مدارس کے فارغین میں ایک نیا رجحان طبی بیداری اور خواتین کا امپاورمنٹ بھی موضوع بحث

ملک میں مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان مدارس میں پڑھنے والے مسلم بچوں کی تعداد سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق چار فیصد بچے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمانوں کے بچوں کی معتد بہ تعداد ان مدارس میں تعلیم حاصل کرتی ہے ۔ملک میں اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود ایک کمی شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ یہ مدارس اور ان مدارس سے جڑے ہوئے علماء کرام سماجی ،معاشی امور میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ان کی دلچسپی مذہبی امور تک ہی محدود رہتی ہے ۔لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں اس میں بدلائو نظر آرہا ہے ۔اب علماء کرام اور مدارس سے جڑے ہوئے افراد مذہبی امور کے ساتھ ساتھ دیگر امور جیسے حفظان صحت ، خواتین کے امپاورمنٹ پر بھی باتیں کرتے ہیں اور عوام کو بیدار کرنے کی مہم چلاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں راجدھانی دہلی میں دارالعلوم ابنائے قدیم کی سرپرستی میںمنفعق ایک کانفرنس میں اس کی مثال دیکھنے کو ملی جس کا عنوان تھا ’’متعدی و غیر متعدی بیماریاں، اسباب و تدارک ‘‘۔
عنوان ہی بتارہا ہے کہ اب یہ مدارس کا دائرہ بڑھا ہے اور وہ دینیات کے علاوہ معاشرے میں پائی جانے والی دیگر خامیوں پر بھی دھیان دے رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور ان اعتراضات کا ازالہ بھی، جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ قوم کے چار فیصد بچے دنیاوی امور سے بے خبر صرف مذہبی امور کے تعلق سے ہی اپنی توانائی خرچ کرتے ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے علما کرام نے حفظان صحت پر بیداری کے تعلق سے نہ صرف پُرمغز باتیں کیں بلکہ بیرون ملک کے ان ماہرین کو بھی اپنے اسٹیج پر بلایا جو حفظان صحت کے تعلق سے بہترین مشورہ دے سکتے ہیں ۔

 

 

اس کانفرنس میں کویت یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر ابو سالم مصطفیٰ نے متعدی و غیر متعدی امراض سے تحفظ و علاج کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہارٹ اٹیک ،کینسر ، ایڈز اور ٹی بی جیسی مہلک بیماریوں سے شرح اموات میںروز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے۔ موجودہ صورت حال میں کھان پان کی بے راہ روی ،نشہ ،تمباکو ،بیڑی سگریٹ نوشی جیسی عادتوں نے زخم پر نمک پاشی کا کام کیا ہے۔ اس لئے ہر محاذ پر ہنگامی بیداری اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔کانفرنس میں جا معہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد بھی موجود تھے ۔انہوں نے حفظان صحت کے تعلق سے کہا کہ کہ ہمارا طرز زندگی ، آب و ہوا اور غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ نیکوٹن نے ان بیماریوں کی افزائش میں اہم رول ادا کیا ہے۔اس سلسلے میں مدارس کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی سطح پر بیداری مہم چلانے میں تیزی لائیں۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے بھی اس مہم کی ستائش کی اور کہا کہ مدارس کی باتیں قوم میں توجہ سے سنی جاتی ہیں اور اس پر عمل کیا جاتا ہے لہٰذا اس پلیٹ فارم سے اس طرح کی مہم یقینا موثر ثابت ہوگی ۔
دارلعلوم چونکہ ملک میں ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس طرح کے اقدام سے حوصلہ پاکر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ دیگر مدارس بھی مذہبی اجلاس کے علاوہ سماجی اور طبی بیداری کے علاوہ خواتین کے امپاورمنٹ پر عوام کی توجہ مرکوز کرانے پر غور کریں گے۔ حالانکہ انفرادی طور پر علماء کرام خواتین کی امپاورمنٹ پر باتیں کرتے رہے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ دارالعلوم ، ندوۃ العلما اور اشرفیہ مبارکپور جیسے بڑے ادارے بھی اس طرف قدم بڑھائیں۔
ابھی حال ہی میں مجلس مشاورت اور ممئی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے اشتراک سے ایک پروگرام میں ندوۃ العلماء کے فارغ التحصیل ڈاکٹر اکرم ندوی نے جو کہ مشہور عالم دین ہیں نے خواتین کے امپاورمنٹ کی افادیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پندرہ سال کی انتھک محنتوں سے دس ہزار سے زائد خواتین کی عظیم خدمات اور ان کی تحریروں کے ترااجم کو یکجا کئے ہیں۔ان تحریروں کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورتوں نے تاریخ میں عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں مگر ان کو جو مقام ملنا چاہئے اس سے وہ محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ حرم پاک ،مسجد نبوی، دمشق ، مصرو شام کی کوئی ایسی مسجد نہیں ہے جہاں ان خاتون محدثات نے حدیث پاک کا درس نہ دیاہو بلکہ دمشق کے بازاوں اور باغات میں بھی وہ درس دیا کرتی تھیں۔انہوں نے امام بخاری کے حوالہ سے یہ بھی کہا کہ سنتوں کاعلم عورتوں کو مردوں کے مقابل زیادہ ہوگا کیونکہ ح حضور سنتیں گھرمیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے خواتین کے امپاورمنٹ کے تعلق سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں موقع ملے تو کئی معاملوں میں مردوںکو پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔اس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ میں 35 ایسی خواتین محدثات گزری ہیں جنہیں بخاری شریف ازبر تھی جبکہ مردوں میں سے ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی۔
بہر کیف مدارس کے اسٹیج سے طبی بیداری کی مہم ہو یا علماء کرام کا اپنے خطاب میں خواتین کے امپاورمنٹ کی باتیں ،یہ سب ایک اچھے بدلائو کی طرف اشارہ ہے ۔لیکن ابھی اس کی مثال بہت تھوڑی ہے ۔اس تحریک کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *