ہندوستان کے تحمل کاناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے چین

اسٹریجک امور کے ماہر راجیو رنجن کہتے ہیں کہ ’ہندوستان کی پالیسی کافی دفاعی ہے اور چین اسی کا ناجائز فائدہ اٹھارہاہے۔راجیو رنجن مزید کہتے ہیں کہ ’ ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پراس موضوع کو موثر اور اچھے طریقے سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور چین تنازعہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ چین نے ہند ،چین اور بھوٹان کی مشترکہ سرحد ڈوکلام کے پاس اپنے فوجی تعینات کردیئے ہیں لہٰذا ہندوستانی فوج بھی وہاں تعینات کی گئی ہے۔ اگر چین اپنی فوج ہٹا لے تو ہم بھی اپنی فوج ہٹائیں گے۔ ہندوستان چین کے ساتھ سرحدی معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے ‘۔
اگر غور کیا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین بار بار غیر اخلاقی اور غیر سفارتی زبان استعمال کر رہا ہے ۔اس نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی مرتبہ ہندوستان کی سرزمین میں دخل اندازی بھی کی ہے لیکن جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان دفاعی اور رواداری کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ ہندوستان کے نرم رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کئی بار غیر اخلاقی بیان دے چکا ہے۔یہاں پر ہم جائزہ لیتے ہیں کہ چین نے کب کب غیر اخلاقی بیان دیا ہے:
24 جولائی 2017کو ہندوستان کو متنبہ کرتے ہوئے چین کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہاکہ’پہاڑ کو ہلانا آسان ہے لیکن پیپلز لبریشن آرمی کو ہلانا مشکل۔19 جولائی 2017 کو بھوٹان سے ملحق سرحد پر ہندوستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان چین نے کہا کہ اگر ہندوستان سرحد پرفوجی بھیج کر سیاسی مقصد مکمل کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسا نہ کرے۔16 جولائی 2017کو چین کے سرکاری میڈیا نے ہندوستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے ہمالیہ میں متنازع سرحدی علاقے سے اپنے فوجیوں کو واپس نہیں بلایا تو اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔10 جولائی 2017 کوڈوکلام پر جاری تنازع کے درمیان چینی میڈیا نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر کوئی تیسرا ملک کشمیر میں مداخلت کر سکتا ہے‘۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان باربار یہ بیان دے چکا ہے کہ کشمیر کے ایشو پر ہندوستان کی کی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا،اس کے باجود چین بڑی بے شرمی سے کشمیر ایشو مداخلت کی باتیں کرتا ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ دنوں فاروق عبد اللہ کے ایک بیان نے معاملے کو نیا رخ دینے کی کوشش کی مگر سچ یہی ہے کہ ہندوستان اس معاملے میں کسی تیسرے کی مداخلت قبول کرنے کے حق میں نہیں ہے۔8 جولائی 2017کو ہندوستان اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کے پیش نظر چین نے ہندوستان میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔7 جولائی 2017کو ہیمبرگ میں ہندوستانی اعظم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی۔6 جولائی 2017کو چین نے ہندوستان پر پنچ شیل معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔ چین نے یہ بھی کہا کہ جرمنی کے ہیمبرگ میں جی 20 اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے لیے ماحول درست نہیں ہے۔3 جولائی 2017 کو انڈین سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی جانب سے جون کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی بنکروں کو چینی بلڈوزروں سے گرانے کے مبینہ واقعے پر آنے والی رپورٹ کی ہندوستانی فوج نے تردید کی۔ فوج کے ترجمان نے پی ٹی آئی سے کہا کہ 6 جون کو ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔30 جون 2017کو میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ہندوستان اور چین نے اس جگہ پر فوجیوں کی تعیناتی کی جہاں سکم، بھوٹان اور تبت کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چین نے ناتھو لا درے سے گزرنے والی کیلاش مان سروور یاترا منسوخ کی۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا کہ 2017 کا ہندوستان 1962 کے انڈیا سے مختلف ہے۔29 جون 2017کو چین نے ہندوستان کو 1962 کی جنگ کی یاد دلائی۔ چین نے ہندوستان کو جنگ کے شور شرابے سے دور رہنے کے لیے بھی کہا۔ دوسری جانب بھوٹان کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں چین سے ڈوکلام علاقے میں حالات کو پہلی طرح سے قائم رکھنے کی امید ظاہر کی۔27 جون 2017کو چین نے ہندوستانی فوج پر سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام لگایا۔ چین کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام اس کے اپنے علاقے میں ہو رہا تھا اور ہندوستان کے اس قدم سے سرحد پر امن کو شدید نقصان ہوا ہے۔ ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ چین کی فوج نے تبت میں ہندوستانی سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے۔20 جون 2017کو چار دن بعد بھوٹان نے نئی دہلی میں واقع چینی سفارت خانے سے اس بات پر احتجاج کیا تھا۔ خیال رہے کہ بھوٹان کا چین کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق نہیں ہے۔16 جون 2017کو رائل بھوٹان آرمی نے ڈوکلام کے علاقے میں سڑک بنانے والے چینی فوجیوں کو روکا۔ اس سڑک کا رخ زامپیری میں واقع بھوٹان آرمی کیمپ کی جانب تھا۔9 جون 2017 کو شنگھائی تعاون تنظیم میں انڈیا مکمل رکن کے طور پر شامل۔ آستانا میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات ہوئی ۔8 جون 2017کو انڈین فوجی سربراہ بپن چند راوت نے کہا کہ ہندوستان چین اور پاکستان سے جنگ کے لیے تیار ہے۔مئی 2017 کوبیجنگ میں چین کے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ منصوبے پر منعقد سربراہی کانفرنس میں شرکت سے ہندوستان نے انکار کیا۔
اگر مذکورہ بالا باتوں پر دھیان دیں تو بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ چین نے ماحول کو خراب کرنے کے لئے کئی بار نامناسب اندازو بیان اختیار کیا ہے مگر ہندوستان اپنی روایت کے مطابق ہر بار تحمل اور نرمی کا مظاہر ہ کیا ہے۔مگر دانشوران اس بات کو مانتے ہیں کہ کسی کا تحمل یا نرمی اس کی کمزوری کی علامت نہیں ہوتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *