خوفناک ہے کولڈ ڈرنک اور منرل واٹر کے لئے برباد ہو رہے پانی کی کہانی

موجودہ وقت میں چاروں طرف پانی کے لئے افراتفری مچی ہوئی ہے اور زیر زمین پانی کی سطح روز بروز نیچے جارہی ہے۔ ایسے وقت میں یہ بات حیران کرنے والی ہے کہ کئی گنا صاف پانی کی بربادی کے بعد کولڈ ڈرنک اور منرل واٹر تیار ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق آدھا لیٹر کولڈ ڈرنک بنانے میں 300 لیٹر پانی کا استعمال ہوتا ہے، جبکہ ایک لیٹر منرل واٹر کے لئے اس سے دوگنا زیادہ پانی برباد کرنا پڑتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کولڈ ڈرنک اور منرل واٹر بنانے والے پلانٹس میں پوری طرح سے زیر زمین زمین کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ جب آپ ایک بوتل پانی خرید کر پیتے ہیں تب آپ اس پانی کو کتنی قیمت پر خریدتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ کتنا پانی برباد کردیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سچ ہے جو ہمیں ہر روز پانی کے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔ منرل واٹر کے نام پر بکنے والا بوتل بند پانی اپنے بننے کے دوران دوگنا پانی خرچ کر دیتا ہے۔ مثلاً ایک لیٹر منرل واٹر بنانے پر دو لیٹر صاف پانی خرچ کرنا پڑتا ہے۔یعنی جب آپ ایک لیٹر پانی پیتے ہیں تو آپ ایک نہیں بلکہ تین لیٹر پانی خرچ کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ ہر روز اگر صحت مند رہنے کے لئے تین لیٹر پانی پیتے ہیں اور وہ منرل ہوتا ہے تو آپ تین نہیں بلکہ 9لیٹر پانی پیتے ہیں۔

 

 

اسے ہم امریکہ کی اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ امریکی شہری یومیہ 100 سے 176گیلن پانی خرچ کرتے ہیں۔ جبکہ اوسطاً فی کس پانی کی ضرورت چار پانچ گیلن ہی ہوتی ہے۔ افریقہ کے زیادہ تر ملکوں میں فی کس پانی کی کل دستیابی ہی پانچ گیلن ہے۔یعنی امریکی شہری اوسطاً پانی کا 20سے 30 گنا زیادہ بے جا استعمال کرتا ہے۔اس کی قیمت امریکی کتنا چکاتے ہیں ،یہ تو نہیں معلوم لیکن دنیا کے دوسرے ملکوں اور ماحول پر اس کا منفی اثر ضرور پڑتاہے۔
امریکہ کا ہر پانچواں آدمی بوتل بند پانی ہی پیتا ہے۔ اس کو بنانے کے لئے امریکہ میں ہر سال 72بلین گیلن پانی برباد کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سال 2004 میں 154ارب لیٹر بوتل بند پانی کے لئے 770 ارب لیٹر پانی کا استعمال کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں بھی اس پروسیس کے لئے 25.5 ارب لیٹر پانی بہایا گیا۔ کیلیفورنیا کے پیسفک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2004 میں امریکہ میں 26ارب لیٹر پانی کی پیکنگ کے لئے پلاسٹک کی بوتلوں کو تیار کرنے کے لئے دو کروڑ بیرل تیل کا استعمال کیا گیا۔ غور طلب ہے کہ پلاسٹک کی بوتلیں بھی زیرزمین پانی کو آلودہ کرتی ہیں اور گلوبل وارمنگ کا سبب بھی بنتی ہیں۔کولڈ ڈرنگ بنانے والی کمپنیاں بھی بے تحاشہ پانی کا اخراج کرتی ہیں۔
یہ بے سبب نہیں ہے کہ بنارس سے لے کر کیرل کے گائوں والے ان بوتل بند کمپنیوں اور کولا کمپنیوں کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں۔ ان جگہوں پر زیر زمین پانی کا جس طرح اخراج کیا گیا ہے، اس سے وہاں پر زیر زمین پانی کی سطح کافی نیچے چلی گئی ہے۔ اسی سال جنوری میں تمل ناڈو کے دو اہم کاروباری تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ وہ یکم مارچ سے ریاست میں کوک اور پیسپی نہیں بیچیں گے ۔ ریاست میں زیر زمین پانی بچانے کی مہم کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
تمل ناڈو وانی گر سنگم اور تمل ناڈو ٹریڈرس فیڈریشن کا کہنا تھا کہ کولڈ ڈرنگ بنانے والی یہ دونوں کمپنیاں ریاست میں موجود واٹر یونٹوں کا اخراج کر رہی ہیں اور خشکی کے باوجود ان دونوں کمپنیوں نے اس کو جاری رکھا ہے۔ ملک کے کئی دیگر حصوں میں بھی کولڈ ڈرنگ کمپنیوں کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد کے موہاسہ صنعتی علاقے میں مجوزہ کوکاکولا کمپنی کے میگا پلانٹ کے خلاف اب بھی لوگ احتجاج کررہے ہیں ۔اگر یہ پلانٹ شروع ہو جاتاہے تو اس میں ہر دن 18لاکھ لیٹر پانی کا استعمال کیا جائے گا۔ اسے لے کر بابئی کے ان 10گائوں کے لوگ احتجاج کررہے ہیں جن کی زمینیں اس پلانٹ کے لئے ایکوائر کی گئی ہیں۔
اس سے پہلے کیرل کے پلاچی ماڑا اور یو پی میں بنارس کے مہندی گنج میں کوکاکولا پلانٹ کو لے کر سوال اٹھ چکے ہیں۔ کیرل کے پلانٹ کے معاملے میں تو ہائی کورٹ کو دخل دینا پڑا تھا۔ پھر کمپنی نے بھاری معاوضہ دیا اور پلانٹ بھی بند کرنا پڑا لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔ کوکا کولا نے وہاں پانی کی جو مائننگ کی ،اس میں 15لاکھ لیٹر پانی ہر روز اپنے پلانٹ کے لئے نکالتی تھی۔ یہ ایک طرح سے زمین کو پانی سے خالی کر دینے جیسا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *