کیا داعش کے بعد موصل میں امن قائم ہو سکے گا؟

عراق کا شہر موصل داعش کے پنجے سے آزاد ہوچکا ہے۔موصل کی آزادی کا آپریشن 17 اکتوبر 2016 کو شروع ہوکر جولائی کے دوسرے ہفتہ میں ختم ہوا۔وزیر اعظم حیدرا لعبادی نے داعش کے پسپا ہونے کا سرکاری اعلان کردیا ہے ۔موصل کے لوگوں نے تین سال اور ایک ماہ تک داعش کے پنجے میں گرفتار رہنے کے بعد گزشتہ ہفتہ آزاد فضا میں سانس لیا ہے۔ یقینا یہ خوشی کی بات ہے کیونکہ اس جابر گروپ داعش نے نہ صرف انسانوں کا بے دریغ قتل عام کیا بلکہ عراق کی تاریخی اور موروثی نشانیوں کو بھی بڑے پیمانے پر تباہ و برباد کیا۔اس گروپ نے موصل میں 1800سالہ ایک پرانے چرچ کو آگ لگا دی تو 800سالہ پرانی تاریخی مسجد النوری کو منہدم کردیا اور 2000 سال پرانی نوادرات کو تباہ کردیا۔ان سب کے علاوہ عراقیوں کو جو نفسیاتی چوٹ پہنچی ہے، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب ایسے نقصانات ہیں جن کی بھرپائی کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتی ہے۔لیکن جو سوال سب سے اہم ہے ،وہ یہ ہے کہ داعش کی پسپائی کے بعد کیا موصل میں امن قائم ہوپائے گا؟
سوال ہنوز برقرار
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ موصل داعش سے پورے طور پر پاک ہوگیا ہے ؟اس کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی ،کیونکہ اس سے پہلے بغداد کے پاس فلوجہ کے شہر میں بھی داعش کو شکست ہوئی تھی جہاں سے انھیں باہر نکال دیا گیا تھا۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے متعدد بم دھماکے کئے تھے جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔تو ممکن ہے کہ داعش نے موصل خالی تو کردیا ہو لیکن اپنے پیچھے کچھ ایسے عناصر چھوڑ گئے ہوں جو ناسور کی طرح موصل سے چپکے رہیں گے اور گاہے بگاہے تباہی مچاتے رہیں گے ۔ایسے عناصر پر قابو پائے بغیر موصل کو داعش سے پاک و صاف نہیں کہا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ عراق کے بعض علاقوں پر اس کا قبضہ برقرار ہے اور وہاں سے اس گروپ کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے ابھی عراقی فورسز کو ایک طویل لڑائی لڑنی ہے۔یہ جنگجو اپنے ٹھکانوں سے ہی موصل میں سرگرمی جاری رکھ سکتے ہیں۔ وہ دور افتادہ اور دشوار گزار خطوں کو اڈوں کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں، جن میں عراق کا شمال مشرقی ہمرین کا پہاڑی علاقہ بھی شامل ہے۔نیز گزشتہ چند ماہ کے دوران، داعش کے سینکڑوں لڑاکے موصل سے بچ نکلے ہیں،یہ سب دہشت گردانہ عمل میں سرگرم رہیں گے اور موصل کو اپنا نشانہ بناتے رہیں گے۔
اس کے علاوہ ایک اور بڑی وجہ ہے جو موصل میں امن قائم ہونے میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور وہ ہے عراقیوں کا باہمی تنازع ۔ماضی میں دیکھا جاچکا ہے کہ یہ تنازع اندر ہی اندر سلگتا رہتا ہے اور اچانک پھٹ پڑتا ہے۔دراصل داعش کو تباہ کرنے کی خواہش نے مختلف گروہوں کے باہمی اختلافات کو ختم کرکے متحدہ ہونے پر مجبور کیاتھا اور وہ سب متحد ہوکر داعش کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اس اتحاد میں عراق کے خصوصی فورسز، ایران سے مضبوط تعلق رکھنے والی شیعہ ملیشیا، کرد فورسز اور سنی قبائل شامل تھے ۔مگر جس نکتے پر وہ سب متحد ہوئے تھے، اب وہ باقی نہ رہا ۔لہٰذا ممکن ہے کہ ایک مرتبہ پھر ان سب کے وہ تنازعات طشت از بام ہوجائیں۔ان کے آپس میں اختلاف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014 میں عراقی فوجوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کردو ں نے عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا ۔اب وہ اس خطے کو عراقی حکومت کو واپس کریں گے یا نہیں،اب تک واضح نہیں ہے۔
ایک اور بڑی وجہ ہے جس پر ماہرین تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ داعش کے نکل جانے کے بعد بھی موصل میں پائی جانے والی یہ چنگاری کبھی بھی شعلہ بن سکتی ہے ۔وہ چنگاری ہے شیعہ و سنی کا اختلاف۔ موصل سنی اکثریت والا شہر ہے اور بغداد میں شعیہ رہنماؤں کی قیادت میں حکومتیں سنیوں کی نظر انداز کرنے یا دھمکی دینے کی طویل تاریخ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب البغدادی نے خلافت کا اعلان کیا تھا تو اس وقت یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ داعش وھابیوں کا گروپ ہے جو کہ شیعہ طبقہ کی طرف سے سنیوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لینے کے لئے وجود میں آیا ہے۔اس گروپ نے ابتدا میں شیعائوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا مگر بعد میں سنیوں کا بھی قتل عام کیا اور اس طرح ضرورت کے تحت دونوں مسالک کے لوگ متحد ہو گئے تھے۔اب وہ ضرورت باقی نہ رہی اسی لئے بہت سے لوگوں میں مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور خوف بھی پایا جاتا ہے۔ ان کو اس بات کی فکر لگی ہوئی ہے کہ بغداد میں بیٹھے شعیہ لیڈر اپنی فرقہ وارنہ روش سے باز نہیں آئیں گے۔نتیجے میں موصل کے ماحول میں تنائو پیدا ہوگا۔اگر موصل کو اس تنائو سے پاک رکھنا ہے تو حکومت کو بڑے چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔ حکومت کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ سنیوں کو بھی ان کا حصہ دینے کی پابند ہے ۔ اگر ایک بہتر عراق کی تعمیر کرنی ہے تو شیعہ اور سنی تفریق کو مٹانا ہوگا۔

 

 

سنیوں میں عدم اتحاد
ایک بات یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ عراق کے امن کو شیعہ -سنی تنازع کا اتنا بڑا نقصان نہیں ہے جتنا نقصان خود سنیوں کے آپسی اختلاف کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔وہاں سنی طبقہ کے اندر اتحاد کا فقدان ہے ۔یہ سب چھوٹ چھوٹے گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور وقت کے مطابق اپنے نظریات و مواقف میں بدلائو کرتے رہتے ہیں۔ مختلف گروہ ایک دوسرے سے ہی لڑ پڑتے ہیں۔نیز صدام حسین کے بعد ان سنوں کا کوئی ایسا مضبوط لیڈر بھی نہیں ہے جو انہیں باندھ کررکھے۔ایسے میں یہ چھوٹے چھوٹے گروہ جن پر حکومت فی الوقت کارروائی کرنے سے گریز کرے گی، آپسی تنازعات کی وجہ سے موصل کے امن کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔کرد انٹلی جینس سے جاری ایک تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر عراقی حکومت ان گروہوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کرپاتی ہے تو موصل ایک بار پھر بدتر صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے۔
یہ چند وجوہات ہیں جن کی وجہ سے تجزیہ کار موصل میں امن قائم ہونے کے تئیں تشویش کا اظہار کررہے ہیں ۔اگر بغداد کی حکومت ان نکات پر ابھی سے توجہ دینا شروع کردے تو ممکن ہے کہ تین سال سے بد ترین صورت حال کا سامنا کرنے والا موصل ایک پُرامن شہر بن جائے اور داعش کے فرار ہونے پر جو خوشیاں منائی جارہی ہیں ،یہ خوشیاں پائدار ثابت ہوں۔ویسے وزیر اعظم حیدر عبادی نے اس موقع پر جس عزم کا اظہار کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اب موصل کو دوبارہ نہ تو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے دیں گے اور نہ ہی امن کو خراب ہونے دیں گے۔انہوں نے عراقی فورسز کی فتح پر اپنی نشری تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ میں یہاں سے پوری دنیا کے لیے داعش کی اس خیالی اور دہشت گرد ریاست کی ناکامی اور سقوط کا اعلان کررہا ہوں جس کا اس گروپ نے تین سال قبل اسی موصل شہر سے اعلان کیا تھا۔یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اس پر فخر کرسکتے ہیں۔ لڑائی میں یہ فتح عراق کی اپنی منصوبہ بندی کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے اور عراقی اس کامیابی کو دوسری قوموں کے ساتھ شیئر نہیں کرتے ہیں‘‘۔حیدر العبادی نے اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’جس طرح ہم داعش کے خلاف متحد ہوئے تھے،اسی طرح ہمیں استحکام اور بے گھر ہونے والوں کو موصل میں واپس لانے کے لیے بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔ عبادی کا آخری جملہ اسی طرف اشارہ ہے کہ اب موصل کو پُرامن بنانے کے لئے اہل عراق کو آپسی تنازعات سے اوپر آنا ہوگا۔

 

 

داعشزم کا خاتمہ
بہر کیف موصل سے داعش کے خاتمہ کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کیا خود کو خلیفہ کہنے والے ابوبکر کے نظریہ کا بھی خاتمہ ہورہا ہے ؟اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ داعشزم اب تین شکلوں میں اپنا وجود باقی رکھے گا۔پہلا ایک گوریلا گروہ کی صورت میں۔مطلب یہ ہے کہ داعش ایک چھوٹے گوریلا گروہ کی شکل میں تبدیل ہو جائے گا۔کیونکہ عراق اور شام کے علاقوں کو آزاد کرنے کے بعد بھی بہت سے داعشی اور ان کے پاس اسلحہ باقی رہ جائے گااور ایسی حالت میں ان کے پاس یہ طریقہ باقی رہے گا کہ ان دونوں ممالک کے ساتھ گوریلا جنگ کا آغاز کر دیں۔ان کا طریقہ کار افغانستان کے طالبان اور ترکی میں’ پی کے کے ‘ کی طرح ہوگا۔لیکن گوریلا صورت حال داعش کے لئے فٹ نہیں ہوگی کیونکہ گوریلا لڑائی کے لئے پہاڑی علاقہ ہونا چاہئے جبکہ ان کا جن علاقوں پر قبضہ تھا ،وہ سب میدانی علاقے ہیں، اس وجہ سے داعش کے لیے گوریلا فورس بنانے میں مشکل ہوگی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ داعش اپنا وجود خود کش حملہ آوروں کی شکل میں باقی رکھے۔اس کا امکان اس لئے ہے کہ داعش نے 2013 کے بعد سے داعشزم کی فکر کو ایجاد کر دیا ہے، اگرچہ داعش کا کوئی فیزیکلی وجود باقی نہ رہے مگر ان کی فکر عراق اور شام کے بہت سے افراد میں پیدا ہو گئی ہے۔لہٰذا موصل میں ان کا نام و نشان نہ ہو تو بھی اس شہر میںایسے ہزاروں داعشی زندگی بسر کریں گے جو خود کش حملوں کو جہاد سمجھتے ہیں۔
تیسری صورت یہ ہے کہ داعش اپنی نام نہاد خلافت کو کسی دوسرے علاقے یا ملک میں منتقل کردے اور ممکن ہے کہ یہ عراق اور شام میں شکست کے بعد لیبیا یا افغانستان کو اپنا مرکز بنا لیں۔ لیکن داعش صرف اس تک بھی محدود نہیں رہے گی کیونکہ داعشزم کی فکر مغربی ایشیا میں پھیل چکی ہے، اور کئی دہائیوں تک اس کے اثرات باقی رہیں گے۔لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگرچہ عراق نے موصل کو داعش کے ناپاک قدم سے پاک کردیا ہے مگر دنیا کو ابھی برسوں تک اس کے ناپاک عزائم کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *