ایک گائوں جہاں رکشا بندھن مناتے ہی انہوتی ہوجاتی ہے

آج راکھی کا دن ہے اور ہر طرف راکھی کی رونقیں ہیں ۔بھائی بہنوںکے ذہنوں میں تہوار کی امنگ ہے ۔ان سب کے درمیان غازی آباد کے مراد نگر علاقہ کا سرانا گائوں ان باتوں سے بالکل اچھوتا ہے۔ کیونکہ یہاں رکشا بندھن کے دن نہ بھائیوں کو اپنی بہنوں کا انتظار رہتاہے اور نہ ہی ان کی کلائی پر راکھی سجتی ہے۔ غازی آباد سے تقریبا 30 کلو میٹر اور دہلی – میرٹھ روڈ سے 14 کلو میٹر اندر مراد نگر علاقہ کی سرانا گائوں کے لوگوں نے کئی سو سالوں سے رکشا بندھن کا تہوار نہیں منایا ۔ قریب 20ہزار کی آبادی والے اس گائوں کے بڑے بزرگ اس تہوار کو نہ منانے کے پیچھے کہانی اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں ۔

 

 

بتایا جاتا ہے کہ 12ویں صدی محمدمحمد غوری نے کئی بار اس گائوں پر حملہ کیا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا۔ بار بار ناکام ہونے پر غوری نے گائوں کے ہی ایک آدمی کو لالچ دے کر اس ناکامی کا راز معلوم کیا ۔اس آدمی نے محمد غوری کو بتایا کہ گائوں میں ایک دیو رہتا ہے اور جب تک یہ دیو گائوں میں ہیں ،آپ گائوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ مگر جس دیو گائوں میں نہیں ہوں گے، اس دن گائوں پر فتح پائی جاسکتی ہے۔ اس آدمی نے غوری کو بتایا کہ دیو پورے چاند کے دن گنگاغسل کرنے کے لئے گائوں چھوڑ کر جاتے ہیں ۔اگر اس دن حملہ کیا جائے تو فتح پائی جاسکتی ہے۔
غوری نے ایسا ہی کیا اور جب دیو گائوں میں نہیں تھا تو اس نے گائوں پر حملہ کرکے گائوں کو فتح کرلیا۔ فتح پانے کے بعد پوری بستی کو تباہ و برباد کردیا۔ اس دن رکشا بندھن کا تہوار بھی تھا۔ اس دوران گائوں کی صرف ایک عورت اور اس کے دو بچے ہی بچ پائے کیونکہ وہ بچوں کے ساتھ اپنے میکے گئی ہوئی تھی۔ بعد میں وہ عورت گائوں لوٹ کر آئی اور پنے دونوں بچوںکے ساتھ یہیں رہنے لگی۔
لوگوںکا خیال ہے کہ اگر کوئی اس تہوار کو مناتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی انہونی ہوجاتی ہے۔لوگوںکا کہناہے کہ گائوں میں جس نے بھی کبھی یہ تہوار منایا تو اس کے خاندان میں کوئی حادثہ ہوگیا یا پھر کسی سنگین بیماری نے خاندان کو جکڑ لیا۔ ایسے میں ان عقائد یا پھر خوف کی وجہ سے یہاں رکشا بندھ کا تہوار نہیں منایا جاتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *