عرب ممالک میں خواتین کا استحصال کب رکے گا؟

خوایتن کو کبھی ڈائن کہہ کرتو کبھی بچہ چوری کے الزام میں اور کبھی غیرت کے نام پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جانا ایک عام سی بات بن گئی ہے۔ یہ سلسلہ صرف ایشیائی ملکوں میں ہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں بھی واقع ہوتے رہتے ہیں۔آئیے، دیکھتے ہیں کہ کس طرح محض شبہہ کی بنیاد پر عورت کو کس طرح ذلیل و خوار کیا جاتا ہے
غیرت کے نام پر بربریت
یہ کچھ دنوں پہلے کی بات ہے ۔ سردی کی ایک رات تھی۔عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں بھورے رنگ کے ایک پک اپ ٹرک میں پانچ افراد ایک عورت اور چار مرد سوار تھے اور وہ کسی انجان منزل کی جانب رواں دواں تھے۔وہ سفر کرتے ہوئے جب ایک چیک پوائنٹ پر پہنچے تو ان میں سے سب سے بوڑھے شخص نے عورت کی ران پر پستول تان لیا اور اس کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔عورت مارے خوف کے خاموشی رہی۔کوئی ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد وہ پہاڑوں کے درمیان ایک ویران جگہ پر تھے۔وہاں انھوں نے اس عورت کو لاٹھیوں سے مارا پیٹا اور پھر کوئی ایک میل تک پیدل چلایا ۔پھر اس کو ایک باغ میں لے گئے۔
اس دوران میں وہ عورت ان سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی تھی۔اس نے اپنے بھائی کو اللہ کے واسطے دیے اور اس سے کہا کہ وہ اس کو جان سے نہ مارے۔اس عورت کو لاوا کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے جو کہ غالباً وہ اس کا اصلی نام نہیں ہے ۔ وہ اس رات اپنے بڑے بھائی سے اللہ کے نام پر معاف کرنے کی فریاد کرتی رہی لیکن اس کی تمام اپیلیں مسترد کردی گئیں۔اس کے دو بھائیوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس کو اس میں زبردستی گرا دیا گیا۔اس کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ دیے گئے اور پھر اس کے چہرے تک مٹی ڈال دی گئی۔یوں اس رات اس کے بھائیوں نے اس کو زندہ درگور کردیا۔

 

 

لاوا غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بہت سی عورتوں کی کہانیاں سن رکھی تھی۔ان عورتوں کو مبینہ ناجائز تعلقات کے الزام میں بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ان کے سرقلم کردیے گئے تھے یا پھر پھانسی دے دی گئی تھی اور اس کو خودکشی کا نام دے دیا گیا تھا۔لاوا نے بھی اس کے بھائیوں کے بہ قول اپنے خاندان کی عزت کو داؤ پر لگایا تھا اور اس کا ’’جرم‘‘ صرف یہ تھا کہ کردستان کے دوسرے بڑے شہر دہوک میں ہوٹل میں وہ ملازمت سے چھٹی کے بعد ایک نوجوان مرد کے ساتھ دیکھی گئی تھی۔اسی جرم کی پاداش میں اس کے دو بھائیوں اور ایک کزن نے اس کو قبر میں زندہ اتار دیا تھا اور اس کا صرف سر باہر رہنے دیا تھا۔
اس کے بھائی نے رات کے اندھیرے میں وہاں سے چلتے ہوئے کہا تھا:’’ تم نے ہماری عزت کو داؤ پر لگایا۔یہ اس دنیا میں تمھاری سزا ہے اور دوسری دنیا میں تمھیں اس سے بھی بدترین سزا کی توقع کرنی چاہیے۔لاوا نے اپنے سینے کے آگے سے مٹی ہٹانے کی کوشش کی تھی تاکہ اس کے پھیپھڑوں پر دباؤ کم ہو اور وہ سانس لے سکے۔اس کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہوگئی تھی لیکن وہ خوش قسمت ثابت ہوئی۔ورنہ ایسے بہت سے واقعات میں تو عورتیں جان کی بازی ہارجاتی ہیں۔
ہوا یہ کہ اس کے بہنوئی نے ،جوایک معزز وکیل ہیں،اس کے بھائیوں کو اس کے قتل کی سازش کی کھسر پھسر کرتے ہوئے سن لیا تھا۔وہ اس کے والد اور اپنے خسر کو لاوا کی قبر کی جگہ بتانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
لاوا کے بہنوئی اپنی بیوی اور تین بھائیوں کے ساتھ اس گڑھے کے پاس آئے اور اسے اس سے باہر نکالا اس طرح وہ زندہ درگور ہونے کے باوجود زندہ بچ گئی۔مگر اسے اب بھی یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگر وہ کردستان سے بھاگ کر کہیں چلی نہ گئی تو اس کو ایک روز قتل کردیا جائے گا۔لاوا کا کہنا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تو میں آزادی سے جینا اور سانس لینا چاہتی ہوں‘‘۔
عراقی حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2015-16میں 30 عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاچکا تھا۔حالانکہ کردستان کی علاقائی حکومت نے 2012 میں عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کیا تھا۔تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراق نے ضابط فوجداری میں موجود قانونی کمزوری دور کرنے اور غیرت کے نام پر قتل ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں

 

 

بچہ چوری کے نام پر بربریت
شمالی مشرقی مصر کے بلبیس شہر میں ایک عورت اپنی بے گناہی کی دوہائی دے کر ہجوم سے رحم کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن بھیڑ پر تو جیسے جنون سوار ہے۔اسے بجلی کے کھمبوں میں باندھ د یا جاتا ہے ۔وہ اپنا بچائو کرتی ہے لیکن لوگ اس پر رحم کرنے کے بجائے نہ صرف تھپر اور گھونسہ رسید کرتے ہیں بلکہ گندی گندی گالیاں دے کر اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بروقت پولیس وہاں نہ پہنچتی تو شاید لوگ اس کی جان ہی لے لیتی اور وہ بے چاری کسی کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کئے ہی ملک عدم کو چل بسی ہوتی۔
ابھی گزشتہ دنوں کی بات ہے کہ مصر کی پولیس نے ایک خاتون کو تشدد کے بعد اسے بجلی کے کھمبے کے ساتھ باندھنے کے الزام میں 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ واقعہ حال ہی میں شمال مشرقی مصر کے بلبیس شہر میں اس وقت پیش آیا جب ایک مشتعل ھجوم نے ایک خاتون پر بچہ چوری کرنے کا الزام عاید کرنے کے بعد اسے پکڑ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ رسیوں کیساتھ باندھ دیا۔ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور پائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقی گورنریٹ کیسیکورٹی ڈاریکٹر میجر جنرل رضا طبلیہ نے اپنے بیان میں یہ بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ لوگوں کے ایک ہجوم نے ایک خاتون کو کھمبے کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور وہ سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے خاتون پر ایک گھر کے سامنے سے بچے کو اغوا کرنے کا الزام عاید کیا تھا جو کہ غلط ثابت ہوا ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ خاتون نے گھر کے سامنے کھیلتے بچے کو اغوا کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات کیں تو خاتون بے قصور نکلی۔ اس نے کسی بچے کو اغوا کی کوشش نہیں کی۔ تاہم شبہ میں مقامی نوجوانوں کے ایک گروپ نے خاتون کو روکا اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ایک کھمبے کے ساتھ باندھ دیا۔مشتعل ہجوم نہ صرف خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا بلکہ اس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں۔ پولیس نے خاتون سے توہین آمیز سلوک کرنے میں ملوث 13 ملزمان کوحراست میں لے کر ان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ جب کچھ لوگ کسی فرد پر زیادتی کرتے ہیں تو بقیہ لوگ تماشہ بیں بن کر یا پھر اس ہجوم کا حصہ بن کر اس ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔بارہا دیکھا گیا ہے کہ جب کچھ لوگ ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد کرتے ہیں تو اس پر روک لگانے اور مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے سب اپنی اپنی راہ لے لیتے ہیں اس کا منفی اثر یہ پڑتا ہے کہ ایسی ذہنیت کے افراد کو تشدد روا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔حالانکہ ہجومی تشدد کی پوری دنیا میں مذمت ہورہی ہے ،اس کے باجود یہ تشدد کسی نہ کسی شکل میں سامنے آرہا ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مجرموں کے خلاف ہندوستان میں دنیا کے کئی ملکوں میں موثر قانون موجود نہیں ہے جس کا فائدہ تشدد کرنے والے اٹھاتے ہیں اور بے گناہ اپنی جان سے جاتے ہیں یا پھر نفیساتی یا جسمانی طور پر شدید اذیت برداشت کرتے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *