ٹوائلٹ نہ بنوانے پر بیو ی نے طلاق لی

سوچھ ابھیان ‘وزیر اعظم مودی کی بنائی ہوئی ایک ایسی اسکیم ہے جس کو عمل میں لانے کے لئے لمبی جدو جہد کی ضرور ت ہے۔ ابھی ملک میں بہت سے ایسے گائوں ،علاقے ہیں جہاں ٹوائلٹ کا تصور نہیں ہے۔وہاں لوگ قضاء حاجت کے لئے کھلی جگہوں پر ہی جاتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم کی اسکیم کا اتنا اثر پڑا ہے کہ لوگ اب اس طرف متوجہ ہورہے ہیں۔توجہ کا عالم یہ ہے کہ اب گھر کے اندر بیوی اپنے شوہر کو ٹوائلٹ بنانے کے لئے مجبور کرتی ہیں۔بلکہ کئی دفعہ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ میاں و بیوی میں طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔چنانچہ ریاست راجستھان میں ایک خاتون کو اس بات پر اپنے شوہر سے طلاق لینے کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اْس کا شوہر اْن کے گھر میں رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ نہیں بنواتا تھا۔20سال عمر کے لگ بھگ اس خاتون کی شادی کو تقریباً پانچ سال ہو چکے تھے اور انھیں رفع حاجت کے لیے قریبی کھیتوں میں جانا پڑتا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کھلے آسمان تلے رفع حاجت پر کسی کو مجبور کرنا تشدد کی ایک قسم ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ خواتین کو اکثر غسل خانہ استعمال کرنے کے بجائے شام ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ کھلے کھیتوں میں جا سکیں۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’دیہاتوں میں خواتین کو رفعِ حاجت کے لیے شام کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی طور پر ظلم ہے بلکہ خواتین کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔

 

 

 

اس خاتون نے طلاق کے لیے 2015 میں درخواست دی تھی۔
دیہاتی علاقوں میں کھلے آسمان تلے رفعِ حاجت کے لیے جانا ایک عام مسئلہ ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2019 تک ہر گھر میں ایک ٹائلٹ بنایا جائے تاہم اس کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے کوششوں کے پیچھے خواتین کی حفاظت اور آرام ایک اہم عنصر ہے۔ مگر جو غسل خانے بنائے گئے ہیں ان کو بھی بہت سے لوگ بیماروں کے باوجود استعمال نہیں کرتے۔
گزشتہ برس اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اندازہ کے مطابق انڈیا کی نصف آبادی غسل خانے استعمال نہیں کرتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *