اب تمام فیصلوں کا محور 2019 کا انتخاب ہے

ہندوستان کے آئندہ صدر جمہوریہ کا انتخاب ہوگیا ہے۔ اس میںکچھ بھی غیر متوقع نہیں ہوا۔ رام ناتھ کووند ذمہ دار سینئر لیڈر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کریںگے۔ بے شک وہ بی جے پی کی طرف سے ہیں لیکن عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ برسراقتدار پارٹی صدر جمہوریہ کا امیدوار طے کرتی ہے۔ اس میںکسی کو کوئی شکایت نہیںہونی چاہیے۔
جو دوسرا اہم مدعا ہے ، وہ ہے جی ایس ٹی کا ۔ ایک قلیل مدت میںکسی سسٹم کو پوری طرح سے بدل دینا آسان نہیںہوتا۔ بہرحال شروعات تو کرنی تھی اور شروعات ہوئی بھی۔ لیکن اس کو لے کر تاجروں میںبڑے پیمانے پر غصہ ہے۔ اب یہ غصہ حقیقی ہے یا وہ جی ایس ٹی کو سمجھ نہیںپائے ہیں یا پھر اس کے پروویژن میںتبدیلی کی ضرورت ہے، ان سب کو لے کر سرکار کو زیادہ فعالیت دکھانی چاہیے تاکہ ان کے جذبات کو شانت کیاجاسکے۔ گجرات سمیت ملک کے الگ الگ حصوںمیںکاروباریوں کے بڑے بڑے مظاہروںکو بہت دنوںتک جاری رہنے نہیں دیا جاسکتا۔ گجرات میں لوگ کاروباری رجحان کے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان کی نہیںسنیںگے تو معیشت کو نقصان ہوگا۔ کامرشیل ڈپارٹمنٹ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ مل کر اس پر ضرورغورو فکر کررہے ہوںگے۔ بہر حال جی ایس ٹی ایک مشکل کام ہے۔ آپ کو یہ ضرور پتہ ہونا چاہیے کہ حالات نارمل ہونے میںوقت لگے گا۔ ملک کی بھلائی کے لیے ہم یہ امید کرتے ہیںکہ وہ اس میںکامیاب ہوں ۔

 

 

اس کے بعد چین کے ساتھ تعطل کا مدعا ہے۔ سابق خارجہ سکریٹری شیام شرن نے یہ سجھاؤ دیا کہ سب سے پہلے ہندوستان اور چین دونوں کو اپنیپری ڈکلیئرڈ پوزیشن پر واپس آنا چاہیے۔چین نے اپنی پہلے کی حالت میںتبدیلی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کو ڈپلومیسی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اپنی پر ی ڈکلیئر ڈ پوزیشن سے ہٹنا نہ تو ہندوستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی چین کے مفاد میں ۔ یہ حالت سالوںتک دونوں ملکوںکے بیچ قائم رہی ہے۔ دونوںملکوںکی فوجوں کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ کسی کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ چین کے لوگ سمجھدار لوگ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ وہی کریںگے جس کی ضرورت ہے۔ ہمیں پاکستان کے چین سے ہاتھ ملنے سے زیادہ فکرمندہونے کی ضرورت نہیںہے۔ پاکستان ایک موقع پرست ملک ہے۔ ہندوستان کو چوٹ پہنچانے کا جہاںبھی اسے موقع ملے گا، وہ اس کا استعمال کرے گا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیںچین کو ذمہ دار ی کے ساتھ ڈپلومیسی کے طور پر مصروف رکھنا چاہیے اور بغیر کسی ٹکراؤ کے معاملوں کو سلجھانا چاہیے۔
کرناٹک میںجھنڈے کا تنازع کھڑا ہوا ہے۔ دراصل کوئی بھی شخص اپنا ذاتی جھنڈا رکھ سکتا ہے۔ اس میںپریشانی کہاںہے۔ راشٹر ، راشٹر ہوتا ہے۔ پہلے دن سے ہی تمل ناڈو کا اپنا جھنڈا ہے۔ یہ کوئی ایسا مدعا نہیںہے جسے طول دیا جائے۔ ہر مدعے کو کانگریس، بی جے پی مدعا بنا دینے کا کوئی مطلب نہیںہے۔ جو لوگ اس پر اعتراض کررہے ہیں ان میں اتنی ہمت نہیںہے کہ وہ تمل ناڈو کو اس کا جھنڈا چھوڑ دینے کو کہہ سکیں۔ کشمیر کی ایک خصوصی حالت ہے۔ کشمیر کا جھنڈا آئین کے مطابق ہے۔ آرٹیکل 370 اس کی منظوری دیتا ہے۔ یہ جھنڈا صرف ایک نشانی ہے اس جھنڈے کی کوئی بین الاقوامی شناخت نہیں ہے۔ ہندوستان کا قومی پرچم ترنگا ہے اور اسی کی بین الاقوامی شناخت ہے۔ انڈین یونین کے اندر اگر کوئی شخص اپنی الگ پہچان چاہتا ہے تو اس میں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ یہ زبان کی طرح ہے جیسے کنڑہے، مراٹھی ہے۔ ایسے مدعوں کو بہت بڑا مدعا نہیں بنانا چاہیے۔
سرکار انتخابی موڈ میںچلی گئی ہے۔ فی الحال وہ 2019 کے انتخاب میںدلچسپی لے رہی ہے۔ اسے کاروباریوں یا کسانوں یا کسی دیگر کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ لوگوںکو ویسی ہی سرکار ملتی ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ ہمیںامید کرنی چاہیے کہ آگے اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *