قانون توڑنا ہمارے خون میں شامل ہوگیا ہے

قانون کی خلاف ورزی اور اپنے مفاد کے لئے کام کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے ۔ ایسی خلاف ورزیوں پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہر نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ اب قانون توڑنا اور کورٹ کی توہین کرنا ہمارے کلچر اور خون میں آ گیا ہے۔ جسٹس یہ باتیں گزشتہ دنوں کو سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران کہی.چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے تو آپ کو قانون پر عمل کرنا ضروری۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو کسی بھی حال میں بخشا نہیں جائے گا پھر وہ چاہے جو بھی ہو۔
دراصل دہلی کے لاجپت نگر میں ایک انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ دنیش کھوسلا اپنے گھر کی عمارت کو استعمال کمرشیل طور پر کر رہے تھے۔اسی معاملے کی سماعت میں جسٹس نے کہا کہ قانون توڑنے کے ہم خوگر ہو چکے ہیں اور اب تو یہ ہمارے خون میں شامل ہو چکا ہے۔قانون شکنی کے واقعات یوں تو ہر میدان میں کم و بیش ہوتے ہیں لیکن تعمیرات کے شعبے میں تو کھلے عام اس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔عمارتیں بناتے وقت بلدیہ کی اجازت ہو یا پھر اونچائی کا لحاظ رکھنا ،ہر معاملے میں قانون شکنی ہوتی ہے جس سے پریشان ہوکر جسٹس نے ناراض ہوتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *