کیا ہوگا حشر سچر رپورٹ کے بعد افضل امان اللہ رپورٹ کا؟

2006 میں آئی سات رکنی سچر کمیٹی رپورٹ کے گیارہ برس بعد ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمان ہندوستان میں تعلیم کے میدان میں ہنوز سب سے زیادہ پسماندہ اقلیت ہے۔ اس بات کاانکشاف سابق سکریٹری حکومت ہند افضل امان اللہ جو کہ مشہورومعروف مسلم رہنما مرحوم سید شہاب الدین کے داماد ہیں ،کی سربراہی میں29 دسمبر 2016 کو وزارت اقلیتی امور سے مالی تعاون پارہے غیر منافع اور غیر سیاسی ، سماجی خدما ت کی تنظیم مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایم اے ای ایف) کے ذریعہ تشکیل کی گئی گیارہ رکنی کمیٹی نے جولائی کے پہلے ہفتے میںپیش کی گئی اپنی رپورٹ میںکیا ہے۔
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ سچر کمیٹی کی تحقیق کے دائرہ کار مسلمانوںکی تعلیم سمیت زندگی کے تمام شعبے تھے جبکہ افضل امان اللہ کمیٹی صرف تعلیمی صورت حال پر مرکوز تھی۔ ویسے اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیںکرسکتا ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کے تعلق سے پہلے کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت نے رپورٹ کے بعد ملے سات برس اور پھر بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے گزشتہ تین برس میںجو بھی دعوے کیے، اس کے باوجود مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کم و بیش جوںکی توں برقرار ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ افضل امان اللہ کمیٹی کی رپورٹ جسے سچر کمیٹی رپورٹ کی طرح حکومت وقت نے تسلیم کرلیاہے اور اس پر عمل درآمد کی بات بھی کررہی ہے، کا حشر کیا ہوگا؟ اور کیا یہ رپورٹ سچر رپورٹ کے برخلاف مسلمانوںکی پسماندگی کو دور کرنے میں واقعی معاون و مددگار ثابت ہوگی؟
اب آئیے، ذرا دیکھتے ہیں کہ سابق 1979 بہار کیڈر آئی اے ایس آفیسر افضل امان اللہ کی سفارشات آخر ہیں کیا؟ گیارہ رکنی اس کمیٹی نے گھنی اقلیتی آبادی والے علاقوںمیںمعیاری تعلیم کی پہنچ کو فراہم کرانے کے لیے تین سطحوںکے کثیر زاویے والے سسٹم کی سفارش کی ہے جسے فوراً ہی قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہاکہ پینل کے مشورے کے مطابق پانچ عالمی معیار کے تعلیمی اداروںکو قائم کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
ان تین سفارشات میںسب سے نیچے کی سطح پر 211 اسکول، درمیانی سطح پر 25 کمیونٹی کالج اور ٹاپ سطح پر 5 پریمیر علاقوں میںقومی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ 211 اسکولوںمیں 167 اسکول دیہی اور 44 اسکول شہری اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ہوںگے اور یہ سب کے سب کیندریہ ودیالیہ اور نوودے ودیالیہ کی لائن پر چلائے جائیں گے۔ یعنی یہ تمام اقلیتوں کے سنٹرل اسکول ہوںگے۔ اسی طرح مجوزہ کمیونٹی کا لجز مہارت یا اسکیل پر مبنی بہت ہی کم فیس پر تعلیم فراہم کریں گے۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کے قانون سے بنائے گئے عالمی معیار کے پانچ قومی ادارے ماسٹرس، ڈاکٹورل اور پوسٹ ڈاکٹورل کورسز سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیسن کی اعلیٰ تعلیم سے مسلم اقلیت کو فیضیاب کریں گے۔ اسکولوں کے تعلق سے یہ بات واضح رہے کہ 167 نشان دہ مائنارٹی ڈامنینٹ اورمائنارٹی کنسنٹریٹیڈ اضلاع کے ہر ایک ضلع اور 44 نشان دہ مائنارٹی ڈامیننٹ اور مائنارٹی کنسنٹریٹیڈ سیٹیزکے ہر ایک شہر میں سنٹرل اسکول قائم کیے جائیں گے۔ کمیٹی نے طلباء کی مخصوص ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکول کا وقت ساڑھ نو بجے صبح سے تجویز کیا ہے تاکہ جو بچے مدرسہ /پاٹھ شالہ جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ ایسا صبح ساڑھے نو بجے سے قبل کرلیں۔

 

افضل امان اللہ کمیٹی کی رپورٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کا تعلیمی امپاورمنٹ ہرحال میںہونا چاہیے کیونکہ معاشی وجوہات کے علاوہ تعلیمی اداروںتک پہنچ میںکمی، اس کمیونٹی کی پسماندگی کی اصل وجہ ہے۔واضح رہے کہ 2011 کی مردم شماری کی روشنی میںمسلمانوں کی خواندگی کی شرح قومی شرح 72.98 فیصد کے مقابلے میں 68.53 فیصد تھی۔ اعلیٰ تعلیم میںبھی یہی رجحان دکھائی پڑتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بیس برس اور اس سے زائد کی آبادی میں 7 فیصد گریجویٹ اور ڈپلومہ ہیں جبکہ یہ تناسب مسلمانوںمیںصرف 4 فیصد ہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلمانوں کے لیے انرولمنٹ کی شرح 74 فیصد اور باقی آبادی کے انرولمنٹ کی شرح 83 فیصد ہے جو کہ بہت بڑا فرق ہے۔
گیارہ رکنی افضل امان اللہ کمیٹی کو امید ہے کہ تین سطح والا یہ تعلیمی ماڈل اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی سے نمٹنے اور بچوںکو مین اسٹریم میںلانے میںمثبت اور مؤثر کردار ادا کرسکے گا۔ موجودہ بی جے پی قیادت والی مرکزی سرکار نے بھی ا س رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے مگر سچر کمیٹی رپورٹ کا جو حشر ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے دور میں ہوااور جو نریندر مودی کی حکومت کے دوران ہورہا ہے، اس کی روشنی میںعام تاثر مثبت اور امیدافزا بالکل نہیںہے۔ سماجی کارکن اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طلباء یونین لیڈر انجینئر امداداللہ جوہر کہتے ہیں کہ پہلے بھی مسلمانوں کی پسماندگی ختم کرنے کے لیے بالخصوص اور اقلیتوں کے لیے عمومی رپورٹیںکئی بار آئی ہیں مگر وہ نافذ ہوکر عوام تک نہیںپہنچ پاتی ہیں۔ علاوہ ازیں بعض اہم اور مفید رپورٹوں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ ہے۔ انھوںنے کہا کہ اس رپورٹ کو دباکر رکھا گیا مگر ـ’چوتھی دنیا‘ نے اسے شائع کرکے ساری پول کھول دی او راس کا مظاہرہ اس وقت پارلیمنٹ میں ہوا جب ملائم سنگھ یادو نے اسے وہاں ہاتھ میں لہرا کر سبھوںکو اس کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود مشرا کمیشن رپورٹ ٹھنڈے بستے میںرہی۔ ان کے مطابق، اگر آج بھی مشرا کمیشن رپورٹ پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوجائے تو مسلمانوں و دیگر طبقات کی پسماندگی یقیناً دور ہوجائے گی اور پھر فی الحال مزید کسی کمیٹی کی ضرورت نہیںپڑے گی۔ ان کے خیال میں اصل مسئلہ نیت کا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی اقلیتوں کی پسماندگی کو دور کرنے میںسنجیدہ نہیں ہے، وہ اسے برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی سیاست کو زندہ رکھ سکے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ افضل امان اللہ جیسے تجربہ کار بیوروکریٹ نے جو سفارشات اپنی کمیٹی کی رپورٹ کے ذریعہ پیش کی ہیں، وہ اگر نافذ ہوجاتی ہیں تو یقینا مسلمانوں کی ناخواندگی اور تعلیمی پسماندگی ختم نہیں تو بڑی حد تک کم ہو جائے گی لیکن یہ تبھی ہوگا،جب اس پر واقعی عمل ہوگا۔
انجینئر امداداللہ جوہر کی بات صحیح معلوم پڑتی ہے کیونکہ کاغذ پر تو سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے دعووں کے مطابق سچر رپورٹ پر بڑی حدتک عمل درآمد ہوچکا ہے، مگر زمینی سطح پر اس کا عام مسلمانوںکی پسماندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔
عیاںرہے کہ اس گیارہ رکنی کمیٹی میںکنوینر افضل امان اللہ کے علاوہ دس ارکان پدم شری اقبال ایس حسنین(سابق وائس چانسلر کالی کٹ یونیورسٹی)، لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ(وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، پروفیسر طلعت احمد (وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ)، سراج الدین قریشی (چیئرمین انڈیا اسلامک کلچر سینٹر)، شاہد صدیقی (سابق رکن پارلیمنٹ و ایڈیٹر ان چیف ’نئی دنیا‘)، ادین باس (بینکر اینڈ فائننسر)، فیروز احمدایجوکیشنسٹ اور قمر آغا شامل ہیں۔
افضل امان اللہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق211 سنٹرل اور نوودے اسکولوں کے معیار کے اسکول کھلنے ہیں اور 25 کمیونٹی کالجز اور عالمی معیار کے 5 قومی تعلیمی ادارے قائم ہونے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کام موجودہ حکومت کی میقات کے بقیہ دو برسوں میںممکن ہیں؟ گزشتہ حکومت کے وقت مرکزی وزیر اقلیتی امور کے رحمان خاں نے متعدد اقلیتی یونیورسٹیوں کے قیام کا اعلان کیا تھا اور موجودہ حکومت بھی اسی لائن پر یقین دہانی کراتی رہی، مگر نتیجہ صفر نکلا۔ اقلیتیں اعلان نہیں ، کام چاہتی ہیں۔ مرکزی حکومت کے لیے یہ یقیناً امتحان ہے۔ اقلیتوں بشمول مسلمانوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ کس کی حکومت ہے۔ اگر بی جے پی قیادت والی موجودہ سرکار افضل امان اللہ کمیٹی کی رپورٹ کو مکمل طور پر نافذ کرانے میںکامیاب ہوتی ہے تو یہ اس کا تاریخی قدم ہوگا۔ اس لحاظ سے گیند بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے پالے میں ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ کیا کچھ کرتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *