رواداری  ہندوستان کی شناخت ہے  رواداری

ہندوستان کی شناخت ہے اس شمارہ کی لیڈ اسٹوری فرقہ پرستوں کی عدم روادی کی کرتوتوں سے بھری پڑی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ہو یا انڈیااسپنڈ، ان کی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ کس طرح کسی نہ کسی بہانے خواہ وہ گائے کے تحفظ اور بیف یا  ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کی بات ہو یا کچھ اور، ماب لنچنگ یا ہجومی تشدد کا رجحان بڑھا ہوا ہے۔اب تو پی ایم نریندر مودی نے بھی اس کی واضح طور پر یہ کہہ کر مذمت کردی ہے کہ ’’ گائے کی حفاظت کے نام پر انسانوں کا قتل ناقابل قبول ہے۔ گئو رکشا کے نام پر لوگوں کو مارنا ٹھیک نہیں ہے۔میں موجودہ حالات سے بہت دکھی ہوں ۔ کیا گئو رکشا کے نام پر کسی کو مارنا درست ہے؟ملک کو عدم تشدد کے راستے پر چلنا ہوگا۔ گئو رکشا کے نام پر قانون ہاتھ میںلینا غلط ہے۔ ونوبا سے بڑا ملک کا کوئی گئو رکشک نہیں ہے‘‘۔ توقع ہے کہ پی ایم مودی کی ان باتوں کا اثر گئو رکشا کے نام پر لنچنگ کرنے والوں پر ہوگا۔یہ بھی توقع ہے کہ اس سلسلے میں انڈیا اسپنڈ نے اپنی تحقیق سے گائے کے نام پر تشدد کے واقعات کے مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں بہت زیادہ بڑھنے کا جو انکشاف کیا ہے، پی ایم مودی اس پر یقینا توجہ دیں گے اور لنچنگ کے واقعات پر فل اسٹاپ لگانے میں کامیاب ہوں گے۔یہاں یہ نکتہ بڑا اہم ہے کہ فرقہ پرست عناصر عدم رواداری کا مستقل مظاہرہ کررہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی جانب سے عدم رواداری کا جواب رواداری سے بڑے سکون سے دیا جارہا ہے۔یہ یقینا قابل غور ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں گائے کے گوشت کے نام پر جو بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، ان کے تعلق سے مسلمانوں کی جانب سے بحیثیت مجموعی کسی متشدد رد عمل کا اظہار قطعی نہیں کیا گیا۔ یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ تین ماہ میں دس ’’ماب لنچنگ ‘‘ یا ہجومی تشدد کے سانحات  انجام دیئے جائیں جن میں متعدد افراد کی جانیں جائیں مگر پوری کمیونٹی صبر کا دامن نہ چھوڑے اور بھرپور طریقے سے رواداری کا مظاہرہ کرے ۔ ایسے  لمحہ میں یقینا  پوری کمیونٹی تحسین کی مستحق ہے۔ بسیہرا  کے محمد اخلاق ہوں یا جے سنگھ پور کے پہلو خاں یا کھنڈوائولی کے حافظ جنید خاں، ان سب و دیگر معصوموں کی ہلاکت دل دہلادینے والی ہے مگر کمال تو یہ ہے کہ رواداری کا دامن نہ چھوٹا۔ قومی راجدھانی میں گزشتہ 29 جون 2017 کو دس ٹاپ مسلم اکابرین کی قومی راجدھانی دہلی میں ایک خصوصی غیر معمولی میٹنگ ہوئی جس  میں ملک کے موجودہ تناظر میں ہورہی غیر رسمی بات چیت کو سننے کاموقع ملا۔ پوری بات چیت اس بات پرمرکوز تھی کہ ماب لنچنگ کے لا متناہی سلسلہ کے تعلق سے مسلم کمیونٹی کا موقف کیا ہو اور وہ اس تعلق سے کیا کریں؟

 

سبھی نے اظہار خیال کیا اور اس نکتہ پر متفق رہے کہ رواداری اور صبر کا دامن کسی حالت میںنہ چھوڑا جائے۔ ان سبھوں نے اس پر اتفاق کیا کہ اس سلسلے میں مسلمانوں کا کوئی مخصوص کنوینشن بھی نہ بلایا جائے  کیونکہ  رواداری کا یہ نکتہ ہندوستان کی روح ہے۔ اس کے دستور میں بھی رواداری کے ساتھ تکثیریت کا پہلو پوری طرح سے موجود ہے۔ لہٰذا رواداری ہو یا تکثیریت، اس کی حفاظت ملک کے دستور کی حفاظت ہے اور یہ بلا تفریق مذہب و ملت ملک کے تمام شہریوں  کی ذمہ د اری ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس تعلق سے اپنا کردار نبھائیں۔ اس نشست  میں  بالآخر یہی طے پایا کہ مسلم کمیونٹی میں موجودہ تشویشناک صورت حال سے جو بے چینی اور اضطراب  ہے، وہ یقینا  ایک دن ملک کی دیگر کمیونٹیوں میں بھی پائی جائے گی کیونکہ ماب لنچنگ کا سلسلہ عدم رواداری کامظاہرہ کرتا ہوا جس طرح سامنے آیا ہے، اسے اگر نہیں روکا گیا تو ملک کی قابل فخر روایت ختم ہوجائے گی، اس کا عزت و وقار خطرے  میں پڑجائے گا۔لہٰذا سبھی شہری عدم رواداری کے اس جنون کو مل کر روکیں گے۔قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ان کے ذریعے کیا گیا کوئی فیصلہ انہیں سو قدم آگے کردیتا ہے یا پیچھے۔لہٰذا کسی بھی قوم کو ایسے مواقع پر بہت ہی دانشمندانہ اور دور اندیشانہ فیصلہ ٹھنڈے ذہن کے ساتھ پڑتا ہے ۔ اس لحاظ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کی عدم رواداری کا جواب ملک کی دوسری سب سے بڑی کمونٹی نے بہت ہی مناسب انداز میں دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 28 جون کو ملک کے 16 شہروں میں ایک ساتھ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا بلا تفریق مذہب و ملت قومی راجدھانی سمیت جوخاموش ریلی نکالی گئی، اس کی مثال  ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں تو نہیں ملتی  ہے ۔ لنچنگ کا سلسلہ تو پہلے سے چل رہا ہے لیکن 15سالہ معصوم حافظ  جنید  خاں کی لنچنگ نے ملک میں پہلی مرتبہ ایک اجتماعی بے چینی اور اضطراب پیدا کیا اور یہ بے چینی اور اضطراب تبھی پیدا ہوتا ہے جب قوم میں بیداری آتی ہے اور قوم جاگ ا ٹھتی  ہے۔  ہندوستانی  قوم جاگ اٹھی ہے وہ عدم رواداری کوشکست دے کر رہے گی اور بالآخر رواداری کی مجموعی طور پر جیت ہوگی اور ملک میں تکثیریت  اور تنوع زندہ  اور باقی رہیں گے۔یہی ہندوستان کی اصلی دولت ہے، اسے ہر حال میں زندہ رہنا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *