’چوتھی دنیا‘ کی کوششیں بارآور سپریم کورٹ نے پرائیویسی کو بنیادی حق دیا

ٓآج سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں پرائیویسی کو ہندوستان کے آئین کے تحت بنیادی حق قرار دیا۔ اس سے ’چوتھی دنیا‘ کا اس سلسلے میںواضح موقف تھا کہ سماجی اور فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آدھار کو لازمی قرار دینے کا مرکز کا قدم صحیح نہیںہے بلکہ پرائیویسی کو اس سے سخت خطرہ لاحق ہے۔ گزشتہ متعدد شمارے اس کی کوششوں کو ثابت کرتے ہیں۔
عیاںرہے کہ 9 ججوں پر مشتمل بینچ نے ایم پی شرما اور کھڑک سنگھ کے مقدمات میںسنائے گئے پہلے کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح نہیںہے کہ پرائیویسی کے حق کو آئینی تحفظ نہیں ہے۔ بینچ کا کہنا ہے کہ پرائیویسی آئین ہند کی دفعہ 21 کے تحت فراہم کردہ جینے کی آزادی اور نجی لبرٹی سے جڑی ہوئی اور ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

 

 

 

مذکورہ بینچ نے گزشتہ 2 اگست کو چھ دنوںکی سماعت کے بعد اس تعلق سے فیصلہ کو ریزرو کرلیا تھا۔ یہ معاملہ پانچ ججوں کی بینچ نے آدھار ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے بعد کانسٹی ٹیوشن بینچ کے حوالے کیا تھا۔ پہلے آئین کے تحت پرائیویسی کو بنیادی حق حاصل ہونے کا سوال سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ کے سامنے آیا۔ گزشتہ 7 جولائی کو اس سہ رکنی بینچ نے معاملہ کو بڑی بینچ کے حوالے کرنے کی سفارش کی۔ تب چیف جسٹس نے پانچ ججوں کی بینچ بنائی، جس نے اس معاملے کو 18 جولائی کو 9 ججوں کی بینچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *