مسائل کا حل جنگ سے زیادہ ضروری ہے

ابھی جس طرح کی خبریں آرہی ہیںوہ میرے لئے بہت حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اسرائیل کوگنگا صفائی کا ٹھیکہ دینے کی بات ہے۔ جب تک اچھی تکنیک کے ساتھ کام ہوتا ہے، ہم منطقی سوچ رکھنے والے لوگ اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن یہ ہندوتوادی طاقتوں کو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ گنگا کی صفائی کسی یہودی سے کروانا چاہیں گے۔ انگلینڈ ، جرمنی اور فرانس نے پہلے ہی گنگا کی صفائی کے لئے تکنیک دینے کی پیشکش کی تھی لیکن یہ سرکار ہمیشہ کی طرح کسی کو خوش کرنے اور کسی اور ملک کو چڑھانے کے لئے ایسا کررہی ہے۔یہ خارجہ پالیسی کی کوئی اچھی مثال نہیں ہے۔ اسرائیل ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ ہم سے چار ہزار کلو میٹر دور ہے۔وہ ہمارا کوئی سب سے مضبوط معاون نہیں ہو سکتا۔ یقینی طور پر وہ اپنی دفاعی پیداوار کا 41فیصد ہندوستان کو بیچتاہے۔ لہٰذا اس کے لئے ہندوستان اہم ہے۔ وزیرا عظم کو اپنی سوچ اور اپنی پالیسیوں میں بدلائو لانا اچھا لگتا ہے لیکن یہ کوئی بہت بڑا ایشو نہیں ہے۔
ماحول خراب کرنے والا دوسرا ایشو یہ ہے کہ رام مندر تعمیر کے لئے اجودھیا میں اینٹ اور پتھر آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ ایم ایل ایز کے بیان آئے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلے کی پرواہ نہیں کریں گے، مندر کو 2018 تک بنا لیں گے ۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی نے ملک کو پولرائز کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔ 2019 کے انتخاب میں وہ مذہب کو اپنا سب سے بڑا ایشو بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت بدقسمتی ہے۔یہ وہ ہندوستان نہیں ہے جس کی بات ہندوستانی آئین کرتا ہے اور جس کے بارے میں وزیرا عظم کہتے ہیں کہ آئین وہ کتاب ہے جس کی ہم تعمیل کریں گے۔ ان کے اوپر جس طرح کا بھی دبائو ہو منطقی اور محدود سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔

 

 

انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک بار پھر یہ ماحول بنایا جارہا ہے کہ کشمیر میں تناؤ کو بڑھاؤ، چین کی سرحد پر تناؤ بڑھاؤ۔ فوج کے سربراہ جس طرح سے عام بیان دیتے ہیں،اس طرح کے بیان کی ان سے توقع نہیںکی جاتی۔ اس سے صورت حال یقینی طور پر خراب ہوگی۔ یقنی طور پر کوئی بھی، جو کہ خارجہ پالیسی سمجھتا ہے اور ہندوستان کی صلاحیتوں کو سمجھتا ہے، وہ چین کے ساتھ محدود جنگ کی بھی وکالت نہیںکرے گا۔ کیونکہ دونوںملکوںکی طاقت میںکوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس کئی مسائل ہیں، جس کا حل کسی بھی پڑوسی کے ساتھ جنگ کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک ایک دور سے گزررہا ہے۔ سرکار کو تین سال میںجتنا کرنا تھا، وہ کرچکی ہے اور اب وہ 2019 کے انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔ لہٰذا وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں لیںگے جو طویل مدتی اقتصادی فائدے سے جڑا ہو، کیونکہ انھیںاس کا فوراً فائدہ نہیںملے گا۔ جو بھی کریںگے، وہ انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کریںگے تاکہ 2019 کو جیت سکیں۔ لیکن یہ آسان نہیںہے۔ یہ ملک ان کی سوچ سے زیادہ پختہ اور پیچیدہ ہے۔ اندرا گاندھی نے 1977 میںاسی طرح کا ایک تجربہ کیا تھا جب پریس میںان کی کوئی مخالفت تھی ہی نہیں، لیکن نتائج پوری طرح ان کے خلاف آئے۔ ہندوستان کو ہلکے میںنہیںلیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل کی سوچ الگ ہے۔ دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *