اترپردیش میں ’کھاٹ لوٹ ‘ کے بعد’ وکیل لوٹ‘ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سبھی کودے

اترپردیش میں کچھ عرصہ پہلے ’کھاٹ لوٹ‘ کا واقعہ ہوا تھا۔اسی طرح اب ’وکیل لوٹ‘ مچی ہوئی ہے۔ یوگی سرکار نے پچھلے دنوں جس طرح سرکاری وکیلوں کی تقرری کی، وہ اتنا طول پکڑ گیا ہے کہ اس میں لیڈر، نوکر شاہ، جج، آئینی عہدیدار سب کود پڑے ہیں۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ تقرری کی پہلی لسٹ کے کرتا دھرتا فیسلٹی فیس لے کر بیک گرائونڈ میں چلے گئے ہیں اور جو پس منظر میں رہ کر سرگرم تھے ،وہ اسٹیج پر اسکیٹ کھیل رہے ہیں۔اترپردیش کے اٹارنی راگھویندر سنگھ عدالت میں سرکار کا پہلو رکھنے کے بجائے سرکار کی کھاٹ کھڑی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی منشا یہ ہے کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے مسئلے میں اتنا رائتہ پھیل جائے کہ سرکار انہی کے ہاتھ میں تقرری کا اختیار دے دے۔ پھر ان کی بلے بلے ہو جائے۔ تقرری معاملے میں جج بھی خوب دلچسپی لے رہے ہیں،کیونکہ جج کے رشتہ دار بھی خاصی تعداد میں سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں گھس پیٹھ بنائے ہوئے ہیں۔ نہ وکیلوں کو اہلیت اور تجربہ سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ججوں کو۔ سرکار کو بھی اس بات کی قطعی فکر نہیں کہ اہل وکیلوں کے بغیر ریاستی سرکار قانونی مسئلے کیسے نمٹائے گی؟
یوگی سرکار بے پرواہ
یوگی سرکار کو اپنی سرکار کے وقار کی فکر نہیں۔سنیل بنسل اشوک کٹریا جیسے لوگوں کو اپنی تنظیم کے وقار کی فکر نہیں اور اٹارنی کو اپنی بڑی ذمہ داریوں کے وقار بچائے رکھنے کی کوئی پرواہ نہیں۔ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے معاملے میں تنظیم کے بنسل حامی کارندوں نے ریاست کے وزیر قانون برجیش پاٹھک کو غیر متعلقہ بنا دیا۔ ان کی اتنی ہی ترجیحات رہ گئی ہیں کہ جو بھی لوگ لسٹ میں جگہ بنالیں،ان کی حوصلہ افزائی ۔ سرکاری وکیلوں کی تقرری کی جب پہلی لسٹ جاری ہوئی اور اس پر ہنگامہ مچا تو ریاست کے اٹارنی راگھویندر سنگھ نے کہا کہ تقریوں کی انہیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ان سے کوئی صلاح مشورہ نہیں لیا گیا۔ یہ ان کا سرکاری بیان تھا جو عوامی سطح سے ہوتا ہوا عدالت تک پہنچا۔ عدالت تک پہنچتے پہنچتے اٹارنی کے بیان میں اتنی تبدیلی ضرور آئی کہ ان سے بس ٹیلی فون پر منظوری لیا گیا تھا۔ عدالت نے بھی ان سے یہ نہیں پوچھا کہ سرکاری وکیلوں کیتقرری کے عمل سے دور رہنے اور کوئی جانکاری نہیں ہونے کے باوجود ان کے دو درجن سے بھی زیادہ لوگ تقرری کی لسٹ میں شمار کیسے ہو گئے۔ ہائی کورٹ میں صرف اٹارنی ہی بلائے گئے تھے ،لہٰذا وزیر قانون کو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ ان کے درجن بھر لوگ لسٹ میں جگہ کیسے پا گئے؟ وزیر قانون نے بھی کہا تھا کہ تقرری کے بارے میں انہیں کچھ نہیں پتہ ۔ اسی طرح کئی موجودہ اور سبکدوش ہونے والے ججوں کے بھی رشتہ دار سرکاری وکیل بنے جن کی اہلیت پر کوئی اس لئے سوال نہیں اٹھاتا کیونکہ وہ جج کے رشتہ دار ہیں۔
سرکاری وکیلوں کی تقرری کے مسئلے پر فوراً ہی ایک عوامی مفاد کی عرضی داخل ہوتی ہے اور عدالت اس پر سنوائی کا فوری فیصلہ لیتی ہے۔ اس فوری سنوائی میں عرضی داخل کرنے والے وکیل مہندر سنگھ پوار سے یہ نہیں پوچھا جاسکا کہ کیا سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے وہ خود بھی درخواست کنندہ نہیں تھے؟اگر یہ سوال پوچھا جاتا اور اگر جواب ہاں میں آتا تو عوامی مفاد کی عرضی منظور ہونے سے پہلے ہی رد ہو جاتی۔خیر یہ نوبت ہی نہیں آنے دی گئی۔ عرضی گزار نے عدالت کے سامنے یہ شکایت رکھی کہ وکیلوں کی لسٹ چیف سکریٹری لاء نے تیار کی اور اسے وزیر اعلیٰ کے پاس بھیجا۔
وزیر اعلیٰ کی مداخلت سے لسٹ جاری ہوئی، لیکن اٹارنی اور ریاست کے وزیر قانون کا اس میں کوئی رول نہیں رکھا گیا۔ عرضی گزار نے سرکاری وکیلوں کی تقرری لسٹ پر اعتراض کیا اور ان کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکار کے مختلف قانونی معاملوں کی پیروی کیا ایسے ہی وکیل کریں گے؟الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے جج امریشور پرتاب شاہی اور جسٹس شیو کمار سنگھ نے سرکار سے پوچھا کہ وزیر قانون کے پاس تقرری کی فائل کیوں نہیں بھیجی گئی۔اس کی وجہ کیا تھی؟بغیر تشخیص کے سرکاری وکیلوں کو کیسے منتخب کیا گیا؟ہائی کورٹ نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کے عہدے عوامی مفاد سے جڑی ذمہ داری کا عہدہ ہے۔ لہٰذا انہیں ریوڑیوں کی طرح نہیں بانٹنا چاہئے۔ ہائی کورٹ پھر اٹارنی کے مسئلے پر آگیا اور سرکار سے پوچھا کہ اٹارنی کے سامنے پینل رکھنے اور ان کی منظوری لینے میں کیا رکاوٹ تھی؟اٹارنی راگھویندر سنگھ نے عدالت سے کہا کہ تقرری کی سرگرمی میں انہیں شامل نہیں کیا گیا تھا، صرف ٹیلی فون پر ان سے درخواست لی گئی۔ بہر حال عدالت کی اپنی قانونی سرگرمی چل رہی ہے، لیکن سرکار کو یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو لسٹ میں ترمیم کرلے ۔
سرکاری وکیلوں کی جب تقرری ہوئی تھی تب ’’چوتھی دنیا ‘‘ نے ان وکیلوں کے نام شائع کئے تھے، جو سماج وادی پارٹی سرکار کے سرکاری وکیل تھے، یا سماج وادی پارٹی کے سرگرم حامی تھے۔ اس بار ’’چوتھی دنیا ‘‘ ان ناموں کو شائع کر رہاہے جو یو پی کے اٹارنی راگھویندر سنگھ کے ماتحت ہیں یا ان کے ساتھ رہے ہیں۔ اٹارنی راگھویندر سنگھ کے لوگوں کے نام کا ذکر اس لئے ضروری ہے کیونکہ وہ یہ سرکاری طور پر کہہ چکے ہیں کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ تقرری معاملے کے طول پکڑنے کے بعد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے دفتر میں جب اٹارنی طلب کئے گئے تھے، تب بھی انہوں نے لوکل پروموٹر شیو نارائن کے سامنے یہی کہا تھاکہ انہیں تقرریوں کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔

 

 

 

اٹارنی جنرل کے لوگوں کی فہرست
نو منتخب سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں شامل شیلندر کمار سنگھ چیف اسٹینڈنگ کونسل ،رام پرتاپ سنگھ چوہان ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل، امریندر پرتاپ سنگھ ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل، راجیش تیواری اسٹینڈنگ کونسل، شیکھا سنہا اسٹینڈنگ کونسل، اودے ویر سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، آنند کمار سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، رن وجے سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، کلدیپ سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، دیوی پرساد سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، راجیش کمار سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، انوپما سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، اسوتوش سنگھ اسٹینڈنگ کونسل، جے وردھن سنگھ بریف ہولڈر، سنجے کمار سنگھ بریف ہولڈر ، سوما رانی بریف ہولڈر، وریندر سنگھ بریف ہولڈر، دیپک کمار سنگھ بریف ہولڈر ، سنتوش کمار سنگھ بریف ہولڈر، شیشر سنگھ چوہان بریف ہولڈر، دھیرج راج سنگھ بریف ہولڈر ، سبھا جیت سنگھ بریف ہولڈر ، شیام بہادر سنگھ بریف ہولڈر اور انشومان ورما بریف ہولڈر ریاست کے اٹارنی راگھویندر سنگھ کی سفارش پر ہی منتخب لسٹ میں شامل ہوئے ہیں۔ وکیل برادری کے لوگ یہ جانکاری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ اور بھی کئی لوگ ہیں جو اٹارنی کے کوٹے سے سرکاری وکیل بنے ہیں۔
ججوں کا بیورا
اب آئیے جج کے رشتہ دار کا بھی بیورا دیکھتے چلیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اشوک بھوشن کے بھائی ونے بھوشن کو مین اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ (دوبارہ ) بنایا گیا۔ ونے بھوشن سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں اپر مین ہائوس ایڈوکیٹ تھے۔ یوگی سرکار نے انہیں ترقی دے کر مستقل ایڈووکیٹ مقرر کرد یا۔ اسی طرح جسٹس بی کے نارائن کے بیٹے این کے سنہا نارائن اور بہو آنندی کے نارائن دونوں کو سرکاری وکیل مقرر کردیا گیا۔ ان کے علاوہ جسٹس کے ڈی شاہی کے بیٹے ونود کمار شاہی کو اپر چیف ایڈوکیٹ بنایا گیا ہے۔ جسٹس آر ڈی شکلا کے رشتہ دار راہل شکلا اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ، جسٹس اے این تریویدی کے رشتہ دار ابھینو تریویدی اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ، جسٹس رنگناتھ پانڈے کے رشتہ دار دیویش چندر پاٹھک سینئر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ، جسٹس شبیہ الحسن کے رشتہ دارقمر حسن رضوی اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ، جسٹس ایس این شکلا کے رشتہ دار ویویک کمار شکلا اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ، جسٹس ابھینو اپادھیائے کے رشتہ دار انیل کمار چوبے اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ ، جسٹس ریتو راج اوستھی کے رشتہ دار پرتیوش ترپاٹھی اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ اور جسٹس راگھویندر کمار کے بیٹے کمار آیوش بریف ہولڈر مقرر کئے گئے ہیں۔ سرکاری وکیلوں کی تقرری سے سرکار کی ساکھ اتنی گر گئی ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے دونوں بینچوں (الٰہ آباد اور لکھنو ) میں ججوں کے رشتہ داروں کو جج رشتہ دار کہہ کر کھلے عام مخاطب کیا جاتا ہے اور تنقید ہو رہی ہے ۔
پیروی سے افراتفری
رشوت خوری اور پیروی اس قدر ہوئی کہ جس کی جتنی اوقات تھی، اتنی لوٹ کر لے گیا۔ بی جے پی لیگل سیل کے کلدیپ پتی ترپاٹھی سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے تنظیم کی طرف سے لسٹ بنانے کے کام میں لگے تھے اور خود اپر اٹارنی بن بیٹھے۔2001 بینچ کے وکیل کو اتنا اہم عہدہ دیتے ہوئے نہ سرکار کو کوئی جھجک آئی اور نہ تنظیم کو کوئی جھینپ محسوس ہوئی۔ اسی طرح ایڈووکیٹ کونسل کے عہدیدار جے کے سنہا کی جونئر جیوتی سکا کو بھی اپر ایڈوکیٹ بنانے میں سرکار کو کوئی ہچک نہیں ہوئی۔ سرکار کو جھینپ کیوں ہو جب سینئر رمیش کمار سنگھ اپر اٹارنی بنتے ہوں اور جونئر راگھویندر سنگھ اٹارنی عہدہ کے لئے چن لئے جاتے ہوں۔الٰہ آباد اور لکھنو میں پریکٹس کرنے والے تجربہ کار وکیلوں کو درکنار کرکے فیض آباد کورٹ کے وکیل ایم ایم پانڈے اپر اٹارنی بنا دیئے جاتے ہیں ۔اسی طرح رائے بریلی کورٹ کے وکیل ویمل کمار شریواستو کو بھی لکھنو میں سرکاری وکیل مقرر کیا گیا ہے۔تقرری میں اتنی افراتفری مچی کہ سرکاری وکیلوں کی پوری ٹیم کو لیڈ کرنے والے ( ہیڈ آف آفس) سرکاری وکیل کو مقرر کرنا ہی سرکار بھول گئی۔ اٹارنی یا چیف سکریٹری نے پیروی والوں کو بھرنے میں اس کا بھی دھیان نہیں رکھا۔ دلچسپ کہہ لیں یا ستم ظریفی کہ فیض آباد کورٹ کے وکیل ایم ایم پانڈے غیر مجاز طریقے سے لیڈ کررہے ہیں ۔وہ رام جنم بھومی تنازع سے جڑے تھے، بی جے پی کے لئے یہی سب سے خاص بات ہے، جسے دیکھ کر انہیں سیدھے اپر اٹارنی مقرر کر دیاگیا۔ ابھی جتنی تقرری ہوئی ہے ،وہ سب سول فریق کی ہے۔ کچھ بریف ہولڈروں کو چھوڑ کر فوج داری سائڈ کا ایک بھی سرکاری وکیل ابھی مقرر نہیں ہوا ہے۔
آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری کے لئے اہل وکیلوں کی لسٹ بنانے کا ذمہ ریاستی بی جے پی کے تنظیمی وزیر سنیل بنسل نے سنبھالی تھی۔ ان کا ساتھ دے رہے تھے انہی کی ٹیم کے خاص ممبر اشوک کٹریا، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے الگ سے لسٹ بنائی جارہی تھی۔ ایڈووکیٹ کونسل کی طرف سے بھی اہل وکیلوں کی لسٹ بنائی جا رہی تھی۔ دوسری طرف قانونی محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے بھی کھچڑی پکا رہے تھے، کسی کو اس کی بھنک تک نہیں لگی لیکن تقرری کے بعد جو لسٹ باہر آئی، اس نے تنظیم ، سنگھ ، کونسل اور چیف سکریٹری سب کی پول کھول کر رکھ دیا۔ یہ اجاگر ہوا کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری میں پیروی اور رشوت خوری جم کر چلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تنظیم اور سرکار کے وقار کو طاق پر رکھ کر تمام پیروی ذرائع ، جج کے رشتہ دار ، وزیر اور اٹارنی کے گروپ کے لوگوں اور سماج وادی سرکار کے وقت زیادہ تر سرکاری وکیلوں کو پھر سے مقرر کر دیا گیا۔ اہلیت کا معیار بہت پیچھے چھوٹ گیا۔ سنیل بنسل اور اشوک کٹریا کی سفارش پر 50 سے زیادہ ایسے وکیلوں کی تقرری کی گئی جو اعلان شدہ سماج وادی پارٹی کے ہیں۔ سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں ججوں کے بیٹے اور رشتہ داروں کو شامل کرکے قانون محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے خود جج بن گئے اور بڑی عقلمندی سے بیک گرائونڈ میں چلے گئے۔

 

 

 

پیروی نے لٹائی ڈوبیا
آپ کو بتا دیں کہ ایڈووکیٹ کونسل نے 34وکیلوں کے نام بھیجے تھے، لیکن اس میں محض 8 وکیلوں کو تقرری ملی۔راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ نے 109 نام بھیجے لیکن ان میں محض 34نام منتخب ہوئے۔ سنگھ اور پریشد پر اٹارنی ہی حاوی رہے، جنہوں نے اپنے درجنوں لوگوں کو سرکاری وکیل کے مختلف عہدوں پر براجمان کرا دیا ، جو بچا ا سے ریاست کے وزیر کو مطمئن کرنا پڑا۔
سماج وادی پارٹی سرکار میں وزیر رہے شیوا کانت اوجھا کے بیٹے ستیانشو اوجھا سمیت تمام سماج وادی پارٹی کے سرکاری وکیلوں کو پھر سے مقرر کردیا گیا ہے ۔یوگی سرکار نے 200 سے زیادہ سرکاری وکیل مقرر کئے، جن میں 79 نام ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں کوئی مناسب جانکاری ہی نہیں ہے کہ وہ نام کس کے کہنے پر جوڑے گئے۔ ریاستی سرکار نے جن 201 سرکاری وکیلوں کی تقرری کی، ان میں تقریباً 50وکیلوں کے سماج وادی پارٹی کے ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ کے عہدہ پر مقرر 21 سرکاری وکیلوں میں سماج وادی پارٹی سرکار کے وقت سے تعینات اپر چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ راہل شکلا، ابھینو این ترپاٹھی، دیویش پاٹھک، پنکج ناتھ، قمر حسن رضوی، ستیانشو اوجھا اور ویویک شکلا کو یوگی سرکار نے بھی جاری رکھا۔ اسٹینڈنگ کونسل کے 49 عہدوں پر بھی سماج وادی پارٹی سرکار کے وقت سے تعینات 15 سرکاری وکیلوں کی خدمت کو پھر سے جاری رکھا گیا ہے۔ ان میں ہمانشو شیکھر، شوبھت موہن شکلا، نیرج چورسیا ، منو دیکشت اور کے کے شکلا کے نام اہم ہیں۔ بریف ہولڈر کے عہدہ پر مقرر ہوئے 107 سرکاری وکیلوں میں سے 21 سماج وادی پارٹی کے وکیلوں کو جاری رکھا گیا ہے۔ سرکاری وکیلوں کی تقرری میں ججوں کے رشتہ داروں کا بھی بی جے پی سرکار نے خاص دھیان رکھاہے۔
وکیل کمیونٹی میں ناراضگی
اس تقرری میں سماج وادی پارٹی حکومت کے تمام وکیلوں کو جگہ ملنے اور بی جے پی حامی وکیلوںکو خارج کئے جانے کے سبب وکیل کمیونٹی میں کافی ناراضگی ہے۔ ان تقرریوں پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بھی ناراض ہے لیکن اس ناراضگی کا کوئی اثر نہ تو بنسل پر پڑا ہے اور نہ یوگی سرکار پر۔سنگھ نے ریاست کے اٹارنی راگھویندر سنگھ کو طلب کر کے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔اس مسئلے پر سنگھ نے نہ تو وزیر اعلیٰ سے بات کی اور نہ ریاستی بی جے پی کی تنظیمی وزیر سنیل بنسل سے کوئی پوچھ تاچھ کی۔ ناراض وکیلوں نے بھی بی جے پی ریاستی و علاقائی دفتروں اور سنگھ کے بھارتی بھون دفتر پر اپنا اعتراض درج کرایا۔ سنگھ کی طر ف سے طلب کئے گئے اٹارنی نے بھارتی بھون جاکر اس تقرری میں ان کا کوئی ہاتھ نہ ہونے کی قسمیں کھائیں اور انہوں نے سنگھ عہدیداروں کے سامنے یہ قبول کیا کہ لسٹ بنانے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور نہ لاء ڈپارٹمنٹ نے لسٹ جاری کرنے سے پہلے ان سے کوئی رائے ہی لی۔ بڑے پیمانے پر سماج وادی پارٹی نظریہ کے وکیلوں کو سرکار کے ذریعہ مقرر کئے جانے کی وجوہات کا اٹارنی کوئی واضح جواب نہیں دے سکے۔
بی جے پی سرکار میں سرکاری وکیلوں کی تقرری منصوبہ بند گھوٹالے سے کم نہیں ہے۔ سرکار نے ایسے لوگوں کو بھی سرکاری وکیل مقرر کر دیا جو سرکاری طور پر وکیل نہیں ہیں۔ صاف ہے کہ رشوت خوری اور گروپ بازی میں تمام اخلاقی معیاروں کو طاق پر رکھ دیاگیا۔ جن وکیلوں کو سرکاری وکیل بنایا گیا، ان میں سے کئی نام نہاد وکیلوں کے نام ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں ایڈووکیٹ آف رول (اے او آر ) میں درج ہی نہیں ہے۔ خبر ہے کہ بغیر اے او آر والے نو منتخب سرکاری وکیلوں کی تعداد بھی 50 سے زیادہ ہے۔ ان میں گریش تیواری، پروین کمار شکلا ، ششی بھوشن مشر، دیواکر سنگھ، وریندر تیواری، دلیپ پاٹھک جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ستم یہ ہے کہ بغیر اے او آر والے وکیلوں کی تعداد 50سے زیادہ ہے لیکن صرف درجن بھر وکیلوں کو ہی جوائن کرنے سے روکا گیا۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرنے کی پہلی شرط ہی ہوتی ہے کہ اس کا نام اے او آر لسٹ میں درج ہے یا نہیں؟ سرکاری وکیلوں کی تقرری اتنی افراتفری میں کی گئی کہ ایک ایک وکیل کے نام کئی کئی جگہوں پر درج کر دیئے گئے۔ پانچ سرکاری وکیلوں کے نام کئی جگہ پائے گئے ہیں۔ ان میں انیل کمار چوبے، پرتیوش ترپاٹھی، سومیش سنگھ، راجا رام پانڈے اور شیام بہادر سنگھ کے نام دو یا دو سے زیادہ جگہ پر درج پائے گئے۔ لسٹ کے صفحہ نمبر تین پر بریف ہولڈر (سول ) کے درجے میں پانچ سرکاری وکیلوں کے نام ہی غائب پائے گئے ہیں۔
آپ کے علم میں ہے کہ ریاستی سرکار کے ذریعہ سماج وادی پارٹی کے وکیلوں کو بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر مقرر کئے جانے اور بی جے پی اور سنگھ سے جڑے وکیلوں کی پوری طرح اندیکھی کئے جانے کے خلاف نو منتخب سرکاری وکیل اور رام جنم بھومی مقدمے سے جڑے وکیل رنجنا اگنی ہوتری نے سرکاری وکیل کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ رنجن اگنی ہوتری نے سرکاری وکیلوں کی تقرری کی سرگرمی پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا تھا۔ بی جے پی کی ریاستی میڈیا انچارج رہ چکی انیتا اگروال نے بھی سرکاری وکیل کے عہدہ پر اپنی جوائننگ دینے سے انکار کیا۔ ایڈووکیٹ کونسل کی ڈاکٹر دیپتی ترپاٹھی نے بھی کونسل کے وکیلوں اور خاتون وکیلوں کی اندیکھی کئے جانے کی وجہ سے سرکاری وکیل کا عہدہ نامنظور کر دیا ہے۔ رنجن اگنی ہوتری نے کہا کہ سماج وادی پارٹی دفتر کے زیادہ تر سرکاری وکیلوں کو پھر سے مقرر کیا جانا، بی جے پی کے مصروف عمل وکیلوں کے ساتھ سیدھی سیدھی نا انصافی ہے ۔ہائی کورٹ میں پریکٹس نہ کرنے والوں کو بھی سرکاری وکیل بنا دیاجانا غیر اخلاقی رویے کی انتہا ہے ۔ انیتا اگروال نے کہا کہ وہ بی جے پی سے پچھلے 30 سال سے جڑی ہیں۔ ان کی اندیکھی کرکے ان سے کافی جونیئر وکیلوں کو اپر اٹارنی بنا دیا گیا ہے ۔ایسے میں یہ اسٹینڈنگ کونسل کے عہدہ پر کام نہیں کرسکتیں۔

 

 

مل رہی ہیں دھمکیاں
ججوں کے بیٹوں اور رشتہ داروں کو سرکاری وکیل مقرر کر کے خود جج بن جانے والے قانون محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے کے خلاف مہم چھیڑنے والے وکیل ستیندر ناتھ شری واستو کو مہم بند کرنے یا جان سے ہاتھ دھونے کی دھمکیاں ملنی شروع ہو گئی ہیں۔ ستیندر ناتھ شریواستو نے ہی سرکاری وکیلوں کی تقرری عمل میں قانون محکمہ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے کی کرتوتوں کا پورا چٹھا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کی کاپی الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو بھی بھیجی گئی تھی۔ پی ایم او نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کرانے کو کہا ہے۔ اپنے میمو میں ستیندر ناتھ شریواستو نے صاف صاف لکھا ہے کہ لاء ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے عہدہ کا غلط استعمال کر کے اور قانونی اداروں کو ناجائز فائدہ دے کر ہائی کورٹ کے جج بنے ہیں۔پانڈے نے الٰہ آباد ہائی کورٹ اور لکھنو بینچ میں سرکاری وکیلوں کی تقرری کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا۔ تقرری عمل میں سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر معیاروں کی پوری طرح اندیکھی کی۔ چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے نے جانتے ہوئے بھی 49 ایسے وکیلوں کو سرکاری وکیل کی تقرری لسٹ میں رکھا جن کا نام ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے او آر ) میں درج نہیں ہے اور وہ ہائی کورٹ میں وکالت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ رنگناتھ پانڈے نے خود جج بننے کی ساری حدیں چھلانگیں۔
ہائی کورٹ میں سرکاری پہلو کی پیروی کے لئے تقرری کئے گئے سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں رنگناتھ پانڈے نے ناجائز فائدہ لینے کے ارادے سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے رشتہ داروں کوشامل کیا اور اس کے عوض جج کا عہدہ پا لیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اوبلائج کرکے اس کا فائدہ لینے کے لئے رنگناتھ پانڈے نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے جڑے وکیلوں اور عہدیداروں کو سرکاری وکیل بنوا دیا۔ سرکاری وکیلوں کی لسٹ میں ایسے بھی کئی وکیل ہیں جو پریکٹسنگ وکیل نہیں ہیں۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اس معاملے میں سیدھی مداخلت کرکے سرکاری وکیلوں کی مضحکہ خیز تقرری کے عمل کو روکنے کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ عدالتی نظام کی شفافیت برقرار رہ سکے۔ مل رہی دھمکیوں کے بارے میں ستیندر ناتھ شریواستو نے کہا کہ لاء ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے کے ذریعہ جج کے رشتہ داروں کو سرکاری وکیل مقرر کرنے پر انہیں ایوارڈ میں جج بنا دیئے جانے کے مسئلے میں انہوں نے آر ٹی آئی کے تحت بھی سوال پوچھے ہیں۔ اس کے بعد ہی انہیں دھمکیاں ملنی شروع ہوئیں۔ شریواستو نے کہا کہ ان ججوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن ججوں نے رنگناتھ پانڈے کو جج بنانے کی سفارش کی ہے ان کے رشتہ داروں کو پانڈے نے ضرور سرکاری وکیل مقرر کیا ہوگا۔
سرکاری وکیلوں کا تقرری عمل کس سطح تک غیر اخلاقی راستے پر چلا کہ کام کرنے والے اور ریٹائرڈ ججوں کے بیٹوں اور سگے رشتہ داروں کو سرکاری وکیل کی لسٹ میں شامل کر کے لاء ڈپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے جج بن گئے، یہ رشوت خوری کی نایاب مثال ہے۔ آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ کچھ ہی عرصہ پہلے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (اب سپریم کورٹ میں مقرر ) ڈی وائی چندر چوڑ نے ججوں کے بیٹوں، سالوں اور دیگر رشتہ داروں کو جج بنانے کی سفارش کی تھی۔’’چوتھی دنیا‘‘ میںرشتہ داروں کی پوری لسٹ شائع ہونے کے بعد وزیر اعظم دفتر نے اس کا نوٹس لیا اور ججوں کی تقرری روک دی گئی۔
سرکاری وکیلوں کی تقرری میں پھر وہی دھندہ اپنایا گیا، لیکن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس پر دھیان تک نہیں دیا۔ چیف سکریٹری رنگناتھ پانڈے اس احسان کیبدلے جج بنادیئے گئے۔ جج بنانے والی سفارشی لسٹ میں مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے بیٹے نیرج ترپاٹھی کا نام بھی شامل تھا جو پی ایم او کی مداخلت سے روک دیا گیا تھا۔ اب یوگی سرکار نے انہی نیرج ترپاٹھی کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کا اپر اٹارنی بنا کر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو اوبلائج کر دیا ہے۔ سرکاری اوبلائج حاصل کرنے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دلیپ بابا صاحب بھوسلے بھی شامل ہیں جن کے بیٹے کرن دلیپ بھوسلے کو اکھلیش سرکار نے مقرر کیا تھا اور یوگی سرکار نے بھی اسے جاری رکھنے کی اجازت دی۔ کرن بھوسلے مہاراشٹر اور گو ہائی کورٹ کے رجسٹرڈ وکیل ہیں اور وہاں کی بار کونسل کے نائب صدر بھی رہے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے جج اشوک بھوشن کے بھائی ونے بھوشن کو بھی چیف اسٹینڈنگ کونسل منتخب کیا گیا ہے۔ ایسی مثال کئی ہیں۔

 

 

اٹارنی پر یوگی سرکار کا احسان
جس طرح سرکاری وکیلوں کی تقرری چرچا اور تنازع میں ہے، اسی طرح ریاست کا اٹارنی چننے میں بھی تمام قسم کی سیاسی نوٹنکیاں ہوئی تھیں ،ریاستی سرکار کی شبیہ اٹارنی کے انتخاب میں ہی اجاگر ہو گئی تھی۔ کبھی ششی پرکاش سنگھ یوپی کے اٹارنی بنائے جارہے تھے تو کبھی مہیش چترویدی ۔اندر اندر راگھویندر سنگھ بھی لگے تھے اور انہوں نے سنیل بنسل کو پکڑ رکھا تھا۔ ایک وقت تو یہ بھی آیا جب ریاستی سرکار نے باضابطہ طور پر کہہ دیا کہ ہائی کورٹ کی لکھنو پینچ کے سینئر ایڈووکیٹ ششی پرکاش سنگھ ہی ریاست کے اٹارنی ہوںگے۔27مارچ 2017 کو یہ فیصلہ ہوا اور کہا گیا کہ 28مارچ کو اس کا باقاعدہ اعلان ہوگا۔ تمام اخباروں میں ششی پرکاش سنگھ کے اٹارنی بننے کی خبریں اور ان کی تصویریں بھی چھپ گئیں لیکن سرکار نے سرکاری اعلان نہیں کیا۔ ششی پرکاش سنگھ کو سَنگھ کی حمایت حاصل تھی۔وہ سنگھ کے سبسیڈری آرگنائزیشن ایڈوکاسی کونسل کے نیشنل نائب صدر اور کونسل کی یوپی یونٹ کے صدر رہے ہیں لیکن اٹارنی کی تقرری میں بھی سنگھ کی نہیں چلی۔ اسمبلی انتخابات لڑنے کی خواہش رکھنے والے سابق ممبر پارلیمنٹ راگھویندر سنگھ کو پارٹی نے اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ سنیل بنسل نے اس کے عوض میں انہیں ریاست کا اٹارنی بنانے میں کردار ادا کیا۔اسی لئے ایڈووکیٹ کی دنیا میں چرچا ہے کہ سرکاری وکیلوں کی تقرری سنیل بنسل اور راگھویندر سنگھ کی آپسی سمجھداری سے ہوئی ہے۔ اٹارنی عہدہ کے لئے قطار میں کھڑے مہیش چترویدی اور رمیش کمار سنگھ جیسے سینئر وں کو اپر ایڈووکیٹ کا عہدہ لے کر مطمئن ہونا پڑا۔ مہیش چترویدی بہو جن سماج پارٹی سرکار میں بھی چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ تھے۔ رمیش سنگھ راجناتھ سنگھ کے دور حکومت میں بھی ریاست کے اپر اٹارنی تھے۔
یوگی سے نہیں ملے سنگھ کے لیڈر
اٹارنی کی تقرری سے لے کر سرکاری وکیلوں کی تقرری تک کے عمل میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی سفارشوں کو نظر انداز کئے جانے کو لے کر سنگھ میں بے حد ناراضگی ہے۔ اٹارنی راگھویندر سنگھ کو سَنگھ کے لکھنو دفتر میں بلا کر پھٹکار لگائی جا چکی ہے۔ پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سنگھ کے راجیندر نگر میں دفتر ’’بھارتی بھون ‘‘ گئے تو سنگھ کے لوکل پروموٹر شیونارائن نے یوگی سے ملاقات نہیں کی۔ یوگی سنگھ کے دیگر عہدیداروں سے مل کر واپس آگئے۔ سنگھ آرگنائزیشن اور سرکار کے گلیارے میں اس بات کی خوب چرچا رہی۔اس کے پہلے بھی سنگھ، ہندو یوا واہینی کے متوازی طور سے پائوں پسارنے کی سرگرمیوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کر چکا ہے۔ ہندو یوا واہینی گورکھوپر اور مشرقی اترپردیش کے دائرے سے باہر نکل کر پورے اترپردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں پھیلنے کی قواعد پر سنگھ ناراض ہے۔ سنگھ وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے یوگی آدتیہ ناتھ کے قدم پر بھی سوال اٹھا چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *