اكیس برسوں سے اردو مترجمین کی تقرری سے محروم اترپردیش

ریاست اترپردیش میں1951 کے اترپردیش سرکاری لینگویج ایکٹ کے مطابق ہندی سرکاری زبان ہے۔ مذکورہ بالا قانون میںترمیم کے ذریعہ یہی حیثیت اردو کو 1989 میں دے دی گئی اور اس طرح یہ بھی اس ریاست کی دوسری سرکاری زبان بن گئی۔ اسی سال 16 اگست کو اردو غیر منقسم اور متحدہ بہار میںدوسری سرکاری زبان قرار دی گئی تھی۔ ریاستی سرکار کے اس فیصلہ کی تصدیق سپریم کورٹ نے 4 ستمبر 2014 کو اپنے فیصلے میںبھی کردی۔ قبل ازیں 1989 کے ریاستی سرکار کے فیصلے کی روشنی میں سرکاری حکم نامہ 20 اگست 1994 کو جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست کے سبھی اضلاع کے تمام محکمات اور دفاتر میںاردو مترجمین کی تقرری کی جائے۔ اس کے مطابق سبھی اضلاع میں اردو مترجمین کی تقرری بشمول 41 محکمات تمام تحصیلوں،بلاکوں اور تھانوں میںبھی ہوئی ۔ یہ تقرری سبھی اضلاع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی صدارت میں تشکیل کمیٹی کے ذریعہ کی جانی تھی۔ اس سلسلے میں محکمہ پرسونل اترپردیش حکومت کے ذریعہ سرکاری حکم نامہ جاری کرکے سبھی منطقائی کمشنروں و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو اردو مترجمین کے عہدے پر تقرری کا سرکاری حکم نا مہ جاری کیا گیا تھامگر سرکاری حکم نامہ پر عملدرآمد تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کے ذریعہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔
اس کا اندازہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت مانگی گئی اطلاعات کے حالیہ جوابات کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ یہ اطلاع یاستی انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان نے دی۔انھوں نے ’چوتھی دنیا اردو‘ کو بتایا کہ اردو مترجم / اساتذہ کی تقرری کو لے کر انفارمیشن کمیشن میںکئی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں شاملی،سنبھل،بجنور،مرادآباد وغیرہ کی درخواستیں ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے معاملے میں سید ظفر علی ساکن رامپور نے بی ایس اے مرادآبادسے ا طلاع طب کی تھی کہ ضلع میں اردو مترجم / کی کتنی تقرریاں کی گئیں مگر محکمہ کے ذریعہ مدعی کو کوئی اطلاع دستیاب نہیں کرائی گئی۔ضابطہ کے تحت درخواست دہندہ نے ریاستی انفارمیشن کمیشن میں درخواست و دیگر متعلقہ معاملے کی اطلاع مانگی تھی۔ ریاستی انفارمشین کمشنر حاظ عثمان نے بتایا کہ مانگی گئی اطلاعات کی روشنی میںتقریباً 41 محکمات میں اردو مترجمین کی تقرری ہوئی تھی، جس کا سرکاری حکم نامہ 20 اگست 1994 کو ہی جاری ہوا تھا۔
حافظ عثمان کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ / بی ایس اے مراد آباد، سنبھل، بجنور، شاملی کے نمائندے موجود تھے۔ ان سبھی کو معاملے کے ضمن میں واقف کرادیا گیا کہ 27 اردو اساتذہ اور مترجمین کی تقرری کی گئی ہے اور تقرر کیے گئے اساتذہ کے اسکولوں کے نام نوٹس بورڈوں پر چسپاں کیے گئے ہیں دیگر معاملوں میںبھی مدعی کے ذریعہ مانگی گئی اطلاع سے انکشاف ہوا ہے کہ مرادآباد77، سنبھل 35، بجنور 87 و دیگر میںکل 226اردو اساتذہ /مترجمین کی تقرری اردو اساتذہ کے عہدے پر کی گئی ہے جس کی اطلاع مدعا الیہ نے کمیشن کو دی ہے۔ ریاستی انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان نے دونوں فریقوں کی بحث کو سنا ہے اور معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حق اطلاعات ایکٹ 2005 کی دفعہ (2)18 کے تحت معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔

 

 

اس طرح ایک ایسی ریاست جہاںاردو کو 1989 میں1951 کے اترپردیش سرکاری لینگویج ایکٹ میںترمیم کرکے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے اور جس کی تصدیق 2014 میںسپریم کورٹ نے بھی کردی ہے نیز جہاں 1994 میںہی اردو مترجمین کی تقرری کا سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، میںاردومترجمین کے عہدوں پر گزشتہ 21 برسوں سے تقرری نہیںہوئی ہے جسے لے کر اردو عوام میںسخت تشویش پائی جارہی ہے۔ اسی کے پیش نظر آر ٹی آئی ایکٹ 2005کے تحت مانگی گئی اطلاعات کے جوابات میں ہوئے انکشاف کے بعد اترپردیش کے انفارمیشن کمشنر حافظ عثمان نے جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جانچ کی رپورٹ کیا آتی ہے اور پھر اس کے مطابق اردو مترجمین کی ازسرنو تقرری کا سلسلہ کس طرح اور کب سے بحال ہوتا ہے نیز اردو داں طبقہ کی بے روزگاری کب دور ہوتی ہے۔ لہٰذا ریاست اترپردیش میںاردو داں طبقہ کی نگاہیں حافظ عثمان کے آئندہ فیصلے اور اس پر عمل درآمد پر مرکوز ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی زبان کی بقا کا تعلق محض اس سے جذباتی لگاؤ سے نہیں ہوتاہے بلکہ اس زبان کو زندہ رکھنے کے لیے ایسے اقدام کی ضرورت پڑتی ہے جس سے وہ زبان اس کے بولنے اور پڑھنے والوں کی دیگر ضروریات بھی پوری کرسکے۔اس ضمن میںوہ زبان اگر ’جاب اورینٹیڈ‘ بنادی جاتا ہے یعنی ملازمت فراہم کرنے والی زبان بن جاتی ہے تو اس میںصرف کشش ہی پیدا نہیں ہو جائے گی بلکہ وہ ان کی معاشی ضرورت پورا کرنے کے لیے انھیں ملازمت بھی دے گی۔
دراصل یہ وہ محرکات اور عوامل ہیں جن کے سبب 1994 میںریاست اترپردیش میںاردو مترجمین اور اردو اساتذہ کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس لیے یہ سلسلہ ہر حال میں نہایت ضروری ہے۔ اگر یہ سلسلہ خدانخواستہ 21 برس کے گیپ کے بعد ٹوٹ گیا تو یہی بہانہ بن جائے گا عام عوام سے اس کے رشتے کے کمزور ہونے کا اور پھر اسی سے یہ عوامی زبان جو کہ فلم اور فلمی گانوں کی جان ہے ، دھیرے دھیرے تاریخ پارینہ کا حصہ بن جائے گی۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ اردو مترجمین کی تقرری کا جو سلسلہ گزشتہ 21 برسوں سے رکا ہوا ہے، اسے فوراً ہی بحال کیا جائے۔
اس سلسلے میں ایک زمانے میں ہندوستان کی مقبول عام زبان سنسکرت کی مثال کافی ہے۔ 18 جولائی کی اطلاع کے مطابق ایک ایسے وقت جب دہلی یونیورسٹی میںکسی بھی سبجکٹ بشمول اردو، فارسی اور عربی میںداخلہ کا ’کٹ آف‘ مارکس آسمان کو چھورہا ہے اور وہاں داخلہ ملنا ایک خواب سا محسوس ہوتا ہے، سنسکرت ایک ایسا کورس ہے جہاں یہ رجحان نہیںپایا جاتا ہے اور یہاں گنگاالٹی بہہ رہی ہے۔ 18 جولائی کو جاری کی گئی پانچویں’کٹ آف‘ فہرست کے مطابق ماتا سندری کالج میںبے اے سنسکرت آنرس میںکم از کم ’کٹ آف‘ مارکس 45 فیصد تھا۔ ’چوتھی دنیا اردو‘ کو ماتا سندری کالج کی پرنسپل محترمہ کورجیت کور نے بتایا کہ طلباء سنسکرت اور پنجابی جیسے کورسز کے مقابلے میں ٹیکنیکل اور ’جاب اورینٹیڈ‘ کورسز لینا پسند کرتے ہیں تاکہ انھیںتعلیم ختم ہوتے ہی ملازمت جلد مل جائے اور وہ برسر روزگار ہوجائیں۔ ان کے مطابق سنسکرت اور پنجابی میںبی اے آنرز میں23-23 سیٹیںدستیاب ہیں۔ دراصل ملازمت سے جڑے نہ رہنے کے سبب ان زبانوںکا چارم بھی ختم ہوجاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سال طلباء کے عدم رجحان کے سبب دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج، ہنس راج کالج، ایل ایس آر کالج اور رامجس کالج میں سنسکرت میںداخلہ دوسری لسٹ کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا۔ ویسے سچ بھی یہی ہے کہ جن طلباء کا داخلہ کم مارکس کی وجہ سے دہلی یونیورسٹی میںکہیںنہیںہوپاتا ہے، وہ نارتھ کیمپس کی کشش کے سبب کم ڈیمانڈ والے سنسکرت جیسے کورسز میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ لہٰذا اردو مترجمین کی تقرری کا سلسلہ باقی رہنا بہت ضروری ہے تاکہ اس کا حشر سنسکرت جیسا نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *