مظفر نگر ریل حادثہ میںچونکانے والے انکشاف

مظفر نگر۔ پوری سے ہری دوارجارہی اتکل ایکسپریس کے کھتولی کے نزدیک ہوئے حادثے کے تعلق سے چونکانے والے حقائق سامنے آرہے ہیں۔ ریلوے بورڈ کے رکن (ٹریفک) محمد جمشید کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میںیہ پایا گیا ہے کہ جس جگہ حادثہ ہوا،وہاں پٹریوںکی مرمت کا کام چل رہا تھا۔ گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آرپی) کا دعویٰ ہے کہ جائے حادثہ پر ریلوے پٹری کی مرمت کا کام چل رہا تھا۔عام طور سے ریلوے کی پٹری کی مرمت کے دوران ریل گاڑیوںکی رفتار دھیمی ہوجاتی ہے لیکن حادثہ کی شکار اتکل ایکسپریس 105 کلومیٹر کی رفتار سے چل رہی تھی۔ اس ٹرین کے گزرنے سے قبل دو ٹرینیںگزر چکی تھیں جو کہ بہت کم رفتار سے گزری تھیں۔ لیکن اتکل پریس کی رفتار بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے دو درجن سے زیادہ لوگ موت کے گھاٹ اترگئے اور 150 سے بھی زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔

 

 

اس سلسلے میں ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل بی کے موریہ کا بھی کہنا ہے کہ پٹری پر مرمت کا کام چل رہاتھا ۔ ٹرین کی رفتار دھیمی ہونی چاہیے تھی لیکن اس کی اسپیڈ میںکوئی کمی نہیںتھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرمت کے کام میںمصروف ریلوے ملازم یا تو کاشن بورڈ لگانا بھول گئے یا ڈرائیور بورڈ کو دیکھ نہیںسکا۔ بہرحال دونوںہی صورت حال بھیانک ہیں۔ ریلوے منسٹر سریش پربھو نے ٹویٹ کیا ہے کہ ریلوے بورڈ کی طرف سے کی جارہی کارروائی میںنرمی برداشت نہیںکی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *