سیاسی لڑائی سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرکے نہیں جیتی جاسکتی

گزشتہ دنوں کے اخبارات وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کی رپورٹوںسے بھرے ہوئے تھے۔ اسرائیل کا دورہ کرنے والے مودی پہلے ہندوستانی وزیرا عظم ہیں۔اس سرکار نے اپنی پسند کے مطابق نوٹس جاری کرنے کے موڈ میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ حالانکہ ان کا یہ کہنا صحیح ہے کہ مودی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 25 برس پہلے دونوں ملکوں کے بیچ سیاسی رشتے قائم ہوئے تھے لیکن وہ اس حقیقت کو چھپانا چاہتے ہیں کہ اس وقت نرسمہا رائو وزیر اعظم تھے اور ان کا تعلق کانگریس سے تھا۔ یہ سہریٰ، سرکارانہیں نہیں دینا چاہتی ہے ۔ظاہر ہے یہ ایسا کھیل ہے جسے سیاسی پارٹیاں کھیلتی رہتی ہیںلیکن اس سے صرف فوری طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ،اس سے زیادہ کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہند- اسرائیل تعلقات کے معاملے میں لوگوں کو یہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ اسرائیل کے ذریعہ بنائے گئے کل ہتھیاروں کا 41فیصد ہندوستان خریدتا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ہمیں مفت میں ہتھیار دے رہے ہیں یا کوئی بہت بڑا تعاون کررہے ہیں۔ ہم ان کے سب سے بڑے ہتھیاروں کے خریدار ہیں ۔بہر حال جن دوسرے ایشوز کو نریندر مودی نے اٹھایا، وہ بالکل صحیح ہیں۔ اسرائیل میں بہت ساری تکنیکیں ہیں، خاص طور پر ریگستانی علاقوں کے لئے ڈریپ سینچائی ، جس میں کم سے کم پانی کا استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔یہ تکنیک پہلے سے ہی ہندوستان میں آچکی ہے۔ہندوستان -اسرائیل کے بیچ کاروبار کے شعبے میں بہت زیادہ تعاون باہمی ہورہا ہے۔اسے قبول کرنے اور اس کا فائدہ اٹھانے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ اسرائیل سے دو شعبوں میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔پہلا اگریکلچرل ریسرچ اور دوسرا سیکورٹی کا ماحول۔اسرائیل چاروں طرف سے مسلم ملکوں سے گھر ا ہوا ہے، اس کے باوجود وہ طاقتور ہے ۔ ان کا سیکورٹی نظم و نسق چاق و چوبند ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیکورٹی کا بہانہ لے کر پڑوسیوں کو دھمکایا جائے۔ ہندوستان میں ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، دھمکی بھی دیتے ہیں، لیکن ہمارا اپنا سیکورٹی نظام لچر ہے۔

 

 

آئی ایس آئی کے سلیپر سیل پورے ملک میں موجود ہیں۔پاکستان کے آئی ایس آئی کوئی بھی ملک کے کسی بھی حصے میں بم دھماکہ کر سکتا ہے۔ ہمارا سیکورٹی سسٹم کہاں ہے؟ہم انہیں پکڑ کر سخت سزا کیوں نہیں دیتے؟راجناتھ سنگھ نے بیان دیا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان کا ایک بھی مسلمان آئی ایس آئی ایس میں شامل نہیں ہوا۔ بالکل صحیح لیکن کیوں؟کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک ہوا ہے۔ بیشک وہ غریب ہیں، غریب تو سارا ملک ہے ۔اگر کسی مسلمان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے اور وہ پولیس تھانہ یا کلکٹر کے پاس جاتاہے تو اسے پتہ ہے کہ اس کے ساتھ تفریق نہیں ہوگی۔بیشک جو مودی نے کہا اس پر میں اعتراض نہیں کرسکتا۔ اسرائیل میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے۔ ہم دنیاکے ہر حصے کے لوگوں کو قبول کرتے ہیں۔ ہماری سب سے زیادہ طاقت لوگوں کو قبول کرنے کی ہے۔ جب وہ یہ باتیں کہتے ہیں تو سننے میں اچھا لگتا ہے، لیکن بد قسمتی سے آر ایس ایس، وی ایچ پی وغیرہ میں ایسے لوگ ہیں جو گائیں بچانے کے لئے انسانوں کا قتل کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان کے عوام اسے پسند کریں گے۔ آپ اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھ سکتے ہیں لیکن جب انتخابات ہوں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ آپ پارلیمنٹ میں آدھی رات کے جشن سے مقبولیت حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ کو منصفانہ طریقے سے آگے چلنا چاہئے ۔ ہرایک شہری کو یہ سمجھ میں آنا چاہئے کہ اس کے ساتھ مناسب سلوک ہورہا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ غریب آدمی غریب ہے۔ امیروں کی دنیامیں وہ کیا کرسکتے ہیں؟مڈل کلاس کا آدمی بھی مرسڈیز کار خرید رہا ہے، جبکہ غریب آدمی کے پاس سائیکل بھی نہیں ہے۔ اس نا برابری کو مودی ایک دن میں درست نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ احساس کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا، کوئی دھوکہ بازی نہیں ہوگی، کوئی تفریق نہیں ہوگی، اہم احساس ہے۔ لیکن بد قسمتی سے گزشتہ تین برسوں میں اس احساس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ملک میں ہندو اکثریت میں ہیں۔ اس لئے ہم جو چاہیں گے کہیں گے لیکن نہیں، آپ یہاں ایک سچائی بھول رہے ہیں۔ ایمرجینسی کے دوران آنجہانی اندرا گاندھی نے یہ سوچا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہاہے ۔ہر شعبے میں پیداوار بڑھی ہے لیکن سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود عوام نے 1977 میں انہیں اقتدار سے باہر کر دیا۔ ہندوستان کے لوگ بہت ہوشیار ہیں۔ اگر مودی وزیر اعظم بنے رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا سُر تھوڑا نیچے کرنا پڑے گا۔ بیشک ہندو اکثریت میں ہیں، لیکن مسلمانوں کی قیمت پر ، اقلیتوں کی قیمت پر آپ جو چاہیں نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کا دل توڑ کر ملک نہیں جیت سکتے ہیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ بہر حال وزیر اعظم کے دورے کی وجہ سے ہندوستان اور اسرائیل رشتے تھوڑے بہتر ہو جائیں گے۔
ایک اور چھوٹا سا واقعہ سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال کے گورنر ممتا بنرجی کو پریشان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پڈیچری کی گورنر نارائن سامی کو پریشان کررہی ہیں۔ بد قسمتی سے یہ لوگ دہلی سے ہدایت لیتے ہیں، شاید بی جے پی سے یا پارٹی کے کسی آدمی سے۔ سیاسی لڑائی سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر کے نہیں جیتی جاسکتی ہے۔ اگر آپ کو اقتدار میں رہنا ہے یا اقتدار میں واپس آنا ہے تو آپ کو لوگوں کے درمیان کام کرنا ہوگا۔کیسری ناتھ ترپاٹھی کی حرکتوں سے بی جے پی مغربی بنگال نہیں جیت سکتی اور نہ ہی کرن بیدی کی حرکتوں سے پڈیچری ۔ رامناتھ کووند نے ہر طرح کے اکسائو کے باوجود نتیش کمار کو پریشان نہیں کیا۔ انہوں نے ایک باوقار شخص کی طرح گورنر کا کردار ادا کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ انہیں صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ ہمیں ایسے گورنر کی ضرورت ہے ،ہمیں ایسے صدر کی ضرورت ہے، جو اپنی پارٹی کے مفاد سے متاثر نہیں ہوتا ۔میں امید کرتا ہوں کہ جو بھی پچھلے دروازے سے یہ کھیل ،کھیل رہاہے ،بھلے ہی وہ خود مودی ہوں ،امیت شاہ ہوں یا کوئی اور ،انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اب تک جو بھی انہوں نے حاصل کیا ہے، اگر یہی پالیسی جاری رہی تو وہ اسے کھو دیں گے۔

 

 

کشمیر پر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔یہاںتک کہ کانگریس نے بھی کشمیر مسئلے کے حل کے لئے بہت کچھ نہیں کیا۔ ابھی پولیس اور افسروں کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کی جگہ دکھانے کے رویے کی وجہ سے ایران سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اگر کشمیر کے مسلمان خطرے میں ہیں تو دنیا کے مسلمانوں کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ خطرناک بات ہے، ناقابل قبول بات ہے۔ بیشک نواز شریف انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں جانے کی بات کررہے ہیں۔ وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔ کشمیر مسئلہ زمین کا مسئلہ نہیں ہے۔یہ ریفرنڈم وغیرہ کا معاملہ ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے ذریعہ کشمیر کا ہندوستان میں ’’انڈیا انڈیپنڈنٹ ایکٹ 1947‘‘ کے تحت الحاق ہوا تھا۔ یہ ایشو نہیں ہے۔یہ ایشو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے دائرہ اختیار سے باہر کا معاملہ ہے۔ یہ زمین کا جھگڑا بالکل نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے ؟کشمیر کے بہت سارے متضاد دعویدار ہیں۔ اس کے لئے بہت سمجھداری کی ضرورت ہے ۔
ہندوستان اور پاکستان نے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پرویز مشرف نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کافی دلچسپی دکھائی تھی ۔ وہ آگرہ آئے تھے۔ ایک بار پھر آر ایس ایس نے کھیل خراب کر دیا اور سمجھوتہ نہیں ہونے دیا تھا۔ آج ہم دوسری طرح کا کشمیر دیکھ رہے ہوتے، اگر وہ سمجھوتہ ہو گیا ہوتا اور آر ایس ایس نے کھیل نہیں خراب کیاہوتا۔ بہر حال تاریخ تاریخ ہوتی ہے۔ آپ تاریخ کوصحیح نہیں کر سکتے لیکن آپ غلطیاں کرنا بند کر سکتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *