کیا سچ کو سامنے لانے سے ہندوستانی فوج کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے؟

کیا سچائی سامنے لانے سے ہندوستانی فوج کا حوصلہ گرسکتا ہے؟ بہت سارے لوگ جنھیں ملک کی پرواہ نہیں ہے، جو ملک کی مضبوط یا کمزور طاقت سے واقف نہیں ہیں اور جو صرف گال بجانا جانتے ہیں، فیس بک کے اوپر پوسٹ لکھنا جانتے ہیں، وہ سارے لوگ سچائی کے سامنے آنے سے تلملا اٹھتے ہیں۔ چین دعویٰ کررہا ہے کہ ہندوستانی فوج ڈوکلام میںجھک گئی اور پیچھے ہٹ گئی۔ ہم دعویٰ کر رہے ہیں کہ چین جھک گیا اور ڈوکلام میںپیچھے ہٹ گیا ۔ اس کی سچائی جاننی ہوتو انٹر نیشنل میڈیا کے حوالے سے جانی جاسکتی ہے۔ میںیہ قطعی نہیںکہتا کہ ہم اس پروپیگنڈے کو نہ کہہ رہے ہیں کہ ہم جیت گئے۔ میں یہ بھی نہیںکہتا کہ ہم اس پروپیگنڈے کو نہ کہہ رے ہیں کہ ہم ایک ساتھ چین اور پاکستان کا سامنا کرسکتے ہیں اور نہ دونوںکو نیست ونابود کر سکتے ہیں۔ میں یہ بھی نہیںکہتا کہ ہم اس بات کا پروپیگنڈہ نہ کریں کہ ہم دنیا کی تیسری سب سے بڑی طاقت بن گئے ہیں اور میں یہ بھی نہیںکہتا کہ ہم یہ دعویٰ نہ کریں کہ ہمارے بیچ ایسے سپرمین موجود ہیںجو کہیںبھی جاکر دوسرے کو گولی سے نہیں، باتوںسے بھی مات دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور یہ سپرمین ماہر سرحد، ماہر فوج، داخلی سیکورٹی کے ماہر، ماہر دہشت گردی، خارجی محکمہ کے ماہر ، ماہر خزانہ کے روپ میںہمارے ملک کو چلارہے ہیں۔ میںیہ بھی نہیںکہتا کہ ہمیںان کی سچائی اپنے لوگوں کے سامنے اجاگر کرنی چاہیے۔ لیکن اتنے عظیم شخص کو ایک نوبل ایوارڈ تو کیا لاکھ نوبل ایوارڈ دینا چاہئیں۔ کیونکہ ایسا شخص ہندوستان میں پہلی بار نازل ہوا ہے۔ پیدا تو بہت پہلے ہوا تھا، لیکن اس کے اوتار کا یہ عظیم پہلو اب سامنے آیا ہے ۔

 

 

 

اتنے دنوں کے بعد بھی سی اے جی (کیگ)کی رپورٹ پر نہ تو پارلیمنٹ میں بات ہوئی، نہ ٹیلی ویژن چینلوں کے شام چھ بجے کے شو میںبات ہوئی اور نہ ہی اخباروں میںکچھ لکھا گیاکہ ہندوستان کی فوج کے پاس صرف دس دن لڑنے کے لیے گولہ بارود ہے ۔ یہ صورت حال منموہن سنگھ کے زمانے میں تھی جب وہ وزیر اعظم تھے اور اس وقت کی فوج کے سربراہ نے منموہن سنگھ کو اس کے بارے میںبہت ہی احتیاط برتنے کا خط لکھا تھا۔ جس خط کو خود اس دور کے وزیر اعظم آفس نے میڈیا کو لیک کردیا تھا۔ اس کے بعد کئی سیکورٹی بجٹ آئے،وزیر اعظم بدلے، لیکن ہندوستان کی فوج کو گولہ بارود دلانے میںکسی بھی وزیر دفاع یا کسی بھی فوجی سربراہ کی دلچسپی نہیںرہی۔ وزیر اعظم کی تو بالکل نہیںرہی۔ ہتھیار خریدنے میںتودلچسپی رہی کیونکہ ہتھیار خریدنے میںکافی کشش کا پہلو دکھائی بھی دیتا ہے اور کشش مل بھی جاتی ہے، لیکن وہ گولہ بارود جسے سپاہی استعمال کرتا ہے، دشمن کا حملہ سہتا ہے، دشمن پر حملہ کرتا ہے اور ملک کی شان بنائے رکھتا ہے، وہ گولہ بارود نہ ملک میں بنا او رنہ ہی بیرونی ملک سے خریدا گیا۔کیونکہ ہمارے بہت سارے ہتھیار ہماری اپنی تکنیک پر مبنی نہیںہیں، غیر ممالک سے امپورٹ کیے گئے ہیں، جن کا ان ملکوں میںتکنیک کا ٹرانسفر یا تکنیک کا ٹیک ٹرانسفر نہیںکیا گیا ہے۔ اس لیے ہمیںگولہ بارود کے اوپر ان ہی ملکوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک فوجی سربراہ نے حکومت ہند سے کہا تھا کہ ہمیںبلاتاخیر اپنی ہندوستانی تکنیک پر مبنی ہتھیاروںکو تیار کرنا چاہیے یا غیر ممالک سے جو بھی ہتھیار ہم خریدیں تو یہ شرط رکھنی چاہیے کہ ساتھ میںٹیک ٹرانسفر بھی ہوگا۔ لیکن حکومت ہند نے اس پر کوئی دھیان نہیںدیا۔ یہ فوجی سربراہ ریٹائر بھی ہوگئے۔ اپنی بات بھی زیادہ نہیں کہہ پائے کیونکہ فوج کا سربراہ دیش پریمی تو ہوتا ہے لیکن پریس پریمی نہیںہوتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ تین فوجی سربراہ اس سے استثناء رہے ہیں اور انھوں نے میڈیا میں جتنی اپنی شبیہ بنائی ہے، وہ کمال کی ہے۔ یہ سب کچھ ہوا لیکن ہندوستانی فوج کو گولہ بارود نہیںملا۔ اس کے اوپر سرکار کی طرف سے ابھی کوئی کوشش ہوئی ہو، ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے اور پھر بھی ہم چین کو ہرا دیتے ہیں،پاکستان کو ہرا دیتے ہیں۔ اپنے یہاں ٹیلی ویژن پر بڑے بڑے دعوے ٹی وی کے اینکروں کے ذریعہ کرادیتے ہیں اور ہم خوش ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہماری اپنی حالت سچ مچ کیا ہے، اس بارے میں سرکار تو بتاتی ہی نہیں،میڈیا بھی نہیں بتاتا۔
ایسا لگتا ہے کہ میڈیا خاص طور سے ٹیلی ویژن جھوٹ کو چھپانے میںسرکار کے لیے’ ابھید کوچ‘ کا کام کررہا ہے اور وہ سارے لوگ جنھیں اس حالت سے کوئی فرق نہیںپڑتا کہ ہمیںکہاںکہاںمات مل رہی ہے لیکن ہم فیس بک کے ذریعہ ایسا ماحول بنانے میںلگے ہیںکہ ہم سروشکتی مان ہیںاور ہم روز پاکستان کواور چین کو پیٹ رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کو پیٹتے دیکھ کر عام ہندوستانی کے دل میںایک خوشگوار احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس احساس کو سرکار بھی پیدا کرنے میںکوئی جھجک نہیںمحسوس کررہی ہے اور فیس بک پر جنھیںہم بھکت کہتے ہیں، وہ تو پاگلوںکی طرح ملک کو بے وقوف بنانے کا قومی فرض ادا کررہے ہیں۔شاید یہی ان کے لیے راشٹر دھرم ہے اور یہی ان کا راشٹر پریم ہے۔ اور جو بھی سچائی ظاہر کرے، یہ نام نہاد دیش دروہی راشٹرپریمی ،اپنی غداری کو اپنی کمزوری کو اپنے ناکارہ پن کو چھپانے کے لیے بڑھ چڑھ کر فیس بک پر دعوے کرتے ہیں۔ گویا وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیںسیدھی ساری سچائی بتائی ہو اور اگر سی اے جی (کیگ) جیسی کوئی سچائی سامنے آتی ہے ،تب یہ کہہ دیتے ہیں کہ اسے کانگریس نے کرایا ہے۔ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کنٹرول میںپورا ملک ہے اور پورا اپوزیشن بھی ہے۔ اس کے باوجود تنخواہ پانے والے فیس بک کے مجرموں کے ذریعہ یہ ماحول بنایا جارہا ہے کہ کانگریس ملک کا حوصلہ توڑنے کا کام کررہی ہے او رکچھ صحافی جو سچائی سامنے لارہے ہیں، وہ ملک کا حوصلہ توڑ رہے ہیں۔ سرکار کانگریس کے ان لوگوںکو نہیں پکڑ پارہی ہے، جو ملک کا حوصلہ توڑ رہے ہیں۔

 

 

 

حالانکہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کے چھاپے ہر جگہ پڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف موجودہ سی اے جی وہی ہیں جو پہلے ہندوستان کے ڈیفنس سکریٹری تھے اور ڈیفنس سکریٹری سے ان کی تقرری سیدھی سی اے جی کے روپ میںہوئی۔ الزام لگانے میںکچھ نہیںجاتا۔ کیونکہ الزام لگانے والے بے حیثیت ، بے دماغ اور ناسمجھ لوگ ہیں، جنھیں صرف اور صرف غدار کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایسے غدار ہیں جو ملک کو کمزور بنانے میں اپنی شان سمجھتے ہیں، اپنا سروگیان سمجھتے ہیں۔
میںیہ سوال کھڑا کررہا ہوں کہ آپ پارلیمنٹ کو،عوام کو سچائی نہ بتائیں لیکن اگر کہیں سچائی سامنے آتی ہے تو کم سے کم وزیر کے ناتے اس کی تشریح ملک کے لوگوںکے سامنے آنی چاہیے۔ جب سرکار خاموش ہوجاتی ہے اور سی اے جی کی رپورٹ عام ہوجاتی ہے تو آپ اسے چھپنے سے تو روک سکتے ہیں، ٹیلی ویژن پر بحث سے تو روک سکتے ہیں لیکن ملک کی کمزوری اس سے کہاں ختم ہوتی ہے۔ ملک کی کمزوری تب ختم ہوتی ہے جب آئی ہوئی سچائی کا سامنا کریں اور اسے دور کرنے کی بلاتاخیر کوشش کریں۔ ہمیںجانکاری دینے والے ذرائع ہم سے کہہ رہے ہیںکہ حکومت ہند اس کمی کو یعنی گولہ بارود کی کمی کو اپنی ترجیحی فہرست میںپہلے نمبر پر نہیںدیکھ رہی ہے۔ ٹیک ٹرانسفر کو پہلے نمبر پر نہیں دیکھ رہی ہے۔ ان ہتھیاروں کے استعمال یا ان ہتھیاروں سے متعلقہ چیزوںکو ترجیح کے طور پر نہیںدیکھ رہی ہے، جنھیںملک کا سپاہی استعمال کرتا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ موجودہ سرکار ملک کے سامنے آئے اس کمزور سچ کو فوری طور پر دور کرنے کی کوشش کرے گی اور ملک کے لوگوںکو کم لیکن ملک کو طاقتور بنانے کے کام میںفوری طور پرپروگرام شروع کرے گی۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جس طرح کی کشیدگی چین اور پاکستان کی سرحد پر ہے،ان میںاگر کہیںکچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے اوپر باہری حملہ ہو اور ہم صرف دائیںبائیں دیکھتے ہوئے سرحد پر کھڑے ہوں۔ ہمارے جوانوں کی شہادت نہہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ جوانوںکے پاس حملہ کرنے لائق یا اس کا سامنا کرنے لائق کافی مقدار میںگولہ بارود ہو۔ تاکہ اس حالت میں ،بدقسمتی کی حالت میںملک کی شان بچائے رکھنے کے لیے بندوقوں سے نکلنے والی گولیاں کبھی کم نہ ہوں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *