کو لڑکھڑانے نہیں دے گی۔
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر برس حج کرنے سعودی عرب آتے ہیں جس سے سعودی معیشت کو خاصی تقویت ملتی ہے۔تاہم بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ حج اور عمرہ کرنے کے لیے آنے والے عازمین سے سعودی عرب کو کتنی آمدنی ہوتی ہے اور سعودی عرب کی معیشت میں اس کا کتنا حصہ ہے۔اس کے لیے سب سے پہلے تو حج کے ارادے سے سعودی عرب جانے والے مسلمانوں کی کل تعداد نکالنی ہو گی کہ ہر برس کتنے لوگ مکہ جاتے ہیں؟۔گزشتہ برس مجموعی طور پر 83 لاکھ لوگ حج کے لیے سعودی عرب آئے تھے۔
ایک تو یہ کہ سال کے ایک خاص وقت میں ہی حج کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ کہ سعودی عرب نے حج کے لیے آنے والوں کی تعداد کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر ملک کا ایک کوٹا طے کر رکھا ہے۔حج کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں رہنے والے لوگوں کی بھی ہوتی ہے۔۔انڈونیشیا کا کوٹا سب سے زیادہ ہے۔ یہاں سے ہر سال 2 لاکھ 20 ہزار لوگ حج کے لیے سعودی عرب جا سکتے ہیں، جو حجاج اکرام کا 14 فیصد ہے۔ اس کے بعد پاکستان 11 فیصد، ہندوستان 11 فیصد اور بنگلہ دیش کا کوٹا 8 فیصد ہے. اس فہرست میں نائیجیریا، ایران، ترکی، مصر جیسے ملک بھی شامل ہیں.۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگ مختلف ممالک کے شہری ہوتے ہیں۔گزشتہ دس سالوں میں سعودی عرب کے اندر سے حج کرنے والے مسلمانوں کی تعداد دوسرے ممالک سے آنے والے حجاج کرام کے مقابلے میں تقریبا نصف رہی ہے۔دنیا بھر میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے، اس کی محض دو فیصد آبادی ہی سعودی عرب میں رہتی ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کی آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ عمرہ کرنے والوں سے بھی ہے ۔مسلمان پورے سال عمرہ کے لیے جاتے رہتے ہیں۔ پچھلے سال 60 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے عمرہ کیا۔سعودی عرب جانے والے مسلمانوں میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ وہاں عمرہ کرنے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کو امید ہے کہ آنے والے چار سالوں میں یہ تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ ہو جائے گی۔
گزشتہ سال سعودی عرب کو حج سے 12 ارب ڈالر کی براہ راست آمدنی ہوئی۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 1250 ارب روپے بنتی ہے۔ سعودی عرب جانے والے حجاج کرام نے وہاں جاکر تقریباً 23 ارب ڈالر کی رقم خرچ کی۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حج پر جانے والے افراد کے اخراجات الگ الگ ہوتے ہیں۔ ایک ملک سے جانے والوں میں ہی حاجیوں کے اخراجات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔حج کے لیے سعودی جانے والے مسلمان جو ڈالر وہاں خرچ کرتے ہیں، وہ سعودی عرب کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔یہ تمام رقم سعودی عرب کی براہِ راست آمدنی نہیں ہے لیکن اس سے ان کی معیشت کو بہت بڑا سہارا ملتا ہے۔
مکہ چیمبر آف کامرس کے اندازے کے مطابق بیرونی ملک سے آنے والے مسلمانوں کو حج پر4600 ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں جبکہ سعودی عرب کے حجاج کرام کے حج میں 1500 ڈالر لگتے ہیں۔مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے حج کا خرچ مختلف ہوتا ہے۔ ایران سے آنے والے قافلے میں ہر ایک شخص پر یہ خرچ 3000 ڈالر کے قریب پڑتا ہے۔اس میں سفر، کھانے پینے اور خریداری کا بجٹ شامل ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو بھی تقریباً اتنا ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔اس میں ان کے بہت سے ذاتی اخراجات بھی شامل ہیں لیکن پھر بھی یہ پیسہ کسی نہ کسی طرح سعودی عرب کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔
سعودی عرب کے لئے تیل کے ذرائع معیشت کو مضبوط کرنے کے بہترین اور مضبوط ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں سے جو غیر ملکی کرنسی آتی ہے ،یہ بھی اس کی معیشت کو مضبوط کرنے میں زبردست مدد کرتی ہے ۔اس کے علاوہ اب سعودی عرب سیاحت کو فروغ دے کر مضبوط معیشت کا ایک نیا راستہ تلاش کررہی ہے۔خام تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کے لحاظ سے دیکھیں تو سعودی عرب کو حج سے زیادہ آمدنی نہیں ہوتی لیکن اس کی کوشش ہے کہ تیل کے علاوہ ہونے والی آمدنی کا ذریعہ بڑھایا جائے۔

 

 

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ تیل کی پیداوار کم کرنے کے اوپیک کے فیصلے سے سعودی عرب کی اقتصادی ترقی اس سال صفر پر چلی جائے گی اور سعودی حکومت اس خسارے کی تلافی دوسرے ذرائع سے کرنا چاہے گی اور اس میں مذہبی سیاحت سے ہونے والی آمدنی سے سب سے زیادہ ہے۔سیاحت کو فروغ دینے کے لئے حال ہی میں سعودی عرب نے سیاحوں کے لیے ایک بڑے پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں بحرِ احمر کے ساتھ موجود 50 جزیرے لگژری سیرگاہوں میں بدل جائیں گے۔امید کی جا رہی ہے کہ اس سے غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد کو متوجہ کرنے میں مدد ملے گی۔
بہر کیف ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں تیل پر انحصار ملکی معیشت کی ضمانت نہیں بن سکتا ہے ،ایسے وقت میں حج سے ہونے والی آمدنی سعودی عرب کی معیشت کو کبھی لڑکھرانے نہیں دے گی۔ اقتصادی منصوبوں کی بنیاد پر 2030 تک سعودی عرب کی حج سے ہونے والی آمدنی 47 ارب ریال ہوجائے گی ۔ حج اور عمرہ کی قومی کمیٹی اور مکہ کے ایوان تجارت کے رکن مروان عباس شابان کا کہنا ہے کہ اس ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے اعداد و شمارمیں اضافہ یا کمی حاجیوں کی تعداد پر منحصر ہے ۔
سعودی عرب میں اس سال حاجیوں کی تعداد میں کسی حد تک کمی آسکتی ہے جس کے باعث اقتصادی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔ کمی کے اس مسئلے کو علاقے کے کچھ ملکوں میں جاری اقتصادی و سیاسی صورت حال سے جوڑا جارہا ہے۔سعودی عرب اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے حج و عمرہ سے ہونے والی آمدنی کے علاوہ ویزہ فیس میں بھی گزشتہ سال اضافہ کیا تھا۔ اس اضافہ کی رو سے دوسری بار حج کے لیے ویزے کا خواہشمند ہوگا، اس سے 2 ہزار سعودی ریال لیے جائیں گے۔اسی فیس کا اطلاق ان افراد پر بھی ہوگا جو دوسری بار عمرہ کرنے کے خواہشمند ہوں گے۔اسی طرح سعودی عرب میں ویسے ہی جانے کی صورت میں بھی ویزہ فیس کی مد میں دو ماہ کے ویزہ کی فیس میں 200 جبکہ تین ماہ کے ویزے کی فیس میں 300 ریال کا اضافہ کیا گیا ہے۔ویزہ فیسوں کی مد میں یہ اضافہ سعودی عرب کی جانب سے مالی خسارے کی وجہ سے کیا گیا تیل کی قیمت گزشتہ سال 26 ڈالرز فی بیرل تک گر گئی تھی اور آمدنی میں کمی کے باعث سعودی حکومت معاشی اصلاحات کے ذریعے خسارے سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔بہر کیف حج اور عمرہ سعودی عرب کی معیشت بہتر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور تیل کا خزانہ کم ہوجانے کی صورت میں بھی حج و عمرہ کی آمدنی اس کی معیشت کو لڑکھڑانے سے روکے رکھے گی ۔ اس طرح دیکھا جائے تو حج عازمین کے لئے تو نعمت ہے ہی، سعودی عرب کے لئے خصوصی نعمت ہے۔

ہائی لائٹ:
ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں تیل پر انحصار ملکی معیشت کی ضمانت نہیں بن سکتا ہے ،ایسے وقت میں حج سے ہونے والی آمدنی سعودی عرب کی معیشت کو کبھی لڑکھرانے نہیں دے گی۔ اقتصادی منصوبوں کی بنیاد پر 2030 تک سعودی عرب کی حج سے ہونے والی آمدنی 47 ارب ریال ہوجائے گی ۔ حج اور عمرہ کی قومی کمیٹی اور مکہ کے ایوان تجارت کے رکن مروان عباس شابان کا کہنا ہے کہ اس ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کے اعداد و شمارمیں اضافہ یا کمی حاجیوں کی تعداد پر منحصر ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *