سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تین طلاق کا پہلا کیس میرٹھ میں درج ہوا

Share Article

میرٹھ کے سردھنا علاقے کے قصبہ کا ہے، جہاں چھ سال پہلے عرشی ندا کا نکاح محلہ کے ہی رہنے والے سراج خان کے ساتھ ہو اتھا۔ الزام ہے کہ شادی کے بعد سے سراج خان عرشی کو جہیز کے لئے پریشان کرتا تھا۔ اتنا ہی نہیں، سراج کے اہل خانہ بھی اس سے کار کا مطالبہ کر رہے تھے۔ چھ سال میں عرشی نے تین بچوں کو جنم دیا۔ تیسری بیٹی کی پیدائش کے بعد سراج نے کار کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد عرشی ندا کے گھر والے اپنے داماد کو سمجھانے بھی پہنچے لیکن اس نے پورے محلہ کے سامنے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق بول کر اس سے خود کو الگ کر لیا۔
متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا بھی واسطہ دیا۔ لیکن سراج حکومت اور سپریم کورٹ کے لئے غلط لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے طلاق دینے پر بضد رہا۔ وہیں، عرشی ندا نے تھانہ جا کر پولیس سے انصاف کی گہار لگائی ہے۔ جہیز استحصال کے معاملہ میں متاثرہ خاتون نے تھانہ سردھنا میں تحریر دی ہے۔

 

 

 

تین طلاق کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد طلاق کا نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ میرٹھ کے اس واقعہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بھری پنچایت کے سامنے طلاق دے دیا۔ منگل کو سپریم کورٹ نے ایک ساتھ تین طلاق بولنے پر چھ ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔ متاثرہ 3 بچوں کی ماں ہے اور وہ گزشتہ 6 سالوں سے جہیز کی اذیت کو جھیل رہی ہے۔ اس کے بعد بدھ کے روز اس نے پولیس سے انصاف کی درخواست کی۔
متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔
متاثرہ کے اہل خانہ ان دنوں معاشی تنگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے تین بچوں اور اپنی بیٹی کی دیکھ ریکھ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ عرشی کے اہل خانہ نے پولیس سے اپنی بیٹی کے نکاح کو بچانے کی اپیل کی ہے۔ فی الحال پولیس جانچ میں لگ گئی ہے اور اعلیٰ افسران اس معاملہ میں کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *