غسل کے بغیر حسن نامکمل ہے

غسل صحت و صفائی کے لیے بہت ضروری ہے‘ اس کے بغیر صفائی اور خوبصورتی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ غسل کے بغیر حسن نامکمل ہے،اس کے ذریعے پورے جسم کی صفائی ہوتی ہے اور خوبصورتی کو نکھار ملتا ہے۔یہ محض روزانہ کا ایک معمول نہیں ہے بلکہ سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔قدیم زمانے میں بھی باتھ روم اور اسپا وغیرہ میں غسل کے لیے پُرتعیش لوازمات ہوا کرتے تھے۔اور پوری دنیا سے انہیں جمع کیا جاتا تھا،آج بھی لوگ باتھ روم پر اُسی قدر توجہ صرف کرتے ہیں جتنا کہ گھر کے دوسرے حصوں پر ایک مکمل غسل کے لیے کچھ بنیادی اور اہم لوازمات ہوتے ہیں جو زمانے یا دور کے بدلنے کے باوجود بھی تبدیل نہیں ہوئے۔یہ آج بھی گئے دنوں کی طرح ویسے ہی ہیں۔باتھ روم کو نہایت صاف ستھرا ہونا چاہیے ،اگر یہ زیادہ بڑا نہیں ہے تب بھی اسے صاف ستھرا رکھا جاسکتا ہے اگر آپ کے پاس ایک بڑے کمرے کے ساتھ ساتھ باتھ روم ہے تو آپ کو اس کی ترتیب اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

 

 

 

غسل کا اہتمام
ترتیب میں حسن ہوتا ہے۔صابن،شیمپو،تیل،لوشن،اور تولیہ وغیرہ معقول جگہ پر رکھے جائیں تاکہ باتھ روم کا خوشگوار تاثر قائم رہے اور آپ خود بھی اس میں غسل کرکے اچھا محسوس کریں۔تولیے کو صاف اور خشک رکھیں۔ہر مرتبہ استعمال کے بعد تولیے کو دھوپ لگا کر خشک کرلیں۔اپنے ٹاولز اور نیپکن کوکسی اور کے ساتھ شیئر نہ کریں۔یہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے خلاف ہے اور جراثیم کو پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔اگر آپ تولیہ اور نیپکن خشک نہیں کریں گی تو ان میں سے ناگوار بو آئے گی جو پورے باتھ روم میں پھیل جائے گی باتھ روم کے دروازے پر ایک فٹ میٹ رکھیں تاکہ گیلے پاؤں کو اس سے صاف کرلیا جائے۔اپنے باتھ روم کو اینٹی سپٹک سے صاف کریں۔یہاں خوشبودار پھول رکھیں یا ایسی ہی اشیاء رکھیں جس سے باتھ روم مہکتا رہے۔باتھ روم کی ہر چیز کو روزانہ صاف کریں مثلا پرفیوم کی بوتل صابن دانی،لوشن اور دیگر چیزیں۔ان کو روزانہ صاف کریں۔اگر آپ کے پاس پر تعیش باتھ روم نہیں ہے یعنی باتھ ٹپ نہیں ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس کے بغیر بھی آپ اپنے غسل کو پرتعیش بنا سکتی ہیں۔غسل کے لئے ایک عدد بالٹی اور ایک مگ ضروری ہے یا شاور لگوالیں۔ہینڈ شاور سے زیادہ آسانی رہتی ہے۔خاص طور پر بچوں کو نہلانے کے لئے ہینڈ شاور ہی مناسب رہتا ہے۔
بچے کو ہمیشہ بے بی صابن یا بے بی شیمپو سے نہلانا چاہیے تاکہ بچوں کو آنکھوں میں صابن سے جلن نہ ہو۔ٹب میں بٹھا کر بچے کو ہینڈ شاور سے آسانی کے ساتھ نہلایا جا سکتا ہے بچہ خوشی محسوس کرے گا اور آپ کے لیے بھی یہ ایک خوشگوارعمل ہوگا۔
غسل ایک خوشگوار عمل ہے نا صرف بچوں کیلئے بلکہ ہر عمر کے فرد کیلئے غسل اہمیت رکھتا ہے۔غسل سے قدرتی خوبصورتی میں نکھار پیدا کیا جاسکتا ہے۔اپنے جسم پر وٹامن ای یازیتون کے تیل کی مالش کریں۔خود کو گیلا کریں اور جسم پر صابن لگائیں ۔فوم کے ذریعے پورے بدن پرصابن کو اچھی طرح پھیلائیں اور شاور لے لیں۔اگر آپ روزانہ شیمپو لگاتی ہیں تو پھر یہ عمل بھی کریں اور کنڈیشنر بھی لگائیں۔اپنے آپ کو اچھی طرح صاف کریں،بالوں سے شیمپو اچھی طرح نکالیں اور بالوں کو تولیہ سے خشک کریں۔جسم کو بھی خشک کریں۔اس کے بعد پورے جسم پر لوشن لگائیں پھر لباس زیب تن کریں۔اپنی جلد کی ساخت کے مطابق ہمیشہ صابن کا استعمال کریں۔اس سلسلے میں موسم کا بھی خیال رکھیں۔سردیوں میں موئسچرائز والے صابن اچھے رہتے ہیں جبکہ موسم برسات میں اینٹی سپٹک والے اور گرمیوں میں ایسے صابن کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ پسینے سے پیدا ہونے والے جراثیم کا خاتمہ ہوسکے۔غسل کے لیے اسکرب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔آپ ریڈی میڈ یا گھر پر تیار کردہ اسکرب اپنے جسم پر استعمال کرسکتی ہیں اس کے ذریعے جلد پر موجود ڈیڈ سیل ختم ہو جاتے ہیں اور آپ کو غسل کرنے کا ایک انوکھا تجربہ ہوگا۔اگر آپ کے پاس روزانہ ایسا کرنے کا وقت نہیں ہے تو آپ یہ عمل ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔ریڈی میڈ اسکرب آپ کو کاسمیٹک کی شاپ سے آسانی سے دستیاب ہوجائے گا لیکن گھریلو اسکرب کی بات اورہے آپ اسکرب گھر میں آسانی سے تیار کرسکتی ہیں۔یہاں ہم چند گھریلو نسخے بتا رہے ہیں۔
بہت ہی آسان اور قدیم نسخہ بیسن اور دہی کاہے۔ایک پیالے میں حسب ضرورت بیسن لے لیں۔چٹکی بھر ہلدی ڈالیں اور دہی ملا کر پیسٹ بنالیں،اسے جسم پر لگائیں ۔جب آدھا خشک ہوجائے تو اسے رگڑ کر چھڑالیں۔اس سے آپ کی جلد کا سانولا پن کم ہوگا۔ اور جلد شگفتہ دانوں سے پاک ہوجائے گی۔
چاول کو ساری رات دودھ میں بھیگنے دیں۔صبح اسے گرائنڈ کرکے پیسٹ بنالیں اور پورے جسم پر ملیں اس سے سفید اور کالے ڈیڈ سیل صاف ہوجائیں گے اور آپ کا جسم صاف ہوجائے گا۔ آٹا لے کر اس میں بغیر ابلا ہوا دودھ ڈالیں اور پیسٹ بنالیں اور اسے پورے جسم پر لگائیں رگڑنے والے انداز میں ‘رواں کے مخالف سمت رگڑنے سے سارے روئیں (بال)صاف ہوجائیں گے اور جسم میں شگفتگی آجائے گی۔ اگر گرمیوں میں جسم پر گرمی دانے نکل آئے تو ایک مگ پانی میں نیم کے پتے اُبال کر غسل کے پانی میں اسے ملا لیں۔پھر غسل کریں دانوں سے نجات مل جائے گی۔
غسل سے صحت ہے
یہ درست ہے کہ پانی ہماری زندگی کا لازمی عنصر ہے پانی ایک فرحت بخش مشروب ہے اس میں سکون بھی ہے اور توانائی بھی۔جسم میں پانی کی کمی سے کئی عوراض لاحق ہوجاتے ہیں پانی ایک مکمل مشروب ہے جس میں شفاہی شفا ہے۔پانی نہ صرف جسم کے اندرونی اعضاء کیلئے ضروری ہے بلکہ بیرونی اعضاء کیلئے بھی لازمی ہے ۔جسم کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ پانی سے کئی ذہنی اور جسمانی ،بیماریاں بھی دور کی جاسکتی ہیں یقینا آپ نے ”اسپا“ کانام سنا ہوگا۔پانی کے ذریعے علاج بہت قدیم طریقہ ہے اسپا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں بڑی حیرت انگیز باتیں سامنے آئے گی۔
اسپا کیا ہے؟ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے یعنی وکٹورین دور میں متعدد گھرانوں کے مرد اور خواتین ”باتھز“میں جایا کرتے تھے جہاں ان کا علاج پانی کے ذریعے کیا جاتا تھا۔پانی کے گرم چشمے سلفر اور سپلائن والے ہوتے تھے اور یہ دواؤں میں تب بھی استعمال ہوتے تھے اور آج بھی ہورہے ہیں۔اسپا اصل میں چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ قدیم مصر میں حمام کا رواج تھا اور یہ اسپا اسی کی جدید شکل ہے کہا جاتا ہے دریائے نیل کے کنارے جو چکنی مٹی پائی جاتی تھی اس میں کئی بیماریوں کے لئے شفا تھی اور تب اسے انسانی جسم پرلگایا جاتا تھا۔آج بھی اسپا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔قلوپطرہ کے بار ے میں سب جانتے ہیں کہ وہ بہت اہتمام سے دودھ سے غسل کرتی تھی جس سے اس کے حسن کا جلا ملتی تھی۔

 

 

 

غسل سکون کا باعث
دن بھر کی شدید تھکاوٹ اور کام کاج کے بعد یقینا آپ کے جسم کو بھی آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آرام آپ کو رات میں بھر پور نیند لے کر ہی حاصل ہو سکتا ہے یہاں یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ آپ کو اپنے جسم کی حفاظت اور دیکھ بھال نہ صرف دن میں کرنا ہوتی ہے بلکہ رات کو بھی ضرورت ہوتی ہے جب آپ رات کو سو رہے ہوتے ہیں تو آپ کا جسم آرام کر رہا ہوتا ہے۔اس حوالے سے چند چیزیں ایسی ہیں جو آپ اپنے جسم کو آرام دینے اور بھرپور تیاری کرنے میں مدد کرنے کیلئے کرسکتی ہیں۔رات کو غسل اور باڈی کیئر کے حوالے سے چند چیزیں پیش خدمت ہیں۔
نیم گرم پانی سے بھرپور غسل ضرور لیں ،اپنے باتھ ٹب کو گرم پانی سے بھرلیں اور کوئی ایسا تیل بھی شامل کرلیں جو آپ کے جسم کوریلیکس کرنے میں مدد دے اور مسلز کا کھنچاؤ کم کرے۔غسل سردیوں میں بھی کریں اور گرمی کے موسم میں تو ضرور کریں تاکہ سونے سے قبل جسم کو سکون اور ٹھنڈک حاصل ہوسکے تاکہ خوب گہری نیند آئے۔
اگر آپ صبح تازہ دم اُٹھنا چاہتی ہیں تو آپ رات کو سلیف ٹننگ لوشن کا استعمال کریں اور اپنی جلد کو اسکرب اور موئسچرائزر سے صاف کریں۔آج بازار میں آپ کو بہت سے ایسے سیلف ٹننگ لوشن مل جاتے ہیں۔آپ کے ہاتھ سب سے پہلے آپ کی عمر کا پتہ دیتے ہیں اور اکثر نظر انداز بھی کئے جاتے ہیں اپنے ہاتھوں کو ایک نئی تازگی اور زندگی دینے کیلئے ان پر ایک اچھی ہینڈ کریم استعمال کریں تاکہ انہیں کھوئی ہوئی نمی دوبارہ مل سکے یہ نائٹ کیئر کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔
اگر آپ غسل کرنا نہیں چاہتیں تو پھر خوب اچھی طرح ہاتھ منہ دھولیں۔اپنے پیروں کو نظرانداز نہ کریں آپ کے پاؤں آپ کے پورے جسم کا بوجھ سنبھالتے ہیں ان کے لئے بھی آپ کو وقت نکالنا چاہیے،اگر وہ کسی مشکل یا تکلیف کا شکار ہوگئے تو پورا جسم ہی تکلیف کا شکار ہوجائیگا۔سونے سے پہلے اپنے پیروں کو خوب اچھی طرح دھولیں اور اگر نیم گرم پانی سے دھوئیں تو پاؤں اچھی طرح سے صاف ستھرے ہو جائیں گے اور بہت آرام ملے گا۔
سونے سے پہلے ایک بھرپور غسل کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ جب آپ اپنے بستر میں سونے کی تیاری کریں تو اس بات کو یقینی بنالیں کہ آپ کی گردن صحیح حالت میں سپورٹ حاصل کیے ہوئے ہے۔اچھی کوالٹی کے تکئے استعمال کریں تاکہ گردن کے دباؤ کی شکایت پیدا نہ ہونے پائے ساتھ ہی اپنے بیڈروم میں ہوا کے گزرنے کا انتظام ضرور کرلیں تاکہ سوتے وقت آپ کوکسی بھی قسم کی گھٹن وغیرہ کا احساس نہ ہو،قدرتی موئسچرائزر سے آپ کی جلد کو آرام ملتا ہے اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا۔رات بھر پر سکون محسوس کریں گی۔
غرض یہ کہ غسل ضروری ہے اور جسمانی و ذہنی سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔غسل صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ صحت بھی ہے اس سے کئی جسمانی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ہر مردعورت بچے اور بزرگ کو روزانہ غسل کا اہتمام کریں تاکہ وہ صحت مند بزرگ اورخوش رہیں۔اپنے جسم کی حفاظت کیجئے یعنی غسل کیجیے۔
بشکریہ اردو پوائنٹ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *