2019 کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے

بہار میں مہا گٹھ بندھن کی سرکار شروعات سے ہی کئی رکاوٹوں اور اڑچنوں کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس کا اہم سبب تھا لالو یادو اور نتیش کمار کے نقطہ نظر میں زمین آسمان کا فرق۔ موجودہ واقعات میںترغیب کاکام کیا نائب وزیراعلیٰ اور لالو پرساد کے بیٹے تیجسوی یادو پر بدعنوانی کے الزام نے۔ ان واقعات کی لالو کی اپنی تشریح تھی۔ انھوںنے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے بیٹے استعفیٰ نہیںدیں گے۔ فطری طور پر بی جے پی نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا۔
بی جے پی پورے ملک میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے اور ایک طرح سے اس نے کانگریس کی جگہ لے لی ہے۔ اب بی جے پی کو الگ طرح کی یا آر ایس ایس کے اصولوں پر چلنے والی پارٹی کہنا بناوٹی باتیںہیں۔اب یہ صاف ہے کہ یہ ایک برسراقتدار پارٹی ہے جو بالکل ویسی ہی ہے جیسی اقتدار میں رہتے ہوئے کانگریس تھی۔ بی جے پی بھی اقتدار میں بنے رہنے کے لیے وہی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جو کانگریس سالوںسے اپناتی آئی ہے۔ ان میںسے کچھ ہتھکنڈے ہیں دل- بدل او رساتھیوںکے بیچ دوری پیدا کرنا۔ دراصل سیاست میںیہ عام طور پر ہوتا ہے۔ میںاس کے لیے ان پر الزام نہیںلگا سکتا۔ لیکن فی الحال بہار میںیہی ہوا ہے۔ انھوںنے ایک کہانی گھڑی کہ مہا گٹھ بندھن کی سرکار گرانے کے لیے لالو، بی جے پی کے رابطے میں ہیں۔ نتیش نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ لالو ایسا کریں، میںہی ایسا کیوںنہ کرلوں؟
الیکشن کے بعد ارون جیٹلی نے کے سی تیاگی سے کہا تھا،’ ٹھیک ہے، آپ ابھی سرکار بنا لیجئے۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں ہمیں ساتھ کام کرنا پڑے۔‘ ہر شخص سیاست کا اندازہ اپنی طرح سے کرتا ہے۔ سبھی اس بات سے متفق ہیںکہ لالو پرساد ایک ایسے سیاستداں ہیں، جو اقتدار میں’کو- ہیرو‘ کے کردار میںنہیںرہ سکتے۔ آخرکار یہی ہوا۔ اب جو کچھ ہوا، اس پر اچھے یا برے کے تبصرے کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ میںاس خیال کا ہوں (اور یہ اقلیتی خیال ہے) کہ کوئی بھی شخص اس ملک کو عام سیاسی روایت سے الگ نہیں چلا سکتا ہے۔ ہندوستان کے آئین، ریاست کے پالیسی ڈائریکشن ایلیمنٹس اینڈ فنڈامنٹل رائٹس وغیرہ میںایسے پروویژن کیے گئے ہیںکہ کوئی بھی شخص یا پارٹی اقتدار میں آجائے، وہ حکومتی نظام میںدس فیصد سے زیادہ بدلاؤ نہیں لاسکتے۔ کانگریس بھی ایسے ہی حکومت چلا رہی تھی۔ مرارجی دیسائی سرکار بھی ایسے ہی حکومت چلارہی تھی۔ وی پی سنگھ ، چندرشیکھر، دیوے گوڑا او رگجرال کی سرکاریں بھی ایسے ہی چلیں۔ سرکاریںآتی جاتی رہتی ہیں لیکن کوئی وزیر اعظم اپنے کام کے انداز، اپنی شخصیت اپنی سوجھ بوجھ اور مسائل کو سلجھانے کے مؤثر انداز کے سبب پہچان چھوڑ جاتا ہے۔ یہ سوچنا دور کی کوڑی ہے کہ آپ نوکرشاہی اور سیاستدانوں کے کردار کو بدل دیں گے۔ یہ آر ایس ایس کا خواب ہے اور خواب ہی رہے گا۔ آپ چاہتے ہیںکہ ہندو (ہندو اکثریت میںہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں) یہ مانیں کہ گائے کی جان انسان کی جان سے قیمتی ہے۔ لیکن آپ کچھ بھی کرلیں ، لوگ آپ کی بات نہیںمانیںگے۔ ایک عام ہندو کے لیے گائے قابل پرستش ہے، میںبھی اس میںیقین کرتا ہوں لیکن کسی انسان کی جان کی قیمت پر نہیں ، بالکل نہیں اور یہی ہندوتو ہے۔ حالانکہ ذات برادر ی کانظام ہماری بڑی ناکامی رہی ہے کیونکہ اس نے دلت اور پچھڑی ذاتوں کو پچھڑا رکھا۔ بہرحال اعلیٰ ذات کے ہندو، خوشحال ہندویا پڑھے لکھے سماج کے لوگ ، بھلے ہی اپنی جائیداد دلتوں کے ساتھ نہ بانٹیں لیکن وہ انھیںاذیتیں نہیںدیں گے یا انھیںنقصان نہیں پہنچائیںگے۔ آر ایس ایس سوچتا ہے کہ شاکھا لگانے اور ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو جوڑ لینے سے ہندو ملی ٹنٹ بن جائیںگے۔ انھیںسمجھنا چاہیے کہ ہندو ملی ٹنٹ نہیںہوتے،ہندو سیکولر ہوتے ہیں۔ حالانکہ سیکولرزم آج کل اچھا لفظ نہیں مانا جاتا۔ ہندو ملٹی کلچرزم میںیقین رکھتے ہیں۔

 

 

ہندو کون ہیں؟ ہر وہ آدمی ہندو ہے جو شیو میںیقین کرتا ہے، ویشنو میںیقین کرتا ہے، شری کرشن میں،سائیںبابا میںیا دیگر کئی دیوی دیوتاؤں میںیقین کرتا ہے۔ ہندوتو ایک وسیع پلیٹ فارم ہے تو پھر یہ کیوںنہیںہوسکتاہے کہ ملک کا ہر شخص جو اسلام اور عیسائی مذہب مانتا ہے،وہ بھی ہم میںسے ایک ہے۔ اس سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ آپ بھگوان کو ایک خاص نام سے یاد کررہے ہیں۔ ہندوتو میںکوئی پابندی نہیںہے۔ کوئی پیر کو مندرجاتا ہے، کوئی گنپتی مندر منگل کو جاتا ہے، کوئی سنیچر کو شنی مندر جاتا ہے، ہندوتو کی جڑیںبہت گہری ہیں۔ اس کا مطالعہ اتنا گہرا ہے کہ مجھے کہنے دیجئے کہ آر ایس ایس اس کے نزدیک نہیںپہنچ سکتا ۔ وہ سناتنی ہندو نہیںہیں، وہ سیاسی ہندو ہیں۔وہ ہندوؤں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اپنے ملی ٹنٹ نقطہ نظر کے سبب پہلے وہ 10-20 فیصد ہندو ووٹ حاصل کرلیا کرتے تھے۔ اس بار انھیں30 فیصد ووٹ ملے۔ لیکن وہ ووٹ ہندوتو کے سبب نہیںملے بلکہ نریندر مودی کے ایک فیصلہ کن نیتا کے طور پر ابھرنے کے سبب ملے۔ انھوںنے نوکری، اقتصادی ترقی، بدعنوانی کے خلاف جنگ اور کالادھن پر ایک ڈسکشن تیار کیا تھا جس پر لوگوں نے یقین کیا۔ اگلے الیکشن میں لوگ انھیں پانچ سال کے دوران کیے گئے کاموں کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ وہ اس لیے انھیں ووٹ نہیں دیںگے کہ وہ ہندو ہیں۔ میںاس بات کی تعریف کروں گا کہ مودی نے آئین پر عمل کیا ہے۔ انھوںنے کہا تھا کہ گیتا مقدس کتاب ہے، لیکن بھارت کی ایک واحد مقدس کتاب آئین ہے۔ انھوںنے کہا کہ گائے کے نام پر لوگوںکو پیٹ پیٹ کر جان سے مارنے کے کام سے وہ متفق نہیںہیں۔ انھوں نے کچھ بھی ایسا نہیں کیا جسے فرقہ وارانہ کہا جائے۔
آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا تھا۔ آٹھ سال بعدیہ سنگٹھن سو سال کا ہو جائے گا۔ آر ایس ایس کو کم کرکے نہیں آنکا جاسکتا۔ اگر ان کے کاموں سے ہندوتو کو بڑھاوا ملتا ہے تو میںان کے ساتھ ہوں۔ لیکن کس طرح کا ہندوتو؟ یہ وہ ہندوتو نہیںہوگا، جس کی وہ وضاحت کرتے ہیں۔ ویر ساورکر ان کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ انھوں نے گائے کے بارے میں کیا کہا تھا؟ انھوںنے کہا تھا کہ گائے ایک مفید جانور ہے۔ جب تک مفید ہے تب تک ٹھیک ہے، اس کے بعد اسے مرنا ہے۔ انھوںنے گائے کے لیے لوگوں کو مارنے کی وکالت نہیںکی۔ وہ منطقی شخص تھے۔ لیکن کئی معاملوںمیںمیں ان سے متفق نہیںہوسکتا ہوں گاندھی کے قتل میں ان کا رول مشکوک تھا لیکن عدالت نے انھیںبری کیا تھا او ر وہ معاملہ ختم ہوگیا تھا۔ آج آر ایس ایس ہندوستان کے ڈسکشن کو بدلنے کی جو کوشش کررہا ہے، وہ بہت کمزور اور بے ڈھنگی ہے۔ یہ کوششیں تین سال میں ناکام ہوچکی ہیں۔ مودی نے کوشش کی (ہمیںانھیںاس کا کریڈٹ دینا چاہئے) ۔ انھوںنے نوٹ بندی کی۔ انھیں لگا کہ اس کا اثر ویسے ہی ہوگا ، جیسا اندرا گاندھی کے ذریعہ کیے گئے بینکوں کے نیشنلائزیشن کا ہوا تھا۔ لیکن اسے مسترد کردیا گیا ۔ نوٹ بندی کا کوئی ویسا اثر نہیںپڑا۔
جی ایس ٹی ، جس کا کریڈٹ انھیںنہیںجاتا،اس کی شروعات اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں ہوئی تھی۔ یو پی اے کے پہلے اور دوسرے دور میںاس پر بحث جاری رہی۔ اب غلط یا صحیح ، یہ ایک ٹیکس سسٹم ہے۔ جو چیز پہلے سے ہی موجود ہو،اسے بنانے کے لیے وقت اور توانائی برباد نہیںکرسکتے ہیں۔ یہ ملک اتنا قدیم ہے (یہ ایک سناتنی ملک ہے)، آپ ایسی چیز کہاں سے لائیں گے جو بالکل نئی ہو۔ بے شک ہم سائنسی نقطہ نظر سے نئی او راعلیٰ درجہ کی چیزوں کو لاسکتے ہیں، جیسے راجیو گاندھی کمپیوٹر لے کر آئے تھے۔ کمپیوٹر کی وجہ سے بینکوںکے لین دین آسان ہوگئے۔ پیسہ ٹرانسفر کرنے کا سسٹم آیا، کریڈٹ کارڈ آئے۔ یہ ساری چیزیںخیر مقدم کے لائق ہیں لیکن آپ ہندوستان کی بنیادی سوچ کو نہیںبدل سکتے۔ گاؤں میںرہنے والا ایک انسان ،ایک ہندو شخص ہمیشہ اپنی حدود میںہی رہے گا۔ آپ اسے نوکری کی یقین دہانی کراسکتے ہیں لیکن جب اسے نوکری نہیںملے گی تو وہ آپ پر کب تک یقین کرے گا؟
2019 کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ بہار سرکار کو توڑ کر اس میںشامل ہونا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ لیکن مجھے یہاںصاف کردینا چاہیے کہ کوئی بھی 2019 کے الیکشن کو ہلکے میںنہیںلے سکتا۔ پچھلے انتخابات میںبی جے پی کو اپنے دم پر 282 سیٹیںملیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہ اس آنکڑے کو پار کر پائیںگے؟ ان کے حامی بھی مانتے ہیںکہ یہ ممکن نہیںہے۔ اگر یہ تعداد نہیں ملتی تو تب بھی وہ سرکار بنا سکتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ان کے اتحادی ہوںگے۔ اگر سبھی ان کی حمایت کریں گے تو یہ ایک گٹھ بندھن کی سرکار ہوگی او راس میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ ہندوستان پر 545 لوک سبھاممبر حکومت کرتے ہیں، جس گٹھ بندھن کے پاس زیادہ ممبر ہوں گے،وہ حکومت کرے گا۔
میرا کہنا یہ ہے کہ ڈسکشن سے کام نہیںچلے گا۔ آپ نوکریوں، ترقی او رروشن مستقبل سے ہمارا دھیان گائے، شاستر او رمندر کی طرف نہ لے جائیں۔ انھوںنے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیں گے۔ کشمیر ابھی کہاںکھڑا ہے؟برائے مہربانی ہمیں بتائیں ۔ وہ ہر مہینے من کی بات کرتے ہیں، لیکن کشمیر مدعے پر اپنا رپورٹ کارڈ نہیںدیتے کہ وہاں کیا ہوا؟ کبھی انھوں نے نہیںکہا کہ ہم نے کوشش کی لیکن ناکام رہے اور ہم اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ ہر سرکار کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہوتے ہیں۔ موجودہ سرکار نے حکومت کرنے کے آرٹ میںمہارت حاصل کر لی ہے۔ وہ جان گئے ہیںکہ سی بی آئی کا استعمال یا غلط استعمال کسیے کیا جائے۔ ہر سرکار یہ کرتی ہے۔ انھیںیہ کہنا بند کردینا چاہیے کہ وہ الگ طرح کی پارٹی ہیں یا باکردارپارٹی ہیں او رکانگریس ایک بے کردار پارٹی ہے۔ دراصل وہ’ کانگریس مکت بھارت‘ چاہتے ہیں اور’ کانگریس یکت بی جے پی‘ بنا رہے ہیں۔ کانگریسیوں کو بی جے پی میں شامل کرکے سرکار بنا رہے ہیں ہماری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *