چین سری لنکا کو دھوکہ دے سکتا ہے

چین کی روایت رہی ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ معاہدہ کے وقت اچھے مقاصد کا اظہار کرتا ہے مگر وہ بہت دنوں تک اپنے ان مقاصد پر کاربند نہیں رہ پاتا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ سرحدی علاقوں پر اس کی چیرا دستی دنیا کے سامنے ہے ۔اب چین پر بھروسہ کرکے ہندوستان کا ایک پڑوسی ملک سری لنکا اس کے ساتھ ہنبن ٹوٹا بندرگاہ کو 99 سال کے لئے لیز پر دے رہا ہے۔چین مستقبل میں اس بندرگاہ کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کی سری لنکا کے اندر بھی مخالفت ہورہی ہے۔
سری لنکا کی حکومت نے ہنبن ٹوٹا کی بندرگاہ کو ایک ارب ڈالر کے عوض ایک چینی کمپنی کو ننانوے سال کی لیز پر دینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ جبکہ ہندوستان اور امریکہ نے سری لنکا کو گہرے پانیوں کی اس بندرگاہ کو چینی کمپنی کے حوالے کرنے پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔سری لنکا کے وزیرِ پورٹ مہندا سماراسنگھے نے ہنبن ٹوٹا کی مصروف بندرگاہ کو چینی کمپنی چائنا مرچنٹ پورٹ ہولڈنگز کو بیچنے کی تصدیق کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین کی سرکاری کمپنی نے 70 فیصد شیئر خرید لیے ہیں۔دارالحکومت کولمبو سے 240 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ساحلی شہر ہمبن ٹوٹا میں بندرگاہ کو چین کے حوالے کرنے پر سری لنکا میں احتجاج ہوتا رہا تھا۔ حکومت نے لوگوں کے احتجاج کو روکنے کے لیے سخت قوانین کا استعمال کیا۔

 

سری لنکا کے وزیر نے معاہدے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا نے اس منصوبے سے متعلق تمام خدشات کو دور کر دیا ہے اور اس پورٹ کو سری لنکا کے قوانین کے تحت ہی چلایا جائے گا۔سری لنکا کے کئی پڑوسی ممالک اور کچھ عالمی طاقتوں نے ایسے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ چین اس بندرگاہ کو بحیرہ ہند میں اپنے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔ سری لنکا کے وزیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک کسی ملک کا فوجی اڈا نہیں بنے گا۔
اس پورٹ کے قریبی علاقے میں ایک صنعتی زون میں بنایا جائے گا جہاں چینی کمپنیوں کو فیکٹریاں تعمیر کرنے کی دعوت دی جائے گی۔چین سری لنکا میں 2009 میں 26 سالہ خانہ جنگی کے اختتام کے بعد تعمیراتی منصوبوں میں کروڑوں ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ماہرین کے مطابق چین کی یہ سرمایہ کاری تیل کی دولت سے مالا مال مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کی جانب’’میری ٹائم سلک روٹ‘‘ کا حصہ ہے۔ہنبن ٹوٹا کی گہرے پانیوں کی بندرہ گاہ میں بڑی بحری جہازوں کو لایا جا سکتا ہے۔ چین کے نائب صدر ہو یوناؤ نے کہا کہ چینی کمپنی ہنبن ٹوٹا کی بندرہ گاہ جنوبی ایشیا اور افریقہ کی معیشیت کے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *