لالو کو بے بس کرنے کی کوشش

بہار کے سب سے مضبوط اور سیاسی اثر و رسوخ والے خاندان یعنی لالو اور ان کا سارا خاندان ان دنوں اربوں روپے کے بے نامی جائیداد کے الزامات میں پھنستا جا رہا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ نے تو فوری کارروائی کرتے ہوئے اس خاندان کی کئی بے نامی جائیدادیں اٹیچ کر کے پوچھ تاچھ بھی شروع کر دی ہے۔ لالو پرساد کی بڑی بیٹی اور ممبر پارلیمنٹ میسا بھارتی سے پوچھ تاچھ ہو گئی ہے اور اب رابڑی دیوی، تیج پرتاپ اور تیجسوی سے پوچھ تاچھ کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اگر آفت سیاسی ہوتی تو لالو پرساد کے لئے بڑی بات نہیں تھی ،وہ اسے اپنے اسٹائل میں نمٹ لیتے لیکن چونکہ معاملہ اقتصادی جرائم کا ہے، اس لئے چاہتے ہوئے بھی لالو شخصی طور پر بہت ہاتھ پیر مارنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
انکم ٹیکس محکمہ کی تابڑ توڑ کارروائی بتا رہی ہے کہ لڑائی لمبی چلے گی اور کسی انجام تک پہنچے گی۔ لالو اور ان کا پورا خاندان بار بار صفائی دے رہا ہے کہ جائیداد کے لین دین میں کوئی غیر قانونی طریقہ نہیں اختیار کیا گیا ہے ۔ساری چیزیں سبھی کی جانکاری میں ہیں اور اگر پوچھاجائے گا تو سچائی متعلقہ محکموں کے سامنے رکھی جائے گی لیکن انکم ٹیکس محکمہ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ معاملہ اتنا بھی سیدھا نہیں ہے اور جو ثبوت اکٹھا کئے گئے ہیں، اسے جھٹلانا لالو اور ان کے خاندان کے لئے بہت ہی مشکل ہوگا۔ بتایا جارہا ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی پوچھ تاچھ میں میسا بھارتی بہت اطمینان بخش جواب نہیں دے پائیں۔

 

لالو کا موقف
لالو پرساد بار بار دوہرا رہے ہیں کہ نریندر مودی سیاسی مخالف کی بات سننا نہیں چاہتے، اس لئے انہیں پھنسانے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ بقول لالو ،میں ہی نہیں جو کوئی بھی نریندر مودی کے خلاف بولتا ہے، وہ مرکزی ایجنسیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ چاہے وہ ممتا بنرجی ہوں یا پھر پی چدمبرم ۔ ہم لوگوں کو مل کر ان پھنسانے والی طاقتوں کو جواب دینا ہوگا۔ لالو پرساد کا یہ سیاسی بیان کچھ حد تک صحیح بھی لگتا ہے۔ لالو اس وقت اپوزیشن اتحاد کی دھوری بن گئے ہیں۔ وہ ممتا بنرجی سے بات کر رہے ہیں اور اکھلیش یادو سے بھی۔ یو پی میں اکھلیش اور مایاوتی کو ایک کرنے میں لالو کافی پسینہ بہا رہے ہیں۔ سونیا گاندھی سے لے کر شرد پوار تک سے ان کے اچھے رشتے ہیں۔ 2019 کی لڑائی خاص طور پر یوپی اور بہار کے لئے لالو پرساد ابھی سے سیاسی بساط بچھانے لگ گئے ہیں۔ معاملہ نوٹ بندی کا ہو یا پھر صدر جمہوریہ کے انتخاب کا ،لالو پرساد اپوزیشن کی آواز بن کر ابھرے ہیں۔
لالو پرساد کی شاید یہی پیش قدمی ان کے مخالفین کو راس نہیں آ رہی ہے اس لئے یہ کوشش ہورہی ہے کہ ایسے مضبوط پھندے میں لالو پرساد کو گھیر لیا جائے کہ انہیں مرکز کی سیاست کرنے کا وقت ہی نہ ملے۔ لالو کے خاص حامی شیو ا نند تیواری کہتے ہیں کہ لالو یادو کو ویلن ثابت کرنے کی مہم چل رہی ہے۔ کچھ اخبار بھی جانے انجانے میں اس مہم کا حصہ بنے جارہے ہیں۔ لالو خاندان پر ایک ہزار کروڑ روپے کی بے نام جائیداد اور ٹیکس چوری کی خبر اہمیت کے ساتھ چھاپی گئی۔ ایک ہزار کروڑ روپے کی بے نام جائیداد کی خبر کے درمیان انکم ٹیکس محکمہ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ دہلی این سی آر اور پٹنہ میںلالو خاندان کی کئی ریئل اسٹیٹ کو ضبط کیا گیا ہے۔ ان میں زمین، پلاٹ اور عمارت شامل ہیں۔
لالو خاندان نے ان جائیدادوں کی قیمت 9 کروڑ 32 لاکھ روپے بتائی ہے۔ لیکن انکم ٹیکس محکمہ کے مطابق ان جائیدادوں کاموجودہ مارکیٹ ویلو 170 سے 180 کروڑ روپے ہے۔ اختلاف کی بنیاد یہی ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ آج کا مارکیٹ ویلو بتا رہا ہے۔ جس وقت ان جائیدادوں کو حاصل کیا گیا ہوگا اس وقت ان کا مارکیٹ ویلو 9کروڑ 32لاکھ روپے تھا ،یہ لالو خاندان کو ثابت کرنا ہے۔ ملک بھر میں ایسے ہزاروں معاملات انکم ٹیکس محکمہ میںچلتے رہتے ہیں۔یہ معاملہ انکم ٹیکس محکمہ کے مطابق ہی لالو خاندان پر ایک ہزار کرڑ روپے کی بے نام جائیداد اور ٹیکس چوری کا الزام بے بنیاد،بے ثبوت اور تعصب سے لبریز ہے لیکن سشیل مودی کہتے ہیں کہ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور جنہوں نے بھی غلط کیا ہے انہیں سزا ملنی چاہئے۔ کہا جارہا تھا کہ بی جے پی لیڈر صرف پی سی کرتے ہیں اب مرکزی ایجنسیاں کارروائی کررہی ہیں تو نتیش کمار خاموش کیوں ہیں۔ آخر تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو کو کابینہ سے باہر کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ بد عنوانی پر زیرو ٹولیرنس والی نتیش کمار کی پالیسی کو اب کیا ہو گیا ۔ نتیش کمار کا اقتدار سے محبت انہیں تیج پرتاپ اور تیجسوی کے خلاف کارروائی سے روک رہا ہے۔ بہر حال ریاست میں ابھی دونوں ہی خیموں کی طرف سے الزام تراشیوں کا دور جاری ہے۔
اصل حقیقت
لیکن یہ سب تو کہنے اور سننے والی باتیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لالو اور ان کے خاندان پر انکم ٹیکس محکمہ کے شکنجہ کے پیچھے کی کہانی کو سمجھنے کے لئے ہم لوگوں کو بہار کی سیاست کے کچھ پیچھے کے صفحات کو کھولنا ہوگا۔ نیتش کمار کا بی جے پی کا ساتھ چھوڑنا اور لوک سبھا انتخابات میںتوقع کے مطابق کامیابی حاصل نہ کرنے کے بعد جنتا دل (یو )کے سامنے دو راستے بچ گئے تھے۔ کہا جائے تو اس وقت جنتا دل( یو) بھی کم و بیش دو متبادلوں کو لے کر دو حصوں میں بٹا تھا۔ پہلے خیمے کے لئے پہلا اور آسان متبادل یہ تھا کہ پرانی دوستی کوایک بار پھر کسی بہانے کو بنیاد بنا کر قائم کر لی جائے ۔سب سے بڑی بنیاد بہار کا ڈیولپمنٹ اور ریاست کو خصوصی درجہ دلانے والی بات تھی۔ نریندر مودی اور ان کی سرکار کو اس وقت اس میں کوئی مشکل بھی نہیں تھی اور بات کچھ آگے بھی بڑھ گئی لیکن نریندر مودی کی زبردست جیت نے نتیش کمار کو حیران کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت جنتا دل( یو )کے ایک خیمے نے انہیں یہ رائے دی کہ ابھی نریندر مودی سے اپنی شرطوں پر ہاتھ ملانا ممکن نہیں ہے ۔ملک کا مزاج ابھی مودی مودی ہے اس لئے جلد بازی میں کوئی فیصلہ لینا ٹھیک نہیں ہوگا۔دوسری بات یہ ہوگی کہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ جنتا دل (یو )موقع پرستی کی پالیسی اختیار کررہی ہے۔ان دودلائل کی بنیاد پر اس وقت نتیش کمار نے یہ طے کیا کہ ابھی رکا جائے اور ملک اور ریاست کی سیاست کو کچھ اور آگے بڑھنے دیا جائے۔ اس کے بعد ہی جنتا دل( یو) کا دوسرا خیمہ سرگرم ہوا اور اس نے نتیش کمار کو لالو پرساد سے ہاتھ ملانے کے لئے دبائو بناناشروع کر دیا۔ اسمبلی انتخابات کا وقت نزدیک آرہا تھااور جنتا دل یو میں لالو حامی خیمہ لگاتار یہ دبائو بنا رہا تھا کہ مہا گٹھ بندھن بنا کر نریندر مودی کو سخت جواب دیا جائے۔
نریندر مودی سے خار کھائے پرشانت کیشور کی بھی اسی وقت اقتدار کے گلیارے میں انٹری ہوئی اور انہوں نے بھی نتیش کمار کو یہ حساب سمجھا یا کہ لالو پرساد اور کانگریس کے ووٹوں کو جنتا دل( یو )کے ووٹوں میں ملا دیاجائے تو پھر نریندر مودی کے جادو کو پھیکا کیا جاسکتا ہے۔دوسری طرف بی جے پی کو بھی لگنے لگا کہ وہ اپنے بل بوتے بہار کی حکومت پر قابض ہو سکتی ہے۔ پارٹی کو نریندر مودی کے جادو پر بھروسہ اس قدر تھا کہ اس نے اپنی اتحادی پارٹیوں کی طرف بھی بہت توجہ نہیں دی۔ ایسے حالات میں جنتا دل( یو) کے اندر جو بی جے پی سے ہاتھ ملا کر سیاست کرنے والا خیمہ تھا، وہ سست پڑ گیا اور لالو حامی خیمہ اتنا موثر ہوگیا کہ اس نے مہا گٹھ بندھن کی تشکیل کر دی۔ الیکشن ہوا، نتیجے آئے اور سب کچھ مہا گٹھ بندھن کے حق میں رہا۔ لیکن سیاست کے جانکاروں نے اس وقت کہا تھا کہ لالو کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ایک بات ہے اور لالو کے ساتھ مل کر سرکار چلانا دوسری بات ہے۔ نتیش سرکار جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی یہ شبہ سچ ثابت ہوتاگیا ۔ تیجسوی یادو کے محکمہ کے اشتہارات میں نتیش کمار کی تصویر کا نہ لگنا یہ بتانے لگا کہ پردے کے پیچھے سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ اس بیچ نوٹ بندی کے ایشو پر بالکل الگ اسٹینڈ لے کر نتیش کمار نے لالو پرساد کو چونکا دیا۔ لاکھ دبائو کے باوجود نتیش کمار نے اپنی رائے نہیں بدلی اور کہتے رہے کہ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ لالو پرساد کو اسی دن صاف ہو گیا کہ نتیش کمار اپنی مرضی کے ہی کریں گے، اس لئے بہتر ہوگا کہ مہا گٹھ بندھن کی رسی کو ضرورت سے زیادہ نہ کھینچا جائے ،نہیں تو یہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ سرکار تو چلنے لگی اور روز مرہ کی چیزیں باہر نہیں آنے لگی۔ لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ پردے کے پیچھے دو ایسی چیزیں اٹکی ہوئی ہیں جو مہا گٹھ بندھن کی گاڑی کو سرپٹ دوڑنے نہیں دے رہی ہے اور اسی کی کاٹ لالو پرساد اور نتیش کمار دونوں تلاش کررہے ہیں۔ پہلا روڑا بڑے ایڈمنسٹریٹیو تبادلے اور دوسرا روڑہ بورڈ اور میونسپل کی نئے سرے سے تشکیل ہے۔ یہ ایسے معاملے ہیں جس پر کئی کوشش کے باوجود تینوں پارٹیوں میں اتفاق رائے نہیں بن پایا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایم اور ایس پی کے تبادلے کے ایشو پر لالو پرساد نے ایک بار نتیش کمار کے کچھ کافی قریبی لیڈروں کو ایسی پھٹکار لگائی کہ وہ ہکا بکا رہ گئے۔ یہ وہی جنتا دل( یو )کا خیمہ ہے جو ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ پرانی دوستی کو ایک بار پھر بحال کر دیا جائے۔ لالو کے رویہ سے توہین محسوس کرنے والا یہ خیمہ اسی دن سے اس مہم میں لگ گیا کہ کیسے لالو اور ان کے خاندان کو لپیٹا جائے، مہاگٹھ بندھن میں رہتے لالو پرساد کے خلاف جنتا دل( یو )کے ذریعہ سیدھا حملہ ممکن نہیں تھا اس لئے لالو مخالف لیدروں نے لالو پرساد کی پالیسی میں بدلائو کر کے دوسرے طریقے سے حملہ کروانا شروع کر دیا۔

 

لالو کا مخصوص انداز
سبھی جانتے ہیں کہ لالو پرساد کو نتیش کمار کے خلاف کچھ بولنا ہوتاہے تو وہ کبھی رگھو ونش بابو تو کبھی رکن پارلیمنٹ بولو منڈل کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جنتا دل( یو )کے لالو مخالف لیڈروں کے لئے اس پالیسی کو اپنانا ممکن نہیں تھا۔اس لئے پلان بدلاگیا اور ایسے لیڈر کی تلاش شروع ہوئی جس کی باتوں کو میڈیا وزن دار مانے اور ملک میں یہ بات پھیلے کہ لالو اور اس کا پورا خاندان بے نامی جائیداد کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اتفاق سے سشیل مودی اس وقت پارٹی میں حاشئے پر تھے اور انہیں بھی اپنی امیج کو چمکانے کے لئے خاص ایشو کی ضرورت تھی۔ جانکار ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ طے ہوا کہ سشیل مودی کو آگے کرکے لالو پرساد پر تابڑ توڑ حملے کئے جائیں تاکہ نتیش کمار پر لگاتار بن رہا دبائو کم ہو سکے۔ نوٹ بندی کے بعد نتیش کمار باربار کہہ رہے تھے کہ نریندر مودی کو اب بے نام جائیداد والوں پر بھی شکنجہ کسنا چاہئے۔ جنتا دل (یو )کا لالو مخالف خیمہ اس اشارے کو سمجھ گیا اس لئے اس نے سب سے پہلے بے نامی جائیداد کے معاملے میں ہی لالو اور ان کے خاندان کوگھیرنے کی پالیسی بنائی۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ جنتا دل (یو ) کا لالو مخالف خیمہ سشیل مودی کو آگے کرکے اپنی گوٹی لال کرنے میں لگ گیا۔ نریندر مودی سرکار کے کچھ وزیر بھی دھیرے دھیرے اس میں دلچسپی دکھانے لگے اور لالو کے خلاف الزامات کی جھڑی لگانے والے دستاویز پٹنہ اور دہلی سے ایک ساتھ پہنچنے لگے۔ یہ بات اب سبھی کہنے بھی لگے ہیں کہ بغیر سرکاری مشینری کے اتنے اہم دستاویز سشیل مودی کے ہاتھ لگنا ناممکن ہے۔
تیجسوی یادو کے پٹنہ میں بن رہے سب سے بڑے مائول سے بات شروع ہوئی اور دھیرے دھیر اس میں لالو کا پورا خاندان آگیا۔ لالو پرساد مخالف خیمے کا تیر نشانے پر لگا اور الزامات کی جو جھڑی سشیل مودی نے لگانی شروع کی ،اس کی گونج ملک کی راجدھانی تک پہنچنے لگی۔نتیش کمار نے اس معاملے میں بہت ہی ٹھنڈا رویہ اپنایا اور یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ مناسب جگہ پر اسے دے۔ صرف میڈیا میں بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لالو خیمہ چاہتا تھا کہ نتیش کمار اس معاملے میں کھل کر ان کا ساتھ دیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لالو خیمے کو اسی وقت اندازہ ہو گیا کہ یہ لڑائی اسے اپنی ہی طاقت پر لڑنی ہے۔اس لئے جوابی کارروائی کی پالیسی اپنائی گئی۔ راشٹریہ جنتا دل ترجمان منوج جھا نے الزام لگایا کہ سشیل مودی کے بھائی کی کئی فرضی کمپنیاں ہیں جو پیسہ کالاسے سفید کرنے کا کام کرتی ہیں۔ سشیل مودی کو اس معاملے میں جواب دینا چاہئے ۔ راشٹریہ جنتا دل کے ریاستی ترجمان مہتا کا الزام ہے کہ این ڈی اے کے کئی لیڈر اربوں روپے کے بے نامی جائیداد کے مالک ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ لالو پرساد چونکہ اپوزیشن اتحاد کی دھوری بن گئے ہیں، اس لئے نریندر مودی کی سرکار فرضی معاملے میںلالو خاندان کو بدنام کر رہی ہے۔
تقریباً تین مہینے سے چل رہی اس الزام تراشی کی کہانی کے سیاسی اثرات کا آج کے دن تجزیہ کریں تو تصویر بتاتی ہے کہ الزامات کا جارحانہ طور پر جواب نہ دینے کے سبب لالو خیمہ اب بیک فٹ پر ہے۔ راشٹریہ جنتا دل نے منوج جھا کو شروع میںمیدان میں اتارا ضرور تھا لیکن وہ صرف ایک الزام کو منڈھ کر چلے گئے ۔راشٹریہ جنتا دل اور اس کے لوگ اس بات کو نہیں اٹھا پا رہے ہیں کہ ملک بھر میں ایسے درجنوں لیڈر اور ان کا خاندان ہے جن کے پاس بہت سی بے نامی جائیداد ہے لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔صرف لالو پرساد ہی نشانے پر کیوں ہیں۔ کیا نریندر مودی کو لالو پرساد کا ڈر ستا رہا ہے۔ لالو اور ان کا خاندان بد عنوانی کے معاملے میں جتنا ہی الجھے گا اتنا ہی نتیش کمار اور جنتا دل (یو )کے لئے اپنی شرطوں پر سرکار کی گاڑی کو کھینچنا آسان ہوگا۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کے لئے یہ بنا بنایا لڈو کھانے جیسا ہے۔ لالو جتنے پھندے میں الجھیں گے اتنا ہی 2019 کی لڑائی ان کے لئے یو پی اور بہار میں آسان ہوگی۔
غور طلب ہے کہ لالو پرساد بار بار کوشش کررہے ہیں کہ یو پی میں اکھلیش یادو اور مایاوتی ایک سٹیج پر آئیں۔ مایاوتی سے ان کی لگاتار بات ہوتی ہے اور چرچا ہے کہ ایک بار تو انہوںنے مایاوتی کو بہار سے راجیہ سبھا بھیجنے کی تجویز بھی دی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لالو چاہتے ہیں کہ بہار کی طرح یو پی میں بھی نریندر مودی کا کھیل خراب کر دیا جائے۔ لیکن امیت شاہ کی ٹیم چاہتی ہے کہ یو پی تو جوں کا توں رہے ، اب کی بہار میں سو فیصد اسکور ہو اور سبھی جانتے ہیں کہ یاست میں موجودہ سیاسی ترتیب میں وہ ممکن نہیں ہے۔ جنتا دل (یو) کی بی جے پی کے ساتھ دوستی اگر ایک بار پھر پروان چڑھتی ہے تو نریندر مودی اور نتیش کمار کی جوڑی بہار میں کمال کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے 2019 کی سیاسی بساط کے لئے سبھی پارٹی اپنی اپنی گوٹیاں بچھانے میں لگ گئی ہیں۔ شہہ اور مات کے اس کھیل میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سی چال کس خیمے کو مات ملتی ہے اور کون سا خیمہ بساط پر برقرار رہتا ہے۔
انسیٹ
اٹیج جائیدادیں
1۔ فارم ہائوس نمبر 26، پالم فارمس، بجواسن، دہلی۔
کاغذوں پر نام : میشل پیکرس اینڈ پرنٹرس پرائیویٹ لمیٹید۔
اصل مالک : میسا اور شیلیش
2۔ بنگلہ نمبر 1088، نیو فرینڈس کالونی، دہلی۔
کاغذوںمیں نام: اے وی ایکسپوٹرس پرائیویٹ لمیٹیڈ،
اصل مالک: تیجسوی یادو،چندہ اور راگنی یادو۔
مارکیٹ ویلو: 40کروڑ
3۔9 فلیٹ: جالاپور، تھانہ ، دانا پور۔
کاغذوں کے نام، ڈیلائٹ مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹیڈ۔
اصل مالک: رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو۔
مارکیٹ ویلو: 65کروڑ روپے
4: تین فلیٹ: جالا پور ، تھانہ ، دانا پور۔
کاغذوں کے نام: اے کے انفوسسٹم ۔
اصل مالک : رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو
مارکیٹ ویلو: 20کروڑ روپے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *