مدھیہ پردیش کسانوں کی آواز کو کچلا جارہا ہے

مدھیہ پردیش  الجھنوں  اور تضادات کا گڑھ بنتا جارہا ہے۔ایک طرف تو یہ ریاست فاقہ کشی ،قلت غذا اور کسانوں کی بدحالی کے لئے بدنام ہے تو ٹھیک اسی وقت یہ ملک کی ایسی پہلی ریاست بھی بن جاتی ہے جہاں ہیپی نیس ڈپارٹمنٹ کی شروعات کی جاتی ہے۔ الجھنوں کی اس کڑی میں یہاں بے حسی اور مکاری بھی اپنی انتہا  پر ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کو مجرم قرار دیا جارہا ہے اور ان کی آواز کو کچلنے کے ہر ممکنہ طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ سرکار میں بیٹھے لوگ اور انتظامیہ ہیپوکریٹس ہو گئے ہیں جن کا رویہ جمہوریت کی روایت کے برخلاف ہے۔لگاتار پانچویں بار ’’کرشی کرمن ایوارڈ ‘‘ جیت چکی مدھیہ پردیش سرکار کسانوں پر گولیاں چلوانے کا خطاب بھی اپنے نام درج کروا چکی ہے۔آج امن کا ٹاپو کہا جانے والا مدھیہ پردیش کسانوں  کے غصے سے ابل رہا ہے جس کے پیچھے خسارے  کی کھیتی  ، قرض کے بوجھ اور سرکار کی اندیکھی ہے۔ سرکار کے لاکھ دھمکانے، پچکارنے اور فریب کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ تقریباً 11 سالوں سے ریاست کی گدی  پر براجمان  شیو راج سنگھ چوہان پہلی بار مصروف نظر آرہے ہیں۔ اپنے وجود کو بنائے اور بچائے رکھنے کے لئے کسان اپنے دونوں آخری ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیںجس کے دائو پر ان کی  سیاسی زندگی لگی ہوئی  ہے۔ ایک ہتھیار گولیاں ، لاٹھیاں کھاکر آندولن کرنے کا ہے تو دوسرا خود کشی یعنی خود کو ختم کر لینے کا۔ آندولن شروع ہونے کے قریب نصف ماہ بھر کے اندر ہی ریاست کے قریب21 کسان خود کشی کر چکے ہیں۔ ادھر مبینہ کسان کا بیٹا شیو راج سنگھ کی سرکار کا پورا زور کسی بھی طرح سے اسے پورے مسئلے سے دھیان ہٹا دینے یا اسے دبا دینے کی ہے۔ پہلے احتجاجیوں کو ’’ اینٹی سوشل ایلیمنٹ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی پوری کوشش کی گئی اور جب معاملہ ہاتھ سے باہر جاتا ہوا دکھائی دیا تو خود وزیر اعلیٰ ہی دھرنے پر بیٹھ گئے۔ تازہ شگوفہ مدھیہ پردیش سی آئی ڈی نے چھوڑا ہے، مدھیہ پردیش میں کسانوں کی موت کو لے کر نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو بھیجے گئے اپنے جواب میں سی  آئی ڈی نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کسانوں کی خود کشی کی بڑی وجہ کھیتی یا قرض نہیں بلکہ وہ گھریلو تنازع، شراب پینے، شادی ، جائیداد کے تنازع اور بیماری وغیرہ اس کی اصل وجہ ہے ۔ بہر حال کسانوں کا یہ غصہ صرف مدھیہ پردیش تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک میں ہے۔

 

 

لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی فوری مسئلہ ہے یا اس کا ربط پورے زرعی شعبے سے ہے جس کی جڑیں سرمایہ کے قانونوں سے آپریٹ موجودہ ترقیات کے مین اسٹریم میں بنا ہوا ہے اور جن کی قسمت جی ڈی پی کے گروتھ پر سوار ہندوستان کو ’’ کسان مُکت بھارت ‘‘ میں تبدیل کر ڈالنے میں ہے؟سام، دام ،دنڈ ،بھید کا کھیلآندولن کے شروعات میں مدھیہ پردیش کے کسان لاکھوں لیٹر دودھ اور سبزی سڑکوں پر پھینک کر اپنا احتجاج درج کرا رہے تھے جسے شیو راج سرکار کے ذریعہ نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی جس سے کسانوں کا غصہ بڑھتا گیا۔ بعد میں سرکار کے ذریعہ آر ایس ایس سے جڑے بھارتیہ کسان سنگھ کے لیڈروں کو بلا کر سمجھوتہ کرنے اور احتجاجیوں کی مانگوں کو مان لینے کی سازش رچی گئی جبکہ بھارتیہ کسان سنگھ کا اس آندولن سے رشتہ ہی نہیں تھا اور پھر جب پولیس کے ذریعہ آندولن کررہے 6 کسانوں کا قتل کر دیاگیا تو تھیوری پیش کی گئی کہ احتجاجی کسان نہیں بلکہ غیر سماجی عناصر تھے جنہیں کانگریس  کی سرپرستی حاصل تھی۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ گولی پولیس کی طرف سے نہیں چلائی گئی تھی۔ اسی دوران ملک بھر کے اخباروں میں اشتہارات چھپوائے گئے جس کا ٹیگ لائن تھا ’’کسانوں کی خوشحالی  کے لئے ہمیشہ تیار مدھیہ پردیش سرکار‘‘ ۔ اس کے بعد جب لگا کہ حالات بے قابو ہوتے جارہے ہیں تو مارے گئے کسانوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ پہلے ہر مرنے والے کو 10 لاکھ کے معاوضے دینے کی بات کہی گئی پھر اسے بڑھا کر ایک کروڑ کردیا گیاور آناً فاناً اس حادثے کی عدالتی جانچ کے حکم دے دیئے گئے۔ اپوزیشن کی طرف سے  بھی  سرکار کو پوری طرح سے گھیرنے کی کوشش کی گئی۔ راہل گاندھی نے بیان دیا کہ سرکار کسانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔اقتدار کا مذاق دیکھئے، اس کے بعد وزیر اعلیٰ خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ مرنے والے کسانوں  کے خاندان والوں کو بلا کر شیو راج نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ کسان ان کے ساتھ ہیں۔ اگلے دن شیو راج نے بہت ہی ڈرامائی انداز میں وہاں موجود بھیڑ سے کہا کہ ’’ کیا میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کردوں ؟‘‘  اور پھر  بھوک ہڑتال توڑ دی۔ اس دوران  انہوں  نے تقریباً ایک درجن اعلانات بھی کر ڈالے ۔ مدھیہ پردیش کے سینئر صحافی این کے سنگھ نے حساب لگایا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان اپنے دور کار کے پہلے 10 برسوں میں تقریباً 8000اعلانات کر چکے ہیں یعنی اوسطاً دو اعلان ہر روز، جن میں سے تقریباً 2000 کو پورا نہیں کیا جا سکا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں کئے گئے 1500اعلانات میں سے تو صرف 10 فیصد ہی پورے ہو سکے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس  بھوک ہڑتال کے دوران کئے گئے  اعلانات کا کیا ہونے والا ہے۔ بعد میں ایک نیوز چینل کے ذریعہ  وزیر اعلیٰ کی بھوک ہڑتال کو لے کر جس طرح کے خلاصے کئے گئے، وہ اس تماشے کو اجاگر کرتا ہے جس کے لئے 5-7کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن تمام چال بازیوں اور جادو گری کے باوجود کسانوں کا غصہ  قائم  ہے اور اپنے آپ کو ’’ کسان کا بیٹا ‘‘ کے طور پر پیش کرنے والے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ کی زمین سرکتی جارہی ہے۔ گزشتہ 11سالوں کے اپنے دور کان میں شیو راج سنگھ چوہان نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔

 

 

مصیبت کو موقع میں تبدیل کر دینا ان کی سب سے بڑی خاصیت رہی ہے، یہاں تک کہ ویاپم جیسے بدنام گھوٹالے کے بعد بھی وہ اپنی کرسی بچا پانے میں کامیاب رہے ہیں۔ آج ایک بار پھر وہ اپنے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ جس’’ کسان دوست شبیہ‘‘ کو انہوں نے بہت قرینے سے گڑھا تھا، اس بار اسی کو سب سے بڑا جھٹکا لگا ہے اور یہ جھٹکا خود  کسانوں  نے ہی دیا  ہے۔ گولی حادثہ سے ٹھیک پہلے حالات بالکل ہی الگ نظر آرہے تھے۔ ان کی مشہور نرمدا یاترا ختم ہی ہوئی تھی اور اپوزیشن ہمیشہ کی طرح کمزور اور بے اطمینانی کی صورت حال میں نظر آرہا تھا لیکن کسانوں کے غصے اور گولی حادثے سے فضا بدلی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دراصل آندولن کے شروعاتی دور میں جب کسان سڑک پر اترے تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیاگیا۔ اگلے سال اسمبلی انتخابات ہیں اور شیو راج سرکار اپنے آپ کو سب سے کمزور صورت حال میں پارہی  ہے۔ لمبے وقت کے بعد اپوزیشن کانگریس میں ہلچل اور جوش دونوں نظر آرہے ہیں۔ خطرناک پیٹرن کسانوں کے تئیں مدھیہ پردیش سرکار کے وزیروں اور بی جے پی کے لیڈروں کے جس طرح سے بیان آئے ہیں، وہ اس خاص پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ اخباروں میں چھپی خبروں کے مطابق کسان آندولن کے دوران گولی چلنے سے ٹھیک پہلے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ لاء اینڈ آرڈر کی نگرانی کے دوران کہا تھا کہ کسانوں کی آڑ میں غیر سماجی عناصر گڑبڑی کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی مندسور سے پولیس کے ذریعہ گولی چلائے جانے کی خبریں آتی  ہے ۔ برسراقتدار پارٹی اور سرکار سے جڑے کئی لیڈروں نے بھی احتجاجیوں کو نقلی، مٹھی بھر کسان اور اپوزیشن کی سازش ثابت کرنے پر پورا زور لگا رکھا تھا ۔یہ وہی پیٹرن ہے جو سہارنپور  کے دلت احتجاجیوں کو مجرم بتاتا ہے،  کشمیر میں  عوام کو ڈھال  بناتا ہے ،بھوپال انکائونٹر کی سازش کو صحیح بتاتا ہے اور جس کا پورا زور تقاریب ، دکھاوا اور’’ فِل گڈ فیلنگ ‘‘لانے پر  ہو رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *