پورن سائٹ:بچوں سے بچپن چھین رہی ہے

ہمارے ملک میں بچوںکا بچپن اور ان کی کم سنی ختم ہورہی ہے۔ اس افسوسناک حالت کے پیچھے کوئی اور نہیں خود بچے ہیں اور انٹرنیٹ۔
ہندوستان میںانٹر نیٹ کی تشہیر و توسیع دن دوگنی رات چوگنی رفتار سے ہورہی ہے۔ گاؤں گاؤں میںانٹرنیٹ پہنچانے کی سرکار کی منصوبہ بندی ہے۔ موبائل فون کمپنیاں ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار کے موبائل کے اوپر انٹرنیٹ کی سہولت دے رہی ہیں اور خاص طور سے چین میں بنے موبائل سیٹ ہر طرح کے تکنیکی اثرسے لیس ہیں۔ دوسری طرف انٹرنیٹ پر جہاںعلم کا بہت بڑاا ذخیرہ دستیاب ہے، وہیں انٹر نیٹ پر گمراہ کن علم کا بھی بڑا ذخیرہ دستیاب ہے اور اس خزانے میں سب سے زیادہ خطرناک پورن سائٹ ہے۔ یہ پورن سائٹس سیکس کی خوفناک اور گھناؤنی تصویر سامنے رکھ رہی ہیں اور اس کا سب سے خطرناک اثر پانچ سال سے دس سال کی عمر تک کے بچوں پر پڑ رہا ہے۔ و ہ بچپن کا چہکنا، معصومیت اور مسکراہٹ سب کچھ بھول گئے ہیں۔
عائلی مصروفیت اور زندگی کی لڑائی میں والدین کے پاس اب اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو خاص طور سے پانچ سال سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کو یہ بتائیںکہ انٹر نیٹ سے علم کیسے سرچ کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے بچوںکو خوش کرنے کے لیے اور خاص طور سے اسٹیٹس سمبل کی وجہ سے اپنے بچوںکو موبائل فو ن دلارہے ہیں۔ متوسط طبقے کے لوگ اپنے بچوںکو اسمارٹ فون دلا رہے ہیں۔ اسمارٹ ٹیب دلا رہے ہیں اورشہروں میںرہنے والے غریب اور گاؤں میں رہنے والے عام لوگ اپنے بچوںکو ایسے سستے فون دلا رہے ہیں، جن میں انٹر نیٹ کی ساری سہولتیںموجود ہیں۔ اس کا کیا استعمال کرنا ہے، اس کی سیکھ کوئی ماں باپ اپنے بچوںکو نہیںدیتا۔
اب خاندان چھوٹے ہوگئے ہیں۔ مائیکرو فیملی ہوگئی ہیں۔ ان خاندانوں میںصرف تین یا چار لوگ رہتے ہیں۔ کوئی کسی کے اوپر نظر رکھنے والا نہیں ہے۔ جیسے ہی ماں باپ گھر سے باہر کام کے سلسلے میں گئے، گھر میں رہنے والے پانچ سال سے دس سال تک کے بچوں کی بڑی تعداد موبائل پر دستیاب انٹرنیٹ موادپر کود جاتی ہے اور اس میں کودنے کا نتیجہ ان کی کم سنی اور معصومیت کے خاتمے کی طرف لے جاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر متعدد پورن سائٹس ہیں۔ جو ہر زبان میں ہیں۔ ہندی میں ایسی پورن سائٹ لوگوںکے بیچ میںرشتوں کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔ ان پورن سائٹس پر باپ بیٹی کا تعلق، ماں بیٹے کا تعلق، بہن بھائی کا تعلق، بہن کی سہیلی کا اپنے بھائی سے تعلق، ماں کے آنکھوںکے سامنے بیٹی کا ،اس کی بیٹی سے تعلق، باپ کا بیٹی کی سہیلیوں سے تعلق، جتنے رشتے ہوسکتے ہیں ماما، مامی، چاچا، چاچی، بھائی، بھابھی، بھائی ، بہن، ماں باپ، ان سب رشتوں کو تار تار کرنے والی کہانیاں اس وقت انٹرنیٹ کی پورن سائٹس پر موجود ہیں۔ پانچ سال سے دس سال تک کے بچے ایک کلک میںجب وہاں پہنچ جاتے ہیں، جسے گوگل انھیںآسانی سے وہاں لے جاتا ہے تو ان کے دل میںاپنی بہن کو، اپنی ماں کو، اپنی چاچی کو، دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ وہ انھیں رس لے کر پڑھتے ہیں۔ اعلیٰ طبقے کے لڑکے انگریز ی پڑھتے ہیں لیکن متوسط اور نچلے درمیانی طبقے کے لڑکے ہندی بشمول تمام دوسری زبانیں جن میں گجراتی، مراٹھی، کنّڑ، تمل، تیلگو سب شامل ہیں، انھیںوہ رس بھری کہانیاں مل جاتی ہیں۔
ان کہانیوں کا مقصد صرف سیکس کے گندے پہلو سے متعارف کرانا نہیں ہے بلکہ ان رشتوںمیں بھی آگ لگانا ہے جو رشتے ابھی سماج میںبچے ہوئے ہیں۔ آج سماج میںکسی کے پاس اتنا وقت نہیںہے کہ ان کے پانچ سال سے اور بارہ سال تک کے بچوںکے بیچ یا ان کے دوستوںکے بیچ کیا باتیںہورہی ہیں، کس طرح کی باتیں ہورہی ہیں، وہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں،موبائل ان کی ہتھیلی میں ہے ،اس پر کیا سرگرمیاںچل رہی ہیں ، اسے جاننے کی فرصت ماں باپ کے پاس نہیںہے۔ اسی لیے سماج میںاس طرح کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اب عصمت دری دس سال اور پانچ سال کے بچوں کے بیچ میں ،چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکی یا لڑکے لڑکے ہی کیوںنہ ہوں، تیزی سے بڑھ گئے ہیں۔ اور جب ہمارے سامنے ایسے قصے آتے ہیں کہ دس سال کے لڑکے نے پانچ سال کی یاتین سال کی لڑکی کے ساتھ جنسی جرم کیایا دس سال کے لڑکے نے چھ سال کی لڑکی کے ساتھ جنسی جرم کیا تو ہم تھوڑی دیرکے لیے سن ضرور رہ جاتے ہیں لیکن اس کا سبب تلاش کرنے کی کوشش نہیںکرتے۔ موبائل کا کریز جتنامتوسط طبقے اور اعلیٰ طبقے میں ہے، اتنا ہی پاگل پن اب نچلے درمیانی طبقہ میںپیدا ہوگیا ہے۔ ایک خاندان جو دس ہزار روپے مہینے کماتا ہے، اس خاندان میں بھی والدین کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ہاتھ میں یا بیٹیوںکے ہاتھ میںبھی موبائل آگیا ہے اور وہ بچے ہی گھر کی لڑکیوںکو موبائل پر وہ سارے مواد فراہم کراتے ہیں، جن کے ساتھ ان کا رشتہ بھائی بہن کا ہے۔

 

 

مجھے نہیںپتہ کہ اس کے اوپر کوئی سماجی مطالعہ ہورہا ہے یا نہیںہورہا ہے۔ لیکن سماج کے بیچ سے ایک ایسی بگڑی ہوئی تصویر سامنے نکل کر آرہی ہے جہاں پر ہم اس سماج کی طرف جارہے ہیں، جس سماج میں علم کی جگہ گھناؤنے رشتے اور جنسی ہیجان زیادہ موجود ہے۔ میرے کچھ دوستوںنے اس صورت حال کی شکایت مجھ سے کی اور تب میںنے اس کی تلاش میںماہر سماجیات سے بات چیت کی اور کچھ ان لوگوں سے بھی بات چیت کی جو انٹرنیٹ کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ پانچ سال سے بارہ سال تک کے بچے سب سے زیادہ وقت پورن سائٹ پر لگاتے ہیں اور وہاں سے وہ ساری جانکاری حاصل کرتے ہیں، جس کی ضرورت انھیںسولہ یاسترہ سال کی عمر کے بعدہوتی ہے۔ لیکن اب چھ سال کا بچہ بھی جسم کے ہر عضو سے واقف ہوجاتا ہے۔ چھ سال کا بچہ عورت او ر مرد کے تعلقات، فطری ہوں یا غیر فطری، اس سے واقف ہوتا ہے۔ اور ان سب کا پریکٹیکل وہ اپنے ہی گھر میںکرتا ہے۔ اب گھر میںجنسی تشدد کے یاجنسی استحصال کے معاملے بڑی عمر کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ چھوٹی عمر میںیہ اشتیاق اور رضامندی سے ہوتے ہیں۔ پورن سائٹس جو رشتوں کو تارتار کرتے ہوئے سیکس کی بے شرمی کی کہانیاں بچوںکے سامنے بھیج رہی ہیں،وہ بچوںمیںبے شرمی کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں نفسیاتی غلط فہمیاںبھی پیدا کررہی ہیں۔ اس کی کوئی روک تھام نہیں ہے، سوائے اس کے کہ گھر کے بڑے یہ نظر رکھیںکہ پانچ سال سے بارہ سال تک کے بچے انٹرنیٹ پر اپنے موبائل پریا اپنے ٹیب پر کیا کررہے ہیں۔ ان کے رشتے کن دوستوںسے ہیں اور ان دوستوںپر بھی گھر کی خاتون ممبر کو نظر رکھنی چاہیے۔ تاکہ وہ سمجھ سکیںکہ ان کے بچے کسی ذہنی عوارض کی طرف تو نہیںجارہے ہیں۔ اس کا پورا انتظام انٹرنیٹ پر لاکھوںیا کروڑوں پورن سائٹس نے کررکھا ہے۔
ایک بار سشما سوراج نے جب وہ وزیر اطلاعات و نشریات تھیں، اس سوال کو اٹھایاتھا۔ اس وقت یہ سوال کئی لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن گیا تھا۔ لیکن آج ایسا لگتا ہے کہ کم سے کم اپنے ملک میںگوگل پر دباؤ ڈال کر پورن سائٹ پر پابندی لگانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ دوسری صورت میںرشتوںمیںجتنی خرابیاں اعلیٰ طبقے اور اعلیٰ متوسط طبقے میںدکھائی دے رہی ہیں، وہ خرابیاں نچلے طبقے اور نچلے درمیانی طبقے میں بھی پہنچ چکی ہیں۔ ان کے پہنچنے سے صرف ذہنی خرابیاں ہی پیدا نہیںہوتیں بلکہ جرائم میںبھی اضافہ ہوتاہے۔ ان پورن سائٹس کو دیکھ کر بچوںمیں ہیجان پیدا ہوتا ہے اور وہ تعلق بنانے کے لیے پاگل ہوجاتے ہیں ۔ تب انھیںبہن،ماں، چاچی، پھوپھی، بھتیجے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ انھیں وہاںپر صرف اور صرف عورت کا جسم دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف چھوٹی بچیوںکو بھی اپنا بھائی،چاچا، تاؤ، نہیںدکھائی دیتا۔ اب گھروںمیںتعلقات کی اس طرح سے وضاحت نہیںکی جاتی جیسے پہلے ہوتی تھی۔ پڑوسی ہو،گاؤںکا کوئی ہو، ہر ایک کے ساتھ ایک رشتہ بنا ہوتا تھا۔ یہ ہمارا بھائی ہے،یہ چاچاہیں، یہ تاؤ ہیں ، یہ ماما ہیں۔ اب ان رشتوںکی اہمیت ختم ہوگئی ہے اور اس میں سب سے بڑا رول انٹرنیٹ پر موجود ان پورن سائٹس کا ہے۔ لیکن میںجانتا ہوںکہ اس کو پڑھ کر کچھ لوگ پورن سائٹس کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ وہ دیکھیںلیکن اس تنبیہ کے ساتھ کہ وہ دیکھ کر اور پڑھ کر ذہنی لطف لے کر چھوڑ دیںگے۔ لیکن ان ہی کے پورن سائٹ کو دیکھ کر جب ان کا بیٹا، ان کا چھوٹا بھائی یا ان کی چھوٹی بہن یاان کی بیٹی پڑھے گی، تب وہ پڑھ کر چھوڑ نہیںدے گی۔ وہ پہلے اپنے کو ذہنی طور پر برائی میںجھونکے گی ا ور پھر باقی لوگوں کو اپنے دائرے میں لے لے گی۔ یہ سوال نظرانداز کرنے کا نہیں ہے، یہ سوال سوچنے کا ہے اور راستہ نکالنے کا ہے۔ جس کا ایک حل یہی ہے کہ گھر کے چھوٹے ممبروںکے اوپر بہت پیار سے نظر رکھی جائے اور انھیں انٹرنیٹ سے کیا سیکھنا چاہیے اور کیا نہیںسیکھنا چاہیے، یہ سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ دوسری طرف سرکار کو چاہیے کہ وہ گوگل سے بات کرے اور ان پورٹ سائٹوں کو ہندوستان میں بین کرنے کی کوشش شروع کرے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *