اسپیشل رپورٹ اسپیشل رپورٹ سب سے بڑا سود گھوٹالہ بے نقاب 

جس محکمے میں ہر مہینے اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہو، وہاں سود کی ہیرا پھیری سے ہر مہینے کروڑوں روپے جھٹکے جا سکتے ہیں۔ جس آفیسر کے حکم پر اربوں روپے کچھ خاص بینک میں جمع ہوتا ہو ،وہ آفیسر اس پیڈ بینک سے لاکھوں روپے کی رشوت الگ سے کما سکتا ہے۔ اگر بینک سے کم ریٹ پر سود لینے کا راضی نامہ ہو جائے، تو چور راستے سے آفیسر کی غیر متوقع بے شمار کمائی ہو سکتی ہے۔ گھوٹالے کا یہ نایاب فارمولہ اسٹیٹ رورل ڈیولپمنٹ بینک کا انوینشن ہے ۔یہ ادارہ لینڈڈیولپمنٹ بینک کے نام سے مشہور ہے۔ اختصار میں اسے اب بھی ایل ڈی بی ہی کہتے ہیں۔ لینڈ ڈیولپمنٹ بینک (ایل ڈی بی ) دراصل لیڈروں اور نوکرشاہوں کی نگرانی میں چلنے والے گھپلوں، گھوٹالوں اور فرضی واڑوں کے لئے بدنام رہا ہے۔ لیکن اس بار جو گھوٹالہ ہم اجاگر کرنے جارہے ہیں ،وہ ملک کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا سود گھوٹالہ ثابت ہو سکتا ہے۔گھوٹالے کا بوجھ اتنا بھاری ہے کہ ایل ڈی بی ڈوب چکا ہے،بس اس کے بند ہونے کا سرکاری اعلان ہونا ہی باقی رہ گیا ہے۔مشترکہ گھپلہ لیڈر، نوکر شاہ اور ایل ڈی بی کے عہدیدار ان آپس میں مل کر گھپلے کرتے رہے ہیں،  اس پر کوئی روک نہیں ہے۔ اندرونی جانچ ہوتی ہے، سی بی  آئی سے جانچ کی سفارشیں ہوتی ہیں، پر لیپا پوتی ہوتی ہے اور گھوٹالہ جاری رہتا ہے۔ یہ سلسلہ اتنا بھیانک ہے کہ جانچ کمیٹیاں بھی ہار مان گئیں اور کہا کہ گھوٹالہ اتنا بھاری اور وسیع ہے کہ سی بی آئی جیسی ماہر ایجنسی ہی اس کی جانچ کر سکتی ہے لیکن ان سفارشوں کو حکومت ، انتظامیہ انگوٹھا  دکھاتی رہتی ہے۔ کو آپریٹیو ڈپارٹمنٹ کی نسوں سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ ایل ڈی بی کا سود گھوٹالہ پچھلے تین دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے ہو رہا ہے، لیکن حکومت و انتظامیہ کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ گھوٹالوں کی جانچ کرانے کے بجائے ایل ڈی بی کو بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یوگی سرکار کے کوآپریٹیو منسٹر موکوٹ بہاری ورما کی ایل ڈی بی کے اس وقت کے سماج وادی بدعنوان نظام سے خوب  چھن رہا ہے اور وہ ایل ڈی بی کا وجود ختم کر کے اربوں کھربوں کے گھوٹالے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منظر سے غائب کردینا چاہتے ہیں۔یوگی بھی ایل ڈی بی کے اس وقت کے بد عنوان نظام سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔ایل ڈی بی کے بھیانک گھوٹالے کی ایک مثال دیکھتے ہوئے پھر اس کی گہرائی میں چلتے ہیں۔سال 2008 کے صرف مئی مہینے کی ایک مثال ہم مثال کے طور پر  پیش کرتے  ہیں۔ اس ایک مہینے میں ایل ڈی بی نے بھارتیہ اسٹیٹ بینک اور یو پی کوآپریٹیو بینک میں ایک ارب 72 کروڑ روپے جمع کئے۔ سود کے بطور ایل ڈی بی کو باضابطہ طور پر 2 کروڑ 84 لاکھ 3ہزار 493 روپے ملے۔ لیکن اسی ایک مہینے میں ایل ڈی بی کے تعلق سے ذمہ داروں نے ایک کروڑ 23 لاکھ 36 ہزار 714 روپے کما لئے۔ روپے جمع کرانے کے عوض میںملنے والا کمیشن اور کم سود پر روپے جمع کرنے کے عوض میں ملی رشوت  کے کروڑوں روپے اس سے الگ ہیں۔ آپ سوچیں گے کہ کیسے ایل ڈی بی کے بد عنوان آفیسر اسٹیٹ بینک اور یو پی کوآپریٹیو بینک کے مینجمنٹ سے غیر اخلاقی قرار کرتے ہیں اور کافی کم سود پر اتنی بھاری رقم ان دو بینکوں میں جمع کرا دیتے ہیں؟ اس طرح ایل ڈی بی آفیسر ایک طرف کم سود کے فرق کی کمائی کرتے ہیں اور دوسری طرف دونوں  بینکوں سے الگ سے بھاری کمیشن اور گھوس بھی کھاتے ہیں۔ کسانوں کو قرض دینے کے لئے نابارڈ ( نیشنل اگریکلچر  اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینک ) سے ایل ڈی بی کو ملنے والاپیسہ 8 فیصد اور اس کے سود پر حاصل ہوتا ہے،لیکن ایل ڈی بی کے کمیشن خور اہلکار اسی رقم کو کم سود پر بینک میں جمع کراتے ہیں۔

 

یعنی ایل ڈی بی کو سود کا نقصان الگ سے اٹھانا پڑ رہا ہے۔ آئیے اس کا بیورا بھی دیکھتے چلیں ۔2 مئی 2008 کو اسٹیٹ بینک  میں 10کروڑ روپے 3.50 فیصد کے سود پر 11دنوں کے لئے فکسڈ ڈپازٹ کھاتے میں جمع کئے جاتے ہیں۔ اسی دن اسی بینک میں 6 الگ الگ کھاتوں میں سات سات کروڑ روپے یعنی 42کروڑ روپے 5.25  فیصد کے سود  ریٹ پر بالترتیب 16دن، 26دن، 31دن ، 39دن ،47دن اور 54 دن کے لئے فکسڈ کئے جاتے ہیں۔ دو مئی کو ہی اسی بینک میں 8 کروڑ روپے 5.25 فیصد سود  پر 61دن کے لئے فکس کئے جاتے ہیں۔ اسی تاریخ کو اسی بینک میں ایل ڈی بی کی طرف سے 90 کروڑ روپے جمع ہوتے ہیںجسے 7.5 فیصد سود ریٹ پر 91 دنوں کے لئے فکس کیا جاتا ہے۔ ہفتہ بھر بعد 9مئی کو یو پی کوآپریٹیو بینک میں 6 الگ الگ کھاتوں میںتین تین کروڑ روپے یعنی 18 کروڑ روپے بالترتیب 3.75 فیصد سود ریٹ پر 9دن کے لئے، 5 فیصد سود ریٹ پر 19 دن کے لئے ، 5فیصد سود ریٹ پر 24دن کے لئے ، 5فیصد سود ریٹ پر 32دن کے لئے، 5 فیصد سود ریٹ پر 40دن کے لئے اور 5.75 فیصد کے سود ریٹ پر 47 دن کے لئے فکس کئے جاتے ہیں۔ اسی دن 5.75 فیصد کے سود ریٹ پر کاآپریٹیو بینک میں 54 دنوں کے لئے چار کروڑ روپے بھی فکس کئے جاتے ہیں۔ دو بینکوں میں محض دو دن میں کل ایک ارب 72 کروڑ روپے جمع ہوتے ہیں۔لیکن اس پر ایل ڈی بی کو محض دو کروڑ 84 لاکھ تین ہزار 493 روپے ہی سود کے بطور مل پاتے ہیں۔ جبکہ 11فیصد سود کے ریٹ سے یہ رقم تین کروڑ  31 لاکھ 80ہزار 206 روپے ہونا چاہئے تھا۔ یہ بیچ کی رقم ایل ڈی بی کے بد عنوانی آفیسروں نے ڈکار لی۔ دستاویز بتاتے ہیں کہ 2مئی 2008 سے 29جون 2009 کے درمیان نابارڈ سے حاصل رقم کو کم سود پر مختص کرنے سے 8کروڑ 96لاکھ 754روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ایل ڈی بی کا نقصان ایک سال( 2007-08) کا ایل ڈی بی کا نقصان دیکھیں تو آپ کو حیرت ہوگی۔ اس مالی سال کا بیلنس شیٹ بتاتا ہے کہ ایل ڈی بی کو دو ارب 80 کروڑ 26 لاکھ 90 ہزار 444 روپے کا نقصان ہوا۔ ایک ایماندار آفیسر کہتے ہیں کہ گھپلوں اور گھوٹالوں کی بنیاد پر کھڑا ایل ڈی بی نہ جانے کتنے لیڈروں  اور  نوکرشاہوں کی  معیشت  بنیاد مضبوط کرتا رہا ہے۔یہ جو آپ نے ایک مثال دیکھی، اس سے آپ کو پتہ  چل گیا ہوگا  کہ ایل ڈی بی کے بد عنوان آفیسر کتنی مہارت اوراسپیڈ سے غیر قانونی کمائی کرتے رہے ہیں اور لیڈروں کو کمواتے رہے ہیں۔ ایسے ڈھیر سارے اعدادو شمار اور دستاویز ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے پاس موجود ہیں جو بھیانک سود گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ آگے بھی ہم اس کا تفصیلی تذکرہ کریں گے۔کسانوں کو قرض دینے کے لئے نابارڈ کی طرف سے بھاری رقم 8 فیصد سود ریٹ پر دی جاتی ہے اور اس رقم کو پوری بے شرمی سے لیکن بڑے ہی ماہرانہ طریقے سے کم سود ریٹ پر دے کر اندھا دھند کمائی  کی جاتی  ہے۔ ایل ڈی بی کا خسارہ بڑھتا ہے تو بڑھتا رہے، ایل ڈی بی کی نان پروڈکٹیو اسیٹ ( این پی اے ) پڑھتا ہے تو بڑھتا رہے،کیا فرق پڑتا ہے۔ ایل ڈی بی کے نان پروڈکٹیو اسیٹ، پروڈکٹیو اسیٹ کے سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔نیشنلائز بینکوں کا این پی اے بڑھنے پر کھائی کو ڈھکنے کے لئے مرکزی سرکار ملک میں نوٹ بندی لاگو کر دیتی ہے۔ لیکن ایل ڈی بی کا بڑھتا این پی اے لیڈروں  اور نوکرشاہوں کی بے شمار کمائی کا تھرما میٹر مانا جاتا ہے۔ جس بینک کا این پی اے 74فیصد تک پہنچ جائے تو اس ادارے کا کیا حال ہوگا، اسے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔ اقتدار میں بیٹھے لیڈر اور نوکر شاہ مل بیٹھ کر گھوٹالوں کی کس طرح لیپا پوتی کرتے ہیں، اسے جاننا بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ جو سود گھوٹالہ پچھلے تین دہائی سے بھی زیادہ وقت سے لگاتار چل رہا تھا، اس کا بھانڈا ایل ڈی بی ہیڈکوارٹر کے جنرل منیجر اشوک کمار دریویدی کے خلاف آئی ایک شکایت سے پھوٹا۔ شکایت صحیح آفیسر کے ہاتھ لگ گئی اور اس کی جانچ کرا دی گئی۔ اس جانچ سے ہی بھاری بھرکم گھوٹالے کی بخیہ ادھیڑنے لگیں۔لیکن اس جانچ سے یہ بھی  راز  کھل گیا کہ جنرل منیجر دریویدی  کے خلاف جانچ کرنے والی کمیٹی کے ممبر بھی اس بھیانک گھوٹالے میں ملوث ہیں۔ گھوٹالہ نکلا نابارڈ کی طرف سے ملنے والی ہزاروں کروڑ روپے کی بڑی  رقم کو بینک میں جمع کرنے کے عوض میں کمیشن کھانے کا۔

 

 

کمیشن کھانے کے چکر میں گھوٹالے باز افسروں نے قانون کو پوری طرح طاق پر رکھ دیا۔ یہ بھی دھیان نہیں رکھا کہ نابارڈ سے جتنے فیصد سود پر روپے لئے، بینک میں اس سے زیادہ کے سود ریٹ پر روپے رکھے جائیں۔ حیرت کی بات ہے کہ گھوٹالے باز آفیسر اربوں روپے کی ر قم محض چار سے پانچ فیصد کے سود ریٹ پر اسٹیٹ بینک اور یو پی کوآپریٹیو بینک میں جمع کراتے رہے اور ان بینکوں سے کروڑوں روپے کمیشن اور گھوس کھاتے رہے۔ جانچ کرنے والی کمیٹی میں  چیف  جنرل منیجر (انتظامیہ ) ایس کے ترپاٹھی، اسسٹنٹ جنرل منیجر رام پرکاش اور اسسٹنٹ جنرل منیجر راج منی پانڈے شامل تھے۔ کمیٹی نے معاملے کی جانچ کسی ماہر ایجنسی سے کرانے کی منظوری دی۔اس جانچ کمیٹی نے بے ضابطگیاں تو بہت ساری پکڑیں، لیکن ان میں سب سے اہم تھا نابارڈ سے8 فیصد سے زیادہ سود ریٹ پر ملنے والی رقم کا انتہائی کم سود ریٹ پر بینکوں میں جمع کرایا جانا۔کیسے ہوا دھندہ اس دھندے سے افسروں نے خوب غیر قانونی پیسہ کمایا اور سرکاری ادارے کو بھیانک خسارے میں جھونک دیا۔ کمیٹی نے پایا کہ بد عنوان افسروں نے محض ایک سال کی مدت میں 8 کروڑ 96 لاکھ 754 روپے کا گھپلہ کیا۔ جانچ کمیٹی نے صرف ایک دن ( 26جون 2008)کا نمونہ اٹھا کر اس کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ اس ایک دن میں بالترتیب 2کروڑ روپے 5.75 فیصد کے سود ریٹ پر 47 دنوں کے لئے، 2.75 کروڑ روپے 5.25 فیصد کے سود ریٹ پر 47 دنوں کے لئے، 2 کرورڑ روپے 5.75  فیصد سود ریٹ پر 54 دنوں کے لئے ، 4 کروڑ 5.75 فیصد کے سور ریٹ پر 61دنوں کے لئے، 4کروڑ روپے 2.25 فیصد کے سود ریٹ پر 61دنوں کے لئے ، 2 کروڑ روپے 5.75 فیصد  کے سود ریٹ پر 69 دنوں کے لئے ، 4کروڑ روپے 5.25 فیصد کے سود ریٹ پر 69 دنوں کے لئے، 2کروڑ روپے 5.75 فیصد کے سود ریٹ پر 77 دنوں کے لئے اور اسی تاریخ کو 4 کروڑ روپے 5.25  فیصد کے سود ریٹ پر 77 دنوں کے لئے اپنے ایک پسندیدہ  بینک میں جمع کرا دیئے۔ اس ایک دن میں کل 100.73  کروڑ روپے کم سود پر اپنے من چاہے بینکوں میں جمع کرائے گئے۔ اسی طرح 14فروری 2008 کو ایک ہی دن میں 185.99 کروڑ روپے کم سود ریٹ جمع کرائے گئے۔یہ رقم نابارڈ سے 8.5  فیصد کے سود ریٹ ملی تھی۔ جانچ کمیٹی نے یہ سوال بھی پوچھا کہ جب قرض تقسیم  24مارچ 2008 کو کرنا تھا تو اتنی بڑی رقم فروری مہینے میں کیوں منگوائی گئی اور کروڑوں کا نقصان کیوں  کرایا گیا؟لیکن ان سوالوں کا آج تک کوئی جواب نہیں مل پایا۔ ایک دن میں کتنی تیز رفتاری سے کمائی کی جاسکتی ہے، اس کی بڑی مثال آپ اوپر بھی دیکھ چکے ہیں۔ جانچ کمیٹی  نے یہ مانا ہے کہ قرض تقسیم کی ضرورت کے مطابق نابارڈ سے رقم منگائی گئی ہوتی اور اکائونٹ سیکشن کے ذریعہ اپنے کھاتے میں دستیاب رقم کا استعمال حسب  منصوبہ کیا گیا ہوتا تو ایل بی ڈی کو اتنا بھاری نقصان نہیں پہنچتا۔ صاف ہے کہ نابارڈ سے بھاری بھرکم رقم منگا کر اسے بینک میں کم سود پر رکھ کر زبردست کمائی ہوتی رہی ہے۔ کمیٹی نے صاف طور پر کہا کہ کھلے بازار میں دستیاب سود کی کمپی ٹی ٹیو ریٹ حاصل کرکے رقم کا اختصاص نہیں کیاگیا، بلکہ بھارتیہ اسٹیٹ بینک اور یو پی کو آپریٹیوبینک کو چن کر ان میں بہت کم سود پر بڑی بڑی رقم جمع کی جاتی رہیں۔ کمیٹی نے کھاتوں میں غلطیوں اور بے ضابطگیوں کا انبار پایا۔ایک شکایت نامے کی جانچ میں سود گھوٹالہ پکڑ میں آنے کے بعد ایل ڈی بی کے اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر نول کیشور نے اسٹیٹ بینک اور یوپی کوآپریٹیو بینک سے رقم نکال کر اسے الٰہ  اباد بینک اور پنجاب نیشنل یبنک کو گیارہ فیصد سود پر ٹرانسفر کر دیا۔ نول کیشور نے اس کے پہلے تقریباً  سارے نیشنلائز بینکوں کو بلا کر اتنی بڑی رقم کے سود  کو لے کر ریٹ مانگی اور گیارہ فیصد سود دینے پر راضی ہوئے الٰہ آباد بینک اور پنجاب نیشنل بینک میں رقم ٹرانسفر کردی۔ اس فوری قدم سے ایل ڈی بی کو تقریباً ایک روڑ روپے کا فوری فائدہ پہنچا اور اس کیس سے پہلی نظر میں ہزاروں کروڑ کی رقم کو بینک میں جمع کرنے کے عوض میں کمیشن کھانے کا گھوٹالہ باضابطہ طور پر منظور ہو گیا۔ ایم ڈی کے اس قدم سے بوکھلائے اسٹیٹ بینک نے حکومت کے سامنے اعتراض ظاہر کیا لیکن چیف سکریٹری نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے منع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گھوٹالے بازوں اور برسراقتدار لیڈر نے نول کیشور کو ہی تمام سازشوں میں پھنسانا شروع کر دیا،  ان کا تبادلہ کیا گیا،  جھوٹے مقدمے درج کرائے گئے، گرفتار کرایا گیا اور سارے تکڑم  رچ کر انہیں منظر سے باہر کر دیا گیا۔ بہر حال یہ سڑے ہوئے سسٹم کا فطری رد عمل تھا۔ ایک اور سراغایل ڈی بی کے دستاویزوں میں اس رپورٹر کو ایک اور باب ملا جو سال 2008 سے 2010 کے درمیان بھاری سود گھوٹالے کی طرف دھیان دلاتا ہے۔ اس کے مطابق 2 مئی 2008 کو ایک اور ٹرانزیکشن ہوا تھا جسے الگ فائل میں دبا کر رکھ دیا گیا تھا۔مئی 2008 کو ہوئے بڑے ٹرانزیکشن کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اسی تاریخ کو 7.5  فیصد کے سود ریٹ پر 90کروڑ  روپے 56دنوں کے لئے بینک میں ڈالے گئے تھے۔ جبکہ یہ رقم نابارڈ سے 8.5 فیصد سود ریٹ پر ملی تھی۔ پھر 16اپریل 2009 کو 7فیصد  کے سود ریٹ پر 88.50 کروڑ روپے 72دنوں کے لئے بینک میں ڈالے گئے جو نابارڈ سے 8.5 فیصد کے ریٹ پر  ملے تھے۔ 29جنوری 2010 کو 48کروڑ روپے 6فیصد سود ریٹ پر 57دنوں کے لئے بینک میں ڈالے گئے، جو نابارڈ سے 7.5 فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ پھر اسی دن 47کروڑ روپے 5فیصد سود ریٹ پر ملے تھے۔ 26فروری  2010 کو 50 کروڑ روپے محض 4.5  فیصد کے سود ریٹ پر 29 دنوں کے لئے بینک میںجمع کئے گئے، جو نابارڈ سے 7فیصد کے سود ریٹ پر حاصل ہوئے تھے۔ پھر اسی دن 36.40  کروڑ روپے 5.25  فیصد کے سود ریٹ پر 29 دنوں کے لئے بینک میں جمع کئے گئے، جو نابارڈ  سے 7فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 2008,2009 اور 2010 کے محض چار دنوں میں کل 359.90 کروڑ روپے بینک میں جمع ہوئے جس میں ایل ڈی بی کو 11فیصد سود کے حساب سے پانچ کروڑ 82 لاکھ 75 ہزار 403 روپے  ملتے،لیکن کم سود پر دینے کے سبب ایل ڈی بی کو محض 3کروڑ 40لاکھ 49 ہزار 785 روپے ہی سود کے بطور حاصل ہوئے۔ جبکہ اسے نابارڈ کو سود کے اونچے ریٹ پر ادائیگی کرنا پڑا۔ایل ڈی بی کے بدعنوان افسروں نے ان چار دنوں کے ٹرانزیکشن میں ہی 2 کروڑ 42 لاکھ 25 ہزار 618 روپے کا وارا نیارا کردیا ۔ گھوٹالے کے دستاویزوں کو کھنگالنے کے معاملے میں 2009 کی کچھ اور کار گزاریاں دیکھنے کو ملیں۔ 26 مارچ 2009 کو ایل ڈی بی نے 95.30 کروڑ روپے محض 3.75 سے 6.75 فیصد کے سود ریٹ پر بینک میں جمع کرائے۔ جبکہ نابارڈ سے یہ رقم 8.5 فیصد کے سود ریٹ پر ملی تھی۔ 16اپریل 2009 کو 88.50 کروڑ روپے 7 فیصد سود ریٹ پر جمع کرائے گئے، جو نابارڈ سے ساڑھے آٹھ فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 26جون 2009 کو ایل ڈی بی نے 247.58 کروڑ روپے بینک میں جمع کرائے اور آپ حیران ہوں گے کہ اتنی بڑی رقم الگ الگ حصوں میں بانٹ کر 1.5 فیصد سے لے کر زیادہ سے زیادہ 6.5 فیصد کے سود ریٹ پر جمع کرائی گئی۔ جبکہ نابارڈ نے یہ رقم 8.5 فیصد کے سود ریٹ پر دیا تھا۔ ایک اور کاغذ دکھائی دیا، جس میں 29جون 2009 ، 29جنوری 2010 اور 26فروری 2010 کے لین دین کا بیورا ہے۔ 29جون 2009 کو 52.49 روپے 5.25 فیصد کے سود ریٹ پر جمع کرائے گئے۔ یہ رقم نابارڈ نے ساڑھے آٹھ فیصد کے سود ریٹ پر دیا تھا۔ 29 جنوری 2010 کو ایل ڈی بی نے 95 کروڑ روپے محض 5 فیصد کے سود ریٹ پر بینک میں جمع کرائے جو کہ اسے نابارڈ سے ساڑھے سات فیصد کے سود ریٹ پر ملا تھا۔ 26فروری 2010 کو 128.40  کروڑ روپے 6 حصوں میں بانٹا گیا، صرف دو سے پانچ فیصد کے سود ریٹ پر بینک میں رکھے گئے جو ایل ڈی بی کو نابارڈ سے سات فیصد سود ریٹ پر حاصل ہوئے تھے۔ اس سے ہوئے بھاری نقصان کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ ایل ڈی بی  میں بالکل اندھیر گردی مچی تھی۔ اس سرکاری ادارے کو اربوں روپے کا سلسلہ وار نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔یہ نقصان بدعنوان لیڈروں اور افسروں کو بڑی جائیداد کا مالک بنا رہا تھا۔ سلسلہ تین دہائی سےجیسا کہ ہم نے اوپر بھی بتایا کہ ایل ڈی بی  میں سود گھوٹالہ تین دہائی سے بھی زیادہ وقت سے لگاتار چل رہاہے۔ 2003 سے لے کر 2008 کے درمیان بھی مختصر جائزہ لے لیں۔ 10نومبر 2003 کو محض  چار فیصد کے سود ریٹ پر 108کروڑ روپے جمع کرائے گئے تھے، جو نابارڈ سے 6.5 سے 8.5 فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔15 دسمبر 2003  کو ایل ڈی بی نے 4 فیصد کے سود ریٹ پر 121 کروڑ روپے بینک میں جمع کئے جو اسے نابارڈ سے 7.25 فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 23 جنوری 2004 کو محض چار فیصد سود ریٹ پر 70 کروڑ روپے بینک میںجمع کرائے گئے جو نابارڈ نے 7فیصد کے سود ریٹ پر دیئے تھے۔ ایک مارچ 2004 کو 40 کروڑ روپے 4 فیصد کے سود ریٹ پر جمع ہوئے جو نابارڈ سے 6.25 فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 25مارچ 2004 کو 150 کروڑ روپے محض 4.5 فیصد کے سود ریٹ پر بینک میں جمع کرائے گئے۔یہ رقم نابارڈ سے 6.75فیصد کے سود ریٹ پر ملی تھی۔ 29مارچ   2004کو 107 کروڑ روپے محض 4.5 فیصد کے سود ریٹ پر جمع کرائے گئے جو نابارڈ نے 6.75 فیصد کے سود ریٹ پر دیئے تھے۔ 29

 

 

جون 2004 کو 113 کروڑ روپے 4.5 فیصد سود ریٹ پر جمع کرائے گئے، جو نابارڈ نے 6.75  فیصد کے سود ریٹ پر دیئے تھے۔ 24 جنوری 2005 کو 242 کروڑ روپے چار سے ساڑھے چار فیصد کے سود ریٹ پر جمع کرائے گئے، جسے نابارڈ نے 6.75 فیصد کے سود ریٹ پر دیا تھا۔ 28فروری 2005  کو 114کروڑ روپے چار فیصد کے سوریٹ پر جمع ہوئے جو نابارڈ سے 6.75  فیصد سود ریٹ پر ملے تھے۔ 20جون 2005 کو 210 کروڑ روپے 5.25 فیصد کے سود ریٹ پر بینک میںجمع کرائے گئے، جبکہ نابارڈ سے مذکورہ رقم 6.75 فیصد کے سود ریٹ پر ملی تھی۔ 27جون 2005 کو 63کروڑ روپے 5.25  فیصد سود ریٹ پر جمع کرائے گئے جو  نابارڈ  سے 6.75 فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 17مارچ 2006 کو 124 کروڑ روپے 5 فیصد سود ریٹ پر بینک میں جمع کئے گئے ،جو نابارڈ سے 7فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 29جون 2006کو 151کروڑ روپے 6.5 فیصد کے سود ریٹ پر جمع ہوئے جو نابارڈ سے 7فیصد کے سود ریٹ پر ملے تھے۔ 6فروری 2007 کو 163.01 کروڑ روپے پانچ سے لے کر 6 فیصد کے سود ریٹ پر جمع کئے گئے تھے، جو نابارڈ سے 7.25 فیصد کے ریٹ پر ملے تھے۔ 2007اور 2008 کے سات دنوں (2007کے 6فروری ، یکم مارچ، 21جون ،26جون اور 2008 کے 14فروری اور 26مارچ ) میں ہوئے 651.23 کروڑ روپے کے 18 ڈپازٹ میں سے صرف تین ایسے ڈپازٹ دکھائی دیے جسے ایل ڈی بی نے 9فیصد کے سود ریٹ پر بینک میں جمع کیا۔ کوآپریٹیو محکمہ کے اس وقت کے چیف سکریٹری کام رجسٹرارسنجے اگروال نے کوآپریٹیو محکمہ کے مالی صلاح کار اور چارٹرڈ اکائونٹینٹ پی کے اگروال سے سود گھوٹالے کی جانچ کی فارملیٹی کرائی تھی۔ پی کے اگروال نے سیمپل کی شکل میں ایک کم مدت کی جانچ کی اور اس میں کروڑوں کا گھوٹالہ پکڑا۔ انہوںنے اپنی جانچ رپورٹ میں گھوٹالے کی باضابطہ  تصدیق کی اور کہا کہ  لمبی  مدت کی جانچ کرائی جائے تو صرف سود کے نقصان کی رقم ہی اربوں میں پہنچ جائے گی۔ کمیشن اور رشوت کھانے کی رقم اس سے الگ ہوگی۔ منیجنگ ڈائریکٹر کی کمیٹی نے ایک سال کی مدت میں8 کروڑ 96 لاکھ 61 ہزار 754 روپے کی کمیشن خوری پکڑی تھی۔ جانچ  رپورٹ  کی بنیاد پر کوآپریٹیو محکمہ کے رجسٹرار نے قصورواروں کے خلاف فوری  طور سے قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ انہوںنے سینئر رجسٹرار اونکار یادو کو ایل ڈی بی کے 7 قصوروار افسروں، چیف جنرل منیجر (مالیات ) آر کے دیکشت ، اسسٹنٹ چیف جنرل منیجر (اکائونٹنگ ) اشوک کمار دریویدی، اسسٹنٹ جنرل منیجر (اکائونٹ)  ایس سی بشٹ،  اسسٹنٹ جنرل منیجر ( اکائونٹ) ستیہ نارائن چورسیا، اسسٹنٹ جنرل منیجر (اکائونٹ) انیل کمار پانڈے، اسسٹنٹ جنرل منیجر (اکائونٹ ) سبھاش چندر اور اسسٹنٹ جنرل منیجر (اکائونٹ) دھرمیندر کمار سنگھ کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا ذمہ دیا لیکن اقتدار کا تحفظ یافتہ اونکار یادو نے حکومت کا وہ حکم دبا دیا ۔اونکا ر یادو کوئی کارروائی نہیں کئے جانے پر سینئر رجسٹرار اشوک کمار ماتھر کو اس کا ذمہ دیا گیا لیکن ماتھر نے بھی کچھ نہیںکیا۔ پھر چیف منیجر اور بھنداراگار نگم کے ایم ڈی بھوپندر بشنوئی کو کارروائی شروع کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ بشنوئی نے گھوٹالے کے قصورواروں پر کارروائی کرنے کے بجائے سارے قصورواروں کو کلین چٹ دے دی۔ پھر یہ معاملہ ایل ڈی بی کے چیئر مین کے پاس گیا تو چیئر مین بھی گھوٹالے بازوں کے حق میں کھڑے ہو گئے اور گھوٹالے کو ہری جھنڈی دے دی۔ اس کے بعد گھوٹالے کی فائلوں کا ڈھکن بند کردیا گیا۔ گھوٹالہ بدستور جاری رہا۔8 فیصد کے سود پر لیے گئے نابارڈ کے اربوں روپے کو ڈیڑھ فیصد سے لے کر پانچ، چھ فیصد سود پر بینک میں رکھنے سے جو سرکار کو نقصان ہوا اور کم سود پر روپے دے کر جو بھاری کمیشن کھایا گیا ،اس رقم کا حساب لینے اور قصورواروں پر کارروائی کرنے کے بارے میں سرکار نے کوئی خبر ہی نہیں لی۔ کوآپریٹیو محکمہ کے جوائنٹ منیجر ڈی کے شکل نے گھوٹالے کے قصورواروں پر جوابدہی مقرر کرنے کے لئے ضلع اسسٹنٹ رجسٹرار روی کانت سنگھ،کو انسپکٹر ایم ڈی دریویدی اور بی ایل گپتا کو مقرر کیا تھا۔ اس جانچ ٹیم نے بھی تھوڑی مدت کی جانچ کی اور 10کروڑ 22لاکھ 90 ہزار 486 روپے کا نقصان پکڑا، روی کانت سنگھ نے اپنی جانچ  رپورٹ  میں لکھا کہ کم مدت میں تقریباً 11کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا گیا تو لمبی مدت کے درمیان کتنا گھوٹالہ کیا گیا ہوگا۔ اس کے بارے میں صرف سوچا جاسکتا ہے۔ سنگھ نے لکھا ہے کہ پوری مدت کی جانچ ممکن نہیں ہے۔ اس کی جانچ کسی ماہر ایجنسی سے ہی ممکن ہے۔ اس طرح الگ الگ تین جانچ کمیٹیوں نے تھوڑی مدت کا نمونہ بنا کر اس کی جانچ کی اور الگ الگ کروڑوں روپے کی گھپلے بازی پکڑی۔ ادھر نابارڈ نے بھی اتنی بڑی رقم کو کم سود پر بینک میں رکھنے پر باضابطہ طور پر اعتراض کیا اور اپنی سطح پر معاملے کی جانچ کر کے بڑے گھوٹالے کی تصدیق کی۔نابارڈ نے لینڈ ڈیولپمنٹ بینک کو رقم دینا قریب قریب  بند ہی کر دیا۔ اس سے ابھرنے کے لئے اکھلیش سرکار ایل ڈی بی کا 1650 کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیا۔ اکھلیش سرکار نے کہا کہ کسانوں کا قرض معاف کیا جارہا ہے، جبکہ اصلیت میں ایل ڈی بی کا ڈوبا ہوا پیسہ معاف کیا گیا تھا۔ کیونکہ ایل ڈی بی کسانوںکو دیا ہوا قرض پہلے ہی وصول کر چکا تھا۔ یہاں تک کہ کسانوں کو راحت دینے کے لئے ان کے قرض پر ملنے والے مرکزی گرانٹ کی رقم بھی ایل ڈی بی نے ہڑپ لی۔ سوال یہ ہے کہ جب اکھلیش سرکار نے کسانوں کا 1650 کروڑ روپے کا قرض معاف ہی کر دیا تھا تو 2012-13 اور 2013-14 میں قرض وصولی کی مانگ کیوں بڑھی؟اسے تو کم ہونا چاہئے تھا؟پھر اس درمیان نابارڈ نے ایل ڈی بی کو پیسہ دینا کیوں بند کریا؟گھوٹالے کی بخیہ ادھیڑنے والے ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ نہ سرکار کے پاس اور نہ ایل ڈی بی کے پاس۔ اس بڑے گھوٹالے میں اترپردیش سرکار کے علمبرار برابر کے شریک تھے، اس لئے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی پہل کبھی نہیں کی گئی۔ستم ظریفی  ستم ظریفی یہ ہے کہ ایل ڈی بی کے افسران کم سود پر نابارڈ کا پیسہ بینکوں میں جمع کر کے کمیشن کھاتے رہے، لیکن کسانوں کو دیئے جانے والے قرض پر14سے 15 فیصد تک سود وصول کرتے رہے۔ چھوٹے  روزگار   اور مویشی پروری کے لئے دو لاکھ روپے کے قرض پر  کسانوں  سے 14فیصد اور 2 لاکھ سے زیادہ کے قرض پر 14.25 فیصد سود وصول کیا گیا۔ ڈیری، شہد کی مکھی، ماہی گیری یا ایسے چھوٹے روزگار کے لئے دو لاکھ کے قرض پر کسانوں سے 14.25 فیصد اور دو لاکھ روپے سے زیادہ قرض پر 14.50 فیصد سود وصول کیا گیا۔ کمیشن دینے والے بینکوں پر نرم رہنے والے آفیسر کسانوں سے زیادہ سود وصول کرنے میں جلاد بنے رہتے ہیں۔ایل ڈی بی میں سود گھوٹالہ پکڑ میں آنے کے بعد کمرشیل بینکوں کے لئے روک تھام کے راستے  کھول دیئے جانے اور نابارڈ کے سخت رخ کے سبب ادھر سود کی لوٹ تو کم ہوئی لیکن فرضی قرض بانٹنے کا دھندہ تیزی سے بڑھنے لگا ۔ اس کی بھی ایک مثال دیکھئے، قرض پانے والے کسانوں کی تعداد 23.96 لاکھ تھی، لیکن فرضی نام جوڑ کر اس تعداد کو 29.15 لاکھ کر دیا گیا اور قرض کی رقم ہڑپ لی گئی ۔ فرضی قرض بانٹنے کی ایسی ڈھیر ساری مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایل ڈی بی کے افسروں نے کسانوں کو ملنے  والی  سبسڈی کا پیسہ بھی کھانا شروع کردیا ۔باقاعدہ قرض جمع کرنے والے کسانوں کو یہ بتایا بھی نہیں جاتا کہ ان کے لئے مرکزی سرکار سے سبسڈی آئی ہے۔ کسان کسی طرح جدو جہد کرکے اپنا قرض جمع کرتے ہیں اور ایل ڈی بی آفیسر ان کے لئے آئی سبسڈی کا پیسہ کھاتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل ڈی بی میں  رشوت  لے کر ٹرانسفر  پوسٹنگ کا دھندہ بھی خوب چل رہا ہے۔ بد عنوانی اور بے ضابطگی  کے سبب ایل ڈی بی کا دیوالیہ نکل چکاہے۔ ملازموں کی تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ نابارڈ کا پیسہ تک جمع نہیں ہو رہا ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ ایل ڈی بی کو پچھلے مہینے کو آپریٹیو بینک میں جمع ریزرو فنڈ سے 200 کروڑ روپے نکال کر کام چلانا پڑا۔ ریزرو فنڈ کے یہ روپے اُوَر ڈرافٹ کے ذریعہ نکالا گیا۔ اسی  پیسے سے تنخواہ  دی گئی۔ ریزرو فنڈ سے پیسہ  نکالنا  منع ہے۔ لیکن ایل ڈی ب  میں قانون و نظام کون مانتا ہے۔باکس سود کی ہیرا پھیری : دیکھئے 13دن کا نقصان ایل ڈی بی کے سود گھوٹالے کے چھوٹے چھوٹے سمپل نکال کر ان کی جانچ کرنے والے افسروں نے بھی کہا ہے کہ یہ اتنا بڑا اور بھیانک گھوٹالہ ہے کہ اس کی جانچ سی بی آئی جیسی ماہر ایجنسی ہی کر سکتی ہے۔ زیادہ سود ریٹ پر نابارڈ سے ملنے والی بڑی رقموںکو کم  سود  ریٹ پر بینک میں فکس کرنے کا ایل ڈی بی افسروں کا کھیل کتنا نقصان دہ رہا، اس کا ہم اندازہ ہی لگا سکتے ہیں۔ اس کا  صحیح پتہ تو سی بی آئی کی چھان بین سے ہی لگ پائے گا۔ گھوٹالے کے دستاویزوں کو کھنگالتے ہوئے ایک ایسا ہی دستاویز ہاتھ لگا جس میں سود گھوٹالے کے سبب ایل ڈی بی کو ہوئے نقصان کا ذکر ہے۔ لین دین کی کچھ تاریخوں میں کتنا نقصان ہوا، اس کا ذکر ہے، لیکن اسے دیکھنے سے نقصان کی گہری کھائی کا اندازہ لگ جائے گا۔ محض 13 دنوں میں ایل ڈی بی کو کتنا خسارہ پہنچایا گیا، اس کی ایک چھوٹی سی توضیح  دیکھئے:تاریخ نقصانیکم مارچ 2007 2919332.1921/06/2007 11203682.1926/06/2007 9398700.0028/06/2007 4202071.2314/02/2008 3465489.0426/03/2008 459465.7602/05/2008 4156643.8409/05/2008 634931.51 26/06/2008 4982767.1226/03/2009 6568801.3716/04/2009 10474520.5526/06/2009 30380004.1129/06/2009 7507875.34مندرجہ بالا 13 دنوں کا نقصان 64705543.84کروڑ
باکس  ایل ڈی بی کا کوآپریٹیو بینک سے انضمام الگ الگ دور حکومت میں لیڈروں اور نوکر شاہوں نے لینڈ ڈیولپمنٹ بینک ( ایل ڈی بی )کے ذریعہ خوب کمائی کی۔لیکن گھوٹالوں کی جانچ کرنے اور گھوٹالے بند کرنے کی کبھی کوئی پہل نہیں ہوئی۔ گھوٹالہ کر کرکے ایل ڈی بی کو بھیانک نقصان میں دھکیل دیا اور اسے آخری طور پر بند ہونے کی حالت میں لا کھڑا کیا۔ سماج وادی پارٹی کی سرکار کے دور کار میں ایل ڈی بی کو پوری طرح کھوکھلا کر دیا گیا۔ اب بی جے پی کی سرکار بھی گھوٹالے کی سی بی  آئی جانچ کرنے کے بجائے ایل ڈی بی کو ہی بند کرکے اترپردیش کوآپریٹیو بینک میں اس کا انضمام کرنے جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک کمیٹی تشکیل کرکے 15دنوں کے اندر انضمام کے سارے نکات کا جائزہ لے کر رپورٹ سونپنے کو کہا ہے۔ انضمام ہونے سے ایل ڈی بی کی ساری جوابدہی یو پی کو آپریٹیو بینک کے سر چلی  جائے  گی اور گھوٹالے باز چین کی سانس لیں گے۔ ایل ڈی بی کو یو پی کوآپریٹیو بینک میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع کوآپریٹیو بینکوں کا بھی یو پی کو آپریٹیو بینک میں انضمام کر دیا جائیگا۔ کوآپریٹیوز معاملوں  میں ماہرین نے بتایا کہ انگریزوں نے 1913 میں جو کریڈٹ پالیسی بنائی تھی، اسی پالیسی پر اب بھی یہ بینک چل رہے ہیں۔ویدیہ ناتھ  کمیٹی  نے کہا بھی تھا کہ شارٹ ٹرم لون اور لانگ ٹرم لون کے لئے الگ الگ بینک رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے، سب کو ایک میں   ضم   کر دینا چاہئے۔ مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور کچھ دیگر ریاستوں میں ایل ڈی بی اور کو آپریٹیو بینک کا مرج ہو چکا ہے۔یو پی سرکار بھی  ضم  کی تیاری میں لگی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس سلسلے میں 4 مئی کو نابارڈ کے افسروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ نابارڈ نے ایل ڈی بی سمیت دیگر کو آپریٹیو بینکوں کے انضمام  کو لے کر ایک تجویز یوگی سرکار کو بھیجا تھا۔ اتر پردیش میں کوآپریٹیو بینکوں کا قیام کسانوں کو کم اور زیادہ دنوں کے لئے قرض دینے کے لئے ہوا تھا۔اس میں ضلع  کوآپر یٹیو  کمیٹیوں کو مختصر مدت کا قرض تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی اور کوآپریٹیو اگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ بینکوں  کو لانگ ٹرم قرض دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن بد عنوانی اور بے ضابطگی کے سبب ایل ڈی بی ٹائٹینک جہاز ہو گیا اور کوآپریٹیو بینک بند ہوتے چلے گئے۔ انہیں زندہ رکھنے کی تمام کوششیں بھی فیل ہو گئیں۔ بینکوں کے طریقۂ کار میں سدھار کے لئے نابارڈ نے کئی سجھائو حکومت کو بھیجے ہیں۔ اتر پردیش لینڈ ڈیولپمنٹ بینک ( رورل ڈیولپمنٹ بینک ) کا قیام 1959 میں کوآپریٹیو ایکٹ کے تحت ہوا تھا۔ ابھی اترپردیش میں ایل ڈی بی کی کل 323شاخیں ہیں۔ اترانچل کی 19شاخیں بند ہو چکی ہیں۔262 شاخیں تحصیل سطح پر اور 80شاخیں ڈیولپمنٹ ڈویژن کی سطح پر ہیں۔ باکس مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کارپوریشنز میں سرمایہ کاری کرکے ڈوبو دیئے ای پی ایف کے کروڑوں روپے۔اتر پردیش کوآپریٹیو رورل ڈیولپمنٹ بینک لمیٹیڈ  پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹ نے مہاراشٹر اور مدھیہ  پردیش  کے کارپوریشنز میں پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹ ( ای پی ایف ) کے کروڑوں روپے انوسٹ کیے اور وہ رقم ڈوب گئی۔ ٹرسٹ نے بغیر کسی سرکاری گارنٹی کے مذکورہ رقم انوسٹ کیا۔ کارپوریشنزنے وہ پیسہ خرچ کر دیا ور اتر پردیش کے کروڑوں روپے اصل اور سود سمیت ڈوب گئے ۔ اتنی بڑی رقم کے ڈوب جانے کے باوجود اب بھی ای پی ایف میں جمع پیسے کو انوسٹ کرنے کا کھیل جاری ہے۔ ایل ڈی بی کے ای پی ایف ٹرسٹ نے نئی دہلی کے ایلیانز  سیکوریٹی ، مہاراشٹر کے کونکن ایریگیشن ڈیولپمنٹ، کرشن ویلی ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، مینن فائننس سروسز، اے کے کیپیٹل سروسز لمیٹیڈ اور مدھیہ پردیش کے تمام کارپوریشنز میں ای پی ایف میں جمع کروڑوں کی رقم انوسٹ کر دی۔ اس انوسٹ کے بدلے ان کارپوریشنز سے اصل پونجی کی واپسی اور سود کی ادائیگی کی کوئی سرکاری گارنٹی نہیں لی گئی۔ ٹرسٹ میں شامل افسروں کو 20پیسے فی سیکڑا ( فی سو روپے )  کے حساب سے کمیشن ملا۔ سب نے اس کا بندر بانٹ کیا اور مست ہو گئے۔ ایل ڈی بی کے ای پی ایف ٹرسٹ میں ایل ڈی بی کے چیف جنرل منیجر (مالیات) دامودر سنگھ، جنرل منیجر ( ایڈمنسٹریشن ) رام جتن یادو، جنرل منیجر (گرچیوٹی ) ارون کمار بہوکھنڈی ، سکریٹری (ٹرسٹ) مظہر حسین اور ملازم نمائندہ نیتر پال سنگھ وغیرہ شریک تھے۔ مدھیہ پردیش اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپویشن  لمیٹیڈ ( ایم پی ایس آئی ڈی سی ) میں ایل ڈی بی کے ذریعہ انوسٹ  کئے گئے  کروڑوں روپے بھی ڈوب گئے ۔ نہ اصل پونجی ملی نہ سود۔ ایم پی ایس آئی ڈی سی کو 12 فیصد سود پر رقم دی گئی تھی۔ اسی طرح ایل ڈی بی نے ریاستی انڈسٹریل اینڈ انوسٹمنٹ کارپوریشن آف یو پی میں بھی ای پی ایف کی رقم انوسٹ کی، اس میں بھی بھاری نقصان ہوا۔ غنیمت مانئے کہ بڑی جدو جہد کے بعد سرکاری مداخلت سے کسی طرح اصل پونجی ری کور ہو سکا۔ سود تو پورا کا پورا ڈوب ہی گیا۔ کوآپریٹیو محکمہ کے علاوہ رجسٹرار اور ایل ڈی بی کے چیف جنرل منیجر پریم شنکر نے معاملے کی جانچ کی۔ جانچ میں پایا گیا کہ زبردست بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ جانچ رپورٹ  میں اس معاملے کی بھی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی سفارش کی گئی۔ اس سفارش پر چیف سکریٹری کی صدارت میں اسٹیٹ اورنیس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی اور اتر پردیش کوآپریٹیو رورل بینک لمیٹید پروویڈنٹ فنڈ ٹرسٹ میں ہوئے کروڑوں روپے کے گھوٹالے کی جانچ اکانومک کرائم ریسرچ  برانچ سے کرائے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔ حکومت نے  ایل ڈی بی مینجمنٹ کو اس معاملے میں فوری ایف آئی آر کرا کر حکومت کو مطلع کرنے کا حکم دیا، تاکہ اکانومی کرائم ریسرچ برانچ ( ای او ڈبلیو ) سے معاملے کی جانچ شروع ہو سکے۔ لیکن ایل ڈی بی مینجمنٹ نے حکومت کی ہدایتوں کو طاق پر رکھ دیا۔ ایل ڈی بی کے ایم ڈ ی رام جتن یادو نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی،  کیونکہ  اس گھپلے میں وہ خود بھی ملوث تھے۔ یہاں تک کہ رام جتن یادو نے معاملے کو رد کرنے کے لئے حکومت کو خط لکھ ڈالا ۔ حکومت نے یادو کی اس تجویز کو خارج کر دیا لیکن معاملہ جوں کا توں رہ گیا ۔نہ ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ جانچ آگے بڑھی۔ گھوٹالے باز آج بھی اپنی حرکتیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایل ڈی بی کے موجودہ ایم ڈی شری کانت گوسوامی ہیں۔ گوسوامی نے بھی ای پی ایف گھوٹالہ معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں کرائی۔گوسوامی کی خوبی یہ ہے کہ جب وہ عہدہ پر نہیں ہوتے ہیں تو گھپلے  ،گھوٹالے پر سخت کارروائی کے لئے لکھتے رہتے ہیں اور جب خود عہدہ پر آتے ہیںتو گھپلے، گھوٹالوں کی فائل دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بے وجہ تو نہیں ہی بیٹھتے ہوںگے۔ فرضی قرض گھوٹالے کی جانچ کرانے  کے لئے لکھیم پور کھیری کے اس وقت کے کلکٹر نے کو آپریٹیو منیجر کو لیٹر لکھا تھا۔ منیجر نے تب کوآپریٹیو محکمہ کے جوائنٹ منیجر رہے شری کانت گوسوامی کو جانچ کے لئے کہا۔ گوسوامی نے جانچ کے بعد ایل ڈی بی کے اس وقت کے ایم ڈی آلوک دیکشت کو قصوروار کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے  اور قانونی  کارروائی  کرنے کا حکم دیا۔ لیکن معاملہ دبا رہ گیا۔ اب گوسوامی خود ایل ڈی بی کے ایم ڈی ہیں۔ اب وہ خود ایسے تمام گھوٹالوں کی فائلیں دبا کر بیٹھے ہیں۔ ایسا وہ بے وجہ تو نہیں ہی کرتے ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *