صدارتی انتخاب میںسرکار کی پسند بہتر ہے

سرکار نے صدر جمہوریہ کے عہدے کے امیدوار کے انتخاب کو لے کر کافی دیر سے قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم کو یہ کام بہت پہلے کرنا چاہیے تھا۔ روایتی طور پر صدر جمہوریہ کا عہدہ حکمراں پارٹی کے ذریعہ اسپانسر کیا جاتا ہے۔ کچھ ایک بار الیکشن ہوئے ہیں، کبھی کبھی صرف رسمی انتخاب ہوتے ہیں۔ ایک بار صرف کانگریس کے دو دھڑوں کے ذریعہ دو امیدواروںکے بیچ اصل انتخاب ہوا تھا۔ یہ ضروری ہے کہ صدر جمہوریہ ایک ٹھیک ٹھاک قد کا شخص ہونا چاہیے اور انھیں دیگر سماجی، اقتصادی عوامل کو پورا کرنا چاہیے۔ اسے لے کر سرکار کو پہلے ہی اپنا رخ واضح کرنا چاہیے۔ تاکہ اس پر اتفاق رائے بن سکے۔ ہمیشہ کی طرح سرکار نے آخری لمحہ میں نام کا اعلان کیا اور اپوزیشن اس مدعے پر پہلے سے کوئی تیاری نہیںکرپائی۔ میری رائے میںسرکار کی پسند بہتر ہے۔ اپوزیشن کو اتفاق رائے سے یہ انتخاب ہونے دینا چاہیے۔ اس بنیاد پر کسی شخص کی مخالفت کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے رہے ہیں۔ فطری طور پر یہ ان کی سرکار ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جو یا تو کانگریس کا حصہ رہے ہوں یا پھر اس کے قریب رہے ہوں۔ایسے میں آپ بیچ میں قاعدے کو نہیںبدل سکتے۔ میری رائے میں صدر جمہوریہ کا انتخاب کوئی مدعا نہیں بننا چاہیے۔ وزیر اعظم اور حکمراں پارٹی کو نائب صدر جمہوریہ کا انتخاب بھی ہوشیاری کے ساتھ کرنا چاہیے۔ایسے کسی پُروقار شخص کو ہی نائب صدر بنایا جانا چاہیے جو راجیہ سبھا میں اپنی معتبریت بحال کرسکے۔
اب ایک سنجیدہ مسئلے پر آتے ہیں اور وہ ہے زرعی شعبہ۔ کسان کی خودکشیوں کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن اب یہ ایک متعدی بیماری کی طرح پھیل چکی ہے۔ جھارکھنڈ کے کسان خودکشی کررہے ہیں، چھتیس گڑھ میںخودکشی ہورہی ہے اور مدھیہ پردیش میں بڑی تعداد میںکسانوںنے خود کشی کی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔سرکار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ 80 فیصد ہندوستانی آبادی زراعت پر راست طور پر یا بالواسطہ طور پر انحصار کرتی ہے۔ اگر کسان پُر تشددیا غیر مطمئن ہوجاتے ہیں تو کوئی سرکاری عملہ یا لاء اینڈ آرڈر کا محافظ اس صورت حال کو کنٹرول نہیں کرسکتا ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کو ایک مسئلے کے روپ میں کشمیر یا چھتیس گڑھ کو سنبھالنا ایک الگ بات ہے۔ معیشت کے لیے زرعی شعبہ کہیںزیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ میںنے پہلے بھی کہا تھا، سرکار کو چاہیے کہ وہ مختلف اسٹیک ہولڈر زکے ساتھ بات چیت کرے۔ سرکار ایم ایس سوامی ناتھن ، وائی کے الگھ جیسے ماہرین سے تبادلہ خیال کرے تاکہ وہ لوگ یہ بتا سکیںکہ اس صورت حال سے کیسے باہر نکلا جائے؟یہ لوگ سرکار کو بہتر خیال دے سکتے ہیں۔ میںسرکار کی حالت سمجھتا ہوں۔ سرکار کو جتنی رقم کی ضرورت ہے، اس کے پاس اتنا پیسہ نہیںہے۔ ایسے میںانتخاب سے قبل یہ کہنا بے وقوفی ہے کہ ہم لاگت پر اضافی 50 فیصد پیسہ دیں گے یا سرکار میںآنے کے بعد ہم کسانوں کی آمدنی چھ سال میںدوگنی کردیں گے۔ یہ ہدف آسانی سے حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ سرکار کو اور نقصان اٹھانے کو لے کر آگے ہوشیار رہنا چاہیے۔ سرکار جتنی جلدی صورت حال پر قابو پالے، اتنا ہی ہم سبھی کے لیے بہتر ہوگا۔

 

یہ سرکار پھوہڑپن کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ہمیشہ غلط استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس سے پہلے ان کا استعمال صرف تجارتی یا ان لوگوں کے خلاف ہوتا تھاجو سرکار کی مخالفت میں ہوتے تھے۔ اب لالو یادو اور ان کے خاندان پرحملے نے یک الگ موڑ لے لیا ہے۔ یہ بہت ہی چھوٹے مدعے ہیں۔ بے نامی کیا ہوتی ہے؟ ہندوستان پوری طرح سے احساسات پر منحصر ایک ملک ہے۔ 1988 میںبے نامی ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔ تب میںپارلیمنٹ میںتھا۔ میںنے پارلیمنٹ میںکہا تھا کہ یہ نامنی کی طرح ہے، کیونکہ آپ جو اس ایکٹ میں کہہ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ جائیداد اس آدمی کی ہے جس کے نام سے وہ ہے اور اس پر اس حقیقی مالک کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ٹھیک بات ہے۔ جس شخص کے نام جائیداد ہے،وہ عدالت میں حلف لے کر بول دے گا کہ یہ اس کی جائیداد ہے او راس نے اسے اس کے حقیقی مالک کو دے دیا ہے۔ کیا آپ ہندوستان کے جذباتی کردار کو کنٹرول کرسکتے ہیں؟ یہ ایک بے وقوفانہ خیال ہے۔ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پاس پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ہے، جو بہت بڑاحق دیتا ہے۔ اس کے تحت ای ڈی لوگوں کو گرفتار کرسکتا ہے۔ ای ڈی لالو یادو اور ان کے خاندان کو جیل بھیجنے کا ڈر دکھار ہا ہے۔ کوئی بھی عام آدمی کہے گا کہ یہ ایک سمجھدار رویہ نہیںہے۔لالو یادو کا ایک طویل سیاسی سفر رہا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ عدالت سے ایک معاملے میں قصوروار ثابت ہوچکے ہیں، پھر بھی لوگوں نے انھیںاکثریت کے ساتھ جتایا ہے۔ عوام اس طر ح سے سیاسی شکار کرنے میںیقین نہیںرکھتے ہیں۔ ایسے کام کو سرکار جتنی جلدی روک لے، اتنا بہتر ہوگا۔
سرکاری افسر بھی مجھ سے ملتے ہیں۔ فطری طور پر وہ اپنی پہچان ظاہر نہیںکرنا چاہتے ہیں لیکن وہ سبھی مانتے ہیں کہ یہ سرکار انتقام کے جذبہ سے کام کررہی ہے۔، حالانکہ ایسا ہمیشہ رہا ہے، کم یا زیادہ۔ لیکن یہ لوگ بہت کچے اور اناڑی ہیں۔ مجھے نہیںپتہ کہ یہ سوچ کہاںسے آتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ سیدھے پی ایم او سے آرہی ہے۔ کوئی اصلاحی قدم اٹھائے گئے ہوں، اس میںمجھے شک ہے۔ لیکن طویل مدت تک ملک کے مفاد میں او راگر شری نریندرمودی بار بار الیکشن جیتنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انھیںاس ملک کو مہذب بنانا ہوگانہ کہ جیسے کو تیسا والا ملک۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *