فرضی ڈگری بی ایچ یو سے بھی ؟

سریش تریویدی
کیا بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو )، بی ایڈ کی فرضی ڈگریاں بانٹ رہا ہے؟اگر بی ایڈ کورس کو منظوری دینے والا ادارہ این سی ٹی ای ( نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن ) کے معیار و ہدایات پر یقین کریں تو یہ بات سچ ہی لگتی ہے ۔لیکن وزیراعظم کے انتخابی حلقہ کا معاملہ ہونے کی وجہ سے معمولی باتوں پر زبردست ہائے توبہ مچانے والے عوامی نمائندے بھی اس ایشو پر اپنا منہ کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی نہیں، این سی ٹی ای نے بھی بی ایچ یو افسروں کی اس من مانی کے خلاف کاغذی گھوڑے دوڑاکر خاموشی اختیار کرلی ہے۔
دراصل بی ایچ یو میں بی ایڈ کورس چلانے کے لئے 1997 میں این سی ٹی ای کے ذریعہ منظوری دی گئی تھی۔ ابتدا میں بی ایچ یو کو کمچھا (وارانسی ) احاطہ میں 180 فری اینڈ ریگولر سیٹوں کے تعلق سے منظوری ملی۔ بعد میں 2006 میں یونیورسٹی انتظامیہ کی گزارش پر 100 اور سیٹوں پر بھرتی کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔یہ منظوری بھی بی ایچ یو کے کمچھا میں موجود مین کیمپس کے لئے ہی تھی لیکن مرزا پور ضلع کے برکچھا میں یونیورسٹی کا نیا کیمپس ’’راجیو گاندھی جنوبی احاطہ ‘‘ کھل جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے بڑھی ہوئی سیٹوںکو من مانے طریقے سے وہاں ٹرانسفر کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا پور ضلع میں موجود بی ایچ یو کے سائوتھ کیمپس میں بھی بی ایڈ کی کلاسیز چلنے لگیں۔ یہی نہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے ایڈیشنل ریکوگنائزیشن والی 100سیٹوں کے فارمیٹ میں بدلائو کرتے ہوئے انہیں ’’ فری اینڈ ریگولر ‘‘ سیٹ سے سیلف فائننس اسکیم میں بدل دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلف فائننس اسکیم کی آڑ میں راجیو گاندھی سائوتھ کیمپس میں ان سیٹوں پر داخلے کے لئے طلباء سے 30-30 ہزار روپے کی اضافی وصولی کی گئی۔ حد تو تب ہو گئی جب بی ایچ یو انتظامیہ نے کل منظوری 280سیٹوں کے مقابلے کئی تعلیمی سیشن میں اس سے دو گنا بی ایڈ طلباء کی بھرتی کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں بی ایچ یو انتظامیہ پیڈ سیٹ کے نام پر بی ایڈ طلباء سے چار کروڑ سے زیادہ کی رقم کی وصولی کر چکاہے۔ بی ایڈ طلباء سے لوٹ کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
حالانکہ این سی ٹی ای نے بی ایڈ کورس آپریٹ کرنے والے اداروں کے لئے واضح ہدایات جاری کئے ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ اثرو رسوخ رکھنے والے ادارے کیسے ان ہدایات کی دھڑلے سے خلاف ورزی کررہے ہیں، بی ایچ یو اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ این سی ٹی ای ایکٹ 1993 کے مطابق کوئی بھی تعلیمی ادارہ این سی ٹی ای کی سابقہ منظوری کے بغیر اپنے احاطے میں ٹیچر ٹریننگ نہیں چلا سکتا ۔یہی نہیں، این سی ٹی ای کی منظوری کے بغیر کورس آپریٹ کرنے والے کسی ادارے کو سیٹوں کی تعداد بڑھانے یا پھر اس کے معیار جیسے فری سیٹ سے پیڈ سیٹ میں تبدیل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ ایکٹ میں اس کے لئے بھی واضح پروویژن ہے کہ بی ایڈ کورس آپریٹ کرنے والے تعلیمی ادارے این سی ٹی ای کی منظوری کے بغیر کالج کے لوکیشن میں بھی بدلائو نہیں کرسکتے۔ ان اصولوں کی تعمیل نہ کرنے والے اداروں کے ذریعہ آپریٹیڈ کورس غیرقانونی مانے جائیں گے اور طلباء کو ایسی ڈگری کی بنیاد پر نوکری نہیں دی جاسکے گی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ان تمام پابندیوں کے باوجود بی ایچ یو انتظامیہ نہ صرف وارانسی کی جگہ پڑوس کے مرزا پور ضلع میں قائم اپنے راجیو گاندھی جنوبی احاطے برکچھا میں بغیر منظوری کے بی ایڈ کلاسیز چلا رہا ہے بلکہ سیٹوں کی منظوری میں من چاہا بدلائو ( فری سیٹ سے پیڈ سیٹ ) کر کے طلباء سے من مانی رقم بھی اینٹھ رہا ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ کئی بار تو یونیورسٹی انتظامیہ نے منظور شدہ 280 سیٹوں کی حد کو درکنار کرکے تین چار سو تک طلباء کی بھرتی کرلی اور انہیں ڈگریاں بھی بانٹ دی۔ اب ان ڈگریوں کی قانونی ہونے کو لے کر بھی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔

 

 

حیرت کی بات یہ ہے کہ بی ایچ یو کے ذریعہ سائوتھ کیمپس برکچھا (مرزا پور ) میں غیر قانونی طریقے سے بی ایڈ کلاسیز چلائے جانے کے بارے میں گزشتہ چار سالوں میں درجنوں شکایتیں این سی ٹی ای کے ڈائریکٹر کو بھیجی جاچکی ہیں لیکن این سی ٹی ای ان شکایتوں کی سنجیدگیسے جانچ کرنے کے بجائے کاغذی خانہ پری کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ایسے ہی ایک شکایت کنندہ کیشو کمار ایڈوکیٹ کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے کونسل کے ایریا ڈائریکٹر (جے پور ) نے کلکٹر مرزا پور کو جانچ کرانے اور منصفانہ فیصلہ لینے کی ہدایت دی۔ کلکٹر مرزا پور کے ذریعہ کرائی گئی جانچ میں بھی پایا گیا کہ بی ایچ یو کے ذریعہ مرزا پور کے راجیو گاندھی جنوبی احاطہ میں بی ایڈ کلاسیز چلائے جارہے ہیں۔ باوجود اس کے نہ تو بنارس یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اور نہ ہی این سی ٹی ای کے ڈائریکٹر نے غیر قانونی طور سے چل رہی ان کہانیوں کو بند کرنے کی کوئی ہدایت دیئے۔ بعد میں جولائی 2014 میں بی ایچ یو کے وائس چانسلر کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ پورے معاملے کی جانچ کرکے نصف ماہ کے اندر این سی ٹی ای کو حقائق سے آگاہ کرائے۔ حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ بی ایچ یو کے وائس چانسلر نے این سی ٹی ای ڈائریکٹر کی ان ہدایتوں کی بھی پوری طرح اندیکھی کر دی اور بی ا یڈ طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ وہاں آج بھی جاری ہے۔
این سی ٹی ای نے ایک طرف جہاں بی ایچ یو میں غیر قانونی طور سے چل رہے بی ایڈ کورس کے بارے میں جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلی ہیں، وہیں دوسرے اداروں میں چل رہی ایسی سرگرمیوں پر اپنی نظریں ٹیڑھی کر لی ہیں ۔ تازہ مثال جنوبی بہار سینٹرل یونیورسٹی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس یونیورسٹی میں بغیر منظوری کے بی ایڈ کلاسیز چلائے جارہے تھے ۔ اس بارے میں جب شکایت کی گئی تو این سی ٹی ای نے سیدھی کارروائی کرتے ہوئے وہاں چل رہے غیر قانونی کلاسیز کو فوری طور سے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہی نہیں، 16اگست 2014 کو اس سلسلے میں ممبر سکریٹری ، این سی ٹی ای نئی دہلی کے ذریعہ لیٹر میں یہ بھی صاف کہا گیا کہ جنوبی بہار سینٹرل یونیورسٹی کے ذریعہ اس عرصہ میں طلباء کو جاری کی گئی بی ایڈ کی ڈگریاں غیر قانونی ہوں گی جو نوکریوں کے لئے اہل نہیں ہوں گی۔ غور طلب یہ بھی ہے کہ بی ایچ یو کے تعلق سے این سی ٹی ای کا یہ تیور ایکدم ندارد ہے۔ ڈائریکٹر این سی ٹی ای کے چار چار لیٹرس پر کارروائی تو دور، ان کا کوئی جواب تک نہ دینے والے بی ایچ یو انتظامیہ کے بارے میں ایجوکیشن کونسل کی خاموشی سچ مچ شبہات پیدا کرنے والی ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ وزیر اعظم کا حلقہ ہونے کی وجہ سے این سی ٹی ای کے آفیسر ممکنہ طور پر اس معاملے میں بی ایچ یو سے سیدھا پنگا لینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اسی لئے وہ جانچ اور کارروائی کا ذمہ بار بار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر ہی ڈالنے کی قواعد میں لگے ہوئے ہیں۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ این سی ٹی ای کی ویب سائٹ پر دستیاب بی ایڈ کورس کی اپروول لسٹ میں آج تک بی ایچ یو کے راجیو گاندھی جنوبی احاطہ برکچھا مرزا پور کا کہیں نام نہیں ہے۔ اس لسٹ میں صرف اور صرف بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی کا ہی نام درج ہے جسے کل 280 سیٹوں کی منظوری دی گئی ہے مگر دوسری سچائی یہ ہے کہ بی ایچ یو بنارس کی منظوری پر کلاسیز مرزاپور کے سائوتھ کیمپس میں دھڑلے سے چل رہی ہیں۔ این سی ٹی ای نے حالانکہ 26 اپریل 2017 کو بی ایچ یو کے وائس چانسلر کو پھر سے خط لکھ کر معاملے کی جانچ کرنے اور انہیں حقائق سے واقف کرانے کو کہا ہے۔ لیکن اس لیٹر کا انجام بھی پہلے کے لیٹرس کے جیساہی ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس بیچ راجیو گاندھی جنوبی احاطہ مرزا پور میں نئے سیشن کے لئے بی ایڈ طلباء کے داخلہ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
بی ایچ یو کے سینکڑوں بی ایڈ طلباء راجیو گاندھی جنوبی احاطہ میں بی ایڈ کورس کی منظوری اور ڈگری کے غیر قانونی ہونے کو لے کر جب تب دھرنا احتجاج کرتے رہتے ہیں،لیکن ہر بار بی ایچ یو انتظامیہ انہیں ڈرا دھمکا کر یاپھر کچھ نہ کچھ سمجھا کر خاموش کرا دیتا ہے۔ بہر حال طلباء کے سامنے سوال یہ نہیں ہے کہ بی ایچ یو اور این سی ٹی ای کے درمیان چل رہی اس رسہ کشی میں کس کی شہہ یا مات ہوتی ہے۔ ان کے سامنے یہ سوال اہم ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کرکے حاصل کی گئی ان کی بی ایڈ کی ڈگری کی بنیاد پر انہیں نوکری مل پائے گی یا نہیں۔اس سے بڑا ایک اخلاقی سوال یہ بھی ہے کہ مہامنا مدن موہن مالویہ کے ذریعہ قائم اقدار و اعلیٰ نقطہ نظر کی بنیاد پر کھڑی بنارس یونیورسٹی کیا سچ مچ فرضی ڈگریاں بانٹ رہی ہے۔ اس کا جواب تو صرف اورصرف بی ایچ یو انتظامیہ ہی دے سکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *