گرو ہر گوبند سنگھ کی بنائی مسجد اتحاد کی نشانی

محرابوں پر لکھی آیات مدھم ہو گئی ہیں، ٹائل پربنے بیل بوٹوں کے رنگ جگہ جگہ سے اڑ گئے ہیں، مگر آس پاس والے مکانات اور درختوں کے درمیان سے نظر آتے گنبد اس کے مسجد ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ ہندوستانی پنجاب کے علاقے ہرگوبندپور میں موجود اس مسجد کا تقسیم کے وقت پھیلی وحشت کے باوجود بال بھی بیکا نہ ہوا اور اس کی حفاظت نہنگ سکھ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے کر رہے ہیں۔
1940 کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ہندو، مسلمان، سکھ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے دشمن بن بیٹھے تھے، جب مندر، گردوارے اور مسجدیں ڈھائی جا رہی تھیں، نہنگ سکھوں کے سردار نے کہا، ’گرو کی بنائی مسیت کو اگر کوئی نقصان پہنچائے گا تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔وہ دن اور آج کا دن یہ مسجد ان کی نگرانی میں ہے۔مسجد کے احاطے میں نیلے کپڑے میں بندھا 50 فٹ لمبا ڈنڈا ایستادہ ہے جس پر دودھاری تلوار لٹک رہی ہے، اس بات کا اعلان ہے کہ مسجد کی حفاظت اب نہنگوں کے ہاتھ میں ہے۔سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند سنگھ نے جب 17 ویں صدی میں ہرگوبندپور بسایا تو شہر کے مسلمانوں کے لیے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔وہ محض 11 سال کی عمر میں اس وقت سکھوں کے چھٹے گرو بنائے گئے تھے جب ان کے والد اور سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو کو مغل بادشاہ جہانگیر کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔گزشتہ 35 برس سے مسجد کی دیکھ بھال کرنے والے بابا بلونت سنگھ کہتے ہیں کہ ‘یہاں کا چودھری گرو صاحب کو بہت برا بھلا کہتا تھا۔ ایسا کتابوں میں لکھا ہے۔ جنگ ہوئی جس میں وہ ہار گیا اور مارا گیا۔ گرو نے کہا یہاں مندر نہیں بنے گا، گردوارہ نہیں بنے گا اور اس جگہ پر مسجد کی تعمیر کروائی۔

 

 

بلونت سنگھ مسجد کے احاطے میں تعمیر شدہ نئے حصے کے ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ ان کا کل اثاثہ ایک پرانا ریفریجریٹر، غلّے کی ایک بوری اور کچھ برتن ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت گرنتھ صاحب پڑھنے،’مسیت کی خدمت‘ اور مسجد دیکھنے کے لیے آنے والوں کی نگرانی میں صرف ہوتا ہے۔گرو کی مسیت (مسجد) دیکھنے کے لیے آنے والوں کا سلسلہ گزشتہ کچھ سالوں سے ہی شروع ہوا ہے۔بابا بلونت کہتے ہیں کہ کم از کم مسیت میں پانی کا نلکا تو لگ جائے ورنہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔گرو کی یہ مسجد ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کا اہم حصہ ہے اور آج کل کے دور میں اس کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی ضروری ہوتی جا رہی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *