اچھی فصل کے باوجود کسان کیوں پریشان؟

سال2016میں بھرپور فصل کے ساتھ درآمدات کی قیمتیں 63 تک نیچے ہوئی ہیں۔ نوٹ بندی کے سبب نقدی میںبھی کمی آئی۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے سال 2011 تک 3.5 لاکھ کروڑ روپے انویسٹ کرنے کے باوجود آدھے سے زیادہ کسان برسات پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم بتا دیں کہ انویسٹمنٹ کی گئی یہ رقم 545 ٹہری – سائز کے باندھوں کی تعمیر کے لیے کافی ہے۔ یہ تین اسباب ہیںجن کی وجہ سے کھیتی پر منحصر رہنے والے ہندوستانی لوگ غصہ میں ہیں۔ یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ ہندوستان میں9کروڑ خاندان کھیتی پر انحصار کرتے ہیں۔
کسانوں کے غصہ کی وجہ
پولیس گولہ باری میں چھ کسانوں کی موت کے بعد گرا مین مدھیہ پردیش میںغصہ اور بھڑکا اور کاشت مخالف مظاہرہ مہاراشٹر اور قرض میںڈوبی ریاستوںکی سرکاروں میں اور تیز ہوا ہے۔ انڈیا اسپینڈ نے گرامین مہارشٹر میں کسانوں کے غم و غصہ اور مایوسی کی وجہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ میں ہم نے پایا کہ کسانوں کی یہ مخالفت قرض معافی کی مانگوںکو لے کر ہے۔ ہندوستان میں کھیتی غیر مؤثر ہونے کا اہم سبب کھیتوںکا لگاتار چھوٹا ہونا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ چھوٹے کھیت ہندوستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں زمین ہولڈر کا اوسط سائز 5.5 ہیکٹیئر ہے۔
وزارت زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق، سال1951 کے بعد سے زمین کی دستیابی میںفی شخص 70 فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔ یہ اعداد وشمار سال 2011 میں 0.5 ہیکٹیئر سے 0.15تک ہوئے ہیں اور مستقبل میں اور بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ اس طرح کے چھوٹے اور معمولی زمین ہولڈر اس وقت ملک میںسرکولیٹیڈ کھیتوں کی تعداد کا 85 فیصد بناتے ہیں جیسا کہ ہندوستانی زراعت پر 2015-16 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
چھوٹے کھیتوں پر جدید مشینری کا استعمال عام طور پر نہیںہوتا۔ اس طرح کے کھیتوںکے مالک اکثر مہنگے آلات خرید نے کے لائق نہیںہوتے ہیں۔ مینوئل ڈھنگ سے کھیتی کرنے میںلاگت بڑھتی ہے۔ گاؤں چھوڑکر مزدور شہروںکی طرف کوچ کررہے ہیں،جس کی وجہ سے مزدوروںکا ملنا مشکل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ کھیتوںکا چھوٹا سائز اور اس سے بہت کم پیداوار قرض اور ادارہ جاتی قرض تک رسائی کو محدود کرتا ہے۔ تجزیہ میں ہم نے پایا:
1۔لگاتار خشک سالی کے بعد اچھی فصل لیکن آمدنی میں گراوٹ
سال 2017 میں ہندوستان کے کھیتوں کے لیے اچھی خبر ملی۔ سال 2014 اور 2015 کی خشک سالی کے بعد، 2016 میں اچھے مانسون نے دو سال کی گرامین اقتصادی گراوٹ کو بدل دیا۔ ہندوستان میںزرعی ترقی کی شرح 2014-15 میں 0.2 فیصد تھی۔ لگاتار خشک سالی کے سبب یہ شرح 2015-16 میں 1.2فیصد سے زیادہ نہیںبڑھی۔ 2016-17میں زرعی معیشت میں 4.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
دال اگانے والی کئی ریاستوںجیسے مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ اور گجرات کے باازاروں میںمال بہت آیا ہے۔ خاص طور پر تور دال، کیونکہ اس کی پیداوار دیگر دالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔ زیادہ تر ہندوستانیو ںکے لیے دال پروٹین کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ہندوستان دنیاکا سب بڑا دال پیداکرنے والا ملک ہے۔
حالانکہ ستمبر 2016 میں مارچ 2017 تک کی دو مالی تماہیوں میں میانمار، تنزانیہ،موزامبک اور مالوی سے دالوں کی آمد 20 فیصد بڑھی ہے۔ اس بارے میں بزنس اسٹینڈر ڈ نے 3 مارچ 2017 کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے۔ اس وجہ سے ہندوستانی تور دال کی قیمت میں گراوٹ ہوئی ہے۔

 

ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے 7 جون 2017کو جاری مونیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کہا گیا ہے ، دالوں کی قیمت واضح طور پر ریکارڈ پیداوار اور بہت زیادہ امپورٹ کے سبب لڑکھڑا رہی ہے۔ دسمبر 2015 میں تور دال کی قیمت 11,000 روپے فی کونٹل تھی۔ اب یہ قیمت 63 فیصد گھٹ کر 3800-4000 روپے ہوگئی ہے۔ اس قیمت پر سرکار زرعی پیداوار خریدتی ہے اور یہ منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) سے 20 فیصد نیچے ہے۔ اس بارے میں انڈیاسرینڈ نے 12 اپریل 2017 کو تفصیل سے بتایا ہے۔
دالوں کی پیداوار میں 29 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2014-15 میں دالوں کی پیداوار 17.15 ملین ٹن سے بڑھ کر سال 2016-17 میں22.14ملین ٹن ہوئی ہے۔ اس مدت کے دوران تور دال کی پیداوار میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ توردال کی پیداوار 2.81 ملین ٹن سے بڑھ کر 4.23 ملین ٹوٹ ہوئی ہے۔ ستمبر 2016 میں چیف اکانومک ایڈوائزراروند سبرمنیے کی قیادت والی ایک سرکاری کمیٹی نے سال 2017 میںتور دال کے لیے ایم ایس پی بڑھاکر 6000 روپے فی کونٹل اور 2018میں7000 روپے فی کونٹل کرنے کی سفارش کی ہے۔
مارچ 2017 تک دال کے لیے منیمم سپورٹ پرائس 5,050 روپے فی کونٹل تھی۔ یہ رقم دالوںپر کمیٹی کے ذریعہ سفارش کی گئی قیمتوں سے تقریباً 20 فیصد یا 18فیصد کم ہے۔ قیمتیں کم ہونے کے ساتھ کسانوں کے لیے اپنے پروڈکٹ کا ذخیرہ کرنے اور نوٹ بندی کے سبب نقدی میں کمی سے اگلے موسم کے لیے پیسے حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہم بتادیںکہ 8 نومبر 2016 کو سرکار نے ملک کی 86 فیصد کرنسی کو انویلڈ ڈکلیئر کردیا تھا۔
2۔نوٹ بندی سے کسانوں کو ہوئی کیش کی کمی
18 مئی کو دوپہر کی شدید دھوپ میں 30 سالہ پرشانت لانڈے نے ہندوستان کی مالیاتی دارالحکومت ممبئی سے 664 کلومیٹر پہلے امراوتی ایگریکلچرل پروڈکٹ مارکیٹ کمیٹی (اے پی ایم سی ) کو 800 کونٹل تو ر بیچنے کے لیے گھنٹوںانتظار کیا۔
مہاراشٹر کے ودربھ کے مشرقی علاقہ میںامراوتی ضلع کے آشٹی تعلقہ کے سنہلا گاؤں کے لانڈے کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی 800کونٹل تور سرکاری خرید کیندر میںبیچنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ ریاست بڑی قیمت پر تور خریدتی ہے۔ بازار میںلانڈے اپنی طور 3800-4000 فی کونٹل بیچ سکتے تھے جبکہ سرکاری خرید کیندر میں 5050 روپے فی کونٹل کی پیش کش کی تھی۔لانڈے کہتے ہیں، ہم سرکاری کیندر میںنہیںبیچتے کیونکہ وہاں بکنے کا عمل ایک ماہ میںپورا ہوتا ہے۔ بیچنے کے لیے ٹوکن کے لیے لائن میں کھڑے ہونے سے پیمنٹ کھاتہ تک پہنچنے میں مہینہ بھر کا وقت لگ جاتا ہے۔ ہمارے ساتھی کسان، جنھوں نے 22 مارچ کو پراپن کیندر میں اپنی فصل بیچی ہے،اب تک جون میں بھی انھیںپیسے نہیںمل پائے ہیں۔
نوٹ بندی کے ٹھیک بعد کرناٹک اور تمل ناڈو میںٹماٹر کے کسانوں کو اور مہاراشٹر و گجرات میںپیاز کے کسانوںکو سب سے زیادہ نقصان ہوا کیونکہ قیمتوں میں 60-85 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ اس بارے میں انڈیاسپینڈ نے 18 جنوری 2017 کوا پنی رپورٹ میں بتایا ہے۔ چھ ماہ بعدتھوڑی راحت کے ساتھ، موجودہ کسانوںکی ہڑتال اور زرعی بازاروںکے درہم برہم ہونے کے ساتھ نوٹ بندی کے اس تجربہ نے حالات کو بگاڑنا شروع کردیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے اقرار کیا ہے کہ نوٹ بندی کے دوران کم سیل ہونے سے قیمتوںمیں گراوٹ آئی ہے اور اس کا اثر جاری ہے۔

 

7 جون 2017 کو آر بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے، موجودہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ عارضی اثر پھلوں اور سبزیوں،دالوں اور اناجوںکے بارے میںسپلائی کی اضافی شرائط کے ساتھ الجھا ہوا ہے اور اس پر خاص کھانے والی اشیاء سے متعلق قیمت کا تعین ٹکا ہوا ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے وقت میں لانڈے جیسے کسانوں پر قرض کا بوجھ بڑھتا ہے۔
مہاراشٹر میں 57 فیصد کسان خاندان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے 2013کے خاندانوں کے سرکومسٹنس ایویلوئیشن سروے کے مطابق اس بارے میں ہندوستان کے اعدادوشمار 52 فیصد ہیں۔ اس قرض کے نتائج وسیع ہیں۔ سال 2015 میں کسی دیگر ریاست کے مقابلے میں مہاراشٹر میں زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ آنکڑہ 4,291 ہے جو کہ سال 2014 کے 4,004 کے آنکڑے سے 7 فیصد زیادہ ہے۔ 1569 کے اعدادوشمار کے ساتھ کرناٹک دوسرے اور 1400 آنکڑے کے ساتھ تلنگانہ تیسرے مقام پر ہے۔ ادھر اترپردیش کی نئی سرکار نے 30,792 کروڑ روپے کے زرعی قرض کو معاف کردیا ہے، جس سے مہاراشٹر، مدھیہ پردیش،تمل ناڈو اور کرناٹک سرکاروں پر بھی دباؤ بن رہا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر پھڑنویس ایسا کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی سرکار کی اتحادی جماعت شیو سینا دیگر جماعتوں کے ساتھ سیاسی تحریک چلانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس سے انھیں راج کوش پر غور کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
آر بی آئی کے گورنر ارجت پٹیل نے 6 اپریل 2017کو خدشہ جتایا ہے کہ ایک زرعی قرض معافی مستقبل میں قرض لینے والے کو قرض نہ چکانے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ اخلاقی رسک پیدا کرتا ہے اور آخر کار قومی بیلنس شیٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ مالی صوابدید اور زرعی بحران کے بیچ توازن جاری رہے گا لیکن یہ غیر یقینی زرعی ضرورتوں کے لیے ہمیشہ بندھک کاکام کرے گا۔
3۔ 52 فیصد کسانوں کے پاس آب پاشی کی سہولت نہیں
زیادہ تر گرامین ہندوستان میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آب پاشی کے پھیلاؤ کے باوجود ہندوستان کے 52 فیصد کھیت بارش پر منحصر ہیں، جس پر آب وہوا کی تبدیلی کے اس دور میںکبھی بھی بھروسہ نہیںکیا جاسکتا۔ کلچ آف ا نڈین اینڈ گلوبل اسٹڈیز کے مطابق، سینٹرل انڈیا میں بہت زیادہ بارش کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور مقامی و عالمی موسم میں پیچیدہ تبدیلیوںکے ایک حصہ کے طور پر درمیانہ اور بارش کم ہورہی ہے جیسا کہ انڈیاسپنڈ نے 15 اپریل 2015 کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے۔
گرامین مہاراشٹر میں2014 اور 2015 کی خشک سالی کو 2016 کی بھاری بارش نے کم کیا ہے، لیکن ریاست کے کئی حصوں نے بھی سیلاب کا سامنا کیا ہے۔ غیر یقینی موسم کسانوں کو صلاح دینے کے لیے سرکاری توسیع نظام کی صلاحیت کو متاثرکرتا ہے
ودربھ کے کسان لانڈے کہتے ہیں ، سرکار نے خریف (جولائی سے اکتوبر) کے موسم میں اور زیادہ تور پیدا کرنے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی کی کیونکہ ا ن فصلوں کے لیے پانی کی کھپت کم اور مانگ اونچی ہے۔ گزشتہ تین سالوں میںہمیں اتنا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اگر وہاں آب پاشی کا معقول بندوبست ہوتا۔
سال 2015-16 اسٹیٹ ایگریکلچرل رپورٹ کے مطابق، آب پاشی کی چھ دہائیوںکے باوجود، 50 فیصد سے کم یا 140 ملین ہیکٹیئر ہندوستان کا خالص کاشت کاری علاقہ کا 66 ملین ہیکٹیئر سیراب ہے۔ گراؤنڈ واٹر ہندوستان کی آب پاشی کے دو تہائی زمین کے لیے پانی فراہم کرتا ہے لیکن بہت زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے یہ سطح گررہی ہے۔
پہلے پانچ سالہ منصوبہ (1951-56)سے گیارہویں(2006-11) منصوبہ تک مرکزی سرکار نے آب پاشی اور سیلاب کنٹرول کرنے والے پروجیکٹس پر کل 3.51 لاکھ کروڑ وپے خرچ کیے، جیسا کہ بارہویں پانچ سالہ منصوبہ (2012-17)کی یہ رپورٹ بتاتی ہے۔
یکم جولائی 2015 کو وزیر اعظم نریندرمودی نے پانچ سال (2015-16) سے 2019 میں 50,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کی شروعات کی ہے۔ پی ایم کے ایس وائی کا سیاسی جملہ ہے،’ہر کھیت کو پانی اور مورکراپ پر ڈراپ‘ ہے۔سال 2015-16میںمائیکرو ارگیشن کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کی ایک تہائی (312کروڑ روپے) سے کم کی رقم جاری کی گئی جیسا کہ اس سرکاری رپورٹ سے پتہ چلتا ہے۔
مائیکرو ارگیشن فائننشیل پروگریس مونیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ، ان میںسے اپریل 2016 تک، 48.3 کروڑ روپے یا 5 فیصد سے کم ، حقیقت میں خرچ کیا گیا تھا۔ سرکارنے 2016-17 کے مائیکرو ارگیشن کے ہدف کے طور پر 1763 روپے مقرر کیا ہے لیکن نتیجہ میں کوئی بھی آنکڑہ جاری نہیںکیا گیا ہے۔ مائیکرو ارگیشن پروگرام میں 6,51,220 ہیکٹیئر یا 0.46 فیصد خالص کھیتی والا علاقہ شامل ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *