نتیش کمار نائب وزیراعظم بنیں گے؟؟

ملک پر راج کرنے والی بی جے پی کے لئے اس وقت مستقبل کے بڑے چیلنج کی شکل میں صرف نتیش کمار کھڑے ہوئے ہیں۔ بی جے پی انہیں کسی بھی طرح اپنے ساتھ لینا چاہتی ہے اور اگر وہ ساتھ نہیں آتے ہیں تو ان کا سیاسی خاتمہ کیسے ہو، اس کے لئے دن رات اپنا دماغ لگا رہی ہے۔ سنگھ  اور بی جے پی کے لئے لگاتار کام کرنے والے پالیسی سازوں کا یہ  صاف  ماننا ہے کہ ان کے لئے  چیلنج  راہل گاندھی نہیں ہیں ،ان کے لئے چیلنج صرف اور صرف نتیش کمار ہیں۔اس لئے وہ انہیں نہ صرف لالو یادو سے بلکہ پورے اپوزیشن سے الگ کراکر اپنے ساتھ لانے کی جی جان سے کوشش کئے ہوئے ہیں۔ یہ خبر بی جے پی کے لوگوں کے پاس ہے کہ اگر تھوڑے ووٹ بھی کم آتے اور نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے میں کوئی پریشانی ہوتی تو بجائے لال کرشن اڈوانی یا کسی اور بی جے پی لیڈر کے وہ نتیش کمار کو وزیر اعظم عہدہ کے اوپر بیٹھنا زیادہ   قابل اعتماد   سمجھتے ۔نتیش کمار کا چہرہ اور نتیش کمار کی زبان، سنگھ اور بی جے پی کو نریندر مودی کے لئے سب سے  بڑی چیلنج بھری لگ رہی ہے۔ عام لوگوں کے درمیان یا تو نتیش کمار کا نام ہے جو 2019 کے لئے مرکز کے  امیدوار  ہو سکتے ہیں یا پھر دوسرا نام پرینکا گاندھی کا ہے۔ اسی لئے بی جے پی نتیش کمار کی ساکھ کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ وہ چاہے انہیں اپنے ساتھ لاکر یا انہیں اپنے سے دور رکھ کر۔جب نتیش کمار اور بی جے پی کے  اتحاد  سے بہار میں سرکار چل رہی تھی تب نتیش کمار کا سب سے مضبوط ذریعہ بی جے پی سے بات کرنے کا سشیل مودی تھے۔سشیل مودی کی شخصیت بھی  نرم   و ملائم رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے نمائندہ ہوتے ہوئے نتیش  کمار  کو کبھی کوئی  پریشانی سرکار چلانے میں ہونے نہیں دی۔

 

جب بھی بی جے پی کے درمیان تیش کمار کے قدم کو لے کر سوال اٹھے، سشیل مودی نے اسے وہیں روک دیا۔ آج سشیل مودی پوری طاقت سے نتیش کمار کو لالو یادو سے الگ کرکے اپنا پرانا گٹھ جوڑ اقتدار میں کیسے آئے، اس کے لئے دن رات کوششیں کررہے ہیں۔ ان کی بڑی مہم لالو یادو اور ان کے خاندان کے تئیں چل رہی ہے جس میں وہ کسی بھی طرح لالو یادو اور ان کے خاندان کی ساکھ کو لوگوں کی نظروں میں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس جو کاغذ آرہے ہیں، دستاویز  آرہی ہیں ،وہ اپنے لوگوں کے تئیں سیاسی حلقوں میں یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ ان کاغذوں کو ان کے پاس نتیش کمار  کے ا تحادی  ہی بھیج رہے ہیں۔دراصل بی جے پی اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ ملک میں جس طرح کی اقتصادی پالیسیاں ہیں یا ملک  میں جس طرح سرکار اپنے کئے ہوئے وعدوں سے دور ہوتی جارہی ہے اور جیسے جیسے سوشل میڈیا پر وہ سارے ویڈیو سامنے آتے جارہے ہیں جن میں خود وزیر اعظم نریندر مودی جی ایس ٹی کا اور  پاکستان کی سرحد کے اوپر کمزوری کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے اوپر حملہ کررہے ہیں، اس سے انہیں لگتا ہے کہ نریندر مودی کے لئے 2019 کی لڑائی بہت آسان نہیں ہوگی۔ بی جے پی یہ بھی اچھی طرح سمجھ رہی ہے کہ نوکریوں میں کمی ،مہنگائی میں اضافہ، کاروبار کا معیار اور ان کے سب سے مضبوط حامی طبقے کاروباریوں میں ان کے تئیں غصہ انہیں 2019 کے لئے  پریشانی  میں ڈال سکتا ہے اور 2019 کے انتخابات جیتنے کے لئے بی جے پی کے پاس سب سے اچھا اور آسان راستہ ہے کہ کسی بھی طرح نتیش کمار کو اپنے ساتھ لے کر کے آئیں۔ انہیں اس میں کوئی مشکل نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نتیش کمار کو اپوزیشن کا اکلوتا لیڈر بننے میں نہ صرف پریشانی ہوگی بلکہ اندرونی اختلافات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ کانگریس پارٹی ہو یا ساری علاقائی پارٹیاں ، جن میں سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، ممتا بنرجی یا پھر نوین پٹنائک ،یہ کوئی بھی نتیش کمار کو  مقبول عام لیڈر بننے میں آسانی سے منظوری نہیں دیں گے۔کانگریس پارٹی نتیش کمار کی حمایت کبھی نہیں کرے گی۔کیونکہ حمایت کرتے ہی راہل گاندھی کا مستقبل صفر ہو جائے گا۔

 

 

راہل گاندھی کی ساکھ ملک میں نہیں بن پائی ۔ ان کی پارٹی انتخابات ہارتی جارہی ہے۔ اپوزیشن کو ایک کرنے کا کوئی طریقہ کانگریس پارٹی کے پاس ہے نہیں اور اپوزیشن کا  کوئی بھی لیڈر راہل گاندھی سے بات کرنا نہیں چاہتا،  وہ سونیا گاندھی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ سونیا گاندھی بھی اس چیز کو اچھی طرح سمجھ رہی ہیں۔اس لئے راہل گاندھی کو کانگریس کا صدر بنانے کی کوشش جی جان سے کر رہی ہیں تاکہ اگر کسی کو بات کرنی ہو تو وہ بات راہل گاندھی سے کریں۔ راہل گاندھی کی پریشانی یہ ہے کہ وہ  آئیڈیا کے نام پر ،جدو جہد کے نام پر لوگوں کے تئیں  اپنے جذبات  دکھانے کے نام پر وہ کامیاب  نہیں ہو پارہے ہیں ۔  جیسی  کانگریس پارٹی کی تنظیم ہے ،اس میں صرف اور صرف سونیا گاندھی کی چلے گی اور سونیا گاندھی صرف اور صرف راہل گاندھی کو اپنا جانشیں بنانا چاہتی ہیں۔ سونیا گاندھی کو یا راہل گاندھی کو اس طرح اپوزیشن کے لیڈروں سے رابطہ رکھنا چاہئے، وہ ممکنہ طور پر خود کانگریس پارٹی کو اس لئے مٹا رہی ہیں  کیونکہ  وہ کبھی بھی اس بھرم سے نہیں ابھری ہیں کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی کا یہ ماننا ہے کہ 2019 میں اگر لوگوں کو بی جے پی سے مایوسی ہوتی ہے تو ان کے سامنے سوائے کانگریس  پارٹی  کو ووٹ دینے کے اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ کانگریس کے علاوہ باقی جتنی بھی پارٹیاں ہیں، وہ ساری علاقائی پارٹیاں ہیں اور ان کا اثر صرف اور صرف اپنی ریاست میں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ کانگریس بھی اب ایک بڑی علاقائی پارٹی کی شکل میں بدل چکی ہے۔ اس لئے اس کی زبان ،اس کا رویہ ،اس کے رابطہ کرنے کا طریقہ ایک طرف علاقائی پارٹیوں  جیسا ہو گیا ہے اور دوسری طرف وہ علاقائی پارٹیوں کے کسی بھی لیڈر کے امکانات کو ختم کرنے کی پالیسی پر لگاتار چل رہی ہے۔ نتیش کمار راہل گاندھی کے لئے سب سے بڑے چیلنج کی شکل میں سامنے کھڑے ہیں۔ اس لئے کانگریس پارٹی کبھی بھی نتیش کمار کو اپوزیشن کے لیڈر کی شکل میں پروجیکٹ نہیں کر سکتی  ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ خود کانگریس پارٹی نہ آگے بڑھ رہی ہے ،نہ مسائل کے اوپر عوام کو منظم کررہی ہے اور نہ ہی اپنے یہاں کانگریس کارکنوں کی اس مانگ پر دھیان دے رہی ہے کہ پرینکا گاندھی کو کانگریس کی کمان سونپی جائے اور نہ ہی نتیش کمار کی قیادت میں اپنے کو لانے کی سوچ کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ کانگریس میں نظریہ کی سطح پر اور پالیسی کی سطح پر کوئی ایسا گروپ نہیں ہے جو سونیا گاندھی کو یا راہل گاندھی کو رائے دے سکے۔ بس ایک  دھارا  ہے جو سکڑ رہی ہے، سمٹ رہی ہے لیکن چل رہی ہے۔

 

 

اکھلیش یادو کے دماغ میں ان کے ساتھیوں نے یہ بیٹھا دیاہے کہ اترپردیش کا ہونے کے ناطے  وہ اکیلے ایسے آدمی ہیں جو اپوزیشن کی اجتماعی قیادت کا بوجھ سنبھال سکتے ہیں۔ بیچ میں اکھلیش یادو نے مایاوتی سے ملنے کا اشارہ دیا ، ممتا بنرجی سے ملاقات کی، اپوزیشن کے کچھ لیڈروں سے بات بھی کی مگر   اکھلیش یادو کے لئے بھی قیادت کا عہدہ ابھی دور ہے،لیکن یہ اپوزیشن لیڈروں کا ماننا ہے۔ خود اکھلیش یادو کسی بھی قیمت پر نہ نتیش کمار کو لیڈر مانیں گے نہ ممتا بنرجی کو لیڈر مانیں گے۔ 2019  میں وہ مایا وتی جی کے ساتھ اس بنیاد پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں کہ مایاوتی جی دہلی کی سیاست کریں۔ وہ انہیں ان کے زیادہ امیدواروں کو لوک سبھا کے لئے حمایت دیں اور بدلے میں مایاوتی جی اسمبلی میں اکھلیش یادو کی حمایت کریں۔ اب سیاست کا سب سے بڑا  پیچ  یہی ہے ، مایاوتی دہلی جانانہیں چاہتی ہیں،  وہ اتر پردیش میں رہنا چاہتی ہیں۔اس کے برعکس وہ اکھلیش کو دہلی کی سیاست میں اور خود اتر پردیش کی سیاست میں بنے رہنا چاہتی ہیں۔ کل ملا کر  نتیش کمار دونوں کے لئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ یہ پریشانی ابھی ختم ہوتی نہیں دکھائی دیتی۔ بی جے پی میں نہیں لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے  بیچ  دس دن پہلے  باہمی تبادلہ خیال  ہوا۔ اس  تبادلہ خیال  میںیہ تجویز سامنے  آئی کہ نتیش کمار کو تیار کیا جائے کہ وہ  قومی  سیاست میں آئیں اور نائب وزیر اعظم عہدہ کا ذمہ سنبھالیں۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ اگر نتیش  کمار  ملک کے نائب وزیر اعظم بنتے ہیں تب نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے سارے کانٹے خود صاف ہو جائیں گے اور نتیش کمار کو یہ یقین دہانی  کرائی  جائے کہ بہار میں ان کے سارے حامیوں کو لوک سبھا کے لئے ٹکٹ دیئے جائیںگے۔ نتیش کمار اگر اپنی پارٹی کو بنائے رکھنے کا فیصلہ لیتے ہیں تب بھی اور نتیش کمار اگر بی جے پی میں جاتے ہیں تب بھی اور اگر نتیش کمار چاہیں تو شمالی ہند میں جہاں جہاں ان کے اہم حامی ہیں، وہ جگہ بھی انہیں دینے میںسنگھ کو کوئی پریشانی نظر نہیں آتی۔ خود سنگھ چیف موہن بھاگوت کے ذہن میں  نتیش کمار کو لے کر ایک سافٹ کارنر ہے۔ ایک کونا ایسا ہے جس میں وہ نتیش کمار  کو ملک کے لئے اچھا آدمی مانتے ہیں۔نتیش کمار کی شراب بندی کی پالیسی کا مقابلہ سنگھ شراب بندی کرکے ہی جیتنا چاہتا ہے ۔ سنگھ یہ مانتا ہے کہ اہم ریاستوں میں 2019کے انتخابات سے پہلے وہ شراب بندی کا اگر اعلان کروا دیتے تو نتیش کمار کے ہاتھ سے شراب بندی کا ایشو جس کی حمایت بڑے پیمانے پر عورتوں نے کی ہے ،وہ ایشو چھن سکتا ہے لیکن اب اس نئی تجویز نے سنگھ کو بھی  مسحور  کردیا  ہے کہ نتیش کمار کو ملک کی ترقی کا واسطہ دے کر ملک کا نائب وزیر اعظم بنایا جائے۔ نتیش کمار کے راستے میں تیسری سب سے بڑی رکاوٹ، ملک کے سرمایہ دار ہیں۔انہیں لگتا ہے کہ نتیش کمار اقتصادی نظام کو اور ملک کے صنعتکاروں کے رول کو اتنا نہیں سمجھتے اور جس طرح اب تک نتیش کمار نے ملک کے صنعتکاروں کو بہار  نواس  میں گھسنے کی منظوری نہیں دی اور اگر نتیش کمار ملک کے وزیر اعظم بنے تو اقتصادی نظام میں بھی بدلائو کریں گے۔ ملک کے صنعتکاروں کا جیسا تسلط ہندوستانی سرکار پر بنا رہتا ہے شاید اسے بھی وہ نہ مانیں۔ اس لئے ہندوستان کے بڑے صنعتکار نتیش کمار کو بہت تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

 

 

بڑے صنعتکاروں جن میں مکیش امبانی، انل امبانی، اڈانی ، بڑلا یہ سب افواہیں تو پھیلاتے ہیں کہ وہ نتیش  کمار  کو معاشی طورپر  جب ضرورت ہوتی ہے مدد دیتے ہیں لیکن ملک کے ان لوگوں کو جو اس طرح کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں، انہیں یہ پتہ ہے کہ نتیش  کمار  کے پاس سرمایہ داروں کا کوئی پیسہ نہیں جاتا ہے اور نہ ہی کوئی سرمایہ دار ان کے اتنے نزدیکہے۔ نتیش کمار کے اپنے دربار میں کچھ لوگ ہیں جو بہت چھوٹی سطح پر بی جے پی کے بڑے لیڈروں سے رشتہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ دوسری بات ہے کہ نتیش کمار کے خود کے رشتے بی جے پی کے  چیف ڈپلومیٹ ارون جیٹلی سے ہیں۔ دونوں ہم عمر ہیں۔ بہار آندولن میں اہم کردار نبھا چکے ہیں اور ارون جیٹلی ذاتی طورپر  نتیش  کمار  کی بہت عزت کرتے ہیں۔ جب سرکار تھی تب بی جے پی کے لیڈر کے ناطے نہیں بلکہ نتیش  کمار کے دوست ہونے کے ناطے ارون جیٹلی نے اس وقت کے بہار کے گٹھ بندھن کو چلانے میں بہت اہم رول ادا کیا تھا لیکن ملک کی صنعتی دنیا نتیش کمار کو ملک کے لئے بہت صحیح آدمی نہیں مانتی ۔بیرونی طاقتیں جو ہندوستان کی سیاست کو متاثر کرتی ہیں،  جن میں امریکہ ہو یا چین ،  یہ دونوں ہی نتیش کمار کو اپنے مفاد کے لئے موزوں نہیں مانتے۔ان دونوں بڑی  طاقتوں کے ایسے لوگ جو ہندوستان کی سیاست کا نہ صرف تجزیہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی تلاش میں بھی لگے رہتے ہیں جو انہیں ہندوستان کی سیاست پر کنٹرول کرنے میں تعاون دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کی اہمیت  ان دونوں  بڑی  طاقتوں کو الگ الگ ہندوستانی سیاست پر حاوی ہونے دینے میں ایک رکاوٹ کا کام کرے گی اور نتیش کمار ان کے لئے اس طرح کا ہتھیار نہیں بن سکتے جس طرح کا ہتھیار ابھی تک ہندوستان کی بلندی پر بیٹھے لوگ بنتے چلے آئے ہیں۔نتیش کمار کے سامنے چیلنجز اور بند دروازے،  ان کے ان دوست نما دشمنوں کو اس لئے پریشان  نہیں  کررہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ نتیش  کمار  میں وہ ہمت ہی نہیں ہے کہ وہ ملک میں گھومیں اور ایک طرف بی جے پی کے لئے اور دوسری طرف کانگریس کے لئے ملک میں چیلنج بن  سکیں ۔نتیش کمار کے سامنے ملک میں اجلاس کرنے کے کئی مواقع آئے، نتیش  کمار  کے سامنے کئی ریاستوں کے عوام کی طرف سے کئی تجاویز آئیں لیکن نتیش کمار کہیں گئے نہیں۔اس لئے ایک طرف بی جے پی کے لیڈروں کو اور دوسری طرف کانگریس کے لیڈروں کو یہ لگتا ہے کہ نتیش کمار  صرف بہار میں رہ کر اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔دہلی کی گدی انہیں راغب نہیں کرتی، اس لئے وہ مطمئن ہیں۔ نتیش  کمار  کی ایک بڑی کمزوری ان کی اپنی پارٹی میں ایسے لوگوں کا فقدان ہے جو انہیں ملک کے فلک پر قائم کرسکیں۔ نتیش کے پاس قومی سطح پر دو ، تین یا چار لوگوں کے علاوہ کوئی ایسے لوگ نہیں ہیں جو انہیں جانکاری دے سکیں اور رابطہ بھی رکھ سکیں۔ہو سکتا ہے نتیش کمار  اس لئے بھی بہار سے باہر نہ نکلنا چاہتے ہوں، لیکن نتیش کمار  ایسے لوگوں کی تلاش بھی نہیںکرنا چاہتے۔ کانگریس کے لوگ اور بی جے پی کے لوگ ابھی یہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ یہ نتیش کمار کی پالیسی ہے یا کمزوری ہے یا وہ سیاسی طور سے عزائم کھو چکے ہیں۔لیکن آج کی سیاست میں نتیش کمار اکیلے آدمی ہیں جن میں امکانات بھی ہیں، امکانات پوری کرنے کی صلاحیت بھی ہے لیکن امکانات  کو تباہ کرنے میں بھی وہ اتنے ہی موثر ہیں۔نتیش کمار کا  کوئی بیان ملک کے حالات کو لے کر، کشمیر کو لے کر، ملک کی خارجہ پالیسی کو لے کر، سیکورٹی پالیسی کو لے کر، ملک کی داخلہ پالیسی کو لے کر، ملک کی صنعتی پالیسی کو لے کر، ملک کے کسانوں کی پالیسی کو لے کر اور نوجوانوں کے حالات کو لے کر لوگوں کے سامنے اہمیت کے ساتھ نہیں آئے ہیں۔اس لئے اس ملک کے لوگوںکو بھی ایک  تذبذب  ہے کہ ان سوالوںپر نتیش کمار کیا سوچتے ہیں؟ نتیش   کمار  کی یہ سوچ تب سامنے آئے جب وہ  ان سوالوں کے اوپر ملک میں گھومیں اور اپنی رائے رکھیں لیکن  وہ  یہ نہیں کررہے ہیں اور یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ وہ ایسا کیوں نہیں کررہے ہیں؟یہ سوال بی جے  پی کے سامنے بھی ہے اور کانگریس کے سامنے بھی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *