مسلح فورسیز میں عدم رواداری اور جوابدہی کافقدان

گزشتہ ہفتہ فوج ایک بار پھر غلط وجوہات سے خبروں میں تھی۔ وجہ بھی عجیب تھی۔ گندربل ضلع میں بال تال (امرناتھ یاترا کے آدھار شیور) سے واپس لوٹ رہی فوج کے ایک دستہ کو جموں و کشمیر پولیس کی ایک پارٹی نے قانونی طور پر روکا، جس پر ان جوانوںکو غصہ آگیا۔ فوج کے جوان عام شہریوںکی طرح سادہ لباس میں تھے اور نجی گاڑیوںمیںگھوم رہے تھے۔ جب یہ جوان سون مرگ پہنچے تو انھوں نے رکنے کے اشارے کو نظرانداز کردیا۔ (جنوبی کشمیر میںامرناتھ یاتریوں پر حالیہ حملے کے بعد افسروںنے رات کے دوران کشمیر میںیاتریوں اور سیاحوں کی آمد و رفت پر روک گادی ہے۔)
بہرحال پولیس نے انھیں روکنے کے لیے گنڈ میںپیغام دیا۔ فوج کے جوانوںکو یہ بالکل پسند نہیں آیا۔ انھوں نے اضافی فورس بلاکر پولیس تھانے پر دھاوا بول دیا۔ انھوں نے ریکارڈ کو نقصان پہنچایا،کمپیوٹر توڑے اور سات پولیس والوںکو زخمی کیا۔ یہ واقعہ سرخیوںمیںرہا کیونکہ فوج نے یہ کام کیا تھا۔ فوج سے ڈسپلن کی امید کی جاتی ہے۔ پولیس جب اپنا کام کررہی ہو، تو اس میںاس طرح کا ردعمل ڈسپلن کے دائرے میںفٹ نہیںبیٹھتا۔
حالانکہ اس واقعہ پر فوج کے ذریعہ دیے گئے جانچ کے حکم کے نتیجہ کا ابھی انتظار ہے لیکن پہلی نظر میںیہ لگتا ہے کہ 24 راشٹریہ رائفلز(فوج کا دہشت گرد مخالف فورس) کی پارٹی نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجیور کی خلاف ورزی کی تھی۔ بہرحال اس پر کئی سوال اٹھائے جاسکتے ہیں کہ وہ ایسے علاقہ میںجو اننت ناگ میںامرناتھ تیرتھ یاتریوں پر حالیہ حملے کی وجہ سے حساس علاقہ تھا۔ وہ جوان عام لباس میںکیوںتھے؟ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی نبھا رہے تھے اور فوج کے جوانوں کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیںہوا۔ جب پولیس نے انھیں روکا تو انھوںنے اسے توہین سمجھا اور پولیس کو انھیں حکم دینے کی جرأت کے لیے اسپتال بھیج کر سبق سکھانے کافیصلہ کیا۔ اس واقعہ سے یہ نئے سرے سے بحث چھڑ سکتی ہے کہ فوج کشمیر میںاپنا کام کیسے کر رہی ہے۔ فوج کے جوانوں نے طاقت کا مظاہرہ کیا جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 

 

 

ڈیفنس کے ترجمان نے اسے معمولی واقعہ قراردیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پولیس دفاعی پوزیشن میںنظر آئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو فوج کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور جلد ہی یہ حل ہوجائے گا۔
حالانکہ بھلے ہی فوج اور پولیس دونوں نے اس واقعہ کو دبا دیا ہو لیکن لوگوںکا اس پر اپنا ردعمل تھا۔ کچھ لوگوں نے پولیس پر بھبکیاں کسیں کہ ان کے ساتھ یہ کیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ کئی خوش تھے کہ فوج نے پولیس کو ان کی حیثیت بتادی۔ کیونکہ وہ ہی کشمیری لوگوں پر مظالم کررہے تھے۔ سوشل میڈیامیںبحث کے کئی رنگ دیکھنے کو ملے۔ بہرحال سب سے دلچسپ ردعمل سری نگر میں15کور کے کمانڈر کی طرف سے آیا۔ انھوںنے سوشل میڈیا کے ردعمل کو ’’غداری‘‘ قرار دے کر خارج کردیا تھا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر لوگ پولیس اور فوج کے بیچ اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’فوج اور پولیس ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہیں۔‘‘ اس پر بھی ٹویٹر پر تیکھا ردعمل آیا۔ لوگوں کو ’’ملک مخالف‘‘ لفظ سے اعتراض تھا۔ ایک ٹویٹر یوزر نے کمانڈر کے تبصرے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کیا اس طرح کی زبان کے استعمال سے فوج کے ذریعہ انجام دیے گئے واقعہ پر مہذب تنازع ختم ہوجاتا ہے۔
یہاںسوال اس واقعہ اور اس میں شامل حالات کا نہیںہے بلکہ مسلح فورسیز میںعدم رواداری اور جوابدہی کے فقدان کا ہے۔ اس سے قبل کہ جانچ کا عمل مکمل ہو ایک نتیجہ نکال لیا گیا کہ یہ معمولی تنازع تھا اور جو لوگ اس پر سوال کھڑے کر رے ہیں، وہ ملک مخالف ہیں۔ یہ باکل اسی طرح تھا جیسے 9 اپریل کو سویلین فاروق ڈار کو انسانی شیلڈ بنانے پر لیتل گوگوئی کو فوجی سربراہ نے شاباشی دی تھی۔ اس معاملے میںبھی جانچ کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن جانچ سے پہلے ہی شاباشی مل گئی تھی۔
پولیس یا ہندوستان حامی سیاستدانوں پر فوج کے کھلے عام طاقت کے مظاہرے کی بھی اپنی تاریخ رہی ہے۔ یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ مسلح فورسیز کو ایسے بے لگام اختیارات افسپا کی وجہ سے ملے ہوئے ہیں۔ لیکن اس طرح کے واقعات ضروری نہیںکہ افسپا کی وجہ سے ہی ہوں۔ حالانکہ ایسے واقعات، بہت حد تک ایسے معاملات کی جانچ کو کوڑے دان میںڈال دینے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس میں افسپا کا بھی رول ہے۔ مثال کے طور پر سال 2000 میں پاتھری بل فرضی مڈ بھیڑ کو لے لیں۔ جب چھتی سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کی ہلاکتوںکے بعد پانچ بے گناہ شہریوں کو مار دیا گیا تھا۔ ہندوستان کی اعلیٰ جانچ ایجنسی سی بی آئی نے اپنی جانچ ا میںیک بریگیڈیر سمیت پانچ افسروں کو ان شہریوںکے قتل کے لیے قصوروار پایا تھا، لیکن افسپا نے انھیں یہ کوچ دیا تھا کہ ان پر سول کورٹ میں سنوائی نہیںہوسکتی۔ دیگر معاملوں میںفوج نے اس قانون کی پناہ لی اور اپنی عدالتوں میںگنہگاروںکی سنوائی کی، لیکن اس میں شاید ہی کسی کو کوئی سزا ہوئی ہو۔ تازہ مثال صرف دو دن پہلے کی ہے جب ایک آرمی ٹریبونل نے 2010 کے مچل فرضی مڈبھیڑ معاملے میں تین بے گناہ شہریوں کے قتل کے لیے ذمہ دار افسروں کو دی گئی عمر قید کی سزا کو معطل کردیا۔

 

 

 

عام لوگوں، سیاستدانوںیا پولیس کی کھلے عام پٹائی کی کشمیر میںایک لمبی تاریخ رہی ہے۔سال 1997 میں نیشنل کانفرنس کے ایک سینئر لیڈر اور اس دور کے وزیر قانون پیارے لال ہانڈو کو ہنڈواڈمیںفوج کے کپتان نے تھپڑ مارا تھا اوراس کے ایک سال بعد ان کے ایک دیگر ساتھی اور اس دور کے وزیر بشیر احمد نینگرو کو بادام باغ گیٹ کے باہر اتنی بری طرح پیٹا تھا کہ ان کے کئی دانت ٹوٹ گئے تھے۔
صرف شہری ہی نہیں بلکہ سینئر پولیس افسربھی پٹتے رہے ہیں۔ کشمیر پولیس کے اس دور کے چیف اے ایم وٹالی کو سری نگر میں دن کے اجالے میں فوج نے بے رحمی سے پیٹ دیا تھا، جس میںانھیںسنگین چوٹیںآئی تھیں۔ 26 جولائی 1980 (جب کشمیر میں ملی ٹینسی نہیں تھی یا افسپا نافذ نہیںتھا) کے واقعہ کو اپنی یاد داشت ’’کشمیر انتفادہ‘ میںیاد کرتے ہوئے وٹالی لکھتے ہیںکہ ایک فوج کی گاڑی نے ایک تین پہیہ کو ٹکر ماردی تھی۔ لوگوںنے اسے وہاںگھیر لیا اور ڈرائیور فرار ہوگیا۔ جلد ہی فوج جائے واردات پر آگئی او رلوگوں کو پیٹنا شروع کردیا ، جس کی میںنے مخالفت کی۔ میںنے اپنی پہچان انھیںبتائی اوران سے کہا کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی کام نہ کریں۔ انھوںنے مجھ پر گالیوںکی بوچھار کردی اور اچانک لاٹھیوں اور لوہے کی چھڑوں سے مجھ پر حملہ کردیا ۔ میرے سر اور چہرے پر سنگین چوٹیںآئیں‘‘۔ اس پولیس افسر نے لکھاکہ اس حملے میں اس نے اپنے کچھ دانت (صفحہ 375) بھی کھو دیے تھے۔ واٹالی کے مطابق جانچ کا حکم دیا گیا تھا لیکن فوج نے اسے دبادیا تھا۔
ایسے کئی معاملے ہیں جن میںفوج نے پولیس اسٹیشنوں پر حملے کیے لیکن شاید ہی کسی معاملے میںشفافیت کے ساتھ جانچ ہوئی ہو۔ سال 2001 میںپولیس انسپکٹر جے جے مٹو، جو ریئاسی ضلع کے ماہور میںایس ایچ او تھے، کو 38 راشٹریہ رائفلز کی ایک ٹکڑی نے پیٹا تھا۔ 13 اگست 2001 کو کولگام کے ایس ایچ او کے طور پر تعینات انسپکٹر ایم یوسف کو میجر انوپ داس کی قیادت والی 9 راشٹریہ رائفلز کے جوانوں نے پیٹا تھا۔ شاید ہی کوئی جانچ کسی نتیجہ پر پہنچی ہوجو کم سے کم پولیس میںاعتماد پیدا کرتی کہ قانون پر عمل کیا جائے گا۔
اس پولیس والوںکی پٹائی کے موجودہ واقعہ کو جس طرح لیا گیا ہے اور جس طرح سے اسے معمولی جھگڑا بتا کر خارج کیا گیا ہے، وہ کسی طرح سے لاء اینڈ آرڈر بحال کرنے میںفوج کی کسی طرح بھی مدد نہیںکرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ ’’اگر پولیس کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو عام لوگوں کا کیا ہوگا اس کا آپ تصور کرسکتے ہیں؟‘‘ مسئلہ یہ ہے کہ فوج کشمیر میں اپنی طاقت کو لے کر اتنی حساس ہوگئی ہے کہ واجب سوال بھی اٹھائے نہیں جاسکتے ہیں۔ ورنہ ایک کور کمانڈر کے قد کا ایک افسر ایک عام تبصرہ کیسے جاری کرسکتا ہے کہ جو فوج کی کارروائی (وہ بھی تب جب وہ سول ڈریس پہنے ہوئے تھے) پر سوال کررہے ہیں، وہ ملک مخالف ہیں۔ پولیس کو بھی یہ جواب دینا ہوگا کہ وہ اتنی کمزور کیسے ہوگئی ہے۔ اگر وہ خود کی حفاظت کرنے میںناکام ہے تو وہ عوام کی حفاظت کیسے یقینی بنا سکتی ہے؟ پولیس کو فوراً ضلع کے افسروں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے او رمعافی مانگنے کی بجائے جانچ کا حکم دیا جانا چاہیے۔ اس واقعہ کے سبب فوج اور پولیس کے کوآرڈیشن کو سنگین جھٹکا لگا ہے اور صرف ایک غیر جانب دار اور شفاف جانچ ہی اس کا نقصان پورا کرسکتی ہے۔ فوج کو اسے وقار کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے اور انصاف کے حق میں ان قصوروار فوجیوں کا بچاؤ نہیں کرنا چاہیے، جن کا سلوک غنڈوں سے کم نہیںتھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *