انسانیت کی اعلیٰ مثال

جب انسانیت حاوی ہو تو وہاں پر ذات دھرم کوئی معنی رکھتا بلکہ انسان انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کی خدمت کرتا ہے۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک شاندار مثال اس وقت سامنے ائی جب مالدہ انگلش بازارکے قریب بھابانیپور گاؤں کے مسلمان ایک ہندو خاتون کے آخری رسومات میں مدد کے لئے سامنے آئے۔متوفی کی دولڑکیوں کے پاس آخری رسومات کے لئے سامان مہیا نہیں تھا۔لہٰذا مسلمانوں نے اس میں مدد کے لئے پیش قدمی کی۔نرملا رابیدہ جس کی عمر63سال بتائی جارہی ہے ان کی دولڑکیاں ہیں۔ ارچنا اور تونی جبکہ ان کے شوہر کا بھی 13سال قبل ہی انتقال ہوگیا اور بڑی لڑکی ریکھا شادی کے بعد پوکھورایا گاؤں منتقل ہوگئی تھی۔ کافی دنوں سے وہ بیمار تھیں ۔اسی دوران اسے ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے وہ اسپتال لے جانے سے قبل ہی فوت ہوگئیں۔
پڑوسی انعام المومن، شریف مومن، کالو ایس کے، اجمل ایس کے،سراج علی اور دیگر مقامی لوگوں سے پیسے جمع کرنے کے بعد متوفی کی آخری رسومات انجام دئے۔ ان لوگوں نے کچھ گھنٹوں میں ہی دس ہزار روپئے جمع کرلئے۔پڑوسیوں کے مطابق نرملا اپنے گھر کاخرچ گھریلوکام کاج اور بیڑی تیارکے ذریعہ چلاتی تھیں۔

 

غریبی کی وجہ سے ان کی لڑکیاں تعلیم سے بھی محروم رہی۔پڑوسی مرزا غلام مصطفیٰ نے کہاکہ’’ ہم ان کی معاشی حالت سے واقف ہیں۔ ان کے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے تاکہ وہ لوگ آخری رسومات انجام دیں سکیں۔ نرملا کے بچے مجبور ہیں‘‘۔
ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کے لئے کچھ شر پسند عناصر دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، ایسے میں مذکورہ بالا کردار یقینا انسانیت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *