مودی کا اسرائیل دورہ کیا ہندوستان اپنی روایت سے ہٹ گیا ؟

وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیلی دورے کو تاریخی اور کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات کے 25برس مکمل ہونے کے موقع پر کیا گیا ہے اور اس سے باہمی تعلقات کے نئے باب کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہو گا جب کوئی ہندوستانی رہنما اسرائیل کے دورہ کے دوران فلسطین نہیں گئے۔ جبکہ اس سے پہلے 2000 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت کے دوران جسونت سنگھ، 2012 میں کانگریسی حکومت کے دوران ایس ایم کرشنا اورگزشتہ سال سشما سوراج نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور فلسطین بھی گئے تھے اور اسی طرح 2015 میں صدر پرنب مکھر جی اسرائیل گئے تھے تو انھوں نے غرب اردن کا بھی دورہ کیا تھا اور فلسطینی پار لیمان سے خطاب بھی کیا تھا۔
اب تک تمام دوروں میں ہندوستانی رہنما تل ابیب کے ساتھ ساتھ فلسطین بھی جاتے رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان روایتی طور پر فلسطینی کاز کا حامی رہا ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ وزیر اعظم مودی اسرائیل دورے کے دوران رملہ نہیں جائیں گے جہاں سے فلسطینی انتظامیہ فلسطینی علاقوں کا انتظام سنبھالتی ہے اور جو فلسطین کا غیر سرکاری دارالحکومت بھی ہے۔ عام طورپر ہوتا یہ ہے کہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے غیر ملکی رہنما اکثر رملہ کا دورہ کرتے ہیں تاکہ سیاسی تعلقات میں توازن رکھا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کے رملہ نہ جانے پر کچھ سیاسی رہنمائوں نے تنقید کی ہیں۔ چنانچہ مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ’ نریندر مودی کا اسرائیلی دورہ صرف اس کا فلسطین پر قبضہ مستحکم کرے گا‘۔ اپوزیشن جنتا دل یونائٹیڈ کے قومی ترجمان کے سی تیاگی کا کہنا ہے کہ ’’ ہندوستان ابتدا سے ہی فلسطینی کاز کا زبردست حامی رہا ہے۔ ایسے میں موجودہ عالمی سیاسی حالات کے باوجود یہ ضروری ہے کہ ہندوستان فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔ بدلتے دور میں اسرائیل سے ہندوستان کی دوستی اچھی پہل ضرور ہے، ایکسپورٹ امپورٹ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن یہ فلسطین کے تئیں اپنے عہد کو قربان کر کے نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دورے کے بعد فلسطین کے حوالے سے ہندوستان کے تعلقات کی سمت کیا ہو گی، لوگوں کی نگاہیں اس پر بھی مرکوز رہیں گی‘‘ لیکن بی جے پی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ہر ملک کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہوتے ہیں اور دوسرے ملکوں کے تعلقات سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے اور ہر رشتہ الگ الگ ہوتا ہے۔
ہندوستان کی حکومت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو فلسطینی اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں نہیں بلکہ ایک عملی اور انتہائی فائدے مند رشتے کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ اسرائیل اور ہندوستان حالیہ دنوں میں صرف قریب ہی نہیں آئے ہیںبلکہ ہندوستان امریکہ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر بھی ابھر رہا ہے۔حکومت کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل سے قربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت نہیں کرتا یا عرب ممالک سے اس کے تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے، مودی حکومت ان رشتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے بجائے انہیں علیحدہ کرکے دیکھ رہی ہے۔

 

 

اگر چہ ہندوستان کی روایتی پالیسی فلسطین کی حمایت میں رہی ہے مگر جزوی طور پر ہندوستان نے اسرائیل کو 1950میں ہی تسلیم کر لیا تھا اور 1953 میں اسے ممبئی میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی تاہم باضابطہ سفارتی تعلقات 1992میں قائم ہوئے تھے۔ اس وقت کانگریس کی قیادت والی نرسمہاراو کی حکومت تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات ایک طویل عرصے سے قائم ہیں۔ اسرائیل نے 1962میں چین کے ساتھ ہندوستان کی جنگ کے دوران ہندوستان کو تعاون دیا تھا جب کہ پاکستان کے خلاف 1965،1971اور کارگل جنگ کے دوران بھی اسرائیل ہندوستان کی حمایت میں کھڑا تھا ۔
ہندوستان اب اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ وہ سالانہ اوسطاً ایک بلین ڈالر کے ہتھیار خریدتا ہے۔ ہندوستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور فوج کو جدید بنانے کے لیے 100بلین ڈالر کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔گزشتہ ماہ اسرائیل کی سرکاری ایرو اسپیس انڈسٹری نے کہا تھا کہ ہندوستان اس سے تقریباً دو بلین ڈالر کے ہتھیار خریدنا چاہتا ہے۔ اس سودے کے تحت اسرائیل ہندوستان کو درمیانے فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائل، میزائل لانچر اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ وزیر اعظم مودی کے اس دورے سے فوجی تعاون اور تجارتی تعلقات کے ایک نئے عہد کا آغاز ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔
اسرائیل گزشتہ 15 سے 20 سال میں ہندوستان کو دفاعی ساز و سامان دینے کے معاملے میں چوتھا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ، روس اور فرانس کے بعد اسرائیل کا نمبر آتا ہے۔ اسرائیل نے ہندوستان کو کئی طرح کے میزائل سسٹم، راڈار اور ہتھیار مہیا کیے ہیں۔اسرائیل بذات خود بہت بڑے پلیٹ فارم اور جہاز نہیں بناتا لیکن وہ میزائل اور راڈار کا نظام بناتا ہے۔
چونکہ دونوں ملکوںکے درمیان سفارتی تعلقات کے25 سال مکمل ہونے پر یہ دورہ ہوا ہے ،اس لئے اس دورے کو دونوں ملکوں کے لئے انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے اور اس پرپوری دنیا کے بہت سے ممالک کی نگاہیں بھی ٹکی ہوئی ہیں۔ اس تین روزہ دورے میں وزیر اعظم مودی نے اپنے ہم منصب بنجامین نتین یاہو کے ساتھ دہشت گردی جیسے اہم چیلنجوں اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے طریقو ںپر بات چیت کے علاوہ 1918 میں ہیفا کی آزادی کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے والے ہندوستانی فوجیوںکی یادگاروں پر خراج عقیدت بھی پیش کی۔اس دورے میں دونوں ممالک کے رہنمائوں کے بیچ 7 اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں 40 بلین ڈالر کے ہند-اسرائیل انڈسٹریل آر اینڈ ڈی اینڈ ٹکنالوجیکل انوویشن فنڈ کے لئے ایم او یو ، ہندوستان میں پانی کے تحفظ کے لئے ایم او یو ، ہندوستان کی ریاستوں میں پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایم او یو ، ہند- اسرائیلی ڈیولپمنٹ کو آپریشن اور زراعت کے لئے 3سال کے پروگرام کا اعلان، اسرو اور اسرائیل کے درمیان جوہری گھڑی کے لئے تعاون کا منصوبہ، جی ای او -ایل ای او آپٹیکل لنک کے لئے ایم او یو اور چھوٹے سیٹلاٹس کو بجلی کے لئے ایم او یو شامل ہیں۔

 

 

وزیر اعظم مودی کو اسرائیلی حکومت نے جس گرمجوشی سے استقبال کیا ہے، اس سے پہلے اس طرح کا پُرتپاک استقبال یا تو امریکی صدور یا پھر مذہبی پوپ کا کیا جاتا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو خود سے ایئر پورٹ پر پہنچے اور ہندی زبان میں کہا ’’ دوست نریندر مودی کو اسرائیل میں سواگت‘‘۔ پی ایم نتین یاہو نے مزید کہا کہ ہندوستان ہمارا گہرا دوست ہے ۔نریندر مودی کا یہ سفر تاریخی ہے ۔ ہم ہندوستان اور ہندوستان کی ثقافت سے محبت کرتے ہیں۔ہندوستانی اور اسرائیلی فطری دوست ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں اسرائیل آنے والا پہلا ہندوستانی وزیراعظم ہوں ۔اسرائیل آنے پرمیرے اس خوبصورت استقبال پر شکریہ۔
اس دورے کے تعلق سے عرب ممالک کی طرف سے ابھی تک کسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں ہوا ہے ۔البتہ پڑوسی ملک پاکستان میں تشویش پائی جاتی ہے۔اگرچہ پاکستان نے سرکاری طور پر نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا ہے لیکن پاکستانی دفاعی تجزیہ نگار اس معاملے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سابق پاکستانی سفارت کاروں اور دفاعی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی اپنے اس دورے میں ہند- اسرائیل دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیں گے۔لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کہتے ہیں کہ ہندوستان اس دورے کے ذریعے اسرائیل کو استعمال کرتے ہوئے جدید ترین امریکی دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ ماضی میں بھی وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات سے اسی طرح فائدہ اٹھاتا آیا ہے۔جنرل شعیب کا مؤقف ہے کہ اگر ہندوستان اپنے مفاد کی خاطر بیک وقت اسرائیل اور ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرسکتا ہے جبکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہیں، تو پاکستان کو بھی اپنے قومی مفادات سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِثانی کرنی چاہیے اور گنتی کے چند ملکوں کو خوش رکھنے والی سوچ سے باہرآنا چاہیے۔
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہندوستان اور اسرائیل میں بڑھتے ہوئے عسکری تعلقات جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتے ہیں کیونکہ ہندوستان اپنے میزائل پروگرام کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لئے اسرائیل سے ضرور مدد حاصل کرے گا جس سے دفاعی استعداد کو ایک خاص سطح تک رکھنے کی پاکستانی پالیسی شدید طور پر متاثر ہوگی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تشویش بے جا ہے کیونکہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ معاہدوں میں جس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے ،وہ ہے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کرنا اور یہ صورت حال ا س وقت پوری دنیا کے لئے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ،ایسے میں پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں ہندوستان کا ساتھ دے اور عالمی دہشت گرد قرار دیئے گئے افراد کے علاوہ دیگر شدت پسند تنظیموں کو اپنے یہاں پنپنے سے روکنے کی مثبت کوشش کرے۔تاکہ ہندوستان کی کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان کے بھی مفاد میں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *