ضرورت ہے خارجہ پالیسی پر فوراً سوچنے کی

2014 کے بعد یعنی جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں، حکومت ہند کے طریقہ کار میں ایک بہت بڑا بدلائو آیاہے۔ وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ کون ہیں؟ویسے تو ہر وزیر ،وزیر اعظم میں شامل ہوتا ہے لیکن وزیرا عظم نے کسی دوسرے وزیر کا ذمہ اتنی پابندی سے نہیں اٹھایا، جتنا انہوں نے وزیر خارجہ کا اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم ساری دنیا میں گھومے،لیکن ان کے ساتھ وزارت خارجہ کا کوئی بھی پالیسی جائزہ لینے والا نہیں ہوتا تھا۔ وہ وہاں کی سرکاروں سے بات چیت کرتے تھے، سمجھوتے کرتے تھے ،ان کے یا اپنے حق میں جتنے پروگرام ہو سکتے تھے، اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ہمارے یہاں ایک ماحول بنا کہ ہم نے ساری دنیا سے سرمایہ کاری کا راستہ ہندوستان کی طرف موڑ دیا ہے۔
جہاں ایک طرف اتنے بڑے کام ہو رہے تھے، وہیں دوسری طرف وزارت خارجہ سوئی پڑی تھی۔ خارجہ پالیسی کہاں جا رہی تھی، اس کا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ گزشتہ تین سال میں ہمارے جتنے پڑوسی ملک ہیں، وہ سب ہمارے خلاف ہو گئے۔ پاکستان روایتی طور سے ہمارا مخالف تھا۔ وہاں ہمارے سامنے چیلنج تھے کہ ہم پاکستان کے عوام کو اپنے ساتھ لیں اور وہاں کی سرکار اور فوج میں اپنی حمایت بڑھائیں۔ ہم دونوں ہی مورچے پر بری طرح ناکام رہے۔ نیپال کے ساتھ ہمارے روایتی رشتے رہے ہیں۔ نیپال ایک ایسا ملک تھا، جہاں جانے کے لئے کسی ہندوستانی کو ویزا یا پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، آج وہ ہمارا سب سے بڑا دشمن بننے کے راستے پر پہنچ گیا ہے۔ سری لنکا کی مدد کے لئے ہم نے اپنی فوج کے اعلیٰ کمانڈوز کھوئے، ہمارے فوجیوں کی جانیں گئیںجس کی وجہ سے ہمارے ایک سابق وزیر اعظم کا قتل ہوا۔ آج وہی سری لنکا ہمارے خلاف کھڑا ہے۔ بنگلہ دیش ، جس کے ساتھ ہم نے سرحدی سمجھوتہ کیا اور وہاں کی سرکار ہمارے ساتھ ہم آہنگی کا رویہ رکھتی ہے ، لیکن ہماری اپنی پالیسیوں کی وجہ سے وہاں کے عوام ہمارے خلاف ہیں۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہندوستان کی حمایت کرنے کی وجہ سے اگلے انتخابات میں شیخ حسینہ ہار جائیں۔ بچ گیا چین، جس کے ساتھ ہمارے کھٹے میٹھے رشتے چلتے رہتے تھے، لیکن سرحد پر کبھی بھی اتنا تنائو نہیں ہوا کہ جنگ کی نوبت آ جائے۔ آج چین کے ساتھ ہمارے رشتے تلخ ہیں۔ چین کی فوج سکم کے دروازے پر کھڑی ہے۔ لیہہ میں تو وہ جب چاہتے ہیں، ٹہلتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ارونا چل کو وہ اپنا ہی حصہ مانتے ہیں، وہاں کے لوگ بغیر ویزا کے چین جا سکتے ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری اور چین کی زبان اتنی تلخ ہو گئی ہے کہ اب چین نے سکم سے جڑے اس جگہ کو چھوڑنے سے منع کر دیا ہے جسے وہ اپنا بتا رہا ہے۔ وہ ہندوستان پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ ڈوکولم میں، جس کے کئی نام ہیں،وہاں سے اپنی فوج ہٹا لے۔ ہم چین کی سرحد پر پہنچنے میں تین دن لگا دیتے ہیں۔ فوج کے لئے سڑکیں نہیں ہیں، دوسری طرف چین کا سرحدی علاقہ اچھی سڑکوں سے لبریز ہے۔ ہم نے تین چار سال پہلے سرحدی علاقوں پر دھیان دینا شروع کیا۔ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ ہم نے چین کو نیوٹیلائز کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ہم یہ بھول گئے کہ چین ساری دنیا میں عالمی طاقت بننا چاہتاہے اور وہ امریکہ کے مقابلے ہر طرح کے پینترے کا استعمال کررہا ہے۔ اس نے امریکہ میں اتنی سرمایہ کاری کررکھا ہے کہ وہ اگلے 3 سے 5 سال میں امریکہ کی معیشت کو دائیں بائیں کرنے کی حالت میں پہنچ سکتا ہے ۔

 

 

دوسری طرف چین نے پاکستان میں شروع سے اپنا اقتصادی تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہو کر اس نے جو سڑک نکالی ہے، جسے سی پیک کا نام دیا ہے، اس نے ہندوستان کے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ پاکستان سے اس نے گوادر بندرگاہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جو ایک اہم اسٹریٹجک مقام ہے ۔نیپال میں چین نے سڑکیں بنا لی ہے ۔ نیپال کی معیشت میں چین کا بڑا حصہ ہے اور نیپال ان دنوں ہمارے خلاف کھڑا ہو اہے۔ سری لنکا میں چین کی بھرپور سرمایہ کاری ہے۔ وہاں کی ساری بندرگاہ اور وہاں کی بحریہ کے راستے چین کے دروازے سے ہو کر نکل رہے ہیں۔ ایک چھوٹا سا ملک بچتا ہے برما، وہاں بھی چین پہنچ چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر آج صورت حال کو دیکھیں تو ہندوستان اپنے چاروں طرف کشیدہ رشتوں کے بھنور میں کھڑا ہے۔ اس کے پاس اس کا کوئی بھی دوست نہیں ہے۔
چین کی زبان ہندوستان کے تئیں سخت اور توہین آمیز ہے۔ دوسری طرف ہمارا میڈیا مسئلے کو صحیح ڈھنگ سے ہندوستانیوں کو بتانے کے بجائے ایسے سُر میں بات کررہا ہے،مانو ہم کل چین پر حملہ کر دیں گے اور اسے سبق سکھا دیں گے۔ ہمارا میڈیا اور خاص طور پر ٹیلی ویژن چینل، جس طرح سے پاکستان کے خلاف جنگ کے پیروکار بنے تھے، آج وہ چین کے خلاف جنگ کے پیروکار بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہماری چین سے جنگ ہوتی ہے ،چھوٹی جنگ، جسے لمیٹیڈ وار کہتے ہیں تو ہمیں کہاں سے مدد ملے گی ؟ صرف سمندر کا راستہ بچتا ہے، جہاں سے ہمارے حق میں امریکہ یا روس کی مدد آسکتی ہے لیکن اس وقت روس اور چین کا جتنا رشتہ ہے ،اس سے یہ بالکل اندازہ نہیں لگانا چاہئے کہ روس ہماری مدد کرے گا اور امریکہ کی مدد پر اندرا گاندھی کے زمانے تک کسی کو بھروسہ نہیں تھا۔ 1971 کی لڑائی کے وقت امریکہ کا ساتواں بیڑا بنگال کی کھاڑی تک آچکا تھا۔

 

 

وزارت خارجہ کو اپنی خارجہ پالیسی پر فوری طور پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ وزارت خارجہ اگر وزیر اعظم کی ہدایت میں کام کررہی ہے تو پھر یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزارت خارجہ کے افسروں کو بلائیں، پھر یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وزارت خارجہ کے لوگوں سے ایک ایسا منصوبہ بنانے کے لئے کہیں جس سے ہمارے رشتے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تھوڑے ملائم ہوں، تھوڑے نرم پڑیں۔ اگر یہ جانکاری صحیح ہے کہ وزیر اعظم خارجہ پالیسی کے معاملے میں بھی ہمارے نیشنل سیکورٹی صلاح کار اجیت ڈوبھال پر منحصر ہیں تو پھر اجیت ڈوبھال کو بہت ذمہ داری کے ساتھ اس صورت حال پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کیسے چین کو ہمارے ان پڑوسی ملکوں سے دور کریں، جن سے ہمارے رشتے اب تک شیریں رہے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اپنے پڑوسیوں سے کشیدہ ماحول رکھ کر اپنے ملک میں امن کی توقع نہیں رکھ سکتا۔
ہمارے ملک میں نقلی نوٹ، ہتھیار ، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور دہشت گردی ہمارے پڑوسی ملکوں سے ہوکر ہی آتے ہیں۔ کوئی بھی ہوائی جہاز سے نہیں آتا، اس لئے وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم غیر ملکی دورہ کریں لیکن اس سے زیادہ دھیان پڑوسیوں سے رشتے سدھارنے میں دیں، تاکہ ملک میں ترقی کا اگر کوئی ماحول ہے، تو وہ سچ مچ بنے اور ترقی ہو۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *