چھوٹی ریاستوں کے قیام کا محرکچھوٹی ریاستوں کے قیام کا محرکترقیاتی امور میں کوتاہی

آزادی کے بعد سے ہی ہندوستان  میں نئی ریاستوں کا قیام متنازع موضوع رہا ہے لیکن اس کے باوجود ہریانہ، ہماچل، میزورم ، گوا ،چھتیس گڑھ، اترانچل، جھارکھنڈ اور  تلنگانہ  جیسی ریاستوں کی تشکیل ہوتی رہی ۔ کہا جاتا ہے کہ ریاستوں کے قیام کی راہ در اصل پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے کئے گئے1956کے فیصلہ کے  نتیجہ  میں کھلی جس میں کہا گیاتھا کہ ’’لسانی بنیادوں پر ریاستوںکا قیام عمل میںلایاجاسکتاہے‘‘۔ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک جیسی ریاستیں لسانی بنیاد پر ہی وجود میں آ ئی تھیں۔ پنجاب کو 1966میں اندرا گاندھی کی رضامندی سے ریاست کا درجہ ملا۔غرضیکہ بڑی ریاستوں سے  علاحدہ ہو  کر چھوٹی ریاستوں کا قیام کئی بار عمل میں آچکا ہے اور مزید کئی ریاستوں کے قیام کا مطالبہ جاری ہے ۔ آسام سے بوڈولینڈ، جموں وکشمیر سے لداخ وجموں  اور  مغربی بنگال سے گورکھا لینڈ نام سے نئی ریاستیں بنانے کے مطالبات  اب بھی ہورہے  ہیں۔چند سال پہلے جب آندھراسے کاٹ  کرکے تلنگانہ کو علاحدہ ریاست بنایا گیا تواس کے بعد مغربی بنگال میں گورکھا لینڈ کے  مطالبے  نے شدت اختیار کرلی ۔ مغربی بنگال کے پہاڑی علاقوں اور خاص طور پر دارجلنگ اورا طراف کے علاقوں میں رہنے والے نیپالی زبان بولنے والے قبائلی عوام چاہتے ہیں کہ ان کے لئے  علاحدہ  ریاست کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں ان کی غالب آبادی ہے لیکن اقتدار ہمیشہ ہی بنگالی کے عوام کے پاس رہتا ہے اور ان کی حق تلفی ہو تی  ہے۔ نیپالی زبان بولنے والے قبائلی عوام کا احساس ہے کہ بنگال کے حکمرانوں نے ان کی حق تلفی کی ہے اور پہاڑی علاقوں کی ترقی کو عمداً نظر انداز کیا ہے۔مشہور تنظیم ’’ گورکھا جن موکتی مورچہ ‘‘ عرصہ سے مغربی بنگال سے علاحدہ ہوکر گورکھا لینڈ کے قیام کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ابھی حال ہی میں نیشنل فیڈریشن فارنیو اسٹیٹ (این ایف این ایس )جس میں گورکھا لینڈکا مطالبہ کرنے والی تنظیم کے منیش کمار، بندیل کھنڈ کے راجہ بندیلا، بورو لینڈ کے دھیرندر یورو اور ویدھربا کے شری اتے کی نمائندگی شامل ہے، کی طرف سے  کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد  کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی کہ  چھوٹی ریاستوں کے قیام کا مطالبہ ایک عرصہ سے کیا جارہا ہے مگر جو بھی حکومتیں آئیں انہوں نے ان مطالبات کو نظر انداز کیا۔اس سلسلے میں این ایف این ایس کے فعال رکن دھریندر بورو سے ’’چوتھی دنیا‘‘ نے چھوٹی ریاست کے قیام پر بات کی تو انہوں نے کہا کہمرکز میں حکومت جس کی بھی ہو ٹال مٹول کی پالیسی چلتی رہی ہے۔جب اسی آرگنائزیشن کے ورکنگ پریسڈنٹ راجا بنڈیلا سے پوچھا کہ وہ چھوٹی ریاست کے قیام کامطالبہ کیوں کررہے ہیں ؟تو انہوں نے کہا کہ نیا مطالبہ صرف اس لئے ہے کہ  ترقی کی دوڑ میں یہ علاقے بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔چھوٹی ریاستوں کے قیام پر دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں اور دونوں نظریات کے حق میں الگ الگ دلائل  دیئے  جاتے ہیں۔ حامیوں کی طرف سے  چھوٹی ریاست کے  یہ فوائد بیان کئے جاتے ہیں کہ ریاستیں اگر چھوٹی ہوں گی تو ترقی جلد ہوگی اورحکومت اور انتظامیہ پر بھرپور توجہ  دی جاسکتی ہے۔کرپشن ،بدعنوانی  اور گھوٹالے  سے پاک انتظامیہ ہوگا اور ان پر نگاہ رکھنا آسان ہوگا۔

 

 

اگر آبادی کم ہوگی تو ترقیاتی کاموں پر فوری طور توجہ دی جاسکتی ہے اور ان کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنانے میںوسائل  کی کمی کی شکایت دور ہوگی۔ چھوٹی ریاستوں کے عوامی نمائندے اپنے مسائل مرکزی حکومت کے سامنے اچھے ڈھنگ سے پیش کرسکیں گے۔نیز  اس  صورت میں ہر علاقہ کی علیحدہ نمائندگی ممکن ہوسکے گی۔لسانی یا علاقائی بنیادوں پر بنائی جانے والی ریاستوں میںعوام کے بیچ  یکسانیت رہتی ہے  اور  وہاں اختلافات کے امکانات کم ہوتے ہیں۔عوام کی خواہش و مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے لیے ترقی و خوشحالی کے پروگرام ترتیب دیناآسان ہوجاتا ہے۔ترقیاتی کاموں کو انجام دینا چھوٹی ریاستوں کے لیے زیادہ ممکن ہوتا ہے جبکہ بڑی ریاستوں میں ترقیات کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں کوتاہی بارہا دیکھی جاتی رہی ہے۔مقامی لوگوں کے اشتراک و تعاون سے فلاحی و ترقیاتی کامو ں کو انجام دینا آسان ہو گا۔اس نظریہ  کے حامیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں گوا کے وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پریسکربھی شامل ہیں ۔ان کا یہ  ماننا  ہے کہ چھوٹی ریاستوں میں عوام کی خواہشات کی تکمیل بہ آسانی کی جاسکتی ہے جو کہ بڑی ریاستوں میں مشکل ہوتا ہے۔ان کا ماننا ہے  کہ مشکلات اور مسائل ہونے کے باوجود ہر چھوٹی شئے خوبصورت لگتی ہے ۔چھوٹی ریاست کے حامیوں میں اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کا بھی نام شامل ہے۔ انہوں نے  سب سے پہلے 2007میں اکتوبر  میں  یہ مسئلہ ایک عوامی جلسہ میں اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی ریاستیں لاء اینڈ آرڈ کو نافذ کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ چھوٹی ریاستوں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں28 کروڑ کی آبادی کیلئے 50 ریاستیں ہیں جبکہ ہمارے ملک میں امریکہ کی آبادی کی چارگنا آبادی کیلئے صرف 31 ریاستیں ہیں۔ خود کانگریس نے1960 کے بعد جملہ 14 نئی ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جبکہ بی جے پی نے تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں لایا تھا۔لیکن یہ تقسیم تب ہی بہتر اور بار آور ہوسکتی ہے جب اس کے پیچھے انتظامی جذبہ کارفرما ہو۔اگر سیاسی نقطہ نظر سے اس تقسیم کی حمایت کی جاتی ہے اور مقصد صرف ووٹ بینک ہوتا ہے تو یقینا اس کے منفی اثرات زیادہ مرتب ہوںگے اور چھوٹی ریاست کے قیام کے باجود وہاں ترقی دشوار ہوگی۔بطور مثال چھتیس گڑھ، اترانچل اور جھارکھنڈ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔  تشکیل  کے وقت  یہ  کہا گیا تھا کہ  یہ تقسیم  عوام کوخوشحال بنانے میں معاون ہوگی،لیکن حقیقت کیا ہے،یہ سب کے سامنے ہے۔ وہاں کے عوام آج بھی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرا  طبقہ  چھوٹی ریاستوں کے قیام کی نفی کرتا ہے۔ دوسرے طبقہ کا  ماننا ہے کہ بڑی ریاستوں سے علاحدہ ہوکر چھوٹی ریاستوں کے قیام سے  علیحدگی پسندی کی ذہنیت کو بڑھاوا  ملنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔دنیا میںہندوسان کی جو پہچان ہے کہ وہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ،مختلف زبانیں بولنے والے، مخصوص تہذیب وتمدن،علاقائی و لسانی ،تاریخی وجغرافیائی فرق کے باوجوداتحاد و اتفاق، آپس میںمیل میلاپ،بھائی چارہ و آپسی اتحادپایاجاتاہے،

 

ایک دوسرے کے مذہب و جذبات کا خیال رکھا جاتاہے۔وہ لسانی بنیاد پر تقسیم سے یہ ختم ہوجائیگا اور  قومی و علاقائی سیاست پر اس کے منفی اثرات پڑیںگے، وہ اس لیے کہ ریاستوںکے قیام میںسیاسی پارٹیاں ترقیاتی منصوبوں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔اسی طرح چھوٹی ریاستوں کو ہر معاملہ کے لیے مرکز کی طرف نگاہ رکھنا پڑتی ہے اور ہر معاملہ میں اسی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔چھوٹی ریاست کی صورت میں علاقہ واریت کا دبدبہ قائم ہوجائے گا جس کے نتیجے میںملک میں انارکی ،لسانی و علاقائی  فرقہ واریت  کو بڑھاوا ملے گا ۔اسی طرح  بڑی ریاستیں مختلف مسائل کا شکار رہتی ہیں اور ان  کی راجدھانی بھی سینکڑوں کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہونے کی وجہ سے ریاستی آبادی کی اکثریت کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔جہاں تک مسلمانوں کے موقف اور نظریہ کی بات ہے تو دیکھا یہ گیا ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک کسی بھی ریاست میں کسی بھی مسلم تنظیم نے علاحدہ ریاست کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہے  کہ ہندوستان کا  مسلمان  تقسیم کو ایک گالی  سمجھتا  ہے  کیونکہملک کی تقسیم میں مسلمانوںنے جو زخم سہا ہے ،اس کو وہ آج تک  بھلا  نہیں سکا ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ بحیثیت قوم مسلمان کسی بھی ریاست کے قیام کے لئے سڑکوں پر  نہیں آیا۔ ہاں انفرادی طور پر کچھ مسلمان اس میں شامل ہوسکتے ہیں ۔مسلمانوں کے چھوٹی یا علاحدہ ریاست کی حمایت میں سڑکوں پر نہ اترنے کا محرک یہ بھی ہے کہ  کسی بھی ریاست کا قیام یا تو لسانی بنیادوں  پر ہوتاہے یا پھر علاقائی اور تہذیبی و تاریخی پس منظر میں جبکہ ملک کا مسلمان  پورے   ہندوستان کو ایک گلدستہ کی طرح سمجھتا ہے جس میں کسی بھی طرح کی تقسیم اس کی شناخت کو کمزور کرے گی۔ بہر کیف نئی ریاستوں کی تشکیل کے مطالبہ کی بنیادی وجہ ترقیات کو نظر کیا جانا  یا پھر ریاست کے کچھ خاص حصے ،طبقے کو نظر انداز کرنا اس کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔یہ نظر اندازی کبھی سیاسی نقطہ نظر سے ہوتی ہے اور کبھی وسائل کی عدم فراہمی کی وجہ سے۔اگر ملک کے تمام خطوں اور طبقوں پر مساوی نظر رکھی جائے اور قومی و ریاستی منصوبوں میں سب کو مساوی حصہ داری ملے تو علاحدہ  ریاست کا نعرہ کبھی بلند نہ ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *