سول سروسز میںمسلم 51 مگر 4.6 فیصد ہی کیوں؟

یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم کمیونٹی یہ سوچ کر جشن منا رہی ہے کہ آزاد ہندوستان میں پہلی مرتبہ سول سروسز امتحانات میں 51 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ گزشتہ 20 جو ن کو نئی دہلی کے سوریہ فائیو اسٹار ہوٹل میں سابق انکم ٹیکس کمشنر اور سچر کمیٹی کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی ظفر محمود کی سپرستی میں چل رہے ذکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے سرسید کوچنگ اینڈ گائیڈینس سینٹر کے کامیاب فیلوز کی قومی راجدھانی کی متعدد سرکردہ شخصیات بشمول موجودہ و سابق سروسز آفیسرز کی موجودگی میں زبردست پذیرائی کی گئی۔ افطار اور کھانے سمیت اس تقریب میں سرسید کوچنگ سینٹر کے کل 17 کامیاب امیدواروں میں ایک درجن اس موقع پر موجود تھے۔ مفت کوچنگ دے رہے مذکورہ سینٹر سے گزشتہ چند برسوں میں 77 طلباء و طالبات سول سروسز میںکامیاب ہوئے جس کے لیے یہ یقیناً قابل مبارکباد ہے۔
ویسے عیاں رہے کہ 2017 میں کامیاب ہوئے یوپی ایس سی کے نتائج میںکل 51 مسلم امیدواروں نے اب تک کی سب سے بڑی تعداد کا نیا ریکارڈ تو بنایا مگر اس تلخ حقیقت کو ہرگز نظر انداز نہیںکیا جاسکتا ہے کہ اس کے باوجود مسلم فیصد میںکوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔

 

ذرا غورکیجئے،اواخر 2006 میں سچر کمیٹی رپورٹ نے بتایا تھا کہ مسلمانوں کی سول سروسز میں محض تین اور پولیس سروسز میں چار فیصد نمائندگی ہے جبکہ ان کی آبادی 2001 کی مردم شماری کے مطابق 13.5 فیصد ہے۔ افسوس صد افسوس کی بات یہ ہے کہ گیارہ برس بعد کامیاب امیدواروںکی تعداد بہت بڑھ جانے کے باوجود 2017 میں محض 4.6 فیصد ہی مسلم امیدوار سول، فارین اور پولیس سروسز کے اہل قرار پائے۔ اس سے قبل سول سروسز میں مسلم نمائندگی کا جو فیصد رہا ہے، وہ بھی اسی طرح بہت ہی مایوس کن رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2013 میںیہ نمائندگی صرف 3.03 فیصد اور 2012 میں صرف 3.10 فیصد تھی۔
سرکاری دستاویز کے مطابق، فی الوقت مسلم نمائندگی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز (آئی اے ایس) میںمحض 3 فیصد، انڈین فارین سروسز (آئی ایف ایس) میںمحض 1.8 فیصد اور انڈین پولیس سروسز (آئی پی ایس) میں محض 4 فیصد ہے جبکہ 2011 کی مردم شماری کی روشنی میں ہندوستان میںمسلمان کل آبادی کے 14.2 فیصد ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر محمود کے اعداد وشمار کے مطابق، سول سروسز امتحانات میں آبادی کے تناسب سے کم از کم 170 تا 180 مسلم امیدواروں کو کامیاب ہونا چاہیے۔
اس لحاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں زیادہ سے زیادہ 38 سے بڑھ کر 2017 میں 51 تک کامیاب مسلم سول سروسز امیدواروںکے ہوجانے سے زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیںہے کیونکہ 13 کا عدد بڑھ جانے کے بعد بھی مسلم نمائندگی کا فیصد 4.6 سے آگے نہیں بڑھ پایاجو کہ تعداد کم ہونے پر بھی 3سے 4 فیصد تک آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں تھا ہی۔ 14.6 فیصد والی کمیونٹی کو دیگر کمیونٹی کے سول سروسز میں مساوی حیثیت میں لانے میں اتنا ہی یعنی 14.6 فیصد نمائندگی کے مقام پر لانا ہوگا۔
مگر سوال یہ ہے کہ مسلم آبادی کے تناسب سے سول سروسز میں مسلم نمائندگی کو بڑھانے میں اصل ذمہ داری کون نبھائے گا؟ مسلم طلباء و طالبات کے پاس ذہانت ہے، یہ محنتی ہیں اور یہ جذبہ رکھتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بار 2017 کے یوپی ایس سی کے نتائج کو بھی دیکھ کر ہوتا ہے۔ کامیاب 51 مسلمانوں میں 9 مسلم طلباء و طالبات نے ٹاپ 100 رینکوں میں پوزیشن حاصل کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ٹاپ 100 میں 9 فیصد کی حیثیت میںہیں۔ ریاست بہار کا ایک کامیاب امیدوار سرفراز عالم ہے جو کہ بہار کے پوسا ایگریکلچرل کالج میں فورتھ گریڈ ملازم کا بیٹا اور صرف بہت ہی غریب نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیدائشی طور پر جسم سے معذور ہے اور اسے چلنے پھرنے میں دقت بھی ہوتی ہے۔ اس نے گزشتہ بار ایلائیڈ میںکامیابی حاصل کی تھی او ر اسے ریلوے ملاتھا۔ اس بار بھی اس کا ایلائیڈ میں رینک نیچے ہے مگر اس کا عزم ہے کہ یہ آئندہ اچھے رینک لاکر آئی اے ایس بن کر رہے گا۔ شورش زدہ وادی کشمیر میں کامیاب امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یقینا بہت اچھی خبر ہے۔ گزشتہ بار کے ایک درجن کے مقابلے اس بار 14 طلباء و طالبات کی کامیابی ان نوجوانوں کی ذہانت اورمتانت کے بارے میں یقیناً کچھ کہتی ہے۔

 

ان تمام باتوںسے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم طلباء وطالبات کے پاس ٹیلنٹ اور محنت کا بھرپور جذبہ ہے مگر دیگر کمیونٹیوںکے طلباء و طالبات کی مانند یہ لاکھوں روپے خرچ کرکے کمرشیل کوچنگ انسٹی ٹیوٹس میں داخلہ نہیںلے سکتے ہیں۔ متعدد کامیاب مسلم امیدواروں نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ تیاری کے لیے انھیں محض گائیڈینس اور تجربہ کار آئی اے ایس ، آئی ایف ایس اور آئی پی ایس آفیسروں سے ماک انٹرویوز میں رہنمائی چاہیے۔ یہ وہ رول ہے جو کہ ذکاۃ فاؤنڈیشن کے سرسید کوچنگ سینٹر، جامعہ ملہ اسلامیہ ریزیڈینشیل کوچنگ اکیڈمی اور ہمدرد کوچنگ سینٹر جیسے ادارے رضاکارانہ طور پر ادا کررہے ہیں اور انھیں اور زیادہ توجہ سے اس ذمہ داری کو ادا کرنا چاہیے۔
ویسے یہ افسوس کا مقام ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) جو رضاکارانہ طور پر مذکورہ بالا اداروں کے ذریعہ کی جارہی کوششوں سے قبل یہ خدمت انجام دے رہی تھی مگر پتہ نہیں وہاں اس طرح کی سرگرمی ادھر ایک عرصہ سے نمایاں انداز میں نہیں دیکھی جارہی ہے۔ تبھی تو سوریہ ہوٹل میں 20 جون کے مذکورہ پروگرام میں اے ایم یو کے شعبہ سائیکلوجی کے چیئرمین اور ایکزیکیٹو کونسل کے رکن پروفیسر حافظ محمد الیاس خاں نے بڑے ہی دکھ بھرے لہجے میںکہا کہ ستم ظریفی تو یہ ہے اس کاز میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی بالکل پیچھے ہے۔ لہٰذا اسے پہلے کی طرح ایک بار پھر اپنے اس سرگرم رول کو ادا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی نے آزادی کے بعد کئی سو مسلم سول سرونٹس دیے ہیں اور اس سلسلے میں اس کی یہ کوتاہی قابل افسوس ہے۔ ویسے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے وائس چانسلر طارق منصور سول سروسز کوچنگ شروع کرنے میںبہت دلچسپی رکھتے ہیں اور جلد ہی اس سلسلے میں پیش رفت کریںگے ۔
معاملہ صرف اے ایم یو کی دلچسپی کا ہی نہیںہے،انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی ) جس کے قیام کا ایک مقصد سول سروسز کی تیاری میںمسلم طلباء و طالبات کی مددکرنا تھا۔ علی گڑھ کے معروف اولڈ بوائے چودھری عارف نے آئی آئی سی سی کی پرانی بلڈنگ میںبرسوںطلباء کو رہائشی و دیگر دسہولیات فراہم کرائی تھیں اور یہاںسے متعدد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ آئی اے ایس ٹاپر عامر سبحانی نے بھی یہاںسے استفادہ کیا تھا۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ نئی عالیشان بلڈنگ کی تعمیر کے بعد یہ عظیم مقصد کہیںکھوگیا ہے۔ شاید اس کی وجہ ہے کہ چودھری عارف اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور موجودہ ذمہ داران آئی آئی سی سی کو دیگر کمرشیل سرگرمیوں سے زیادہ دلچسپی ہوگئی ہے۔ بہرحال اگر سول سروسز میں مسلم نمائندگی کو بڑھانا ہے تو ان امور پر خصوصی توجہ دینا ہی پڑے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *