احمد پٹیل کا اب امتحان ہے

احمد پٹیل کو کانگریس کے چانکیہ کا نام ملا ہے۔ احمد پٹیل گجرات سے انتخاب جیت گئے۔ حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انھیںہرانے میںکوئی کسر باقی نہیںرکھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یہ چاہتی تھی کہ کسی طرح احمد پٹیل ہار جائیں۔ احمد پٹیل کو اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔ ان کے ساتھی شنکر سنگھ واگھیلا پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے ساتھ 14اراکین اسمبلی چلے گئے جبکہ اوربھی اراکین اسمبلی کا جانے کا ڈر رہا۔ آخرکار احمد پٹیل جیت گئے۔ کرناٹک میں جس وزیر کے ریزورٹ میں اراکین اسمبلی کو رکھا گیا تھا، وہاں چھاپہ پڑا۔ اتنا ہی نہیں، پہلی بار انکم ٹیکس افسروں کے ساتھ پولیس اندر گئی۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود احمد پٹیل کو ایک بڑی سیکھ اس واقعہ سے ملی۔ کیا سیکھ ملی؟ یہ میں آپ کو بعد میںبتاؤںگا۔ لیکن ابھی ہم بات کرتے ہیں کہ گزشتہ 20 سال میںاحمد پٹیل نے گجرات میںکیسی کانگریس کھڑی کی؟
احمد پٹیل نے پچھلے بیس سال میںکانگریس کو اپنی آنکھوںکے سامنے پیدا کیا اور پرانے لیڈروں کی جگہ نئے لیڈر کھڑے کیے۔ ان میں بھرت سنگھ سولنکی، موڈ واڈیا شکتی سنگھ، سدھارتھ پٹیل اور شنکر سنگھ واگھیلاشامل ہیں۔ ان پانچوںکو ہی گجرات کانگریس مانا جاتا تھا۔گجرات کے ان لیڈروں میںبھرت سنگھ سولنکی، شری مادھو سنگھ سولنکی کے بیٹے ہیں۔ مادھو سنگھ سولنکی گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور انھوںنے گجرات میں کانگریس کو بہت مضبوط بنایا تھا۔ بعد میںوہ ملک کے وزیر خارجہ بھی بنے۔ انھیں بوفورس پیپر کے معاملے میںیابوفورس کانڈ کے معاملے میںسویڈن کے وزیر خارجہ سے بات کرنے کے الزام میںاپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ سدھارتھ پٹیل ، چمن بھائی پٹیل کے بیٹے ہیں۔ چمن بھائی پٹیل گجرات کے کئی بار وزیر اعلیٰ رہے اور ان ہی کے وقت گجرات کا مشہور ’نرمان آندولن‘ شروع ہوا تھا۔ بعد میںوہ جنتا دل میںآگئے تھے اور پھر انھوںنے گجرات جنتا دل بنایا ۔

 

 

 

 

ان سب میںاکیلے شنکر سنگھ واگھیلا ایسے تھے جن کے پاس عوامی حمایت تھی، جنھیں لوگ سننا چاہتے تھے اور جنھیں سچ مچ کا عوامی لیڈر کہہ سکتے ہیں۔ باقی چار، چاہے وہ بھرت سنگھ سولنکی ہوںیا موڈواڈیا ، شکتی سنگھ ہوں یا سدھارتھ پٹیل ، ان کے پیچھے عوام نہیںہیں۔ شنکر سنگھ اور بھرت سنگھ کے علاوہ باقیتین لیڈروں کا بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کے ساتھ بزنس انٹریسٹ ہے۔ اس لیے یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار کے ساتھ مل کر ہی کانگریس کو چلا رہے تھے۔ موڈواڈیا بڑے کنٹریکٹر ہیں۔ اسی طرح سدھارتھ پٹیل بھی بڑے تاجر ہیں۔ شکتی سنگھ بنیادی طور پر لائزن کا کام کرتے ہیں۔ وہ سفارش کرتے ہیں، کام ہوتے ہیں اور اس میںان کا انٹریسٹ ہوتا ہے۔ا ب ان کی عزت کی بات کریں۔ نہ کانگریس پارٹی میںاور نہ ہی عوام میںان کی عزت ہے۔ کیونکہ ان کا رشتہ عوام کے ساتھ بہت کم ہے۔ پچھلے الیکشن میں یہی لیڈرکانگریس کی ہار کا اہم سبب رہے ہیں۔ ان کی عزت اگر گجرات میں ہے ، تو صرف اس لیے کہ ان کے ساتھ عہدے لگے ہوئے ہیں۔ کوئی اسمبلی میںلیڈر ہے، کوئی ریاست کا صدر ہے،کوئی جنرل سکریٹری ہے۔ اگر یہ عہدہ ان کے نام کے آگے سے ہٹ جائے تو شاید انھیں گجرات میںکوئی پوچھے بھی نہیں۔ گجرات کانگریس کے لوگ کہتے ہیںکہ ان کے پاس اپنے پانچ آدمی بھی نہیںہیں۔ میں نے کانگریس کے ایک بڑے لیڈر سے پوچھا کہ تب انھیں کانگریس نے عہدہ پر کیوںبنا رکھا ہے؟ انھوں نے اس کا واضح جواب دیاکہ یہ احمد پٹیل صاحب کے سب سے قابل اعتماد لوگ ہیں یا دوسرے لفظوں میںکہیںکہ احمد پٹیل صاحب کے یہ سب سے بڑے چمپوہیں۔ احمد پٹیل صاحب نے ان چاروںلوگوں کو پچھلے بیس سال سے اپنے ارد گرد رکھا ہے اور ان ہی کے مفادات کو دھیان میں رکھ کر انھوں نے گجرات کانگریس کی سرگرمیاںطے کی ہیں۔ نریش راول اور راجو پرمار کو احمد پٹیل دہلی لائے۔ راجو پرمار کئی سال سے راجیہ سبھاکے ممبر ہیں ۔ راجو پرمار کے بارے میںمشہور ہے کہ جس دن یہ راجیہ سبھا سے ہٹیںگے ، اس دن ان کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے دکھائی دیںگے ،یہ کوئی نہیں جانتا۔ ان کے بارے میںیہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تین بار ممبر رہنے کے باوجود وہ ایک ایک ضلع میںگھوم جائیں،حالانکہ وہ خود دلت ہیں،لیکن اگر ان کو دلت ہی پہچان لیںتو یہ ایک حیرت انگیز بات ہوگی۔ کانگریس کے لوگوںکا کہنا ہے کہ احمد بھائی کا الیکشن ایسے ہی لوگوںکا الیکشن ہے۔ دراصل ان کے لیے وہی شخص لیڈر ہے یا اس میںآگے بڑھنے کی صلاحیت ہے جو ذاتی طور پر ان کا وفادار ہے۔
احمد پٹیل پر ایک بڑا الزام ہے کہ انھوں نے گجرات میں کانگریس کو بڑھنے نہیںدیا۔ کانگریس کے لوگوںکا کہنا ہے کہ پچھلے 25 سال میں ان کا ایک بھی قدم ، ایک بھی سجھاؤ، ایسا نہیں رہا جو کانگریس پارٹی کے اثر میںاضافہ کرنے والا ہو۔ جب کہ کانگریس کے لوگوں نے ایسا کہا تو یہ میرے لیے بہت تعجب کی بات ہے کہ جو شخص ملک بھر کی کانگریس کو، کانگریس صدر کے سیاسی سکریٹری کے ناتے چلا رہا ہو، اس کے بارے میںگجرات میںایسی رائے کیوںہے؟ 1989 میں وی پی سنگھ وزیر اعظم تھے۔ تب گجرات میںجنتا دل کی سرکار بنی۔ وی پی سنگھ کے ہٹنے کے بعد کانگریس کے دوربارہ اقتدار میںآنے کا امکان تھا لیکن شری احمد پٹیل کے فیصلے کے نتیجے میں گجرات جنتا دل کے ساتھ کانگریس کا سمجھوتہ ہوا جس کے لیڈر چمن بھائی پٹیل تھے۔ کانگریس کے اوپر پھر یہ الزام لگا کہ کانگریس تو بدعنوان لیڈروں کی حمایت کرتی ہے اور اس میںبدعنوان لوگ ہی ہیں۔ لوگوں میںیہ احساس پھیلا کہ کانگریس صرف پاور کے لیے ہے، لوگوںکے لیے نہیں ہے اور وہ بدعنوان لوگوں کو ہی آگے بڑھاتی ہے۔ ان لوگوں نے شنکر سنگھ واگھیلا کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ شنکر سنگھ واگھیلا کو وزیر اعلیٰ بنایا اور شنکر سنگھ واگھیلا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا۔ اس سوال کے جواب میں کہ یہ گجرات کانگریس نے کیایا احمد پٹیل نے۔ کانگریس کے لوگوںکا کہنا تھا کہ یہ سارے فیصلے احمد پٹیل نے لیے۔ احمد پٹیل کا ہی مطلب گجرات کانگریس تھا اور آج بھی گجرات کانگریس کا مطلب احمد پٹیل ہی ہے۔
ابھی گجرات میں کانگریس کی جیت کے لیے ایک نیا امکان بنا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں کانگریس کی کوئی شراکت نہیں ہے۔ پچھلے کئی سالوں میںبھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میںرہنے کے بعد جو لوگوں کی ناراضگی ہے، اس کی وجہ سے کانگریس کے جیتنے کے امکانات بن گئے ہیں۔ اس جیت کے امکان کو کانگریس حقیقت میںبدل پائے گی، اس تعلق سے گجرات کانگریس کے لیڈروں ، وہاںکے سماجی کارکنوں اور عوام کے بیچ بہت بڑا شبہ ہے۔ اشوک گہلوت گجرات کانگریس کے انچارج ہیں۔ وہ گجرات میںوقت بھی دے رہے ہیں۔ انھوں نے احمدآباد میںگھربھی لے لیا ہے۔ لیکن نیچے کے لوگ، جنھیںگجرات میںکام کرنا ہے۔ اشوک گہلوت کے پاس نہیں پہنچ پاتے۔ اشوک گہلوت بھی ان ہی لیڈروں سے گھرے ہوئے ہیں جن کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ یہ احمد پٹیل سے جڑے ہوئے ہیں۔

 

 

 

 

بی جے پی بدعنوان پارٹیوں میںسرفہرست
مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور روپانی کی بھارتیہ جنتا پارٹی میںکیا فرق ہے؟ ہمیں پتہ چلا کہ اس میں کوئی بہت فرق نہیںہے۔ نریندر مودی جب وزیر اعلیٰ تھے، تب انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے یا سنگھ سے جڑے ہوئے تین ساڑھے تین لاکھ کارکنوںکو جوڑا تھا۔ جن کے پاس کچھ نہیںتھا، انھیںموقع دے کر دھیرے دھیرے کروڑ پتی بنادیا۔ تقریباً ساڑھے تین لاکھ لوگ 15 سے 20 کروڑ روپے کی املاک کے مالک بن گئے۔ آج وہی لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے بنیاد کا کام کرتے ہیں۔ الیکشن میںپیسہ خرچ کرنا ہو، لوگوںکو اکٹھا کرنا ہو، ہوا بنانی ہو، میڈیا کو مدد دینی ہو، یہ سارے کام وہ تین ساڑھے تین لاکھ لوگ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ نریندرمودی 2014 سے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں، گجرات کے موجودہ وزیر اعلیٰ روپانی اسی روایت کو نبھا رہے ہیں۔ لیکن پچھلے پانچ سالوںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی میںنئے لوگوں کا آنا رک گیا ہے۔ کیونکہ سنگھ کا دخل بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار سے گجرات میں کام کرانے کے لیے یا کسی بھی طرح کی اجازت کے لیے سنگھ کی اجازت انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے اب بھارتیہ جنتا پارٹی میںنئے لوگ نہیں آرہے ہیں۔ گجرات میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی اہم بنیاد پاٹیدار سماج تھا۔ یہ تو نہیںکہہ سکتے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے پاٹیدار سماج پوری طرح الگ ہوگیا ہے لیکن اس کا ایک بڑا حصہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے الگ ہوگیا ہے۔گجرات میںایک اور عجیب چیز اور پتہ چلی۔ مجھے لگتا تھا کہ بہت کم لوگ اور خاص کر سیاسی لوگ ہی بھارتیہ جنتاپارٹی کے اوپر بدعنوانی کے الزام لگائیںگے لیکن احمدآباد،سورت اور بڑودہ میں گھومتے ہوئے اس سوال کو لے کر مجھے مایوسی ہاتھ لگی۔ تقریباً سبھی لوگوںنے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بدعنوان پارٹیوں کی فہرست میںاس وقت سب سے اوپر ہے۔
گجرات کے موجودہ وزیر اعلیٰ روپانی راجکوٹ کے میئر رہے۔ اس کے بعد وہ پارلیمنٹ میںگئے۔ مجھے ایک عجیب چیز پتہ چلی۔ روپانی کا اصول تھا کہ وہ ہر ہفتے راجکوٹ کارپوریشن اوروہاں کی ضلع پنچایت سے پیسے لیتے تھے اور وہ پیسے پارٹی کے نام پر لیتے تھے۔ میںجب راجکوٹ میںگھوما تو مجھے کافی لوگوں نے یہ بتایا کہ روپانی کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ انھیںپیسے دو اور کوئی بھی کام کرالو۔ جب میںنے نریندر مودی کے بارے میںپوچھا کہ ان کے بارے میں لوگوںکی کیا رائے ہے، تو لوگوںنے کہا کہ وہ باقی لوگوں کی طرح پیسے نہیںوصول کرتے تھے لیکن ان کے پاس پیسے آجاتے تھے۔ کہنے والے تو یہ تک کہتے ملے کہ نریندر مودی جی کی دس سال کی مدت کار میں40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ احمدآباد سے یا گجرات سے باہر گئے۔ اگر کبھی مستقبل میں اس کی جانچ ہوگی تو اس گورکھ دھندے میں کانگریس کے کچھ لوگ بھی پھنسے ملیںگے اور شاید انھیںبھی شرمندگی جھیلنی پڑے۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ شنکر سنگھ واگھیلا نے عوامی طور پر یہ کہا تھا کہ کانگریس کو ہرانے کے لیے کانگریس کے لیڈروں نے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی سے سپاری لی ہے۔
واگھیلا کی سیاست
گجرات میںشنکر سنگھ واگھیلا کانگریس کے بڑے لیڈر تھے ۔ عام طور پر گجرات میںیہ مانا جارہا ہے کہ شنکر سنگھ واگھیلا اگر کانگریس میںہوتے تو کانگریس ہر حالت میںالیکشن جیتتی لیکن اب وہ کانگریس سے باہر ہیں۔ شنکر سنگھ واگھیلا کو کانگریس میںرہ کر بہت بے عزتی جھیلنی پڑی۔ ان سے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نہیں ملے۔ ان سے کہا گیا کہ سونیا گاندھی سے آپ کی ملاقات طے ہوگئی ہے، جب وہ دہلی پہنچے تو ان سے کہا گیا کہ کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے۔ وہ 20 جولائی کو احمد پٹیل سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے اگر کوئی پیغام ہو یاگجرات میں کانگریس کو کچھ نیا کرنا ہو تو مجھے بتا دیجئے۔ دوسری صورت میںمیں کل احمدآباد جاکر کوئی فیصلہ کروںگا۔ احمد پٹیل نے کہا ، میں بتادوں گا۔ دراصل کانگریس کی اعلیٰ کمان گجرات میںکسی کو بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار ڈکلیئر نہیںکرنا چاہتی۔ شنکر سنگھ واگھیلا کو تو بالکل نہیںکرنا چاہتی تھی۔ شنکر سنگھ واگھیلا کی سیاست یہ ہے کہ وہ بھارتیہ جنتاپارٹی سے الگ ان سارے لوگوں کو اکٹھا کریںجن کے پاس تھوڑی سی بھی عوامی حمایت ہے۔ وہ اس میں کانگریس کو بھی اپنے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں لیکن کانگریس ان کے ساتھ جڑے گی یا نہیں جڑے گی، اس کا فیصلہ صرف اور صرف احمد پٹیل کو کرنا ہے۔ اگر کانگریس نہیں جڑتی ہے تب بھی گجراتمیں جتنی بھی بچی ہوئی سیاسی پارٹیاں ہیں او رجو دو سابق وزرائے اعلیٰ ہیں،وہ شنکر سنگھ واگھیلا کے ساتھ ہیں۔ شنکر سنگھ واگھیلا ساری سماجی تنظیموں اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سے الگ بچی ہوئی سیاسی پارٹیوں کے ممکنہ لیڈر کے طورپر ابھر چکے ہیں۔ شنکر سنگھ واگھیلا نے عوامی طور پر سیاست سے سنیاس لینے کا اعلان کردیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر اجتماعی طور پران سے یہ اپیل کی جائے کہ وہ سیاست میںدوبارہ واپس لوٹیںتو شنکر سنگھ واگھیلا کو سیاست میںدوبارہ واپس لوٹنے میںکوئی جھجک نہیںہوگی۔

 

 

 

ملین ڈالر کا سوال
اور اب یہیںپر احمد پٹیل کا امتحان ہے۔ احمد پٹیل اب تک ایک اچھے سیاسی سکریٹری، ایک اچھے منیجر، ایک اچھے پالیسی ساز اور ایک اچھے چانکیہ کے طور پر ملک میںجانے گئے۔ اس راجیہ سبھا کے الیکشن نے جس میںبھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کو ہرانے کی کوشش کی، اس میںاحمد پٹیل گجرات میں او رملک میںایک لیڈر کے طور پر ابھر آئے ہیں۔ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوںنے اپنی راجیہ سبھا سیٹ کے لیے گجرات میںکانگریس کو نہیںبڑھنے دیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے انھیںجتانے میں کوئی کور کسر نہیںچھوڑی۔ لیکن اس بار احمد پٹیل کو یہ صاف پتہ چل گیا ہوگا کہ سیاست میںکوئی کسی کا سگا نہیںہوتا۔ اگر امت شاہ کا داؤں تھوڑا سا بھی صحیح پڑ جاتا تو احمد پٹیل راجیہ سبھا سے اور سیاست سے بھی باہر ہوتے۔ کانگریس کی سیاست میںاقتدار کا مرکز لگ بھگ بدل چکا ہے۔ احمد پٹیل سونیا گاندھی کے معتمد تھے لیکن احمد پٹیل راہل گاندھی کے معتمد نہیں ہیں۔ احمد پٹیل پر پرینکا گاندھی کو تو بھروسہ ہے لیکن راہل گاندھی کو بھروسہ نہیںہے۔ احمد پٹیل کانگریس کی سیاست میںپچھلے تین سال میںتقریباً غیر فعال دکھائی دیے ہیں۔ لیکن اس الیکشن نے احمد پٹیل کی اہمیت، معنی اور مطابقت تینوںکو بڑھادیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ گجرات میںاحمد پٹیل بھارتیہ جنتا پارٹی سے باہر بچی ہوئی ساری سیاسی اور سماجی تنظیموں کو اپنے ساتھ جوڑ کر بھارتیہ جنتاپارٹی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے ہیں۔ گجرات یاترا میں مجھے یہ صاف لگا کہ اگر احمد پٹیل ایساکرتے ہیں اور اپنے تکبرکو کنارے رکھ کر گجرات کو جیتنے کی مہم چھیڑتے ہیں تو وہ گجرات میںکانگریس کو بہت سالوںکے بعد دوبارہ اقتدار میںلاپائیںگے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو گجرات میں ہی ہرا کر ملک میں ایک نیا سیاسی پیغام دے سکتے ہیں لیکن ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ کیا احمد پٹیل اپنی نیند سے جاگ پائیںگے؟ کیا احمد پٹیل اپنی نئی سیاسی پہچان کا استعمال گجرات کے لوگوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کھڑا کرنے میں کریںگے یا پھر ایک بار دوبارہ اپنی نیند میں چلے جائیں گے۔ گجرات کانگریس کو اس کے حال پر چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بنانے میںمدد کریںگے تاکہ ان کے ذریعہ بنائے ہوئے لیڈروں کا اقتصادی مفاد ویسا ہی برقراررہے جیسے پچھلے سترہ سالوں میںبرقرار رہا ہے۔ یہ سوالات مشکل ہیں، کڑوے ہیں، غصہ دلانے والے ہیں لیکن اس کے باوجود سوال تو ہیں۔ ان سوالوں کا جواب صرف اور صرف ایک شخص کے پاس ہے ، جس کانام احمد پٹیل ہے۔

 

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *