یوگی کی مدارس میں بدعنوانی کو روکنے کی کوششیں کتنی مؤثر ہوں گی؟

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دینی مدارس کو مستحکم کرنے کے لیے مدرسہ بورڈ کو متحرک کرنے کا اعلان کیاہے۔ قابل ذکر ہے کہ اترپردیش میں 21 ہزار سے زائد مدارس ہیں اور ان میں بیشتر کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ آدتیہ ناتھ ان مدارس کو مدرسہ بورڈ کے تحت یو پی یا سی بی ایس سی نصاب کے تحت ترقی دینا چاہتے ہیں۔آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے واقف ہیں اور کسی بھی مذہب میں نفرت کی نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے مدرسے ہیں جوسرکاری امداد نہیں لیتے ہیں اور کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جہاں مساجد کے ائمہ، علماء اور مبلغین پیدا ہوتے ہیں ،وہیں معروف ترقی پسند شاعرکیفی اعظمی جیسی ہستی بھی پیدا ہوئی ہیں جو ’’اِپٹا ‘‘میں سرگرم رہے اور کمیونسٹ تحریکوں کے روح رواں رہے۔ نغمہ نگار مجروح سلطانپوری بھی مدرسے کے پڑھے ہوئے تھے۔ملک کے اولین صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی تھی۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ابتدائی تعلیم غیر منقسم پنجاب کے ایک مدرسے میں ہوئی تھی۔یوپی کے لیڈر سوامی پرساد موریہ بھی مدرسے کے تعلیم یافتہ رہے ہیں۔غرضیکہ مدارس نے بے شمار نامور شخصتیوں کو جنم دیا ہے۔
موجودہ وقت میں ملک کے طول و عرض میں مدارس بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔مگر ان میں سے بہت سے ایسے مدارس ہیں جن میں تعلیم کا معیار بہت اچھا نہیں ہے ۔ کچھ مدارس کے بارے میں ایسی رپورٹیں بھی آئی ہیں کہ سرکاری فنڈ حاصل کرنے کے لئے فرضی دستاویز تیار کرکے افسروںکی ملی بھگت سے دینی تعلیم کے نام پر بڑی رقم مل بانٹ کر کھا لیا جاتا ہے۔حالانکہ ریاستی سرکاریں ان مدارس کو ماڈرنائز کرنے اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے بڑا فنڈ جاری کرتی ہیں۔

 

 

ریاستوں میں سرکاروں سے ملحق مدارس
سرکاری طور پر جن مدارس کی اسناد کو قبول کیا جاتا ہے ان کی تعداد الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ ہیں۔ ایک جائزہ کے مطابق ریاست بہار میں3700سے زیادہ مدرسے بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔یہاں مدرسوں میں دینی نصاب کے ساتھ ساتھ اسکولوں کا نصاب بھی پڑھایا جاتاہے اور مدرسوں کی سندوں کو سرکاری طور پر تسلیم بھی کیا جاتاہے۔ان مدارس کو مدرسہ عالیہ کہا جاتا ہے جبکہ دیگر مدارس جو سرکاری امداد نہیں لیتے ہیں، ایسے مدارس بھی بڑی تعداد میں ہیں اور انہیں مدرسہ نظامیہ کہا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں 7000کے قریب مدرسے ہیں جن میں سے لگ بھگ 1500سرکاری منظوری پاچکے ہیں اور انھیں گرانٹ ملتا ہے۔ ان مدرسوں کے امتحانات کی نگرانی سرکار کی طرف سے کی جاتی ہے۔مغربی بنگال میں غیرسرکاری مدرسوں کی کثرت ہے مگر 600مدرسے سرکاری ہیں۔ ممتابنرجی سرکار اس معاملے میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھا رہی ہے۔ اس نے انگلش میڈیم مدرسہ کا تجربہ کیا ہے اور 500کروڑروپئے مدرسہ ایجوکیشن کے لئے بجٹ میں مخصوص کیا ہے۔گجرات میں 150منظور شدہ مدرسے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں بڑی تعداد چھوٹے مدرسوں کی بھی ہے جو سرکاری امداد کے بغیر چلتے ہیں۔کیرل میں 12,000کے لگ بھگ مدرسے ہیں جو مختلف تنظیموں کے تحت چلتے ہیں اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں مدرسوں میں سی بی ایس سی بورڈ کا نصاب بھی چلتا ہے۔آسام میں 707دینی مدرسے ہیں جو الگ الگ سطح پر سرکاری منظوری رکھتے ہیں۔یہاں کے مدرسوں کے نصاب میں تمام عصری علوم شامل ہیں۔علاوہ ازیں سینکڑوں غیرسرکاری مدرسے بھی یہاں چلتے ہیں۔تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لگ بھگ 6000مدرسے ہیں۔ان میں 1200مدرسے دینی مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔ریاست جموں وکشمیر میں تقریباً 700مدرسے ہیں اور ان کے امتحانات کا اہتمام بھی حکومت کی طرف سے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اترپردیش میں کل مدارس کی تعداد21 ہزار سے زائد ہیں۔ان میں حکومت سے تسلیم شدہ مدرسوں کی تعداد 7000سے تجاوز کر چکی ہے اور 466 مدرسے سرکاری گرانٹ کی فہرست میں شامل ہیں۔ یعنی ان مدرسوں کے ٹیچروں کی تنخواہ حکومت دیتی ہے۔
مدارس میں دھاندلی
ان مدارس میں جہاں سرکاری گرانٹ ملتا ہے ،ان میں دھاندلی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔منتظمہ فرضی کاغذات بناکر سرکاری اسکیموںکا فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ زمینی سطح پر اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔ گزشتہ دنوں تقریباً 100 ایسے ہی مدرسوں کی منظوری ختم کرنے کی کارروائی ہوئی جن کے کاغذات فرضی پائے گئے تھے۔ یوپی مدرسہ تعلیم بورڈ کی امتحانات میں کھلے عام نقل کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں۔
ابھی حال ہی میں سدھارتھ نگر جدید کاری منصوبہ کے تحت ضلع کے 307مدراس کی جانچ کی ہدایت دی گئی ہے۔اس جانچ میں خاص طور پر زمین، عمارت کی حقیقی تفصیلات کے ساتھ ہی متعین اساتذہ کی تفصیلات پر باریکی سے چھان بین کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جانچ کے پہلے تمام مدارس کے تقریبا ایک ہزا اساتذہ کی تنخواہ فوری طور سے روک دی گئی ہے۔ انکوائری کی آہٹ سے مداس کے منتظمین میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند کے اقلیتی بہبود کی وزارت کی جانب سے چلائے جارہے جدید کاری منصوبہ کے تحت 307مدارس میں بچوں کو سائنس و کمپیوٹر کی تعلیم دینے کے مقصد سے ہر مدرسہ میں کم از کم تین تین اساتذہ کی تعیناتی ہے۔ ان کو اعزازیہ بھی دیاجاتاہے۔ گزشتہ دنوں لکھنو میں اعلیٰ سطح میٹنگ میں ضلع اقلیتی بہبود حکام کو اپنے اپنے اضلاع میں جدید کاری منصوبہ کے تحت چل رہے مدارس کی جانچ کرنے کے لئے کہا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد زمین اور عمارت کی حقیقی تفصیلات محکمہ جاتی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد حکومت کی سطح سے جانچ رپورٹ کی توثیق کی جائے گی اور اس توثیق کی بنیاد پر مدرسہ کو ملنے والی خصوصیات کے ساتھ ہی اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی وغیرہ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

 

 

 

سرکاری انکوائری سے کھلبلی
ریاست میں مدارس کی خستہ حالی کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ انکوائری کی آہٹ ملتے ہی مدارس کے منتظمین کے ہوش اڑے ہوئے ہیں۔زمین اور عمارت سے متعلق ریکارڈ کے ساتھ ہی سب سے زیادہ پریشانی تعینات کئے گے اساتذہ کی تفصیل پر ہے۔ دراصل بہت سے مدارس نے سرکاری ریکارڈ میں زمین کا جو رقبہ دکھایا ہے یا جتنی عمارت کی تفصیلات دی ہیں، ان میں سے بہت سے شواہد فرضی ہیں جس کا ذکر ’’چوتھی دنیا ‘‘نے اپنے گزشتہ شمار 18(نومبر 2011)میں کیا تھا۔فرضی وارۃ کا یہ سلسلہ کم و بیش ملک کی تمام ریاستوں میں ہیں۔ فرضی مدارس اقلیتی بہود کے اس اقدام سے خوفزدہ ہیں کہ ان کا گرانٹ بند کیا جاسکتا ہے۔
مدارس کے تعلق سے ایک اہم بات یہ کہی جاتی ہے کہ کچھ مدارس عصری تعلیم سے گریز کرتے ہیں اور سائنس ،انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم اپنے بچوں کو نہیں دیتے ہیں۔ حالانکہ بڑے مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنو، جامعہ اشرفیہ مبارکپور،جامعہ سلفیہ بنارس، جامعہ الفلاح اعظم گڑھ، جامعہ الاصلاح سرائے میر، الثقافۃ السنیہ کیرل جیسے نامی گرامی مدارس کے علاوہ دیگر بہت سے مدارس ہیں جو دینی تعلیم کے علاوہ عصری تعلیم دیتے ہیں لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں ایسے مدارس موجود ہیں جو عصری تعلیم سے گریز کرتے ہیں۔ایسے مدارس کے بارے میں حکومت سے لے کر دانشوروں کی سطح تک فکر مندی ہے کہ ان مدارس کے طلبا کو بھی مین اسٹریم سے جوڑنے کے لئے عصری تعلیم کا اہتمام ہونا چاہئے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک تشویش یہ بھی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں سینکڑوں ایسے مدارس ہیں جہاں زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں ہے البتہ سرکاری فنڈ حاصل کرنے کے لئے زمین و جائیداد کی طویل فہرست دکھائی جاتی ہے ۔ایسے مدارس پر نکیل کسنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسی طرح یوپی کی موجودہ حکومت نے قدم بڑھایا ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ اس میں کامیابی کس حد تک ہوتی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *