کٹرینہ کیف بالی ووڈ کی مہنگی اداکارائوں کی صف میں

کٹرینہ کیف برطانوی نژاد ہندوستانی فلم اداکارہ ہیں۔ ان کی پیدائش ہانگ کانگ میں ہوئی تھی۔ 16جولائی1984کو پیدا ہونے والی کٹرینہ کے والد محمد کیف ایک کشمیری اور والدہ انگریز ہیں۔ جس وقت کٹرینہ کافی بڑی ہوچکی تھیں ان کے والدین میں علیحدگی ہوگی۔ مستقل ممبئی منتقل ہونے سے قبل کٹرینہ کئی ممالک میں رہیں۔
ہندی فلموں میں آج کل کٹرینہ کیف ایک ہر دل عزیز اداکارہ کے طور پر جانی جاتیہیں۔ ہندی فلموں کی صف اول کی اداکارہ کٹرینہ نے متعدد فلموں میں کام کیا اور دادو تحسین حاصل کی ہے۔ انہیں کئی فلمی اور فیشن جریدوں نے ایشیا کی خوبصورت اوردلکش ترین خاتون کا خطاب بھی دیا ہے۔ 2003میں کیزاد گستاد کی فلم ’بوم‘ کے ساتھ کٹرینہ نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ 2005میں ’سرکار اور ’’میں نے پیار کیوں کیا‘‘ فلموں نے ان کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے پھر کٹرینہ نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ 2006میں جیا اے یش وردھن کی فلم ’ہم کو دیوانہ کر گئے‘ سے بھی انہیں خوب مقبولیت ملی۔
2007کے بعد سے کٹرینہ کے لیے کامیابیوں کا زبردست سلسلہ شروع ہوا۔ وپل شاہ کی فلم ’نمستے لندن‘ میں ایک پنجابی انگریز لڑکی کا کامیاب رول ادا کرنے کے بعد انہیں ڈیوڈ دھون کی 2007ہی میں آئی ’پارٹنر، ‘انیس بزمی کی ’ویلکم‘، عباس – مستان کی ’’ریس‘‘ جو کہ 2008میں اور اسی سال آنے والی انیس بزمی کی فلم ’’سنگھ از کنگ‘‘ نے لوگوں کو دیوانہ بنادیا۔ 2009میں کبیر خان کی فلم ’’نیویارک‘‘ اور اسی سال آنے والی راج کمار سنتوشی کی فلم ’ عجب پریم کی غضب کہانی‘ نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ 2010میں آنے والی پرکاش جھا کی ’’سیاسی تھرلر‘‘ فلم ’’راج نیتی‘‘ اور زویا اختر کی 2011میں آنے والی فلم ’’زندگی نہ ملےگی دوبارہ‘‘ سے وہ مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں۔ عصر حاضرکی ہندی فلموں کی چوٹی کی اداکارہ کٹرینہ کیف حال ہی کی فلم ’’میرے بردر کی دلہن‘‘ میں بھی خوب پسند کی گئیں۔
کٹرینہ نے شروعات میں جس فلم ’’بوم‘‘ میں کام کیا، اس فلم میں ان کے کردار کی تعریف اور تنقید دونوں ہوئی۔ بعض حلقوں نے فلم کے بعد انتہائی برہنہ مناظر پر اعتراض بھی کیا۔ فلموں میں کام ملنے کی شروعات میں ایک رکاوٹ ان کا ہندی اچھی نہ بول پانا بھی تھا۔

 

2009اور 2010میں آنے والی ان کی کچھ فلمیں یقیناً ان کے فلمی سفر میں میل کا پتھر تھیں۔ فلم ’’نیویارک‘‘ میں ان کا کردار بے انتہا سراہاگیا۔ اس فلم میں انہوںنے جان ابراہم اور نیل نتن مکیش کے ساتھ کام کیا تھا۔ 2010میں پرکاش جھا کی فلم ’’راج نیتی‘‘ میں ان کاکام سبھوں کو حیرت زدہ کر گیا۔ ایک سیاسی خاندان کی بہو کے کردار کو نبھاتے وقت انہوںنے ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھایا جو محبوب لڑکے کی بھابی بننے پر مجبور ہوئی اور بعد میں اس کے شوہر کا قتل ہوگیا جس کے بعداسے اپنے شوہر کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانا تھا۔
2011میں فرحان اختر، رک روشن اور ابھے دیول کے ساتھ آئی فلم ’’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘‘ مین کٹرینہ کیف کو بہت مقبولیت ملی۔ 15اگست2012 کو ان کی فلم ’’ایک تھا ٹائیگر‘‘ زبردست کمائی کی ہے اس فلم کے ہیرو سلمان خان ہیں۔
فلموں میں زبردست مقبولیت کے سبب کٹرینہ کئی بڑی کمپنیوں کی برانڈا یمبیسڈر بن چکی ہیں۔ کئی ٹی وی اشتہاروںمیں دکھائی دے رہیں کٹرینہ اس وقت بالی ووڈکی سب سے مہنگی ترین اداکارائوں میں سے ایک ہیں۔
کٹرینہ کی فلموں میں بوم 2003ملیسواری2004 سرکار2005 میں نے پیار کیوں کیا؟2005 الاری پدو گو2005 ہم کو دیوانہ کرگئے2006 بلرام ورسیز تاراداس2006 نمستے لندن2007 ویلکم 2007 ریس2008 سنگھ از کنگ2008 ہیلو2008 یوراج2008 نیوریاک2009 بلیو2009 عجب پریم کی غضب کہانی2009دے دنا دن2009راج نیتی2010اگنی پتھ2012اور ایک تھا ٹائیگر2012شامل ہیں۔
کٹرینہ کی کئی فلموں کو فلم فیئر ایوارڈوں کے لیے نامزد کیا گیا جن میں ’’میرے بردر کی دلہن‘‘ اور ’’نیویارک‘‘ شامل ہیں۔ 2012میں آئی سلمان خان اسٹار بلاگ بسٹر فلم ’’ایک ٹائیگر‘‘ کے سیکویل کی شورعات کی تیاریاں کمل کرلی گئی ہیں جس کے لیے سلمان خان اور کٹرینہ کیف کو مرکزی کردار کے لیے فائنل کر لیا گیا ہے اس طرح ایک طویل بریک کے بعد سلو اور کیٹ ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔
کٹرینہ کیف کاکہنا ہے کہ سلمان خان آج بھی ان کےلئے بےحد اہم ہیں۔ کٹرینہ اور سلمان کی محبت کی کہانی بے حد مشہور رہی ہے۔دونوں کی جوڑی کوشائقین نے آن اسکرین بہت پسند کیا۔
ایسی خبریں تھیں کہ سلمان کٹرینہ سے شادی کرلیں گے لیکن اسی وقت ان دونوں نے اپنے راستے تبدیل کرلئے ۔اس کے بعد کٹرینہ کا نام رنبیر کپور کے ساتھ جوڑا جانے لگا۔اب رنبیر اور کٹرینہ نے بھی علحیدگی اختیار کرلی ہے۔ایسی بھی خبریں تھیں کہ سلمان رنبیر اور کٹرینہ کے رشتہ سے ناخوش تھے۔کٹرینہ سے جب پوچھا گیا،انڈسٹری میں ایسا کون سا اداکار ہے،جو انہیں اپنا لگتا ہے؟اس سوال پر کٹرینہ نے فوراً سلمان خان کا نام لیا۔ کٹرینہ نے کہا کہ سلمان آج بھی میرے لئے بہت اہم ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *