برہان قتل نے ایک نئے کشمیر کو جنم دیا ہے

8 جولائی کو کشمیری دہشت گردی کے پوسٹر بوائے برہان وانی کے قتل کا ایک سال مکمل ہو گیا۔ برہان نے نہ صرف اپنے جیسے ہزاروں کو اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کی کہ وہ بات چیت کے بجائے بندوق کو ترجیح دیں بلکہ اس نے مسلح لڑائی کی بھی حوصلہ افزائی کی۔جب وہ جنوبی کشمیر کے ٹھکانے میں گھیر لیا گیا تھا اور فوج کی گولی باری میں مارا گیا تھا، تب تک کسی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ برہان احتجاج کی ایک نئی لہر کا سبب بنایا جاسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر برہان کا یہ پیغام کہ ہندوستان سے لوہا لینا ہے، وائرل ہو گیا۔ وہ ایک ہٹا کٹاگلابی گالوں والا کشمیری نوجوان تھا۔ اس کے قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کشمیر ایک غیر متوقع ہنگامے میں ڈوب گیا جو لگ بھگ چھ مہینے تک چلا۔ عام لوگ پسنے لگے تھے، ہزاروں زخمی ہو گئے تھے اور پیلیٹ گن سے کئی ایک کی آنکھوں کی روشنی ختم ہو گئی۔ تقریباً 100 شہری مارے گئے۔ سرکار نے کنٹرول کھو دیا اور لوگوں نے سڑکوں پر دھاوا بول دیا۔ کشمیر معاہدے کے لئے آوازیں تیز ہونے لگیں،لوگوں کو یہ کہنے میں شرم نہیں تھی کہ وہ ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں۔
حال کے برسوں میں پہلی بار 2008 اور 2010 کے عوامی احتجاجوں میں نوجوان حقیقت میں موت کا پیچھا کرتے ہوئے نظر آئے۔ جیسا کہ 1990 کی دہائی میں دیکھا جاتا تھا کہ وہ پولیس اہلکار یا فوج سے بھاگنے کے بجائے موت کا پیچھا کرتے تھے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوج کے آپریشن کی لوگوں نے زبردست مخالفت کی۔ اس طرح عوامی غصہ اور چیلنج ایک نئی حد تک پہنچ گیا۔اس سال مارچ میں تین نوجوان، بڈگام کے چڈورا ضلع میں مارے گئے۔کیونکہ لوگوں نے ایک دہشت گرد کو پکڑنے آئے سرکاری سیکورٹی دستوں پر پتھر بازی کی۔ جواب میں کی گئی گولی باری سے یہ تین نوجوان مارے گئے۔ وہ دہشت گرد تو مارا گیا لیکن تین اور شہری بھی اس کے ساتھ موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔
صورت حال بدلی نہیں ہے بلکہ اور بدتر ہو گئی ہے۔ چونکہ جنوبی کشمیر مقامی دہشت گردی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔انہیں وہاں سے ختم کرنے کے لئے فوج جدو جہد کررہی ہے لیکن عوامی مخالفت کی وجہ سے یہ کام مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس طرح کے ٹکرائو میں جان و مال کا نقصان بھی ہورہا ہے۔ 4مئی کو فوج نے جب جنوبی کشمیر کے 20گائوں کو گھیر کر ایک بڑا آپریشن شروع کیا تب لوگوں نے اس آپریشن کو ناکام بنادیا، فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ حالانکہ جنوبی کشمیر میں مزید فورس بھیج دی گئی ۔اب پالیسی یہ ہے ک آپریشنس چھوٹے علاقوں تک محدود رکھا جائے اور خاص اطلاعات کی بنیاد پر ہی کیا جائے۔حالانکہ اس مزاحمت میں لوگوں کی جانیں بھی جاتی ہیں۔

 

 

ان حادثات کی جڑیں ریاست کے خلاف ہیں جو انکار کی مُدرا میں ہے۔ریاست کے خلاف آندولن کر رہے لوگوں کی شرکت میں بھاری بدلائو آیا ہے۔ پچھلے ایک سال کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے اعداد و شمار ہی کافی ہیں۔ 2017 کے پہلے چھ مہینوں میں، مختلف حادثات میں مارے جانے والے شہریوں کی تعداد 32 ہے جو 2016 کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2016 کے جنوری سے جون کے واقعہ میں پانچ شہری مارے گئے تھے۔
جس طرح سے لوگوں نے اپریل میں اننت ناگ پارلیمنٹ سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب کو غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کے لئے مجبور کیا،وہ بتاتا ہے کہ لوگوں اور ان کے لیڈروں کے بیچ کی دوری میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔جب 9اپریل کو سری نگر کے ضمنی انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں نے مخالفت کی تھی تب فوج کی گولی باری میں 9 شہریوں کی موت ہوئی تھی۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبد اللہ نے وہ سیٹ جیتی لیکن 7 فیصد ووٹ سے۔ اس جیت پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا۔
کشمیر میں آج جو کچھ بھی دیکھا جارہا ہے، جیسے بڑھتے دہشت گردی کے واقعات یا آٹھ سال پہلے کے مقابلے میں آج مقامی لوگوں کی بہت بڑی حصہ داری ، جہاں لوگ اپنے چہرے کو چھپائے بغیر فوج اور پولیس کو چیلنج دیتے ہیں، یہ سب دہلی کے غیر حساس نقطہ نظر کا نتیجہ ہے۔برہان نے جو کشمیر کے مشتعل ، غیر مطمئن لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ،وہ کشمیریوں کو متحد کرنے کا سبب بنا۔ اس سے پتہ چلا کہ زمینی اصلیت کیا ہے اور کیسے یہ سرکار کے ہاتھ سے کھسک چکی ہے۔ یہ بھی بتا رہا ہے کہ سیاسی ہدف حاصل کرنے کے وسائل کی شکل میں کیسے تشدد کو سماجی منظوری مل گئی ہے۔ کشمیریوں نے سب کچھ سمجھتے ہوئے تشدد سے امن کی طرف رخ کیا تھا، جس کی وجہ سے امن کا عمل پٹری پر آیا تھا اور 2003 سے 2007 کے بیچ نئی دہلی-اسلام آباد اور نئی دہلی -سری نگر کے بیچ امن کی سرگرمی شروع ہوئی تھی۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے بیچ اعتماد بحالی کو لے کر کئی لوگوں کو شبہ تھا لیکن اس کے باوجود اس سرگرمی نے کشمیر ایشو پر ایک ٹکائو اور ادارہ جاتی حل کی امید پیدا کی تھی۔
حالانکہ اس سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا۔ دہلی اور مزاحمت کار قیادت کے بیچ دعوئوں اور در دعوئوں کے بیچ تب یہ سب ناکام ہو گیا جب ممبئی میں دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف ) کے صدر یاسین ملک، جو کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں، نے دہلی پر امن کی سرگرمی کو پٹری سے اتارنے کا الزام لگایا۔متحدہ ریاستی سرکار کو لکھے گئے ایک خط میں ( حزب چیف صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے کے پس منظر میں ) وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے کشمیر حل کی تجویز کو نوکر شاہوں نے ختم کر دیا۔ یکطرفہ جنگ بندی فیصلے نے میرے اور میرے معاونین کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے میرے سیاسی کیریئر ،میری سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا،میری لڑائی اور قربانیوں کو رد کر دیا۔لیکن تشدد کے راستے پر واپس جانے کے لئے اکسائے جانے کے باوجود میں اپنے فیصلے پر اٹل تھا۔ جے کے ایل ایف کے ذریعہ 1994میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے بعد 600 سے زیادہ میرے اراکین کو ہندوستانی فوج نے مار گرایا۔ اس پر عالمی برادری نے بھی مداخلت نہیں کی۔

 

 

ہندوستان اور پاکستان دونوں اس عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔دہلی میں بی جے پی سرکار اور پاکستان کی ایک کمزور عوامی سرکار نے دشمنی کو بڑھایا ہے۔کشمیر پر دہلی کی آواز نے مسئلے کو بڑھا دیا ہے۔ کوئی سیاسی نقطہ نظر نہیں ہونے کے ساتھ ہی زبان بھی خراب ہے۔ بی جے پی سرکار کی ایک واضح پالیسی ہے کہ کشمیر کو سختی سے ڈیل کیا جائے۔ برہان کے قتل کے بعد سے، پچھلے ایک سال میں مقامی دہشت گردوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ 2016 کے آخر تک یہ 88 تھی اور سال کے آخر تک لگ بھگ 30 مقامی نوجوان اس میں شامل ہوئے۔ مایوسی اور خوف و تشدد کے راستے پر نوجوانوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ انہیں کنٹرول لائن کے دوسری طرف لے جائے گا۔ آج کا نوجوان مقامی سطح پر تربیت پارہا ہے اور وہ پولیس اور نیم فوجی دستوں سے رائفل چھین رہا ہے۔ مسئلے کا سیاسی ڈیمنشن بھی مشکل ہے۔یہ تشدد کو بنائے رکھنے، برا نظم و نسق ، بد عنوانی اور مظالم کا مہلک سنگم بنا رہی ہے۔ برہان کی موت ہو گئی ،لیکن اس کے قتل نے ایک نئے کشمیر کو جنم دیا ہے جو جارحانہ اور پُر تشدد ہے۔ دہلی اس پیغام کو نہیں پڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ اسے ہارڈ لائن ہی سوٹ کرتا ہے۔لیکن لوگ تو بے یقینی صورت حال اور تشدد سے متاثر ہو ہی رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *