مودی کی من کی بات بے حقیقت

28جولائی کو پاکستان کی عدالت (سپریم کورٹ ) نے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ کیا۔ اپنے اس فیصلے میں عدالت نے بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے اور اپنی ذمہ داری میں صادق و امین جوکہ پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور کسی بھی ذمہ دار کے لئے اس کو پورا کرنا لازمی ہے،پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کے عہدہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ سنایا۔پڑوسی ملک میں اس تاریخی فیصلہ کے آنے کے بعد اب اس کی سگبگاہٹ ہندوستان میں بھی محسوس ہونے لگی ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ پنامہ پیپرس کے معاملہ میں چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر رمن سنگھ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جبکہ وزیر اعظم مودی کرپشن پر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن پناہ پیپر لیکس کو نظر انداز کررہے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ پنامہ پیپرس میں وزیر اعلیٰ کے بیٹے ابھیشیک کا نام آیا لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی جس سے صاف اشارہ ملتاہے کہ وزیر اعظم جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنی چاہئے کہ وہ جمہوریت کا گلا نہیں گھونٹ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی سوال پوچھا کہ گجرات کانگریس ارکان اسمبلی میں انحراف کا عمل جاری ہے آخر اس سلسلے میں پیسہ کہا ںسے آرہا ہے۔ جبکہ کچھ اراکن اسمبلی کانگریس کا کہنا ہے کہ انہیں انحراف کے لئے رقم کی پیشکش کی جارہی ہے ۔ان باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کی من کی بات کی زمینی حقائق سے کوئی تعلق ہیں۔وزیر اعظم کی من کی بات میں بے روزگاری اور زرعی بحران پر کوئی بات نہیں ہوتی۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ وزیراعظم کی تقریر بے معنی ہوتی ہے کیونکہ اس میں ملک کو درپیش بنیادی مسائل کا کوئی احاطہ نہیں ہوتا۔ہمیں کئی سوالات کے جواب نہیں ملتے ۔من کی بات کا عوام کی سوچ سے کوئی ربط نہیں ہوتا۔اسی سلسلے میں نائب صدر کانگریس راہل گاندھی نے چیف منسٹر چھتیس گڑھ کے لڑکے اور رکن لوک سبھابھیشک کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ پاکستان میں اتنی بڑی سیاسی ہلچل سے وزیر اعظم کو سبق حاصل کرنا چاہئے اور جن لوگوں کا نام اس میں شامل ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔بہر کیف پڑوسی ملک پاکستان میں بڑی سیاسی ہلچل کے بعد اب ہندوستان میں بھی اس بات کا مطالبہ ہونے لگا ہے کہ پنامہ لیکس پر عمل ہونا چاہئے ،ساتھ ہی دیگر مسائل پر بھی آوازاٹھنے لگی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *