آرٹیکل 35اے پرسبھی کشمیری پارٹیاں متحد

کشمیر میں سیاسی افراتفری کے گزشتہ 27 سالوں میں وقت کا چکر کئی بار بدلا ہے۔ 1947 کے سیاسی اتھل پتھل اور ہندوستان کی تقسیم سے پیدا ہونے والے سیاسی ایشو پر ایک بڑے آئیڈیا اور موثر طریقے سے ایک بڑی چرچا ہوئی ہے۔ بلا شک جموں و کشمیر میں آزادی کے لئے جاری جدو جہد،ہندوستان کی آزادی کی لڑائی سے الگ تھی لیکن جس طرح سے یہ تقسیم کے ساتھ الجھی ہوئی ہے، وہ گزشتہ 70برسوں سے ایک بڑا ایشو بنی ہوئی ہے۔ جب 1987 میں کشمیر کے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھایا ،تب انہوں نے ریاست کا سیاسی رنگ بدل دیا۔ اگرچہ جموں اور لداخ ، اس کشمیری مانگ سے کافی حد تک بچے ہوئے تھے،لیکن اس ایشو کو وہ ٹھنڈا نہیں کر سکے۔ احتجاج کی بنیاد آزادی کی مانگ رہی جو پہلے بندوق اور بعد میں پتھر کے ذریعہ ظاہر ہوئی ۔
سی بی ایم جاری رہا
دہلی میں آئی کئی سرکاروں نے ان کے ساتھ بیک چینل اور باضابطہ بات چیت کیں جو آزادی مانگ رہے ہیں۔ اس میں رائٹ وِنگ بی جے پی کے اٹل بہاری واجپئی سمیت کئی سرکاریں شامل ہیں لیکن کچھ بھی ٹھوس طریقے سے سامنے نہیں آیا لیکن بیک چینل اور باضابطہ بات چیت کی کوششیں دہلی – اسلام آباد اور دہلی- سری نگر کے درمیان متوازی چلنے والی سرگرمی بنی رہی۔ اسے کنفیڈنس بلڈنگ میزرس کے طور پر دیکھا گیا۔ اس سے دونوں ملکوں کے بیچ کاروبار بھی چل رہا ہے ۔علاحدگی پسند یا مخالف لیڈر ،جو آزادی کی مانگ کے چمپئن رہے ہیں، آزاد رائے اور فیصلہ لینے میں ناکام رہے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی۔
حالانکہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پچھلے تین سالوں میں ،سرکار کے ذریعہ یہ مسترد کئے جانے سے کہ جموں و کشمیر ایک سیاسی ایشو ہے ،نہ صرف ہندوستان کے اندر صورت حال بدلی ہے بلکہ علاحدگی پسندوں کے بیچ بھی صورت حال بدلی ہے، جوکہ پہلے سے ہی اس ایشو کو غیر متعلقہ مانتے ہیں۔
بی جے پی سرکار نے ان سبھی چرچائوں کو ہٹا دیا ہے جو جموں و کشمیرکو ایک سیاسی ایشو بناتی ہے۔ ریاست کا مکمل انضمام بی جے پی کا سیاسی ایجنڈا رہا ہے اور آرٹیکل 370کو رد کرنا بھی (جو ہندوستان کے آئین کے دائرے میں ریاست کو اسپیشل اسٹیٹس دیتا ہے ) ۔حالانکہ ریاست کے اقتدار میں شامل ہونے کی خواہشات کو پوری کرنے کے لئے بی جے پی نے پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ایجنڈا آف ایلائنس (اے او اے )کیا اور اس آئینی صورت حال کے تحفظ کا وعدہ کیا۔
اے او اے کے حصے کی شکل میں یہ وعدے شامل ہوئے۔ پھر بھی بی جے پی نے آرٹیکل 370 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے لئے عدلیہ کے ذریعہ سے ایک جنگ شروع کر دی ہے۔ بی جے پی کے ہم خیال ساتھی آر ایس ایس کے حامی ایک این جی او وی دی پیپل نے سپریم کورٹ میں پیراگراف 35اے کو ختم کرنے کے لئے ایک عرضی دائر کی ہے۔ 14مئی 1954 کو صدر جمہوریہ راجندر پرسادکے ذریعہ جاری دستوری (جموں وکشمیر کے لئے لاگو ) حکم کے ذریعہ جموں و کشمیرمیں یہ آرٹیکل لاگو کیا تھا۔ یہ خاص طور سے ریاست کے سبجیکٹ قانونوں (شہری ) کو تحفظ دینے کے لئے تیار کیا گیا تھا، جو پہلے سے ہی مہاراجہ کی حکومت کے تحت مقرر کئے گئے تھے اور 1927 اور 1932 میں نوٹیفائڈ کئے گئے تھے۔ا س کے مطابق صرف ریاست کے شہری ہی ریاست میں زمین کے مالک ہونے کے حقدار ہیں۔ یہاں پر یہ شور مچایا جارہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کو خصوصی بنا دیتا ہے ۔ اسے ہندوستان کے باقی حصوں کے لوگوں کے لئے کھلا ہونا چاہئے۔

 

 

 

قانونی لڑائی چل رہی ہے
حالانکہ قانونی لڑائی چل رہی ہے اور عدالت میں ریاست اکیلے ہی رہ گئی ہے۔ ایسے میں ماہرین کچھ مناسب سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک یہ کہ پیراگراف 35اے ختم ہو تو پھر سبھی 41 صدر جمہوریہ کے حکم قانونی جانچ کے تحت ہوں گے،کیونکہ یہ سبھی آرڈر 1954 کے ذریعہ ترمیم کئے گئے تھے۔اسے دیکھتے ہوئے، بعد کے آرڈر سے ہی ریاست میں (جموں و کشمیر )سنگھ لسٹ کی 97 انٹریز میں سے 94 اور ہندوستانی آئین کے 260 آرٹیکلس کو لاگو کیا گیا تھا۔ وقت بوقت ان احکام کا استعمال ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس یا خود مختاری کو ختم کرنے کے لئے بھی کیا گیا ہے۔
یہ معلوم نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ کیا ہوگا ،لیکن یہ خدشہ ہے کہ یہ ناقابل یقین ہو سکتاہے ،بھلے ہی ریاستی سرکار اس کا بچائو کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پہلے سے انتباہ دے چکی ہیں۔دہلی میں ایک سمینار میں انہوں نے کہا کہ اگر پیراگراف 35 اے کو ختم کیا جاتا ہے تو کشمیر میں ہندوستانی جھنڈے کو کوئی نہیں لہرائے گا۔ لیکن نیشنل کانفرنس ، سی پی آئی (ایم ) اور دیگر علاقائی پارٹیوں سمیت اپوزیشن اس کا بچائو کرنے کے لئے ایک جگہ اکٹھا ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے 7 اگست کو اپوزیشن کی میٹنگ کی صدارت کی اور نتیجہ بھگتنے کا انتباہ دیا ۔ عبد اللہ نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر سپریم کورٹ پیراگراف 35اے کو اسکریپ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو نئی دہلی کو نتائج کا سامنا کرناہوگا اور جنگی میدان کے لئے تیار ہونا ہوگا۔ ہم جیل جائیں گے، ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ انہیں اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ محبوبہ ، عبد اللہ کی رہائش گاہ پر اس پر چرچا کے لئے گئیں۔ اس سے اس ایشو پر سیاسی سیٹنگ بدلتی جارہی ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے اس پر سرکار کو حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سے یہ لڑائی سبھی پارٹیاں بنام بی جے پی کے درمیان ہونے کا امکان ہے ۔ جیسا کہ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ان خطروں کے بارے میں آگاہ کیا ہے جو اس آرٹیکل کو ختم کرنے سے سامنے آسکتے ہیں، ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ ہندوستانی سرکار 26 اگست کو اپنا رخ بدلتی ہے یا نہیں،جب معاملے کی سنوائی کے لئے اسے درج کیا جائے گا۔
کاز مشترکہ بنا
سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ فاروق اور یاسین ملک کے مشترکہ مزاحمت کی قیادت بھی اس کورس میں شامل ہوگیا اور ہڑتال کی مانگ کی ۔یہ پہلی بار ہے کہ نظریاتی طور سے منقسم لوگ ایک ہی جگہ پر ہیں۔ تشویش یہ ہے کہ پیرا گراف 35 اے کو ہٹانے سے بی جے پی کے مکمل انضمام کا لمبا خواب پوراکرنے میں مدد ملے گی جو بالآخر ریاست میں غیر جموں و کشمیر باشندوں کے لئے دروازہ کھول دے گا۔ کیا ہندوستان مخالف اور ہندوستان حامی ایک ساتھ احتجاج کریں گے،یہ معلوم نہیں ہے لیکن اس معاملے نے نہ صرف دہلی اور سری نگر کے درمیان ایک بڑے ٹکرائو کا دروازہ کھول دیا ہے بلکہ ایک ممکنہ بغاوت کا بھی راستہ کھولاہے۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت میں مین اسٹریم کیمپ جموں اور لداخ کو اس اسپیشل اسٹیٹس کے تحفظ کی جدو جہد میں شامل کرنے کو سوچ رہا ہے، حالانکہ جموں کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے موجودہ اثرات کے سبب پولرائز کردیا گیا ہے لیکن وہ انہیں پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پیراگراف ہٹانا ان کے لئے عمومی طور سے نقصان دہ ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ ،جنہوں نے ریاستی شہری قانون لاگو کیا تھا، جموں سے تھے اور یہ پنجابی اثر کو شامل کرنے کے لئے کیا تھا۔ سی پی آئی (ایم ) لیڈر ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ ہم انہیں یاد دلائیں گے کہ ریاست کی مخصوص نوعیت، ریاست کی پاکیزگی کیا ہے اور کیوں اس کی تعمیل کرنا چاہئے۔ اگرچہ پچھلے سال جموں کیمسٹوں کے ذریعہ کی گئی ہڑتال اہم تھی۔ انہوں نے ایک غیر کشمیر ی فرم کو کنٹریکٹ کا الاٹمنٹ کرنے والے ایک سرکاری فرمان کی مخالفت کی تھی اور اسے آرٹیکل 370 پر حملہ کہا تھا۔
اب تک پالٹیکل سرکل خصوصی درجہ کے مدعے پر مرکوز ہے۔ اس نے آزادی کے مدعے کو ابھی پیچھے رکھ دیا ہے تو کیا بی جے پی نے بدل کر کچھ حاصل کیا ہے یا اس نے کشمیر میں سیاسی طاقت کے اتحاد کے لئے جگہ دے دی ہے؟اسپیشل اسٹیٹس کے مدعے میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سیاسی بغاوت کروا دے۔اگر دہلی لوگوں کو آزادی نہیں دے سکتی ہے تو وہ انہیں خود مختاری سے محروم نہیں کرسکتی ہے۔

سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ فاروق اور یاسین ملک کے مشترکہ مزاحمت کی قیادت بھی اس کورس میں شامل ہوگیا اور ہڑتال کی مانگ کی ۔یہ پہلی بار ہے کہ نظریاتی طور سے منقسم لوگ ایک ہی جگہ پر ہیں۔ تشویش یہ ہے کہ پیرا گراف 35 اے کو ہٹانے سے بی جے پی کے مکمل انضمام کا لمبا خواب پوراکرنے میں مدد ملے گی جو بالآخر ریاست میں غیر جموں و کشمیر باشندوں کے لئے دروازہ کھول دے گا۔ کیا ہندوستان مخالف اور ہندوستان حامی ایک ساتھ احتجاج کریں گے،یہ معلوم نہیں ہے لیکن اس معاملے نے نہ صرف دہلی اور سری نگر کے درمیان ایک بڑے ٹکرائو کا دروازہ کھول دیا ہے بلکہ ایک ممکنہ بغاوت کا بھی راستہ کھولاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *